انتخابات میں بدنظمی اور بدانتظامی

الحمدللہ! عام انتخابات کے تمام مراحل 25 جولائی کی طے شدہ تاریخ پر بخیر و خوبی اور بروقت تکمیل کو پہنچ گئے۔ یوں ان انتخابات کے التوا اور تاخیر کے شدید خدشات بھی اپنی موت آپ مرگئے۔ 25 جولائی کو کم و بیش پورے ملک میں موسم شدید گرم اور حبس آلود تھا، اس کے باوجود رائے دہندگان بڑی تعداد میں گھروں سے نکلے اور اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ موسم کی شدت کا اندازہ ان اعداد و شمار سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں انتخابی ڈیوٹی پر موجود اور رائے دہی کے فریضے کی ادائیگی کے دوران ایک فوجی حوالدار، ایک پولنگ آفیسر اور دو خواتین سمیت مجموعی طور پر پندرہ افراد جاں بحق اور متعدد بے ہوش بھی ہوگئے، مگر اس کے باوجود رائے دہندگان کے جوش و خروش میں کسی قسم کی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ یہ امر اطمینان بخش اور خوش آئند ہے کہ عام لوگوں نے اپنے مستقبل کی بہتری کی توقعات کے ساتھ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں اپنے نمائندوں کے انتخاب میں بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔
عوام خصوصاً نوجوانوں کی جانب سے انتخابی عمل میں زبردست جوش و خروش کا مظاہرہ کیے جانے کے باوجود انتخابات کے روز مجموعی طور پر امن و امان کی صورتِ حال بہتر اور قابو میں رہی اور معمولی نوعیت کی اکا دکا شکایات کے سوا کوئی بڑا واقعہ یا لڑائی جھگڑا دیکھنے میں نہیں آیا۔ کوئٹہ میں البتہ پولنگ اسٹیشن کے باہر دہشت گردی کا ایک خوفناک واقعہ پیش آیا جس میں ایک خودکش حملہ آور کی کارروائی کے دوران پانچ پولیس اہل کاروں سمیت 32 افراد شہید جب کہ 84 زخمی ہوگئے۔ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں چند روز پہلے بھی اس قسم کی ایک دہشت گردی میں انتخابی امیدوار سمیت ڈیڑھ سو سے زائد لوگ شہید، جب کہ سینکڑوں زخمی ہوچکے تھے۔ عین انتخابات کے روز بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت میں یہ اندوہناک واقعہ یقینا پوری قوم کے لیے ایک بہت بڑے صدمے اور دکھ کا سبب تھا، مگر ہمارے ذرائع ابلاغ کا رویہ اس ضمن میں شقی القلبی سے کم نہیں تھا۔ صبح کے وقت رونما ہونے والے اس واقعے کی خبر نشر کرنے کے بعد برقی ذرائع ابلاغ نے اسے یوں نظرانداز کردیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ حتیٰ کہ اس ضمن میں اہم حکومتی اور سیاسی شخصیات کے تعزیتی بیانات بھی سامنے نہیں آئے۔ ممکن ہے ذرائع ابلاغ کے اس طرزِعمل کے پس منظر میں یہ خیال کارفرما ہو کہ انتخابات کے موقع پر اس واقعے کو نمایاں کرنے سے عمومی ماحول پر خوف و ہراس کی کیفیت طاری نہ ہوجائے، اور اپنے حقِ رائے دہی کے استعمال سے گریز کی سوچ عوام کے دلوں میں جگہ نہ بنا لے جس سے انتخابات میں لوگوں کی دلچسپی اور ٹرن آئوٹ میں کمی واقع ہو۔ یہ سوچ ممکن ہے اپنی جگہ مثبت اور قومی مفاد کے پیش نظر ہی اپنائی گئی ہو، مگر اس کے باوجود انسانیت اور انسانی ہمدردی کے پہلو کو بالکل ہی فراموش کردینا کسی طرح بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ آخر اس سانحے میں جان سے گزر جانے والے بھی محب وطن پاکستانی تھے اور اُن کی قربانی بہرحال ملک میں جمہوری عمل کے استحکام کی خاطر تھی، اور قربانی کے اس پہلو کو نمایاں کیا جانا چاہیے تھا۔
انتخابات کے نتائج کیا رہے اور اس میں شکست سے دوچار ہونے والی سیاسی جماعتوں کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار اور کُل جماعتی کانفرنس بلاکر آئندہ لائحہ عمل طے کرنے کے اعلانات سے قطع نظر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ یہ انتخابات بدنظمی اور بدانتظامی کا شاہکار تھے۔ انتخابی قواعد و ضوابط اور ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزیاں کھلے بندوں کی جاتی رہیں مگر ان کی روک تھام کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں تھا۔ انتخابی عملے کی تربیت کا شدید فقدان دیکھا گیا جس کے منفی اثرات انتخابات کے روز کھل کر سامنے آئے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے صاف، شفاف اور غیر جانب دارانہ انتخابات کے تمام تر دعووں کے باوجود سیاسی جماعتوں کو اعتراضات کا موقع ملا، اور انتخابات کے بعد نتائج کے اعلان میں ہونے والی تاخیر کے باعث ان اعتراضات میں وزن بھی پیدا ہوگیا۔ الیکشن کمیشن نے موبائل فون کے ذریعے رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم کے ذریعے نتائج کی فوری ترسیل اور بروقت فراہمی کا اعلان کیا تھا… اس کے لیے پریزائیڈنگ افسران کو خصوصی تربیت بھی دی گئی اور سخت قسم کی ہدایات بھی دی گئیں، خدشہ تھا کہ عملے کی اس نظام کو استعمال کرنے کی مشق نہ ہونے کی وجہ سے بعض جگہ مشکلات پیش آئیں گی جو مختلف پریشانیوں کا سبب بنیں گی اور سیاسی جماعتوں کو شکایات کا موقع فراہم کریں گی، مگر یہاں تو عین موقع پر سارا نظام ہی بیٹھ گیا۔ اس نظام کی تیاری پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے، مگر کسی نے عملاً اس کی صلاحیتوں کو آزمانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی، اور اس نظام کو تیار کرنے والوں کی جانب سے جو کہا گیا آنکھیں بند کرکے اُس پر یقین کرلیا گیا۔ اگر انتخابی عملے کی تربیت اور اس نظام کی آزمائش کے حوالے سے 25 جولائی سے قبل فل ڈریس ریہرسل قسم کی مشق کا اہتمام کرلیا جاتا تو خامیوں کا قبل از وقت ادراک کرکے ان کی اصلاح اور متبادل انتظامات کے ذریعے اس پریشان کن صورتِ حال سے بچنا مشکل نہیں تھا جس کا سامنا پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے فوری بعد کرنا پڑا، جس کے باعث سیاسی جماعتوں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو انتخابی نتائج کی وصولی میںناقابلِ بیان مشکلات اور کئی گھنٹوں کی تاخیر سے دوچار ہونا پڑا، اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر شدید نوعیت کے خدشات، شکوک و شبہات اور شکایات نے جنم لیا اور الیکشن کمیشن کو بھی شرمندگی اور سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔
رائے دہندگان کی فہرستوں اور پولنگ اسکیم میں بھی جگہ جگہ نقائص دیکھنے میں آئے، بہت سے لوگوں کو درست ووٹ نمبر نہیں ملے، اور کئی رائے دہندگان کو پولنگ اسکیم میں ووٹ ڈالنے کی درست جگہ کا اندراج نہ ہونے کے باعث ایک سے دوسرے پولنگ اسٹیشن کے چکر بار بار لگانا پڑے، جس سے مایوس اور پریشان ہوکر متعدد رائے دہندگان اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کی خواہش دلوں ہی میں لیے ناکام گھروں کو لوٹ گئے۔
انتخابی عمل کو پُرامن اور بااعتماد بنانے کے لیے پولنگ اسٹیشنوں کے اندر اور باہر فوج کے جوانوں کو تعینات کیا گیا تھا جس کا عوامی سطح پر خیرمقدم بھی کیا گیا، اور کئی جگہ لوگ اپنی سرحدوں کے محافظوں کو پھول، گلدستے اور کھانے پینے کی اشیاء بھی پیش کرتے رہے، جب کہ بزرگ خواتین و حضرات نے ان کی پیشانیوں پر بوسے دے کر ان کے لیے اپنے دلوں میں موجود محبت اور عقیدت کے جذبات کا اظہار بھی کیا۔ ان کی تعیناتی کے یقینا مثبت اثرات بھی سامنے آئے کہ بدامنی اور غیر متعلقہ لوگوں کی پولنگ اسٹیشنوںکے اندر مداخلت کی شکایات نہ ہونے کے برابر رہیں… مگر شہری امور کی انجام دہی کی مناسب تربیت نہ ہونے کے باعث کئی جگہ ان فوجی اہل کاروں کی جانب سے اکھڑپن اور غیر متعلقہ کاموں میں بلاوجہ کی مداخلت نے خاصے مسائل بھی پیدا کیے۔ بعض اہل کار سیکورٹی کے فرائض سے تجاوز کرکے خالصتاً انتظامی امور میں داخل اندازی کرتے رہے، مثلاً یہ میز کمرے کے اس کونے میں نہیں دوسرے کونے میں لگائیں… پولنگ ایجنٹوں کو یہاں نہیں وہاں بٹھائیں۔ اصولی اور قانونی طور پر ان فوجی اہل کاروں کو پریزائیڈنگ افسران کی ہدایات کے تابع کام کرنا چاہیے تھا، مگر بعض جگہ یہ افسران کو ہدایات دیتے اور حکم چلاتے رہے۔ مثال کے طور پر اس شکایت کا ذکر نامناسب نہ ہوگا کہ پولنگ سے ایک روز قبل اپنے انتظامات مکمل کرکے پریزائیڈنگ افسران گھروں کو واپس جانے لگے تو بندوق بردار فوجی اہل کار نے یہ حکم جاری کیا کہ اپنے اس سامان کی حفاظت کے لیے آپ کو رات یہیں قیام کرنا ہوگا۔ اس حکم پر پریزائیڈنگ افسران خصوصاً خواتین افسران کو جس کیفیت سے گزرنا پڑا اس کا اندازہ کرنا زیادہ مشکل نہیں۔ اسی طرح انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد ان اہل کاروں نے عملے کو یہ کہہ کر پولنگ اسٹیشن سے نکلنے سے روک دیا کہ جب تک ہمیں اوپر سے حکم نہیں ملتا ہم آپ کو جانے نہیں دیں گے۔ اس رویّے کی وجہ سے بروقت تیار ہوجانے والے انتخابی نتائج کئی گھنٹوں کی تاخیر سے ریٹرننگ افسروں تک پہنچ سکے، اور تمام نتائج اکٹھے ہوجانے کی وجہ سے انہیں یکجا کرکے پورے حلقہ کے نتائج مرتب کرنے اور ان کے اعلان کی نوبت آنے میں مزید کئی گھنٹے لگ گئے۔ آئندہ فوجی اہل کاروں کو اس قسم کی ڈیوٹی پر متعین کرنے سے پہلے اُن پر اچھی طرح واضح کیا جانا چاہیے کہ انہیں متعلقہ ریٹرننگ یا پریزائیڈنگ افسر کی ہدایات پر عمل کرنا ہے، نہ کہ خود انہیں احکام دینا ہیں۔
پولنگ کے لیے صبح آٹھ سے شام چھے بجے تک کا وقت مقرر تھا اور انتخابی عملے کو تین گھنٹے قبل پولنگ اسٹیشن پہنچنے کے لیے کہا گیا تھا، جب کہ پولنگ کے وقت میں توسیع نہ بھی ہو تو اس کے مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی، ان کے متعلقہ فارموں میں اندراج اور پولنگ ایجنٹس کو نتائج کی نقول یعنی فارم 45 کی فراہمی جیسے امور نمٹاکر نتائج اور انتخابی سامان متعلقہ آر۔ او کے دور دراز دفتر پہنچا کر رسیدیں حاصل کرکے فراغت میں بلامبالغہ فجر کا وقت ہوجاتا ہے… سوال یہ ہے کہ اس قدر طویل ڈیوٹی کھانے اور نماز وغیرہ کے وقفے اور ضروری سہولتوں کے فقدان کے ہوتے ہوئے کہاں تک جائز ہے، خصوصاً گھنٹوں کی مسافت سے پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچنے والے خواتین و حضرات کی تکالیف کے ازالے کی کوئی صورت ممکن ہے یا نہیں…؟ ورنہ یہی مشکل حالات جاری رہے تو انتخابی ڈیوٹی سے انکار کی جو روش سرکاری ملازمین میں اِس سال دیکھنے میں آئی ہے اس میں آئندہ مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
الیکشن کمیشن نے انتخابی امیدواروں کے لیے ضابطۂ اخلاق کا اعلان کیا تھا جس کے تحت انتخابی اخراجات اور تشہیر وغیرہ پر بعض پابندیاں عائد کی گئی تھیں، جن کی کھلے بندوں خلاف ورزی کی گئی۔ بہت سی جگہوں پر الیکشن کمیشن نے ان کا نوٹس بھی لیا، مگر کیا محض نوٹس لینا ہی کافی ہے، یا کچھ ٹھوس اقدامات بھی پابندیوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے کیے جائیں گے؟ کون نہیں جانتا کہ امیدواروں کی غالب اکثریت نے مقررہ حد سے کئی گنا زیادہ اخراجات اپنی انتخابی مہم پر کیے، مگر کیا آج تک کسی امیدوار کو کبھی اس جرم کی سزا دی گئی؟ الیکشن کمیشن نے پولنگ کے روز رائے دہندگان کو سواری کی فراہمی پر پابندی عائد کررکھی تھی، مگر 25 جولائی کو ہر انتخابی حلقے میں امیدواروں کے بینر اور پارٹی پرچم لہراتی گاڑیاں سارا دن گلی محلوں اور سڑکوں پر دوڑتی رہیں، ان کی بندش اور روک تھام کا کوئی انتظام الیکشن کمیشن کی جانب سے نہیں کیا گیا تھا۔ کیا قوانین اور قواعد صرف کتابوں میں لکھنے کے لیے بنائے جاتے ہیں…؟
انتخابی ضابطۂ اخلاق اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں کی فہرست خاصی طویل ہے۔ انہی میں سے ایک قاعدہ و ضابطہ اپنی رائے یعنی ووٹ کو خفیہ رکھنے کا بھی ہے۔ عام لوگوں کو چھوڑیے، سابق صدرِ مملکت جناب آصف علی زرداری اور تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان کے بارے میں یہ خبریں برقی و طباعتی ذرائع ابلاغ کے ذریعے پوری قوم تک پہنچی ہیں کہ ان دونوں قومی رہنمائوں نے رائے دہی کی پرچیوں پر سرعام مہریں لگائیں، یوں یہ دونوں رہنما حقِ رائے دہی کو خفیہ رکھنے کے اصول کی پامالی اور ووٹ کے تقدس کو مجروح کرنے کے جرم کے مرتکب ہوئے۔ ذرائع ابلاغ سے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کی خبر ملنے پر الیکشن کمیشن نے عمران خان کو نوٹس تو جاری کردیا ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ سابق صدر اور مستقبل کے وزیراعظم کے خلاف قانون کس حد تک حرکت میں آتا ہے… اور ’’دو نہیں ایک پاکستان‘‘ کے علم بردار عمران خان قانون کی نظر میں عام آدمی کے برابر ٹھیرائے جاتے ہیں یا حسبِ سابق قانون ان کے سامنے موم کی ناک ثابت ہوتا ہے…؟

Share this: