بمع کے ساتھ

کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز کی طرف سے اخباروں میں ایک اشتہار چھپا ہے جس کا ایک جملہ قابلِ توجہ ہے ’’اپنی درخواست بمعہ تمام جملہ کوائف کے ساتھ…‘‘ سی پی این ای مدیرانِ اخبارات کا ایک بہت معتبر ادارہ ہے۔ مدیروں کی ذمے داری زبان کی حفاظت اور صحیح زبان سکھانا بھی ہے۔ غالباً مذکورہ اشتہار کسی مدیر کی نظر سے نہیں گزرا۔ جملے میں ’’بمع‘‘ اور ’’کے ساتھ‘‘ مضحکہ خیز ہے۔ اوّل تو بمع کی جگہ ’’مع‘‘ کافی تھا، اس پر مستزاد ’’کے ساتھ‘‘۔ جب کہ بمع یا مع کا مطلب ہی ’’کے ساتھ‘‘ ہے۔ زبان کی ایسی غلطیاں اگر سی پی این ای کی طرف سے وارد ہوں تو افسوس کی بات ہے۔ اخبارات کے مدیروں کی توجہ شاید زبان و بیان پر نہیں رہی، الاماشاء اللہ۔ منگل 24 جولائی کے ایک اخبار میں بڑی جلی سرخی میں ’’آئمہ کرام‘‘ شائع ہوا ہے۔ اگر اسے ’’ائمہ‘‘ (بغیر مد کے) لکھا جائے تو بھی ان کے اکرام میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔
شمارہ 13 تا 19 جولائی میں ایک دیہاتی شاعر منوہر جانگلی کے شعر میں ذرا سی کسر رہ گئی تھی۔ ہم نے روانی میں دھیاں (دھی، یعنی بیٹی کی جمع) کی جگہ بیٹیاں لکھ دیا۔ اس سے پہلے کہ جناب ایس ایم معین قریشی کا توجہ دلائو نوٹس ملے ہم خود ہی تصحیح کردیتے ہیں۔ قریشی صاحب شعر میں غلطی پر فوری پکڑ کرتے ہیں۔ مصرع یہ تھا ’’دھیاں جنوائی لے گئے، بہوویں لے گئیں پوت‘‘۔ جنوائی کو نون غنہ کے بغیر لکھا تھا، لیکن صحیح نون غنہ کے ساتھ ہے خواہ گھر جنوائی ہو۔ اس پر ایک مزے کی ضرب المثل سن لیجیے جس کی ضرب جانے کہاں پڑے ’’دائی نہ دوائی، کھڑے انگنائی، مرے لاڈلے جنوائی‘‘۔
دائی سے تو واقف ہی ہوں گے جو اب جانے کیوں مڈوائف یا زوجۂ وسطی یا درمیانی کہلاتی ہیں۔ عربی کا لفظ ’’داء‘‘ ہے جس کا مطلب ہے مرض۔ دائی کا تعلق اسی سے ہے۔’’دھی‘‘ کے حوالے سے نظیر اکبر آبادی کے بنجارہ نامہ کا ایک مصرع ہے
دھی، پوت، جنوائی، بٹیا کیا، بنجارن پاس نہ آئے گی
یہ بنجارہ نامہ ہمارے حکمرانوں اور اہلِ ثروت کو ضرور پڑھ لینا چاہیے۔
دارالحکومت اسلام آباد پر حکمرانی کون کرے گا، یہ سطور شائع ہونے تک واضح ہوچکا ہوگا، تاہم جس شہر کے بارے میں پروفیسر عنایت علی خان کو شکوہ تھا کہ ’’اسلام تو کیا آباد بھی کم ہے‘‘ اب تو ایسا آباد ہے کہ کیا کہنے۔ اس شہر میں دانش ور اور ادیب بھی بھرے پڑے ہیں۔ ایک ابھرتے ہوئے نوجوان محقق عبدالخالق بٹ نے حضرت ابوبکرؓ کے نام کے بارے میں اپنی تحقیق بھیجی ہے۔ تحریر ایک بڑے دانش ور جناب شفق ہاشمی کے 29 جون کے محبت نامے کے حوالے سے ہے۔ لکھتے ہیں:
’’چند نکات محلِ نظر ہیں جو ترتیب وار پیش خدمت ہیں:
1۔ شفق ہاشمی صاحب ’’املا‘‘کے حوالے سے لکھتے ہیں ’’…خود ’’املا‘‘کو لیجیے جسے اگر بغیر ہمزہ لکھا جائے تو غلط متصور ہوگا یعنی ’’املاء‘‘…‘‘
عرض ہے کہ بے شک املا عربی میں ہمزہ کے ساتھ ہی لکھا جاتا ہے، تاہم اردو میں ہمزہ کے بغیر ’’املا‘‘ لکھا جانا نہ صرف یہ کہ غلط نہیں ہے بلکہ اسے ترجیح حاصل ہے۔ تفصیل کے لیے رشید حسن خان کی کتاب ’’اردواملا‘‘ سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ اسے اتفاق ہی کہا جاسکتا ہے کہ کتاب کے نام میں جزو ثانی ہی’’ املا‘‘ ہے اور بغیر ہمزہ کے ہے۔ پھر ایک لفظ املا ہی پر کیا موقوف، رشید حسن خان صاحب تو لفظ ’’ابتدا، انتہا، انشا، ارتقا، ابتلا، شعرا، حکما‘‘ وغیرہ کو بھی ان کی اصل کے برخلاف بغیر ہمزہ لکھنے کے حق میں ہیں۔ یوں نہیں ہے کہ وہ سرے سے ’’ہمزہ‘‘ کے مخالف ہیں، بلکہ وہ ہمزہ کو ایک الگ حرف قرار دیتے اور اس کا محلِ استعمال بھی مقررکرتے ہیں کہ کن کن الفاظ میں ہمزہ بالالتزام لکھا جائے گا (یوں تو تحقیق کے باب میں اختلاف کی گنجائش رہتی ہے، تاہم اردو املا کے باب میں رشید حسن خان صاحب سے اختلاف سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے)۔
مزید عرض ہے کہ بات صرف لفظ ’’املا‘‘ اور اس کے ’’ہمزہ‘‘ ہی پر موقوف نہیں، بلکہ اردو میں عربی زبان کے ایسے بہت سے الفاظ مستعمل ہیںجو معنوی یکسانیت کے باوجود مکتوبی اختلاف کا مظہر ہیں۔ مثال کے طور پر اردو میں مستعمل الفاظ ’’ماجرا، معما، مولا اور معرا‘‘ عربی میں بالترتیب ماجریٰ، معمیٰ ، مولیٰ اور معریٰ ہیں۔ ایسے میں ان کی اصل مکتوبی صورت پر اصرار مناسب نہیں ۔ پھر یہ بھی پیش نظر رہے کہ بات صرف اردو میں رائج بعض عربی الفاظ کے مکتوبی اختلاف تک محدود نہیں ہے بلکہ عربی زبان کے بہت سے الفاظ اردو میں اپنے اصل معنوں سے یکسر مختلف معنوں میں برتے جاتے ہیں اور اس کی ایک انتہائی افسوس ناک مثال ’’لن ترانی‘‘ ہے۔ یہ جملہ نہ صرف یہ کہ سورہ اعراف کی آیت 143کا جز ہے بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جانب سے دیدار الٰہی کی درخواست پر اللہ تبارک تعالیٰ کا جواب بھی ہے جس کا ترجمہ ’’تُو مجھے نہیں دیکھ سکتا‘‘ ہے، مگر اردو میں یہ قول ربّی کن پست ترین معنوں کے ساتھ برتا جاتا ہے لائق بیان نہیں ۔
2۔ شفق ہاشمی صاحب ابوبکر ؓکے حوالے سے لکھتے ہیں ’’ابوبکر آپ کا نام نامی اسم گرامی تھا… ’’بَکر‘‘عربی میں باء پر زبر کے ساتھ خوب صورت اور نوخیز اونٹ کو کہتے ہیں۔‘‘
اس ضمن میں اول تو یہ تصحیح کرلی جائے کہ ’’ابوبکر‘‘ جناب صدیق ؓ اکبر کا نام نہیں بلکہ کنیت تھی۔ اسلام لانے سے پہلے آپ کا نام عبدالکعبہ تھا جسے (شرکیہ نام ہونے کی وجہ سے) نبی علیہ السلام نے بدل کر عبداللہ کردیا تھا، جبکہ ’’صدیق اور عتیق‘‘ آپ کے القابات تھے ۔
جناب شفق ہاشمی نے ’’ابوبکر‘‘کو ’’بکر‘‘(اونٹ) کا حاصل قرار دیا ہے، مگر یہ وضاحت نہیں کی کہ اس’’بکر‘‘کے ساتھ’’ابو‘‘ کا سابقہ کیونکر وارد ہوا ہے۔
اگر عرب روایت کو پیش نظر رکھا جائے جہاں مختلف جانوروں کی خونخواری، ہیبت ناکی اور بے خوفی کی رعایت سے بچوں کے نام اسد، اُسید، شبل، حمزہ، حیدر، عباس، نمر، نمرہ، اوس، اویس اور ارقم، بلکہ دلیری کے ضمن میں سراقہ (چور) تک جیسے نام رکھے جاتے تھے تو ایسے میں کسی کا نام ’’خوبصورت اور نوخیز اونٹ‘‘ کی نسبت سے ’’بکر‘‘ ہونا اچنبھے کی بات نہیں، خود قبیلہ ’’بنو بکر‘‘ اس کی مثال ہے۔ مگر جناب صدیق اکبرؓ کے معاملے میں ’’بکر‘‘ نہ تو آپ کا نام ہے اور نہ ہی آپ کی کوئی کنیت یا لقب، البتہ ’’ابوبکر‘‘ضرور آپ کی کنیت ہے۔ اور بکر سے اس نسبت کی تصریحات میں سے ہمارے نزدیک درج ذیل تصریح کو بوجوہ ترجیح حاصل ہے:
’’عربی زبان میں ’’البکر‘‘ جوان اونٹ کو کہتے ہیں۔ جس کے پاس اونٹوں کی کثرت ہوتی، یا جو اونٹوں کی دیکھ بھال اور دیگر معاملات میں بہت ماہر ہوتا، عرب لوگ اُسے ’’ابوبکر‘‘ کہتے تھے۔‘‘
حضرت ابوبکرؓ بھی اونٹوں کی بیماریوں کا علاج جانتے تھے، اس لیے بکر کی نسبت سے ابوبکر (اونٹ والا)کہلائے۔ اوریہ معلوم و معروف بات ہے کہ عربی میں لفظ ’’ابو‘‘ باپ کے علاوہ ’’والا‘‘ کے معنوں میں بھی برتا جاتا ہے۔
جملہ معترضہ نہ ہو تو عرض ہے کہ اونٹ کی نسبت سے ’’اونٹ والا‘‘ اتنا ہی فطری ہے جتناکہ گائے کی نسبت سے گئو والا (گئو کی یہی مکتوبی صورت راجح ہے) جو اب گوالا کہلاتا ہے اور دودھ کے ساتھ حسب استطاعت جوہڑ یا بورنگ کا پانی بھی فراہم کرتا ہے۔
3۔ شفق ہاشمی صاحب آگے چل کر لکھتے ہیں:’’سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی ذاتِ اطہر سے امتِ مسلمہ کو نصف دین تک رہنمائی حاصل ہوئی۔‘‘
یہاں شاید شفق صاحب کو تسامح ہوا ہے، کیوں کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓسے ہم تک ’’نصف دین‘‘ نہیں بلکہ ’’چوتھائی دین‘‘ پہنچا ہے۔ اور یہ بات بھی غالباً ان کی2210 مرویات کی نسبت سے کہی جاتی ہے، ورنہ ’’نصف دین‘‘ کا حکم تو حضرت ابوہریرہ ؓپر بھی نہیں لگایا گیا جن کی مرویات پانچ ہزار سے بھی زیادہ ہیں۔ (وللہ عالم با لصواب) ‘‘
ہم ان دو دانش وروں کے درمیان میں سے نکل جاتے ہیں۔ توقع ہے کہ شفق ہاشمی اس کا جواب دیں گے۔

Share this: