وطن پرستی

ڈاکٹر جاوید اقبال

اسلام کا ظہور بت پرستی کے خلاف ایک احتجاج کی حیثیت رکھتا ہے۔ وطن پرستی بھی بت پرستی کی ایک نازک صورت ہے۔ مختلف قوموں کے وطنی ترانے میرے اس دعوے کا ثبوت ہیں کہ وطن پرستی ایک مادی شے کی پرستش سے عبارت ہے۔ اسلام کسی صورت میں بت پرستی کو گوارا نہیں کرسکتا۔ بت پرستی کی تمام اقسام کے خلاف احتجاج کرنا ہمارا ابدی نصب العین ہے۔

یہ بت کہ تراشیدۂ تہذیبِ نوی ہے
غارت گرِ کاشانۂ دینِ نبوی ہے
……
نظارۂ دیرینہ زمانے کو دکھا دے
اے مصطفوی خاک میں اس بت کو ملا دے

اسلام جس چیز کو مٹانے کے لیے آیا تھا، اسے مسلمانوں کی سیاسی تنظیم کا بنیادی اصول قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی جائے پیدائش مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ میں قیام اور وصال، غالباً اسی حقیقت کی طرف ایک مخفی اشارہ ہے۔
ہے ترکِ وطن سنتِ محبوبِ الٰہی
دے تُو بھی نبوت کی صداقت پہ گواہی
(’’وطنیت‘‘، بانگِ درا، ص174)
(شذرات فکرِ اقبال۔ مرتبہ: ڈاکٹر جاوید اقبال… ترجمہ: افتخار احمد صدیقی)

ملّی اتحاد

اسلام اور وطن پرستی کے بارے میں جو کچھ پہلے لکھ چکا ہوں، اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہمارے ملّی اتحاد کا انحصار اس بات پر ہے کہ مذہبی اصول پر ہماری گرفت مضبوط ہو۔ جونہی یہ گرفت ڈھیلی پڑی ہم کہیں کے نہ رہیں گے۔ شاید ہمارا وہی انجام ہو جو یہودیوں کا ہوا۔ اس گرفت کو مضبوط کرنے کے لیے ہم کیا کرسکتے ہیں؟ کسی معاشرے میں مذہب کا سب سے بڑا امین و محافظ کون ہوتا ہے؟ عورت ہوتی ہے۔ مسلم خواتین کو صحیح مذہبی تعلیم حاصل ہونی چاہیے کیونکہ وہی قوم کی حقیقی معمار ہیں۔ میں آزاد نظامِ تعلیم کا قائل نہیں۔ تعلیم بھی دیگر امور کی طرح قومی ضروریات کی تابع ہوتی ہے۔ ہمارے مقاصد کے پیش نظر، مسلم بچیوں کے لیے مذہبی تعلیم بالکل کافی ہے۔ ایسے تمام مضامین جن میں عورت کو نسوانیت اور دین سے محروم کردینے کا میلان پایا جائے، احتیاط کے ساتھ تعلیمِ نسواں کے نصاب سے خارج کردیے جائیں۔

جس علم کی تاثیر سے زَن ہوتی ہے نا زَن
کہتے ہیں اُسی علم کو اربابِ نظر موت
بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسۂ زَن
ہے عشق و محبت کے لیے علم و ہنر موت

(ضربِ کلیم، ص95)
لیکن ہمارے ماہرینِ تعلیم اب بھی اندھیرے میں ٹٹول رہے ہیں۔ انہیں اب تک لڑکیوں کا نصابِ تعلیم مقرر کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔ شاید مغربی تصورات کی چمک دمک سے ان کی آنکھیں اتنی خیرہ ہوگئی ہیں کہ وہ اسلامیت اور مغربیت کے اس واضح فرق کو بھی نہیں سمجھتے کہ ایک طرف اسلامیت، خالصتاً ایک مجرد تصور یعنی مذہب کی بنیاد پر قومیت کی تعمیر کرتی ہے، دوسری طرف مغربیت ہے جس کے تصورِ قومیت کی روح ایک مادی شے یعنی ملک ہے۔
(شذرات فکرِ اقبال۔ مرتبہ: ڈاکٹر جاوید اقبال… ترجمہ: افتخار احمد صدیقی)

Share this: