امریکہ میں پناہ گزینوں پر حملہ

امریکی ریاست آئی ڈاہو (Idaho) کے دارالحکومت Boise میں ایک نسل پرست نے چھرا مار کر 9 پناہ گزینوں کو شدید زخمی کردیا، جن میں سے کئی لوگ زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ آئی ڈاہو امریکہ کی شمال مغربی ریاست ہے جس کی سرحد کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا سے منسلک ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ہفتے کی رات پونے نو بجے (پاکستان میں اتوار کی صبح پونے چھ بجے) ایک 30 سالہ شخص بوائے زی شہر کے ایک اپارٹمنٹ کمپلیکس میں داخل ہوا جس کے ہاتھ میں ایک چھرا تھا۔ مبینہ حملہ آور پارکنگ لاٹ میں موجود پناہ گزینوں کو چھرا گھونپتا ہوا کئی اپارٹمنٹس میں داخل ہوگیا اور گھروں میں موجود لوگوں پر چھرے سے حملہ کیا۔ جس کے بعد وہ چھرا پھینک کر فرار ہوگیا، لیکن پولیس نے تعاقب کرکے اسے گرفتار کرلیا۔
پولیس اعلامیے کے مطابق ایک 30 سالہ ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ واردات کے محرکات کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم صاف لگ رہا ہے کہ ملزم نسل پرست جنونی ہے جو پناہ گزینوں، امریکی مسلمانوں اور غیر ملکی تارکین وطن کے خلاف صدر ٹرمپ کے نفرت انگیز خطاب سے متاثر ہوکر Make America Great Again ہدف کے حصول کے لیے ملک کو غیر ملکیوں سے پاک کرنے کے مشن پر تھا۔ یہ حملہ اُس دن ہوا ہے جب سارے امریکہ میں صدر ٹرمپ کی نسل پرست امیگریشن پالیسی اور غیر ملکی تارکین وطن سے بدسلوکی کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔ ہفتے کو بحرالکاہل کے ساحل سے بحراوقیانوس کے کنارے اور مشی گن جھیل سے خلیج میکسیکو کے پانیوں تک لاکھوں سلیم الفطرت امریکی سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے ملک کی جنوبی سرحد پر دیوار کی تعمیر، مسلمانوں کے امریکہ آنے پر پابندی اور ہسپانویوں سے امتیازی سلوک کے خلاف نعرے لگائے۔

امریکی دباؤ، جاپانی وزیراعظم کا رواں ماہ مجوزہ دورۂ ایران منسوخ

جاپانی حکومت کے ذرائع کے مطابق وزیراعظم شینزو آبے وسط جولائی میں تہران کے دورے پر جانے اور ایرانی صدر حسن روحانی سے مذاکرات کرنے والے تھے مگر امریکہ اور جاپان کے درمیان ایران پر تیل کا دباؤ ڈالنے کے معاہدے کے بعد وزیراعظم آبے نے دورۂ تہران منسوخ کردیا۔ 1978ء کے بعد کسی جاپانی وزیراعظم نے ایران کا کوئی دورہ نہیں کیا ہے۔ شینزو آبے پہلے جاپانی وزیراعظم ہیں جو ایران کے دورے کی خواہش رکھتے ہیں، مگر ان کا حالیہ دورہ منسوخ کردیا گیا ہے۔ جاپانی وزیراعظم نے ایران کے دورے کی منسوخی کا فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کو تنہا کرنے، اس کی تیل کی برآمدات محدود کرنے اور ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کی روشنی میں کیا ہے۔ امریکہ نے اپنے اتحادی ممالک پر زور دیا ہے کہ4 نومبر 2018ء تک ایران سے تیل کی خریداری مکمل طورپر بند کردیں۔ جاپان ایران کے خام تیل کا ایک بڑا گاہک ہے۔ اگر ٹوکیو کی طرف سے ایرانی تیل کی خرید کم ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں تہران کا معاشی بحران اور تیل کی برآمدات مزید متاثر ہوسکتی ہیں۔

امریکہ نے چین کی موبائل کمپنی کو قومی سلامتی کے خلاف قرار دے دیا

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے چین کی موبائل کمپنی کو امریکہ میں خرید وفروخت کے لیے لائسنس دینے سے انکار کردیا۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ چین مواصلاتی نظام کے ذریعے امریکہ کو نقصان پہنچا سکتا ہے، اس لیے قومی سلامتی کو درپیش خطرات کی وجہ سے چین کی موبائل کمپنی کو لائسنس جاری نہیں کیا گیا۔ امریکی محکمہ کامرس کے سیکریٹری برائے مواصلات اور انفارمیشن ڈیوڈ جے ریڈل نے کہا کہ چینی موبائل کمپنی کے حکام ملاقات میں امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور قومی سلامتی کے مفادات کے بارے میں خدشات دور کرنے میں ناکام رہے، جب کہ تحفظات پر تسلی بخش جواب نہ ملنے پر محکمے نے وزارت کو لائسنس جاری نہ کرنے کی تجویز دی، جسے قبول کرلیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ چین کی ریاستی موبائل کمپنی نے 7 برس قبل موبائل فونز کی فروخت اور نیٹ ورک لائسنس کے لیے امریکہ کے وفاقی مواصلات کمیشن (ایف سی سی) سے لائسنس حاصل کرنے کے لیے درخواست دی تھی، تاہم اس وقت دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدہ ہیں اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی تجارتی اشیاء پر بھاری ٹیکس عائد کیا ہوا ہے۔

قطر حماس اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے لیے کوشاں

فلسطین کے علاقے غزہ میں قطر کے سفیر نے انکشاف کیا ہے کہ اُن کا ملک فلسطینی تنظیم ’حماس‘ اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے لیے کوشاں ہے اور ان کوششوں کے بارے میں امریکہ کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔ العربیہ نیوز چینل کے مطابق قطری سفیر کا کہنا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے لیے مجوزہ امن منصوبے’صدی کی ڈیل‘ کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ قطری سفیر کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ ایام میں امریکی مندوبین نے سعودی عرب سمیت خطے کے دوسرے عرب ممالک کا دورہ کیا تھا۔ امریکی صدر کے مشیر جارڈ کوشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی جیسن گرین بیلٹ نے سعودی عرب، اردن، مصر، قطر اور اسرائیل کا دورہ کیا اور ان ملکوں کی قیادت سے ملاقات کی تھی۔ واضح رہے کہ اخبارات اور سوشل میڈیا پر سعودی عرب سمیت دوسرے عرب ممالک کے خلاف بھی یہ الزام ہے کہ سعودیہ کی قیادت میں چلنے والے عرب ممالک بیت المقدس سے دست بردار ہوچکے ہیں۔

انتخابات تبدیلی کے پیغامبر ہیں؟

میڈیا کی سنسرشپ اور اس کے سر پر لٹکتی ہوئی تلوار، یا خبروں اور تبصروں پر طاری احتیاط کا موسم اپنی جگہ پر، لیکن مقامی اجتماعات اور گلیوں اور تھڑوں کا بیانیہ اس سنسرشپ کی زد میں نہیں ہے۔ انتخابات کا دن قریب آنے پر دور افتادہ دیہات اور قصبوں میں ہونے والی بات کو جو متاثر کرسکے گا، وہ الیکشن جیت جائے گا۔ وہاں جو اپنے بیانیے کا دفاع کرپائے گا، کامیاب ٹھیرے گا۔
اچھا ہو اگر انتخابات کا میدان سب کے لیے یکساں طور پر ہموار ہو۔ اس میں کسی کے گھوڑے کی طنابیں نہ کھینچی جائیں۔ سب ٹریک ایک جیسے ہوں، سب کے سامنے رکاوٹوں کی اونچائی ایک سی ہو۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ جیسے جیسے انتخابی معرکے کا دن قریب آرہا ہے، متنازع فیصلوں کی تعداد اور تعدد میں اضافہ ہورہا ہے۔ چنانچہ ہم سیاسی استحکام اور داخلی امن کی طرف نہیں بڑھ رہے ہیں۔ چنانچہ بہت محتاط الفاظ میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ انتخابات ہمارے خوف اور خدشات کو دور نہیں کرنے جارہے ہیں، اورنہ ہی تبدیلی کے پیغامبر ہیں۔
(طلعت حسین۔ جنگ، 4جولائی2018ء)

عمران کا دفاع؟

عمران خان پہ تنقید روا ہی نہیں، اب ضروری بھی ہے۔ ان کی سیاست کا دفاع یہ ناچیز اب نہیں کرنا چاہتا… اور اس کی قیمت بھی ادا کررہا ہے۔ تحریک ِ انصاف اور دوسری پارٹیوں میں اب کوئی بڑا فرق باقی نہیں اس کے سوا کہ دفاعی معاملات میں بہرحال وہ محتاط ہیں۔ جناب آصف علی زرداری کے حالیہ انٹرویو سے واضح ہے کہ کسی وقت بھی انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے زیراثر میاں محمد نوازشریف سے وہ سمجھوتا کرسکتے ہیں۔ بارہا انہوں نے کیا ہے۔ یہ ان کی سیاسی ضرورت ہے کہ میاں محمد نوازشریف کے برعکس فی الحال خطے میں بھارتی بالادستی کی وہ حمایت نہیں کررہے۔
ایجنڈا ان کا واضح ہے۔ ہر حال میں سندھ کا اقتدار انہیں بچانا ہے۔ عملی طور پر مطالبہ ان کا یہ ہے کہ سندھ میں متعین رینجرز بہرحال ان کی قانون شکنی کو نظرانداز کریں۔ جب اور جس طرح وہ چاہیں، صوبے میں پولیس اور افسر شاہی کو استعمال کریں اپنے مخالفین کی تذلیل، اپنی سیاست کے فروغ اور اپنی جمہوریت کو فروغ دینے کے لیے۔ دعویٰ ان کا یہ ہے کہ ان کے مخالفین کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ وہ کرپشن اور من مانی کا لائسنس مانگتے ہیں، مکمل آزادی!
اپنی خبر پہ ناچیز کو اب بھی اصرار ہے کہ لاہور میں عالمی استعمار کے ایک پسندیدہ کردار کے ہاں، میاں محمد نوازشریف سے، ان کی خفیہ ملاقات ہوئی۔ الگ الگ ذرائع کی معلومات اس بارے میں قدرے مختلف ہیں۔ زیادہ قابلِ اعتماد ذریعے کا کہنا یہ ہے کہ الیکشن کے بعد ان دونوں معزز رہنمائوں نے مرکز میں متحدہ حکومت تشکیل دینے کا پیمان کیا۔ دوسرے کا دعویٰ یہ ہے کہ صورتِ حال سے فائدہ اٹھا کر وہ نوازشریف کے مخالفین سے بھی معاملہ طے کرسکتے ہیں، شرط یہ ہوگی کہ صدرِ پاکستان کا منصب طشتری میں رکھ کر انہیں پیش کردیا جائے۔
(ہارون رشید۔ دنیا، 4جولائی2018ء)

فقیر کی بھوک۔ سلطان کی بھوک

’’سلطان کی بھوک تو ملک و ملت کو کھا جاتی ہے‘‘۔ مثنوی اسرارِ خودی کے فارسی شعر کے دوسرے مصرعے کا یہ ترجمہ انسانی عروج و زوال کی کہانی کا مرکزی نکتۂ خیال ہے۔ پورا شعر یوں ہے
آتش جان گدا جوع گدا است
جوع سطاں ملک و ملت را فنا ست
ایک فقیر کی بھوک کی آگ صرف اس کی جان کھا لیتی ہے، لیکن حکمران کی بھوک پورے ملک و ملت کو کھا جاتی ہے۔ اس شعر کی تفسیر بھی اگر دنیا بھر میں کہیں نظر آتی ہے تو اُس ملک میں جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا۔ یوں تو اقبال کی پوری مثنوی ’’اسرارِ خودی‘‘ اس حدیث کی تشریح ہے کہ ’’من عرفہ نفسہ فقد عرفہ ربہ‘‘ یعنی جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔ لیکن اس میں اقبال نے اپنے فلسفۂ خودی کو بیان کیا ہے اور صرف افراد کی خودی و خودداری نہیں بلکہ قوموں کی خودی کی بات کی ہے۔ ان کے نزدیک خودی اور خودداری کی نفی دراصل مغلوب اور مفتوح قوموں کی ایجاد ہے۔ ان کے نزدیک ایسی قومیں بکریوں کا وہ ریوڑ ہوتی ہیں جو بار بار کے حملوں سے تنگ آکر اس بات کا پرچار کرنے لگ جاتی ہیں کہ گوشت کھانا حرام ہے۔ کبھی کوئی غالب قوم امن کی پرچارک نہیں ہوتی، بلکہ وہ طاقت کے حصول کے لیے مزید لڑتی ہے، جہانگیری اور علاقوں کو ماتحت کرنے کے لیے جنگ کرتی ہے اور اپنی مفتوح قوموں کو یہ احساس دلاتی ہے کہ تم ایک غلام نسل سے تعلق رکھتے ہو جس کا مقدر ہی یہ تھا۔ گزشتہ ایک سو سال سے برپا جنگیں جو پہلی جنگِ عظیم سے شروع ہوئیں اور شام کے شہروں پر بمباری کی صورت میں آج بھی جاری ہیں، سب کی سب غلبے، اقتدار، جہانگیری اور معاشی بالادستی کے لیے کی گئیں، لیکن تاریخ کی کتابوں، نصاب میں درج قصوں اور سیاسی دانش کے خزانوں میں آپ کو ان کا ایک ہی مقصد ملے گا ’’ہم دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے جنگ کررہے ہیں‘‘۔ ہٹلر ایک فاشسٹ ہے جو دنیا کی اکثریت کو قتل کرکے جرمن قوم کی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے، سوویت یونین کے کمیونسٹ پوری دنیا پر ایک ایسے فلسفے کی حکمرانی کے لیے جنگ کررہے ہیں جس کے ماتحت تمہارا گھر، کاروبار، زمین، باغات یہاں تک کہ تمہاری بیویاں تک تمہاری ذاتی نہیں رہیں گی بلکہ اجتماعی ملکیت ہوجائیں گی۔ القاعدہ اور ملا عمر کا طرزِ حکومت اگر عام ہوگیا تو یہ تم سے تمہارا طرزِ زندگی چھین لیں گے۔ عورتیں غلام بنا لی جائیں گی اور ان کی نمود و نمائش سب ختم ہوجائے گی۔ یہ رنگارنگ بازار، مارکیٹیں، ساحلِ سمندر کی تفریحات، فلم و فیشن، یہاں تک کہ تفریح بھی تم سے چھین لی جائے گی۔ اس لیے اس سے پہلے کہ یہ خوفناک عفریت دنیا پر پابو پائے، طاقتور ہوجائے، اسے جنگ کے ذریعے کچل کر دنیا میں امن قائم کردیا جائے۔ ان سو برسوں کی مسلسل جنگوں سے پوری دنیا دو واضح حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے، غالب و مغلوب اور فاتح و مفتوح۔ فاتح اقوام وہ بھیڑیے ہیں اور مفتوح قومیں جو بکریوں کا ریوڑ ہیں ان پر وہ یہ کہہ کر چڑھ دوڑتے ہیں کہ ان کے سینگوں سے ہمیں نہیں بلکہ اقوام عالم کو خطرہ ہے۔ جبکہ مفتوح اقوام میں زہر کی طرح احساسِ کمتری کو درجہ بدرجہ داخل کیا جاتا ہے۔ یہ بہت میٹھا زہر ہے جو ان اقوام کو ذہنی طور پر فالج زدہ اور غلام بنا دیتا ہے، لیکن وہ اپنی غلامی اور ذہنی طور پر فاتج زدگی کو خوبصورت نام دیتے ہیں کہ ہم تو امن کا پرچم بلند کرنے والے ہیں۔گزشتہ پچاس برسوں سے ایسے تمام مفتوح ممالک میں عالمی کانفرنسوں، سیمیناروں، دو طرفہ معاہدوں، نصابِ تعلیم اور طاقتور میڈیا کے ذریعے ایک بات پھیلائی جاتی ہے کہ ہمیںاس دنیا کو پُرامن بنانا ہے، ہمیں شدت پسندی کے خلاف جنگ کرنا ہے، ہمیں اپنے اندر موجود امن کے دشمن دہشت گردوں کا صفایا کرنا ہے۔ اس وقت پوری دنیا کی مفتوح اقوام جن میں اکثریت بلکہ تمام کی تمام مسلمان ہیں اور ان اقوام میں نفیٔ خودی کا یہ درس عام کیا گیا ہے، جبکہ اسی عرصے میں روس افغانستان پر چڑھ دوڑتا ہے، امریکہ اس کے مقابلے کے لیے اسے میدانِ جنگ بناتا ہے، ویت نام ہے، نکاراگوا ہے، انگولا، چلی، کولمبیا، برازیل، ملاعمر کا افغانستان، عراق، لیبیا، یمن اور شام… سب جگہ آباد بکریوں کے ریوڑ نما عوام کا خون کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ نفیٔ خودی اتنی آسانی سے پیدا نہیں ہوتی، اس کے لیے سب سے پہلے اس قوم کو معاشی طور پر کنگال اور بدحال کرنا پڑتا ہے۔ فاقہ زدہ قومیں اپنی روزمرہ کی زندگی کا تاروپود اکٹھا کرنے میں مصروف ہوجاتی ہیں، ان کے نزدیک غیرت، حمیت، عزت، حرمت اور خودی جیسے لفظ بے معنی ہوکر رہ جاتے ہیں۔ یہ معاشی غلامی قوموں کے زوال کا آغاز بھی ہے اور انجام بھی۔ دنیا کی جدید تاریخ میں کوئی قوم اُس وقت تک معاشی غلامی کا شکار نہیں ہوتی جب تک اس کا حکمران بددیانت، چور اور کرپٹ نہ ہو۔ دنیا کا نقشہ اپنی میز پر پھیلائیے اور ترقی یافتہ اور مفلوک الحال پسماندہ قوموں پر نشان لگاتے جائیے۔ آپ کو خوشحالی اور بدحالی کے درمیان صرف اور صرف بددیانت چور اور کرپٹ حکمران کا فرق نظر آئے گا۔

Share this: