لُو، گرم علاقوں کا مرض

یہ ایک تکلیف دہ مرض ہے جو عموماً اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں شدت کی گرمی پڑتی ہے۔ ہمارے وطنِ عزیز میں بھی مئی، جون، جولائی کے مہینے شدید گرمی کے مہینے ہیں، جن میں آسمان سے سورج آگ برساتا ہے اور زمین میں سورج کی تپش کی وجہ سے پیدا ہونے والی حدت، اور اگر بارش ہو تو بعد میں حبس انسان کو بے حال کردیتا ہے۔ اکثر اوقات درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے، اور بعض علاقوں میں اس سے بھی کہیں زیادہ۔
حالات کچھ بھی ہوں… شدت کی گرمی ہو یا برف باری کا سماں… حضرتِ انسان حرکت میں رہتا ہے۔ وہ زندگی کی گاڑی کو ہر حال میں کھینچتا ہے۔
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
مئی جون کے مہینے وہ ہیں جب ایک طرف گندم کی کٹائی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو دوسری طرف دھان کی بوائی کا مرحلہ درپیش ہوتا ہے۔ مزدور اور محنت کش طبقہ اپنی روزی کے لیے چلچلاتی دھوپ میں کام کرنے پر مجبور ہے۔ کسان برستی آگ اور جھلسا دینے والے کھیتوں میں دھان کی بوائی کے پانی میں ایک ایک پودا لگا رہا ہے، بہت سے ملازمین موٹرسائیکل پر گرمی کی تمازت اور شدت میں گھنٹوں سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ بسوں اور گاڑیوں میں گنجائش سے کئی گنا زیادہ مسافر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ طلبہ بسوں کی چھتوں اور پائیدان سے لٹک کر سفر کرتے نظر آتے ہیں۔
ایک طرف موسم کی یہ شدت ہے، دوسری طرف نئی نسل سر کو کسی کپڑے یا رومال سے ڈھانپنے، خود کو دھوپ سے محفوظ رکھنے کے لیے گردن یا سر پر چادر لینے کو معیوب سمجھتی اور اپنی توہین تصور کرتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب کوئی انسان (مرد ہو یا عورت) مسلسل کسی بھی وجہ سے سورج کی تڑپا دینے والی کرنوں میں براہِ راست لمبے عرصے تک رہے گا تو بلا کی یہ گرمی اُس کے سر اور گردن کو متاثر کرے گی۔ دماغ کی باریک جھلی (غشائے مخاطی) اور گردن کے پچھلے حصے جہاں سے حرام مغز اور عصبی نظام (Nervous System) شروع ہوتا ہے، مسلسل براہِ راست سورج کی کرنوں سے متورم ہوجاتے ہیں، جسے اصطلاحاً لُو لگنا کہتے ہیں۔ لُو لگنے کا اکثر سبب مسلسل دھوپ میں کام کرنا، سفرکرنا، یا بلا توقف ڈیوٹی انجام دینا ہے۔
علامات:
جب کسی انسان کو لُو لگ جاتی ہے تو سر میں شدید درد ہوتا ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ سر پھٹ جائے گا۔ اکثر اوقات شدید بخار ہوجاتا ہے۔ جسم میں لرزہ طاری ہوجاتا ہے۔ چہرہ اور آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں۔ دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ کبھی مریض پسینے سے شرابور ہوجاتا ہے، نبض غیر متوازن اور حرکتِ نبض تیز ہوجاتی ہے، کبھی ابکائیاں اور متلی ہوجاتی ہے۔ شدتِ مرض کی حالت میں مریض بے ہوش بھی ہوجاتا ہے۔ کبھی سرسامی کیفیت ہوجاتی ہے، مریض بے قرار ہوتا ہے، ہذیان بکنے کی کیفیت اور بعض اوقات جسم میں تازہ ہوا لینے کی غرض سے مریض وحشت کے ساتھ کپڑے پھاڑنے اور گریبان چاک کرنے پر اتر آتا ہے۔ ننگے سر مسلسل سائیکل چلانے یا موٹر سائیکل پر سفر کرنے کی وجہ سے بھی لُو لگ جاتی ہے۔ معالج کو یہ معلوم کرنے کے لیے کسی لمبے چوڑے ٹیسٹ کی ضرورت نہیں۔ سیدھی سادی بات ہے کہ مریض مرض میں مبتلا ہونے سے پہلے سورج کی کرنوں اور تمازت کا براہِ راست شکار ہوگا۔
علاج:
جب مریض مذکورہ کیفیت سے دوچار ہو تو فوری طور پر اسے کسی سرد جگہ منتقل کردیں۔ موجودہ دور میں توایئرکنڈیشنر کی سہولت میسر ہے۔ مریض کو A.C والے کمرے میں لے جانا ہی ابتدائی طبی امداد (First Aid) ہے۔ قدیم دور میں کسی درخت کی چھائوں میں لٹانا اور برف کی سلیں دونوں طرف رکھ کر پنکھا چلا دینا فرسٹ ایڈ تھی۔ جدید دور کی اس سہولت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ دیہات یا ایسے علاقے جہاں بجلی نہیں وہاں یہ سہولت ممکن نہیں۔ لہٰذا فوری تازہ اور ٹھنڈے پانی سے سر پر تریڑا کرنا (پانی کسی پائپ یا ٹونٹی سے سر پر گرانا)، کپڑے کی پٹیاں بھگو بھگو کر ماتھے پر رکھنا مفید ہے۔ اگر مریض بے ہوش ہو تو منہ پر برف کے ٹھنڈے پانی کے چھینٹے دے کر ہوش میں لانے کی کوشش مفید ثابت ہوتی ہے۔ قدیم دور میں صندل سفید، گلِ سرخ اور کافور کو بوتل میں ڈال کر اچھی طرح ہلا کر لخلخہ کرنا (نتھنے بند کرکے کبھی ایک طرف، کبھی دوسری طرف اس خوشبو کو ناک کے ذریعے بخارات کی شکل میں سونگھانا) بے حد مفید ثابت ہوتا ہے۔ عرقِ گلاب اور سرکہ میں برف ڈال کر اچھی طرح ٹھنڈا کرکے ماتھے، سینے، پنڈلیوں پر تولیہ کی مدد سے ٹھنڈک پہنچانا مریض کو فوری سکون دیتا ہے۔
مریض ہوش میں آجائے یا ہوش میں ہو تو اس کو املی6 گرام، آلوبخارا 6 گرام، زرشک شیریں6 گرام، الائچی سبز تین یا چاردانہ فوری پانی میں جوش دے کر ٹھنڈا کرکے پلانا مفید ہے۔
اگر تربوز کا موسم ہو اور تربوز میسر ہو تو اس کا پانی نکال کر گھونٹ گھونٹ دیں۔ یکدم کسی بھی مشروب کا پلانا قے کا سبب بنتا ہے۔
لیموں کا پانی نکال کر عرقِ گلاب اور عرقِ گائو زبان میں ملا کر برف سے ٹھنڈا کرکے پلانا معجزنما اثرات رکھتا ہے۔
مریض کو سختی سے چند دن کام کرنے سے روک دیں، ٹھنڈی جگہ آرام کرنے کا موقع دیں۔ شربتِ فالسہ، املی، آلوبخارے کا شربت، کچی لسی، لیموں کا پانی، تربوز، ناریل کا پانی بے حد مفید ہیں۔ مریض کو طبیعت سنبھلنے کے بعد خمیرہ مروارید، دواالمسک جواہر دار کا استعمال کرائیں تاکہ جلدی سے بحال ہوسکے۔ گرم غذائوں سے پرہیز کرائیں۔
مرض کی کیفیت کے بعد:
لُو لگنے کا مریض اگرچہ توجہ اور فوی طبی امداد سے بحال ہوجاتا ہے، تاہم ایک بار لُو لگ جائے تو مئی، جون، جولائی میں گرمی بڑھتے ہی اس مرض کے اثرات مریض کو مرض کا احساس دلاتے ہیں۔ جوں ہی یہ مہینے آئیں مریض خود کو محفوظ رکھنے کے لیے احتیاطاً املی، آلوبخارا، الائچی بھگو کر اس کا مشروب گلوکوز ملا کر پینا شروع کردے۔ خود کو حتی الامکان براہِ راست سورج کی کرنوں سے بچائے۔ اگر معاشی حالات اجازت دیں تو مریض مربہ گاجر، مربہ سیب، یا خمیرہ مروارید کا استعمال شروع کردے۔ غریب آدمی کے لیے فالسہ، تربوز کا استعمال بھی مفید ہے۔
لُو سے بچنے کے لیے حفظِ ماتقدم:
ایسے گرم موسم میں انسان سرڈھانپ کر یا پانی میں تولیہ بھگو کر سر پر رکھے۔ سفر کی ضرورت ہو تو گردن اور سر پر اچھی طرح کپڑا رکھے تاکہ سورج کی کرنیں حرام مغز اور دماغ کی جھلیوں کو متاثر نہ کرسکیں۔ خواتین سیاہ برقع یا نقاب کی جگہ ہلکا رنگ یا سفید برقع استعمال کریں تاکہ دھوپ کا اثر کم ہو۔
غذا:
لُو لگنے کے ان ایام میں قدرتِ کاملہ موسمی پھل مہیا کرتی ہے۔ کچے آم دو تین عدد لے کر کسی تندور کی راکھ میں دبا دیں، کچھ دیر بعد نکال کر ان کا پانی نچوڑیں، یہ رس شکر ملا کر پلائیں، فوری اثر کرتا ہے۔ تربوز اور لیموں کا پانی بے حد مفید ہے۔ کدو کا رائتہ اور کدوکش کرکے ماتھے اور چہرے پر مَلنا بے حد مفید ہے۔ مرض کے حملے سے محفوظ رہنے کے لیے پیاز اور آم کی چٹنی، چھاچھ (لسّی جو چاٹی کی تیار کردہ ہو)، پودینہ کی چٹنی دوائوں سے زیادہ اثر کرتی ہے۔ لُو سے ایک بار متاثر ہونے والے انسان کو دوبارہ اس مرض میں مبتلا ہونے سے بچنا چاہیے۔ بعض اوقات ناک سے خون آنے کی صورت میں یہ مرض مہلک ثابت ہوتا ہے۔

Share this: