بلوچستان: امیدواروں پر حملے

بلوچستان میں الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری پر اُنگلیاں اُٹھائی جارہی ہیں۔ صوبے کے تمام اضلاع میں کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کی تعیناتیاں کی گئیں۔ اکثر اضلاع میں جونیئر کو سینئرافسران پر فوقیت دے کر تعینات کیا گیا ہے۔ پچھلی حکومت میں اوایس ڈی بنائے گئے کئی سینئر افسران اب بھی پرانی پوزیشن پر ہی رکھے گئے ہیں۔ 19 گریڈ کے جونیئر افسران کمشنر لگائے گئے ہیں جنہوں نے اب تک سینئر مینجمنٹ کورس تک نہیں کیا۔ ڈپٹی کمشنروں کی پوسٹ گریڈ 19 کی ہے جس پر اسکیل 18 کے افسران کو بٹھا دیا گیا ہے۔ پسند و ناپسند کا معاملہ پچھلی حکومتوں میں بھی چلتا رہا اور نگران سیٹ اپ میں بھی اسی روایت کو برقرار رکھا گیا ہے۔ گویا صاف صاف سپریم کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلوں کو ٹھوکریں ماری جارہی ہیں۔ اس صورتِ حال پر افسران میں بے چینی پائی جاتی ہے اور وہ عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ ان تعیناتیوں میں بلوچستان عوامی پارٹی کے اُمیدواروں کی منشا و خواہش ملحوظ ِ خاطر رکھی گئی ہے۔ طرف داری ہوگی تو الیکشن کی شفافیت پر سوالات ضرور اُٹھیں گے، اور اس قیاس کو تقویت ملے گی کہ بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) منظور ِ نظر ٹھیری ہے، جس کے راستے کی رکاوٹیں ہٹانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔
ویسے’’باپ‘‘ سے ناقد جما عتیں بھی مرعوب دکھائی دیتی ہیں، جنہوں نے مدافعت کے بجائے اُلٹا اس سے اُمیدیں وابستہ کرلی ہیں۔ ہم لکھ چکے ہیں کہ اس سے سیاسی جماعتوں نے رابطے کرلیے ہیں۔ عیدالفطر سے قبل بھی ملاقاتیں ہوئیں، اور عیدالفطر کے بعد بھی سیاسی لیڈران ’’باپ‘‘کے در پر قدم رنجہ ہوئے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی کی ’’باپ‘‘ کے بہ زعم خویش بانی سعید احمد ہاشمی سے ملاقات ہوئی۔ نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ دوبار رابطہ کرچکے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا عبدالواسع وغیرہ تو ملاقات کر ہی چکے تھے، چناں چہ مولانا عبدالغفور حیدری نے بھی جو پی بی 32 پر ایم ایم ا ے کے اُمیدوار ہیں، تعاون کے لیے رجوع کرلیا ہے۔ مولانا عبدالواسع نے تو انتہا کردی تھی کہ اپنے بھائی ’’محب اللہ‘‘کو ’’باپ‘‘ میں شامل کرانے کی ٹھان لی تھی۔ انہوں نے بھائی کے لیے پی بی 3 قلعہ سیف اللہ کے ٹکٹ کا تقاضا بھی کیا تھا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ کتنے نظریاتی ہیں اور پارٹی مفادات کو کتنا مقدم سمجھتے ہیں! یقینا اس سیاست کو موقع پرستی کا نام ہی دیا جا سکتا ہے۔ یہ یاد رہنا چاہیے کہ ان کی یہ حیثیت اور شناخت پارٹی اور مخلص کارکنوں کی مرہونِ منت ہے۔ ماضی میں اس جماعت کے کئی لوگ خود فریبی میں مبتلا ہوکر گمنامی میں جا چکے ہیں۔1988ء کے انتخابات میں عنایت اللہ بازئی جے یوآئی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے، پھر بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر بنے، پھر پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ یوں ان کی سیاست اور شخصیت ختم ہوگئی ہے۔ 2002ء کے انتخابات میں جمال شاہ کاکڑ جے یو آئی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے۔ بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر بنے۔ وہ سمجھ بیٹھے کہ یہ سب اُن کی ذات کا کمال ہے۔ وہ جے یو آئی چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوگئے۔ لیکن پھر اسمبلی پہنچنے کی اُن کی تمنا پوری نہ ہوسکی۔ اسی اسمبلی میں جے یو آئی کے شہزادہ فیصل احمد زئی نے جو وزیر بھی تھے، جماعتی فیصلوں کے خلاف وقتی مفاد کو ترجیح دی اور اب گوشۂ گمنامی کی نذر ہیں۔ مولانا عبدالواسع کو اگر شوق ہے تو ایک بار جے یو آئی چھوڑ کر تو دیکھیں، پتا چل جائے گا کہ وہ کتنے پانی میں ہیں!
جماعت اسلامی بلوچستان میں بڑی ’’ناشاد‘‘ قسم کی تنظیم ہے، جے یو آئی اسے ذرا بھی اہمیت نہیں دے رہی۔ مولوی تیز ہیں، ان کی صوبے کی سیاست پر گہری نظر ہے، انتخابی دائو پیچ کے خوب ماہر ہیں۔ جماعت اسلامی اُن کی چال چل ہی نہیں سکتی۔ جے آئی کوئٹہ میں حلقہ 24، 29 اور 31 پر ٹکٹوں کا مطالبہ کررہی تھی۔ ان میں بھی حلقہ29 جماعت اسلامی کے لیے اہمیت کا حامل تھا، جے یو آئی (ف) اس پر آمادہ نہ ہوئی، لہٰذا جماعت اسلامی کے ایک رکن ڈاکٹر عطاء الرحمان نے جے یو آئی کے ساتھ مل کر چانکیہ سیاست کی اور پردے کے پیچھے پی بی 28کا ٹکٹ حاصل کرلیا۔ مولانا عبدالغفور حیدری سے ٹکٹ وصولی کا لمحہ کیمرے کی آنکھ نے بھی محفوظ کرلیا۔ حالانکہ یہ حلقہ جماعت اسلامی کا مطالبہ اور اس کی ترجیح تھا ہی نہیں۔ گویا جماعت کے اس شخص نے مل کر اپنا کام نکلوا لیا۔ اس دوران جماعت اسلامی کے چند دوسرے لوگوں نے بھی خیانت و بدخواہی کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ دیکھا جائے تو کوئٹہ کے 9 صوبائی حلقوں میں جماعت اسلامی کو ایک حلقے پر بھی ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ جماعت اسلامی خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی کے ساتھ مخلوط حکومت میں تھی۔ سراج الحق نے سینیٹ چیئرمین کے انتخاب میں ساتھ نہ دیا تو فواد چودھری نے انہیں جھوٹے کے الفاظ سے نوازا۔ کسی نے کہا کہ جماعت اسلامی والے منافقت کررہے ہیں، تو کسی نے پانچ سال وزارتوں کے مزے لوٹنے کے طعنے دیئے۔ جماعت اسلامی اسلامی جمہوری اتحاد کا حصہ بنی تو مہران بینک اسکینڈل کی تہمت گلے پڑ گئی۔
بہرکیف بلوچستان میں امن کا مسئلہ درپیش ہے، ان چند دنوں میں مکران ڈویژن کے اندرکئی امیدواروں پر حملے ہوچکے ہیں، ان کی رہائش گاہیں نشانہ بن چکی ہیں۔ جون میں ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے رہنما میر اصغر رند کے گھر کو دھماکا خیز مواد سے اڑایا گیا۔ اسی علاقے میں بی این پی مینگل کے پی بی48 سے امیدوار میر حمل بلوچ کے قافلے پر حملہ کیا گیا۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے نائب صدر ظہور بلیدی کے کیچ کے علاقے بلیدہ میں واقع گھر پر بھی دو بار حملہ کیا گیا۔ اسی طرح نیشنل پارٹی کے پی بی 44 آواران کم پنجگور سے امیدوار سابق ضلع ناظم خیر جان بلوچ کے قافلے پر بھی شدت پسند تنظیم کے حملہ آوروں نے فائرنگ کی اور راکٹ کے گولے داغے۔ الیکشن کے دن قلعہ عبداللہ خاص کر گلستان میں بھی غیر یقینی حالات دکھائی دیتے ہیں۔ یہ محمود خان اچکزئی کا آبائی علاقہ ہے۔ محمود خان اچکزئی کی جماعت پشتون تحفظ موومنٹ کو گلے لگا کر سخت گیر نعروں اور مطالبات کا حصہ بن گئی۔ یہی کچھ افغان حکومت، وہاں کی سیاسی جماعتیں اور دوسرے حلقے کہتے ہیں۔ پاکستان میں متعین افغان سفیر حضرت عمر زاخیلوال برملا کہہ چکے ہیں کہ اُن کا ملک پشتون تحفظ موومنٹ کے مطالبات کی حمایت کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ افغان حکومت حمایت کی آڑ میں شرارت کررہی ہے۔ پشتون خوا میپ کو اتنا آگے نہیں جانا چاہیے تھا۔ یقینا یہ فیصلہ ان کی کم فہمی ظاہر کرتا ہے۔ اس طرح اب ان کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی، جو اُن کی اپنی پیدا کردہ ہوں گی۔ پشتون خوا میپ منظم جماعت تھی۔ اب اس کے اندر کی باتیں رہنمائوں کی زبانی برسر عام ہونے لگی ہیں۔ چند حلقوں پر اس کے لوگ آزاد حیثیت سے میدان میں کودے ہیں۔ اختلافات کی وجہ سے پارٹی کا مرکزی کونسل سیشن کئی سال منعقد نہ کیا جا سکا، اس خوف سے کہ کہیں پنڈورا باکس نہ کھل جائے۔ کرتے کرتے 26مئی کو کونسل سیشن کا انعقاد کوئٹہ میں ہوا، جس میں محمود خان اچکزئی پارٹی کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ چونکہ یہ کونسل سیشن ناگزیر تھا، انٹرا پارٹی انتخابات نہ ہوتے تو الیکشن میں پشتون خوا میپ کو اس کا انتخابی نشان ’’درخت‘‘ الاٹ نہ ہوتا اور امیدواروں کو متفرق نشانات پر الیکشن لڑنا پڑتا۔ لہٰذا مرکزی کونسل سیشن میں اکتوبر2018ء تک عارضی قیادت کا انتخاب کیا گیا۔ پیش ازیں اس کا مرکزی کونسل سیشن فروری2013ء میں ہوا تھا۔ گویا اس جماعت کا شیرازہ بکھرتا دکھائی دیتا ہے۔

Share this: