پاکستان عام انتخابات،تبدیلی کے امکانات

پاکستان میں پچھلے چند برسوں سے سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنمائوں کے طرزِعمل اور حکمرانی کے بارے میں ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ عوام بالخصوص نوجوان نسل جو سوشل میڈیا پر بڑی سرگرم اور فعال نظر آتی ہے، اُسے سیاست اورحکمرانی کے نظام پر شدید تحفظات ہیں۔ پچھلے دنوں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے ساتھ لیاری میں دیکھنے کو ملا ہے وہ خاصا سنجیدہ مسئلہ ہے۔ کیونکہ مسئلہ محض پیپلزپارٹی مخالفین کا نہیں، بلکہ لیاری تو ہمیشہ سے پیپلزپارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، وہاں عورتوں اور بالخصوص نوجوان طبقے کا بلاول کے خلاف ردعمل فطری امر ہے۔ کیونکہ وہاں کے لوگ جن بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، اس پر پیپلز پارٹی کی دس سالہ حکومت نے کچھ نہیں کیا۔
عمومی طور پر یہی دلیل دی جاتی ہے کہ جہاں ووٹر متحرک، فعال اور باشعور ہے اور اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتا ہے وہیں جمہوری سیاست کا مستقبل بھی روشن ہوتا ہے۔ کیونکہ سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادتیں اُسی وقت اپنے آپ کو زیادہ فعال اور جوابدہ بناتی ہیں جب اُن پر اپنے کارکنوں اور ووٹروں کا شدید دبائو ہوتا ہے۔ یہ مناظر اب ہم 2018ء کے عام انتخابات کے تناظر میں پورے ملک میں دیکھ رہے ہیں جہاں ووٹروں اور انتخابی امیدواروں کے درمیان تنائو اور جوابدہی کی کیفیت نمایاں نظر آتی ہے۔ بالخصوص وہ سیاسی امیدوار جو پچھلے سیاسی نظام میں قومی اور صوبائی سطح پر منتخب نمائندے تھے اور حکومت کا حصہ تھے انہیں عوامی ردعمل کا سامنا ہے، کیونکہ ہم سب ان تجزیوں میں ملک کی حکمرانی کے نظام کو چیلنج کرتے رہے ہیں۔ جس انداز سے حکمرانی کا نظام چلایا جارہا ہے اُس پر لوگوں میں یقینی طور پر شدید ردعمل ہے۔ اب کیونکہ سوشل میڈیا بھی ہے تو یہ ردعمل دیکھنے کے نئے نئے طریقے بھی سامنے آرہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ انتخابی مہم میں امیدواروں کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
عملی طور پر ووٹرز ان امیدواروں سے ان کی حکومت اور خود ان کی اپنی پانچ سالہ کارکردگی کے بارے میں بنیادی نوعیت کے سوالات اٹھا رہے ہیں۔اول یہ پوچھا جارہا ہے کہ آپ ہمارے بنیادی مسائل کیوں حل نہیں کرسکے؟ دوئم، آپ ووٹروں سے کیوں لاتعلق رہے؟ سوئم، حکومت میں ہوتے ہوئے جو وسائل آپ کو ملے وہ کہاں خرچ کیے گئے؟ چہارم، انتخابات کا اعلان ہوتے ہی آپ کو ووٹروں کی یاد کیسے آگئی؟ پنجم، ہم آپ کو کیوں ووٹ دیں اس کا جواز پیش کیا جائے۔ اگرچہ ماضی کے انتخابات میں بھی کچھ اسی قسم کا ردعمل دیکھنے کو ملتا تھا، لیکن2018ء کے انتخابات میں اس کی شدت اور جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ووٹرز اور امیدواروں کے درمیان ناراضی کے یہ مناظر دیگر نوجوان طبقے کو بھی تقویت دے رہے ہیں کہ وہ بھی اپنے حلقے میں امیدواروں کا احتساب کریں۔
عمومی طور پر سیاسی پنڈت یہ دلیل دیتے ہیں کہ انتخابات جوابدہی کا ایک مؤثر نظام ہوتا ہے اور جہاں سیاسی جماعتوں اور قیادت کو ووٹرز کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے انتخابات ایشوز اور کارکردگی کی بنیاد پر کم اور جذباتیت، الزام تراشیوں اور اسکینڈلز کی بنیاد پر زیادہ لڑے جاتے ہیں۔ خود سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادتیں شعوری طور پر ایسا ماحول پیدا کرتی ہیں کہ ووٹر سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھانے کے بجائے جذباتیت پر مبنی سیاست کا حصہ بن کر اس انتخابی مہم میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔ حالانکہ کسی بھی منتخب نمائندے کا یہ بنیادی فرض ہوتا ہے کہ وہ ووٹروں کو یہ باور کرائے کہ اس نے بطور نمائندہ ایسے کیا کام کیے ہیں جو عوامی مفاد سے متعلق ہوں۔ لیکن جب سیاست عوامی مفادات سے نکل کر ذاتی مفاد اورکرپشن سمیت بدعنوانی کا شکار ہوجائے تو عوامی مفادات سے جڑی سیاست کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ جو ہم اس وقت نوجوان نسل یا ووٹروں کی جانب سے سیاسی جماعتوں اور انتخابی امیدواروں کے لیے مخالفانہ ردعمل دیکھ رہے ہیں وہ محض کسی ایک جماعت تک محدود نہیں۔ کیونکہ سابقہ سیاسی نظام میں ہر بڑی سیاسی جماعت کسی نہ کسی صوبے میں اقتدار کی سیاست سے جڑی ہوئی تھی، تو ان کو اب جوابدہ بھی ہونا پڑرہا ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی، پنجاب میں مسلم لیگ (ن)، اور خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف برسر اقتدار تھیں۔ اب تجزیہ نگاروں کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ ان جماعتوں سے پچھلے پانچ برس کا کڑا احتساب لیں اور عوامی مفاد سے متعلق ان کی سیاست، طرزِ حکمرانی، وسائل کی تقسیم اور فیصلہ سازی کے عمل کا کھل کر پوسٹ مارٹم کریں۔ یہی جمہوریت بھی ہے اور یہی انتخابی سیاست بھی۔ کیونکہ بنیادی طور پر ووٹر اور انتخابی سیاست اگر اس ملک میں کارکردگی کی بنیاد پر جڑ جائے تو ملکی سیاست میں موجود خرابیوں کو ختم کرنے میں خاصی مدد مل سکتی ہے۔ یہ تصور کہ ووٹر غلام ہے اور اُس کے حاکم، اسے اب ختم کرنا ہوگا۔ یہ جو ہمارے سیاسی نظام میں ووٹروں کی سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادتوں کے درمیان یرغمالی ہے اسے ٹوٹنا چاہیے۔ ووٹروں کا سیاسی جماعتوں سے تعلق ان کی کارکردگی سے ہی جڑنا چاہیے تاکہ سیاسی جماعتوں میں یہ خوف ہو کہ اگر وہ ووٹروں کی توقعات پر پوری نہیں اتریں گی تو ان کو ہر سطح پر مسترد کیا جاسکتا ہے۔ اسی لیے آج کی دنیا میں ووٹروں کی تعلیم و تربیت پر زیادہ زور دیا جاتا ہے کہ اگر ووٹر میں شعور آجائے تو سیاسی نظام میں بہتری بھی آسکتی ہے اور مؤثر اصلاحات کے ساتھ سیاسی جماعتیں بھی عوامی سطح پر جوابدہ ہوسکتی ہیں۔ اس وقت بنیادی طور پر پاکستان کو جوابدہی پر مبنی سیاست اور جمہوریت درکار ہے جو اس معاشرے میں ایک منصفانہ اور شفاف نظام کی طرف بڑھ سکے۔
اِس بار امیدواروں اور بالخصوص بڑی سیاسی جماعتوں کو اپنی انتخابی مہم میں ووٹروں کی طرف سے شدید ردعمل کا سامنا ہے۔ اس ردعمل کے باعث ان کو عملی طور پر اپنی انتخابی مہم چلانے میں مشکل پیش آرہی ہے۔ عمومی طور پر ووٹر کا ردعمل دو عوامل پیدا کرتا ہے۔ اول، ووٹر ایک جماعت یا اس کے امیدوار کے مقابلے میں کسی اور جماعت کے امیدوار کی حمایت کرتا ہے۔ دوئم، وہ کسی اورکی بھی حمایت کرنے کے بجائے انتخابی عمل سے ہی خود کو لاتعلق کرکے گھر بیٹھ جاتا ہے، اور یہ امر سیاسی نظام کی کمزوری کا سبب بھی بنتا ہے۔ بعض اوقات تو ووٹروں کو مسائل حل نہ ہونے سے زیادہ اس بات کا گلہ ہوتا ہے کہ اُن کا نمائندہ اُن کے ساتھ نہ رابطے میں رہتا ہے اور نہ ہی ان کی غمی خوشی کا حصہ بنتا ہے۔کئی منتخب نمائندے تو اپنے حلقوں میں بھی بہت کم جاتے ہیں، اور زیادہ تر بڑے شہروں میں جاکر اپنے ووٹروں کا اور زیادہ استحصال کرتے ہیں۔ بعض لوگ یہ دلیل دے رہے ہیں کہ ہمیں جو عوامی ردعمل نظر آرہا ہے وہ حقیقت پر مبنی نہیں، بلکہ سیاسی مخالفین اسے ایک دوسرے کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو، لیکن اگر آپ عوام میں جاکر کھڑے ہوں اور پوچھیں تو لوگ آپ کو سیاسی نظام اور حکمرانی پر لعن طعن کرتے نظر آئیں گے۔ کئی لوگ تو برملا کہتے ہیں کہ اِس بار ہم کو اپنا ووٹ نہیں ڈالنا کیونکہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ عمل نئی نسل میں مایوسی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
بنیادی طور پر ہمارے ووٹروں کو سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادتوں کے بارے میں جذباتیت، شخصیت پرستی، پوجا پاٹ اور ان کے ہر غلط کام کی حمایت اور مخالفین پر محض تنقید برائے تنقید کی سیاست سے باہر نکلنا چاہیے۔ ووٹروں کو عملی طور پر سیاسی جماعتوں کے منشور اور پروگرام اور ان کی کارکردگی کو بنیاد بناکر ان کی حمایت اور مخالفت کا فیصلہ کرنا چاہیے، تاکہ ایک مضبوط سیاسی نظام کی طرف پیش رفت ہوسکے۔ سیاسی جماعتوں، ان کی قیادتوں اور نمائندوں کو سمجھنا چاہیے کہ اب حالات ماضی جیسے نہیں۔ ووٹروں کو یرغمال بنانا آسان نہیں، اور جو نئی نسل سامنے آرہی ہے اس میں پہلے سے ہی حکمرانی کے نظام کے خلاف غصہ، بغاوت اور شدید ردعمل ہے۔ اس لیے اگر سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادتوں نے خود اپنے طور طریقے یا اطوار نہ بدلے تو ان کے خلاف ردعمل مزید بڑھے گا۔
البتہ ووٹروںکو یہ بات بھی سمجھنا ہوگی کہ ان کی مزاحمت، ردعمل، غصہ… یہ سب کچھ سیاسی دائرے میں ہی ہونا چاہیے، اوراس میں کہیں بھی پُرتشدد عمل کی حمایت کسی کو بھی نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ مقصد سیاسی جماعتوں، قیادتوں اور ان کے نمائندوں کو سیاسی طور پر جوابدہ بنانا ہے، محض تضحیک کرنا نہیں۔ نئی نسل اب پاکستان کی ایک بڑی طاقت ہے اوراس کے پاس اپنے جذبات کے اظہار کے لیے کئی طریقے موجود ہیں۔ اگر ہماری نئی نسل کی بہتر راہنمائی کی جائے اور ان کو درست سمت میں آگے لے جایا جائے تو یہی طبقہ ملک میں ایک بڑی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔ نوجوانوں کو یہ باور کروانا ہوگا کہ گھر بیٹھا مناسب نہیں، وہ باہر نکلیں اور اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں تاکہ سیاسی قیادت پر وہ اپنا سیاسی دبائو بڑھاسکیں اور سیاست کو مثبت سمت میں لانے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔
ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں اپنے منتخب نمائندوں کی کارکردگی کو جانچنے کا کوئی مربوط نظام نہیں رکھتیں جس سے ان کو جوابدہ بنایا جاسکے۔ حالانکہ سیاسی جماعتوں کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اپنے منتخب نمائندوں کی نگرانی کے نظام کو مؤثر بنائیں، کیونکہ اس سے صرف منتخب نمائندے کی ساکھ ہی متاثر نہیں ہوتی بلکہ خود سیاسی جماعت کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے اور نتیجہ ووٹ بینک کو متاثر کرتا ہے۔ سیاست میں ہمارا بنیادی مسئلہ مضبوط سیاسی نظام کا ہے۔ یہ مضبوط سیاسی نظام عملی طور پر جوابدہی، شفافیت، احتساب اور عوامی خدمت، انصاف سمیت وسائل کی منصفانہ تقسیم سے جڑا ہے، اور اسی عمل سے ووٹر اور سیاسی جماعت کا باہمی تعلق بھی مضبوط ہوتا ہے۔
2018ء کی جو انتخابی مہم چل رہی ہے اس میں ہر سطح پر اپنی اپنی سیاسی جماعتوں اور قیادت سے بالاتر ہوکر ہمیں ووٹروں کی سطح پر اپنے امیدواروں کے احتساب کی اس بحث کو مضبوط بناکر آگے بڑھانا چاہیے۔کسانوں، مزدوروں، عورتوں، نوجوانوں، معذور افراد، اقلیتوں سمیت سب کو سیاسی جماعتوں اور امیدواروں سے پوچھنا چاہیے کہ اس سیاسی نظام میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟ یہی وقت کی ضرورت بھی ہے۔ کیونکہ اگر ہم کو اپنی سیاست کی سمت درست کرنی ہے تو روایتی طرز کی سیاست سے باہر نکل کر کچھ نیا ایسا کرنا ہوگا جو لوگوں میں موجود محرومی کی سیاست کو کمزور کرکے ان میں ترقی اور خوشحالی کی امنگ بڑھا سکے۔

Share this: