انتخابات اور ووٹر کا امتحان

پاکستان ایک امتحان سے گزر رہا ہے، ایسا امتحان پہلے کبھی نہیں آیا۔ بدعنوانی میں ڈوبی ہوئی سیاسی قیادت دھمکی آمیز رویّے اپناکر ریاست اور اس کے اداروں سے اپنے لیے تحفظ مانگ رہی ہے اور چاہتی ہے کہ منی لانڈرنگ کے ذریعے پاکستان سے باہر منتقل کیا جانے والا پیسہ واپس نہ مانگا جائے۔ پاناما لیکس کے مطابق شریف خاندان سمیت پاکستان کے چار سو خاندانوں نے منی لانڈرنگ کرکے پاکستان کا سرمایہ بیرونِ ملک منتقل کیا اور آف شور کمپنیوں کے ذریعے اثاثے بنائے۔ پاناما لیکس نے انہیں بے نقاب کیا تو اسے سیاسی انتقام کا نام دیا جانے لگا۔ نوازشریف نے وزیراعظم کی حیثیت سے پارلیمنٹ میں اور سرکاری ٹی وی پر اپنے خطاب میں کہا کہ ان کے خاندان نے محنت سے کمائی کی ہے اور ہم ایک ایک پائی کا حساب دینے کو تیار ہیں۔ جب حساب لیا گیا تو کوئی باہمی ربط نہیں ملا۔ عدالت نے سوال پوچھے تو اسے سیاسی انتقام کا نام دیا گیا اور عدلیہ پر وار کیے گئے، اور عدالتی فیصلوں کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا۔ پاناما لیکس کے مطابق شریف خاندان نے 1993ء میں ایون فیلڈ لندن میں اربوں روپے کے فلیٹ خریدے۔ اُس وقت نوازشریف پاکستان کے وزیراعظم تھے۔ جب پاناما پیپرز سامنے آئے اُس وقت بھی نوازشریف پاکستان کے وزیراعظم تھے۔ سپریم کورٹ نے ان کے اثاثوں کی چھان بین کا حکم دیا، جس کے نتیجے میں جے آئی ٹی تشکیل دی گئی۔ اس کی رپورٹ کی روشنی میں سپریم کورٹ کے پانچ سینئر ججوں نے وزیراعظم نوازشریف اور ان کے خاندان کو پورا موقع دیا کہ وہ ایون فیلڈ لندن فلیٹس، جن کی ملکیت وہ تسلیم کرچکے تھے، کی منی ٹریل پیش کردیں۔ سپریم کورٹ نے مزید موقع دینے کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی۔ شریف خاندان نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر سُکھ کا سانس لیا اور مٹھائیاں بھی بانٹیں، مگر جے آئی ٹی میں اپنا دفاع نہ کرسکا، اور آخرکار نیب نے اس کے خلاف ریفرنس احتساب عدالت میں پیش کردیا۔ نیب قوانین کے مطابق ملزم کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے اثاثوں کے بارے میں ثبوت پیش کرے کہ وہ جائز اور قانونی ذرائع سے خریدے گئے۔ احتساب عدالت کے جج جناب محمد بشیر نے بڑے صبر کے ساتھ مقدمے کی سماعت کی۔ نوازشریف کے ماہر اور تجربہ کار وکیل خواجہ حارث نے وکالت کے سارے ہنر آزمائے لیکن شریف خاندان احتساب عدالت میں بھی اپنا دفاع کرنے میں ناکام رہا، اور اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ احتساب عدالت نے نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو قید، جرمانے اور ناجائز اثاثے بحقِ سرکار ضبط کرنے کی سزائیں سنادیں۔ اب نوازشریف اور مریم نواز لندن سے وطن واپس پہنچ رہے ہیں کہ عدالتوں میں اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کرنا چاہتے ہیں، احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جانی ہے جس کے لیے اُن کا پاکستان آنا لازم ہے، لیکن عدالتوں کے روبرو پیشی کو ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے کے غلاف میں لپیٹ کر عدالتوں کو دبائو میں رکھنے کا حربہ اختیار کرنے کی حکمت عملی اختیار کرکے سمجھتے ہیں کہ عدلیہ کو دبائو میں لے آئیں گے۔ جب کہ انہیں قانون کے سامنے سرنڈر کرنا ہے۔ نیب قانون جو اثاثے معلوم آمدن سے زیادہ ہوں انہیں کرپشن قرار دیتا ہے، اور ایسے جرم کے لیے سزا موجود ہے۔ یہ قانون خود پارلیمنٹ نے ہی بنایا ہے جس کے نوازشریف رکن رہے ہیں۔ احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد چونکہ ملک میں کڑے احتساب کا دروازہ کھل گیا ہے، اس لیے سیاسی طاقت کے مظاہرے کرکے احتسابی عمل روکنا چاہتے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ مسلم لیگ(ن) دس لاکھ لوگ باہر نکالنے میں کامیاب ہوگئی تو حالات بدل جائیں ہے۔ حقائق یہ ہیں کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔ نیب قانون کی گرفت میں آئے ہوئے احد چیمہ، فواد حسن فواد اور حسین لوائی کی گرفتاری اب شفاف اور یکساں احتساب کے عمل سے گزرے گی۔ احتساب کی کامیابی کا راز اور نسخہ یہ ہے کہ احتساب شفاف اور یکساں ہو، اور کسی جماعت یا ادارے سے منسلک کرپٹ فرد کے لیے ہرگز نرم گوشہ نہ رکھا جائے۔ نوازشریف نے مزاحمتی لہجہ اور بیانیہ اختیار کرکے احتسابی عمل کو مضبوط اور مستحکم کردیا ہے، لیکن اس کے مقابلے میں اب عوام شفاف اور یکساں احتسابی عمل کا ساتھ دیں گے۔ اس مرحلے پر کوئی سمجھوتا ہوا تو احتساب کا یہ تاریخی اور سنہری موقع ضائع ہوجائے گا اور ریاست پر اس کے مہلک اثرات مرتب ہوں گے۔
اسلام آباد میں جب احتساب عدالت نوازشریف کو کٹہرے میں کھڑا کرکے سزا سنا رہی تھی عین اُس وقت امریکی وزارتِ خارجہ میں جنوب ایشیائی امور کی سربراہ ایلس ویلز اسلام آباد میں موجود تھیں۔ اسلام آباد کے عدالتی منظر، اور اس کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی حالات کے براہِ راست تجزیے کے لیے وہ اسلام آباد میں تھیں، تاہم گفتگو کے لیے ان کے پاس موضوع افغانستان اور طالبان تھے، اور ہمیں پیغام یہ دے کر گئیں کہ’’ہم پاکستان میں سویلین اداروں کی مضبوطی چاہتے ہیں، اقتدار کی جمہوری منتقلی جاری رہنی چاہیے‘‘۔ امریکی حکومت اور اس کے عہدیداروں نے اسلام آباد کے دورے کے لیے بہت سے بہانے تراش رکھے ہیں۔ دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی کے باوجود بھی ابھی تک امریکہ یہ راز نہیں پاسکا کہ یہاں حقانی نیٹ ورک ہے یا نہیں۔ امریکیوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ حقائق کیا ہیں، لیکن وہ اس کی آڑ میں یہاں ہر دورے کے موقع پر ہمیں دبائو میں رکھنے کے لیے کوئی نہ کوئی ہوم ورک دے کر چلے جاتے ہیں لیکن پاکستان نے اس نام نہاد جنگ میں شریک ہوکر جس طرح ایک کھرب ڈالر سے زائد اپنی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے اس کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ ہر امریکی حکومت بھارت کے بجائے ہمیں سبق سکھانے پر تلی ہوئی ہے۔
امریکی عہدیدار نے اسلام آباد میں اپنے حالیہ دورے کے دوران بالواسطہ طور پر پاکستان کے حالیہ انتخابات کا بھی جائزہ لیا ہے، ان کے دورے کے بعد عالمی انویسٹمنٹ بینک کریڈٹ سوئس نے اپنی رپورٹ جاری کی کہ تحریک انصاف عام انتخابات 2018 میں نون لیگ پر بازی لے جائے گی۔ پاکستان میں ہونے والے انتخابات سے متعلق اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئندہ الیکشن میں کوئی بھی پارٹی اکثریت حاصل نہیں کرسکے گی۔ تحریک انصاف 34 فیصد یا قومی اسمبلی کی 92 نشستوں کے ساتھ اول نمبر پر، جبکہ مسلم لیگ (ن) قومی اسمبلی کی 27 فیصد یا 73 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر آسکتی ہے۔ پی ٹی آئی کامیابی کی صورت میں اتحادی حکومت بنا سکتی ہے، مگر اس بات کے امکانات 60 فیصد ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 15 فیصد امکانات ہیں کہ عمران خان حکومت بنانے کے لیے پیپلز پارٹی سے مدد مانگیں۔ کریڈٹ سوئس نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ آئندہ حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑ سکتا ہے کیونکہ زرمبادلہ کے ذخائر 2 ماہ کی درآمدات کے لیے ناکافی ہیں، اور جاری کھاتوں کا خسارہ گیارہ ماہ میں 16 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ ملکی معیشت کا یہ خسارہ کیسے اور کن شرائط پر پورا ہوگا اس کا تجزیہ کرتے ہوئے ہمیں گرے لسٹ کی شرائط کے ساتھ جوڑ کر دیکھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسفک گروپ کی تحقیقات کے مطابق پاکستان نے اس حوالے سے مناسب اقدامات نہیں کیے اور ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک امریکہ اور جرمنی سمیت امریکہ کے یورپی اتحادیوں نے پاکستان کے خلاف ایکشن لینے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان ایشیا پیسفک گروپ کا ممبر ہے، دنیا کے متعدد بین الاقوامی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ پاکستان نے 26نکات پر مشتمل ایک مفصل پلان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کو پیش کردیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو کہا ہے کہ اس پلان پر عمل درآمد کرے۔ اس کے پاس پندرہ ماہ تک کا وقت ہے۔ یہ گرے لسٹ اگلی منتخب حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگی۔ اب یہ اگلی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ کیا اقدامات کرتی ہے، تاکہ پاکستان کا نام اس فہرست میں سے نکلوایا جاسکے۔ امریکی عہدیدار کا دورۂ اسلام آباد دراصل اسی ضمن میں تھا، اور دفتر خارجہ سمیت نگران حکومت کا ہر عہدیدار یہ راز چھپائے بیٹھا ہے کہ گرے لسٹ کے حوالے سے نگران وزیر خارجہ کیا معاہدہ کرکے آئی ہیں اور منتخب حکومت کو اس بارے میں کن خطرات کا سامنا کرنا ہوگا۔
اور اب آخر میں یہ اطلاع کہ حالیہ انتخابی مہم کے دوران پشاور بم دھماکے بعد الیکشن کمشن نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں سندھ کے کل 17 ہزار 747 پولنگ اسٹیشنوں میں سے 65 فیصد پولنگ اسٹیشن اور پولنگ بوتھ حساس ترین اور حساس قرار دے دئیے گئے ہیں۔ سندھ میں 5673 پولنگ اسٹیشنوںٖ کو حساس ترین، اور 5776 پولنگ اسٹیشنوں کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ صوبے کے 20165پولنگ بوتھ بھی انتہائی حساس قرار پائے ہیں۔ سندھ کے 29 اضلاع میں سب سے حساس ضلع خیرپور کو قرار دیا گیا ہے۔ سندھ کے انتہائی حساس اور حساس پولنگ اسٹیشنوں کی سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق خیرپور کے 788پولنگ اسٹیشنوںکو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ کراچی کا حساس ترین حلقہ کورنگی ہے جس کے 732پولنگ اسٹیشن اور 2928 پولنگ بوتھ حساس ترین قرار پائے ہیں۔کراچی ایسٹ میں 698 پولنگ اسٹیشن، جبکہ 2790 پولنگ بوتھ، کراچی ویسٹ کے 237 پولنگ اسٹیشن، 1359پولنگ بوتھ حساس ترین قرار دیے گئے ہیں۔ کراچی سائوتھ کے 223 پولنگ اسٹیشن، 892پولنگ بوتھ، کراچی سینٹرل کے 244 پولنگ اسٹیشن، 936 پولنگ بوتھ حساس ترین قرار پائے ہیں۔ لاڑکانہ کے 209، سکھرکے 169، نواب شاہ کے 191، تھرپارکر کے 205، حیدرآباد کے 95، سانگھڑ کے 477، شکارپورکے 60، گھوٹکی کے 117، بدین کے 195، کشمور کے 95، جامشورو کے 125 پولنگ اسٹیشن حساس ترین قرار دئیے گئے ہیں۔ نوشہرو فیروز کے 69، شہداد کوٹ کے100، جیکب آباد کے91، مٹیاری کے 70، ٹنڈو محمد خان کے 50، میرپور خاص کے 40 اور عمرکوٹ کے40 پولنگ اسٹیشنوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ یہ صورت حال بہت الارمنگ ہے۔

احتساب عدالت کا فیصلہ

احتساب عدالت نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ریفرنس میں سابق وزیراعظم محمد نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور ان کے داماد کیپٹن (ر) محمدصفدر کو بالترتیب 10 سال، 7 سال اور ایک سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔ فیصلے کے بعد نوازشریف نے وطن واپسی کا اعلان بھی کردیا ہے۔ وہ جمعہ 13 جولائی کو لندن سے لاہور پہنچ رہے ہیں۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے تینوں کو 10، 10 سال کے لیے عوامی عہدوں کے لیے نااہل بھی قرار دے دیا ہے، جبکہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس نمبر 16، 16اے، 17اور17اے کو بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ نوازشریف اور دیگر ملزموں کے پاس کون سے راستے ہیں جنہیں وہ اختیار کرسکتے ہیں؟ قانون کے تحت نوازشریف، مریم نواز اور محمد صفدر 10روز کے اندر اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ نوازشریف کے وکلا نے انہیں ہرحال میں اپیل دائر کرنے کا مشورہ دیا ہے جسے انہوں نے قبول بھی کرلیا ہے۔ اپیل دائر کرنے کے لیے فیصلے کی مصدقہ نقل بھی حاصل کرلی گئی ہے۔
ایسے سینکڑوں عدالتی فیصلے موجود ہیں جن میں ملزم کے سرینڈر کے بعد ہی اپیل کو قابلِ سماعت گردانا گیا ہے۔ ایسی صورت میں نوازشریف اور دیگر سزا یافتگان کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ گرفتاری پیش کریں یا پھر اپیلٹ کورٹ میں پیش ہوں۔ جہاں تک ایون فیلڈ اپارٹمنٹس بحق سرکار ضبط کرنے کے عدالتی حکم کا تعلق ہے یہ ایک قانونی تقاضا تھا جسے پورا کیا گیا۔ عملی طور پر اپارٹمنٹس کی ضبطی کے حکم پر عمل درآمد جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ نہیں جس کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کی عدالتوں کے فیصلوں پر عمل درآمد کروانے کے پابند ہوں۔ برطانیہ اور پاکستان کی عدلیہ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت موجود ہے جس کے تحت بچوں کی تحویل کے معاملات میں دونوں ممالک کی عدالتیں ایک دوسرے سے تعاون کرتی ہیں، تاہم اس مفاہمتی یادداشت میں دیگر کوئی معاملہ شامل نہیں ہے۔ پاکستانی سرکار کو اپارٹمنٹس کی ضبطی کے عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لیے برطانوی عدالت سے رجوع کرنا پڑے گا۔ ایسے مقدمات جن میں سیاست دان ملوث ہوں، ان میں برطانیہ سمیت یورپی ممالک کی عدالتیں عدم تعاون کا رجحان رکھتی ہیں۔ علاوہ ازیں شریف فیملی کی طرف سے احتساب عدالت کے اس حکم کو غیر مؤثر بنانے کے لیے برطانیہ میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا جاسکتا ہے کہ ابھی ان کے پاس پاکستان میں ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیل کا حق موجود ہے۔

Share this: