مریم جمیلہ… نقاد تہذیبِ مغرب

نام کتاب: مریم جمیلہ… نقاد تہذیبِ مغرب
مصنفہ: روبینہ مجید سہجوی
صفحات: 256، قیمت 265 روپے
ناشر: ادارہ معارفِ اسلامی، منصورہ، ملتان روڈ لاہور 54790
فون نمبر: 042-35252475-76
042-35419520-4
فیکس: 042-35252194
ای میل: imislami1979@gmail.com
ویب گاہ: www.imislami.org
تقسیم کنندہ: مکتبہ معارف اسلامی، منصورہ، ملتان روڈ لاہور
فون نمبر: 042-35252419
042-3541520-4
زیر نظر کتاب ’’مریم جمیلہ… نقاد تہذیبِ مغرب‘‘ اصل میں محترمہ روبینہ مجید سہجوی کا ایم فل کا مقالہ ہے جو جزوی ترمیم و اضافے کے بعد کتابی صورت میں شائع کیا گیا ہے۔ اس تحقیقی مقالے کی کی نگرانی ڈاکٹر ضیاء الرحمن نے کی۔ افکارِ مریم جمیلہ مومنہ کے بارے میں یہ مقالہ عمدہ اسلوب میں لکھا گیا ہے۔ یہ مقالہ بہاول پور یونیورسٹی میں تحریر کیا گیا۔ حافظ محمد ادریس صاحب ڈائریکٹر ادارہ معارف اسلامی لاہور تحریر فرماتے ہیں:
’’حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید کے مطالب و مفاہیم نے ان کے (یعنی مریم جمیلہ کے) دل و دماغ پر سب سے زیادہ اثر کیا۔ انہیں دینی کتب کے مطالعے کا شوق تھا۔ یہودیت اور عیسائیت کے متعلق ان کی معلومات پختہ تھیں۔ دیگر مذاہب کے متعلق جو سوالات اُن کے ذہن میں پیدا ہوئے ان کے جواب کے لیے تقابلِ ادیان کے مطالعے میں ایک دور بیت گیا۔ پھر حقیقت تک پہنچنے کے لیے اہلِ علم سے سال ہا سال مراسلت کرتی رہیں۔ رفتہ رفتہ ان کی رسائی مفکرِ اسلام، مفسرِ قرآن مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ تک ہوگئی۔ مولانا سے مراسلت ہی بالآخر محترمہ مریم جمیلہ کے تمام ذہنی اشکال کے حل اور ان کے پاکستان آنے پر منتج ہوئی۔
محترمہ مریم جمیلہ نے معاصر شخصیتوں سے مراسلت اور اپنے عمیق مطالعے اور طویل غور و فکر کے نتیجے میں اسلام کے متعلق اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات رفع کیے اور قرآن و سنت کے مطابق دینِ اسلام پر پختہ یقین حاصل کیا۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی خصوصی رحمت اور موصوفہ کی انابت کی بدولت ایمان کی دولت بخشی اور صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائی۔ ان پر اللہ تعالیٰ کا خاص انعام تھا کہ وہ مدت العمر دینِ اسلام پر نہ صرف پوری ثابت قدمی اور دلجمعی سے قائم رہیں بلکہ دعوت و تبلیغ کے کاموں میں بھی پورے انہماک و دلچسپی کے ساتھ مصروف رہیں۔ محترمہ مریم جمیلہ کی تصنیفات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے دل و دماغ میں مغرب، مغربی تہذیب و ثقافت اور مغربی افکار و نظریات کا کیا نقشہ تھا اور اسلام کے مطالعے سے ان پر کیا کیا اثرات مرتب ہوئے۔ اسلام کو پوری طرح سمجھ لینے کے بعد انہوں نے مغربی تہذیب پر مدلل تنقید کی اور مغربی اہلِ فکر ہی کے نظریات کی روشنی میں اس کی ناپائیداری ثابت کی۔ مریم جمیلہ کے لیے مغربی تہذیب اجنبی اور اوپری نہ تھی۔ وہ گھر کی بھیدی تھیں اور ان کی ہر بات مستند تھی۔
مریم جمیلہ کی مادری زبان انگریزی تھی، مگر انہوں نے اپنے بچوں کو اردو میں تعلیم دلوائی۔ وہ مغربی تہذیب سے مکمل طور پر دست بردار ہوچکی تھیں۔
محترمہ مریم جمیلہ کی حیات و خدمات پر ابھی تک کوئی جامع کتاب نہیں لکھی گئی۔ زیر نظر مقالہ بہاولپور یونیورسٹی کی ایک طالبہ عزیزہ روبینہ مجید کی تحقیقی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ مقالہ نگار نے ایک تحریکی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ بچپن ہی سے اسلام کا صحیح اور جامع تصور جو قرآن و سنت میں پایا جاتا ہے، ان کی تربیت کا حصہ بن گیا۔ جوں جوں تعلیم کے مدارج طے کرتی گئیں، اپنی فطرتِ سلیمہ اور خاندانی پس منظر کی روشنی میں سوچ بچار کے نئے دھارے اور زاویے ان کے سامنے کھلتے گئے۔ موصوفہ مریم جمیلہ کی شخصیت سے متاثر تھیں اس لیے ان کی کتابوں کا مطالعہ بھی کیا، اس کے علاوہ محترمہ مریم جمیلہ کے بارے میں اہلِ علم سے انٹرویو کیے۔ اس ساری کدو کاوش کے بعد انہوں نے مریم جمیلہ کے افکار و نظریات براہِ راست ان کی کتابوں سے بھی اخذ کیے۔ ان کے مقالے میں محترمہ مریم جمیلہ کو تہذیبِ مغرب کے ایک نقاد کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ اگرچہ محترمہ مریم جمیلہ کی سوانح بھی مقالے کی زینت ہے، تاہم مغربی تہذیب پر ان کی تنقید تفصیل سے زیر بحث لائی گئی ہے۔‘‘
محترمہ مریم جمیلہ کی تمام کتابوں کے اردو تراجم نہیں ہوسکے۔ ان کتابوں کے اقتباسات تو یہاں وہاں پڑھنے کو مل جاتے ہیں لیکن پوری کتاب کا ترجمہ ہوجائے تو خاصے کی چیز ہوگی۔ ان کی جن کتابوں کے تراجم ہوچکے ہیں ان میں ایک ان کا ناول ’’احمد خلیل‘‘ ہے، دوسری ’’اسلام ایک نظریہ ایک تحریک‘‘ (Islam in theory and practice)، تیسری ’’امریکہ سے ہجرت‘‘ (Migration from America)، چوتھی ’’مراسلت‘‘ (Correspondance)، پانچویں ’’حق کی تلاش‘‘ (Quest for the Truth) ہے۔ دیگر کتب بھی بہت پائے کی تصانیف ہیں۔ وہ کتب مریم جمیلہ کے نامور شوہر جناب محمد یوسف خاں مرحوم کی زندگی میں تو چھپتی رہیں مگر اب انگریزی میں بھی ان کی اشاعت رک گئی ہے اور اردو ترجمہ بھی نہیں ہوسکا۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مریم جمیلہ مرحومہ کی تمام دعوتی اور تبلیغی سرگرمیوں کو قبول فرمائے۔ محترمہ مریم جمیلہ پر ابھی تحقیقی کام کی مزید گنجائش موجود ہے۔ ہمیں اُمید ہے کہ جامعات کے طلبہ و طالبات مستقبل میں اس نادر و نامور شخصیت پر مزید تحقیقی کام کریں گے۔ ایسی ہر کاوش کے ساتھ ہمارا ادارہ ان شاء اللہ بھرپور تعاون کرے گا‘‘۔
محترمہروبینہ مجید سہجوی نے کتاب کے مقدمے میں قیمتی معلومات فراہم کی ہیں وہ ہم درج کرتے ہیں:
محترمہ مریم جمیلہ … کا شمار اُن متلاشیانِ حق میں ہوتا ہے جنہوں نے حق کے راستے (صراطِ مستقیم) کی تلاش میں اپنی زندگیوں کو یکسر بدل دیا۔ یہودیت سے اسلام کی طرف ایک صنفِ نازک کا سفر جسے مغربی تہذیب، اپنے خاندان، اساتذہ اور دوست احباب کی تنقید کا سامنا رہا، مگر یہ عظیم خاتون جس نے 1962ء میں اپنی دولت، جائداد اور پُرآسائش زندگی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اسلام کی خاطر نیویارک سے پاکستان تک کا سفر تن تنہا طے کیا، اس سفر میں انہیں بہت سی آزمائشیں پیش آئیں۔
اس تحقیقی کام کے دوران چند ایسی کتب میرے زیر مطالعہ رہیں جن میں ان مشکلات کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔
-1 مریم جمیلہ کی امریکہ سے پاکستان کی طرف ہجرت کا ذکر محترم حافظ محمد ادریس نے اپنی کتاب ’’عزیمت کے راہی‘‘ میں کیا ہے۔
-2 ان کے خطوط کی جمع آوری کا کام ڈیبرا بیکر (Deborah Baker) نے اپنی کتاب “The Convert: A Tale of Exile and Extremism) میں کیا ہے۔
-3 ذاکر الاعظمی نے ایک کتاب مریم جمیلہ کے حالات اور افکار کے متعلق لکھی ہے جس کا نام ’’مریم جمیلہ المہاجرۃ من الیہودیۃ الی الاسلام ومن امریکہ الی پاکستان‘‘ ہے۔
مریم جمیلہ نے خود 38 سے زائد کتب تحریر کیں اور دینِ اسلام کی تبلیغ کے لیے اپنی زندگی کے شب و روز کو یکسر بدل ڈالا۔ ان کا سادہ پُرمعنی تحریری اسلوب اپنی مثال آپ ہے۔ مریم جمیلہ کی وفات 31 اکتوبر 2012ء کو ہوئی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی وفات کے بعد ان کی حیات و خدمات اور ان کے افکار و نظریات پر تحقیق کی جائے اور مغربی تہذیب و تمدن پر انہوں نے جو تنقید کی ہے اُس کا جائزہ لے کر مستقبل کی نقشہ گری کی جائے۔
آج مغربی تہذیب و ثقافت کا سیلاب پوری انسانیت کو مذہب اور روحانیت سے بیگانہ کردینا چاہتا ہے۔ اس کی چمک کس قدر دلوں کو خیرہ کرتی ہے، اس کا اندازہ آج کی مسلم سوسائٹی سے بھی لگایا جاسکتا ہے، مگر مریم جمیلہ نے مغربی ماحول میں رہتے ہوئے ان کی خرافات کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا، بلکہ مغرب کے غیر مہذب رسوم و رواج اور خودسر تہذیب پر منصفانہ تنقید کی۔ مریم نے مغربی اور اسلامی تہذیب کا بہت گہرائی سے جائزہ لیا اور دونوں تہذیبوں کے فرق کو خوب صورت انداز سے تحریر کیا۔
یہ واضح حقیقت ہے کہ تہذیبوں میں تنائو ہمیشہ سے رہا ہے، یہ انسانی معاشرے کا خاصہ بھی ہے۔ اگر یہ تنائو مناسب حد میں رہے تو انسانی قدروں کے لیے رحمت ہے۔ اگر یہ اختلاف حدوں سے تجاوز کرجائے یا حربی صورت اختیار کرلے تو یہ انسانیت کے لیے شرمناک بن جاتا ہے۔ انسانی تاریخ کا کوئی موڑ بھی ان شواہد سے خالی نہیں ہے۔ موجودہ دور بھی تہذیبوں کے تنائو کا دور ہے۔ اس دور میں علمی اختلاف بیان اور تحریر کی حدود سے نکل کر حربی صورت اختیار کرچکا ہے، مگر مریم جمیلہ کا اسلام دشمن سوسائٹی میں رہتے ہوئے غازیانہ کردار، مغربی نظریات اور تہذیب پر تنقید، اسلام اور مسلمانوں کا دفاع قابلِ ستائش ہے۔
مقالہ نگار ذاتی طور پر بھی مریم جمیلہ کی سیرت، جہدِ مسلسل، عملی کردار اور اندازِ فکر سے متاثر ہے۔ اس لیے کوشش کی گئی ہے کہ مقالے کو زیادہ سے زیادہ معروضی بنایا جائے تاکہ Internal Variables اثرانداز نہ ہوں۔ اس لیے مقالے کے اسلوب کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر ضروری طوالت سے گریز کی کوشش کی گئی ہے۔
مقالے کو چار ابواب میں ترتیب دیا گیا ہے۔
پہلے باب میں مریم جمیلہ کے خاندانی پس منظر (یہودیت سے اسلام تک کے سفر)، تعلیم و تربیت، اور مریم جمیلہ کے متعلق معاصرین کے انٹرویوز کو شامل کیا گیا ہے۔
دوسرے باب میں مریم جمیلہ کے دور کی سیاسی، معاشرتی، مذہبی اور مغرب کی موجودہ صورتِ حال کا ذکر کیا گیا ہے۔
تیسرے باب میں مریم جمیلہ کی تصنیفی خدمات، تحریری اسلوب، علمائے کرام سے علمی وابستگی اور روابط کا ذکر کیا گیا ہے۔
چوتھے باب میں اسلامی اور مغربی تہذیب کے فرق، مریم جمیلہ کی تحقیقی وسعت نظری، مغرب پر تنقید اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے امکانات اور تجاویز کا ذکر کیا گیا ہے۔
ہر باب کے آخر میں حوالہ جات درج کیے گئے ہیں اور اس کے بعد خلاصۂ بحث ہے۔ مقالے کے آخر میں کتابیات درج ہیں۔ مقالہ نگار نے مقالے میں بنیادی سورسز (Sources) کو لانے کی مکمل سعی کی ہے۔ اپنی کم علمی اور تحقیقی کام میں ناتجربہ کاری کی بنا پر کچھ پہلو یقینا تشنہ رہ گئے ہوں گے۔ یہ حقیقت ہے کہ انسانی عقل کا تمام پہلوئوں پر پورا ادراک ناممکن ہے، سوائے ان کے جنہیں اللہ نے وحی (پیغمبرؑ) سے نوازا، یا پھر اللہ جسے توفیق دے۔ اللہ سے دُعا ہے کہ اللہ میری اس کاوش کو قبول فرمائے اور ہمارا حامی و ناصر ہو، آمین۔‘‘
حافظ محمد ادریس صاحب نے کتاب کے پیش لفظ میں اس بات پر درست توجہ دلائی ہے کہ مریم جمیلہ کی تمام کتابوں کے اردو تراجم نہیں ہو سکے، بلکہ ان کی انگریزی کتب کی اشاعت بھی رک گئی ہے۔ محترمہ مریم جمیلہ پر مزید تحقیقی کام کی ضرورت ہے۔

Share this: