تخلیقی زاویے

نام کتاب: تخلیقی زاویے
(ادبی اور شخصی مطالعے)
مصنف: پروفیسر غازی علم الدین
صفحات: 276
قیمت: 500 روپے
شوروم: مثال کتاب گھر، صابریہ پلازہ، گلی نمبر 8، منشی محلہ ،امین پور بازار فیصل آباد
ناشر: محمد عابد۔ مثال پبلشرز، رحیم سینٹر، پریس مارکیٹ، امین پور بازار فیصل آباد
فون نمبر: +92-300-6668284
041-2615359, 2643841
ای میل: misaalpb@gmail.com
یہ خوبصورت کتاب پروفیسر غازی علم الدین (پیدائش یکم جنوری 1959ء) کی علم و ادب دوستی کی دستاویز ہے۔ حسین و جمیل اردو نثر کا عمدہ نمونہ ہے۔ مشہور ماہرِ اقبالیات، محقق و دانش ور اور استادِ اردو جناب ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی رائے ہے:
’’ایک مجاہد، میدانِ کارزار میں معرکہ آرا ہوکر کامیاب ہوجاتا ہے، تب وہ ’’غازی‘‘ کہلاتا ہے، مگر غازی علم الدین، پیدائشی غازی ہیں، بایں ہمہ انہوں نے فقط نام کے ’’غازی‘‘ ہونے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ وہ میدانِ علم و ادب میں جہاد کا علَم لے کر نکل کھڑے ہوئے اور علم و ادب میں منفی رویوں کے خلاف جہاد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اپنے بعض مضامین اور ’’الحمرا‘‘ میں وہ اسلام، پاکستان اور اردو زبان کے معترضین کے خلاف، محاذ پر دادِ شجاعت دیتے نظر آتے ہیں۔ ان کا دائرۂ قلم و قرطاس کہیں زیادہ وسیع ہے۔ اس کا اندازہ زیرِنظر مجموعۂ مضامین سے ہوتا ہے۔
یہ مضامین علم و ادب کے کسی ایک شعبے تک محدود نہیں ہیں۔ ان میں شعری مجموعوں، تنقیدی کتابوں اور ادبی مجلوں کا مطالعہ بھی ہے اور بعض شخصیات کا تذکرہ بھی۔ اسی طرح غازی صاحب نے بعض ادبی مباحث پر بھی قلم اٹھایا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ قاری محسوس کرتا ہے کہ غازی صاحب ہمہ جہت قسم کے لکھاری ہیں۔ وہ شاعری اور اس کی مختلف اصناف کو پرکھ سکتے ہیں۔ متن کی صحت اور منسوباتِ شعر کا کھرا کھوٹا الگ کرسکتے ہیں۔ لغت اور لسانیات پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ جو قارئین ان کی سابقہ مطبوعات ’’لسانی مطالعے‘‘ اور ’’تنقیدی و تجزیاتی زاویے‘‘ دیکھ چکے ہوں، انہیں غازی صاحب کی قابلِ رشک صلاحیتوں کا بخوبی اندازہ ہوگا۔
اصلاحِ زبان ان کی کاوشوں کا ایک بڑا موضوع ہے۔ زبان کے پست معیار اور الفاظ کے غلط استعمال پر وہ ہمیشہ نقد کرتے ہیں اور اس ضمن میں وہ کسی طرح کا سمجھوتا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ غالباً اس کی وجہ عربی اور فارسی میں ان کی مہارت ہے۔ اردو کے ایک استاد کے لیے یہ ایک اور اضافی خوبی ہے۔ عربی زبان کے ماہر ہونے کی حیثیت سے وہ لفظوں کے استعمال کا جو معیار قائم کرتے ہیں، بعض لوگوں کو اس سے اتفاق نہیں ہے، اس کے باوجود ان کی مہارتِ زبان کا قائل ہونا پڑتا ہے۔
اس مجموعے کا خیرمقدم کرتے ہوئے، امید رکھتا ہوں کہ ان کے مضامین کا یہ مجموعہ بھی حسبِِ سابق مقبولیت حاصل کرے گا۔‘‘
ڈاکٹر معین الدین عقیل استادِ اردو، محقق و دانش ور ہیں اور مصنف تصانیفِ کثیرہ، غازی علم الدین صاحب کے مرتبہ مجلات سروش و سیماب کی تعریف کے بعد تحریر فرماتے ہیں:
’’غازی علم الدین صاحب کو پہلے پہل میں نے محض ان مجلوں کے توسط سے جانا اور پہچانا تھا، کہ پھر یکے بعد دیگرے ان کے مضامین بھی مختلف رسائل میں میرے مطالعے میں آنے لگے، جن کے موضوعات میں بالخصوص زبان اور لسانیات کے معاملات و مسائل میرے لیے بہت کشش کے حامل رہتے تھے اور میں بڑی توجہ سے انہیں پڑھا کرتا تھا۔ اس پر مستزاد، ان موضوعات پر غازی صاحب کے مضامین کے مجموعوں نے، بمثل: ’’لسانی مطالعے‘‘ جسے مقتدرہ قومی زبان پاکستان، اسلام آباد نے 2012ء میں شائع کیا، اور ’’لسانی لغت‘‘ بھی، جو دہلی سے شائع ہوئی تھی، ایک یکجا صورت میں غازی صاحب کی دل چسپیوں سے ایک بھرپور تعارف کرانے میں خاصا مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ لیکن ایسا نہیں کہ میں نے غازی صاحب کو مذکورہ مجلوں اور زبان و لسانیات پر ان کے مضامین کے توسط سے ہی پہچانا ہے، ان کے دیگر موضوعاتِ دل چسپی بھی میرے لیے پُرکشش رہے ہیں، جن کا ایک نمونہ زیرنظر مضامین بھی ہیں جو اپنی نوعیتوں اور اپنے مزاج میں بھی حد درجہ تنوع رکھتے ہیں۔ ان میں معاصرین پر شخصی مطالعے بھی ہیں، شعر و افکار کا مطالعہ و جائزہ بھی ہے، کتابوں پر نقد و تبصرہ بھی ہے اور زبان اور قومی زبان کی صورتِ حال پر فکرو دردمندی بھی شامل ہے۔ اقبال اور غالب، لگتا ہے غازی صاحب کی خاص توجہ حاصل کرتے رہے ہیں، جس کا اظہار ان کی متعلقہ تحریروں سے ہوتا ہے جو چاہے بالواسطہ ہی سہی، یہاں ان کے مضامین میں ان کے مطالعے کا سبب بنی ہیں۔
غازی صاحب کی تحریریں چھپتی رہتی ہیں، چھپتی رہیں گی، کہ قلم جوان اور عزم و حوصلہ بلند ہیں۔ ان میں زیرِ نظر مجموعہ ان کی ایسی تحریروں پر مشتمل ہے، جو متنوع موضوعات اور مباحث و مسائل کا احاطہ کرتی ہیں اور بڑی حد تک ہمارے عصری ادبی میلانات سے ہمیں متعارف کراتی ہیں اور قریب لے آتی ہیں۔ اس مجموعے میں شامل متعدد تحریریں جہاں ایک جانب عصری ادب کے مطالعے میں ہماری معاون رہیں گی، وہیں مستقبل میں جب یہ عہد اور اس کے محسوسات اور رجحانات و میلانات تاریخِ ادب کا موضوع بنیں گے تو یہ مجموعہ بھی حوالے کا ایک ماخذ بنے گا۔ اس اعتبار سے غازی صاحب کے اس مجموعۂ مضامین کی اشاعت خوش آئند اور خوش کن ہے۔‘‘
پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری (ملتان) کی وقیع رائے یہ ہے:
’’آج کل تحقیق کی گرم بازاری کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تحقیق کے لیے میدان بہت وسیع ہوگیا ہے، اس کے طریقِ کار میں تدریسی سطح پر جن تنوعات کی نشاندہی کی جاتی ہے، اس سے بھی تحقیق کی وسعتوں کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ تحقیق کی انواع میں لسانی تحقیق بھی ہے جس کی بجائے خود کئی انواع ہیں جنہوں نے عصرِ حاضر میں بہت فروغ پایا ہے۔ پروفیسر غازی علم الدین نے بھی تحقیق کی اسی نوع میں نام پیدا کیا ہے۔ ان کے کام کا ایک زمانہ معترف ہے۔ اب انہوں نے تنقید کی طرف بھی قدم بڑھایا ہے اور پچھلے عرصے میں ایک دوسرے کے آگے پیچھے شائع ہونے والی کتابوں پر تعارفی مضامین لکھ کر متنی تنقید میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔ اس سے پہلے بھی نظری تنقید میں ان کی بعض قابلِ قدر تصنیفات سامنے آچکی ہیں جو ان کے پختہ تنقیدی شعور پر دال ہیں۔ ’’تخلیقی زاویے‘‘ پروفیسر غازی علم الدین کے تیس مضامین و مقالات کا مجموعہ ہے، ان میں زیادہ تر وہ ہیں جو شعری مجموعوں یا انفرادی شاعری کے مطالعات سے عبارت ہیں۔ دوسرے درجے میں وہ مضامین ہیں جن کو شخصی مطالعات کا نام دیا گیا ہے۔ ان مضامین کو اگر خاکوں کا نام دیا جاتا تو غلط نہ ہوتا، لیکن ’’شخصی مطالعات‘‘ کی اصطلاح میں خاکے کی اصطلاح سے زیادہ وسعت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فاضل مصنف نے اس قسم کے مضامین میں زیرِ مطالعہ اشخاص کی خوبیوں کو گہری نفسیاتی بصیرت کے ساتھ اجاگر کیا ہے۔ اس سلسلے میں ان کا معرکہ آرا مضمون ’’عجب چیز ہے لذتِ آشنائی‘‘ ٹھیرتا ہے جس میں انہوں نے سیف اللہ خالد کی شخصیت اور ان کی ادارتی خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ یہ مضمون انہوں نے محبت اور ہمدردی کے ساتھ لکھا ہے۔ ان کا خلوص اور سیف اللہ خالد کی شخصیت، دونوں پڑھنے والوں پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔
’’تخلیقی زاویے‘‘ کے مضامین پروفیسر غازی صاحب کے مطالعے کی وسعت کے ساتھ ساتھ اردو زبان و ادب سے ان کی گہری دلچسپی اور وابستگی کا ثبوت بھی ہیں۔ اردو کے حوالے سے ان کا پُرخلوص تعہّد (Committment) قابلِ رشک ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے بھارت میں شائع ہونے والے کچھ مضامین کا تفصیل سے مطالعہ کیا ہے اور بھارت میں اردو کی موجودہ صورتِ حال کو واضح کیا ہے۔ اس مضمون میں کچھ ایسے اقتباسات بھی شامل ہیں جن کے لکھنے والوں نے بھارت میں اردو کے زوال کا خود مسلمانوں کو ذمے دار ٹھیرایا ہے کہ آخر مسلمان اردو کی حفاظت میں آگے کیوں نہیں آتے۔ اس طرح کی رائے رکھنے والے حضرات یہ بھول جاتے ہیں کہ بھارت کے مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ تو ذاتی بقا کا ہے۔ جن کو دن رات جان کے لالے پڑے ہوں وہ اردو کی حمایت یا ترویج کی کوششوں میں کہاں تک آگے آسکتے ہیں! بھارت میں اردو اور مسلمانوں کے گرد عددی برتری رکھنے والے ہندو سماج ہی نہیں، ریاستی قوانین اور پالیسیوں نے بھی گھیرا تنگ کیا ہوا ہے۔ ’’تخلیقی زاویے‘‘ میں بعض نثری کتابوں کا تعارف بھی شامل ہے، مثلاً بریگیڈیر (ر) حامد سعید اختر کی ’’صد شعرِ غالب‘‘، جو تفہیمِ غالب کے سلسلے میں قابلِ ذکر ہے۔ بعض شعری مجموعوں کی تحسین حتمی طور پر بجا اور مناسب معلوم ہوتی ہے اور انتخابِ اشعار بھی قابلِ تعریف ہے۔ البتہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ انہوں نے مجموعی طور پر توسّع اور استحسان کا رویہ اختیار کیا ہے۔ اگرچہ ان کے زیرِ مطالعہ متون میں اِیراد و تنقیح کے موارد کی کمی نہیں، پھر بھی انہوں نے حرف گیری سے گریز کیا ہے۔ مجموعی طور پر یہ کتاب بے حد قابلِ مطالعہ قرار دی جا سکتی ہے۔ موضوعات کا تنوع، تنقیدی نقطۂ نظر میں وسعت اور استحسان کا میلان ان کے مضامین میں ایک خاص انسانی عنصر کا اضافہ کرتا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ انہوں نے ہم عصر ادبی کاوشوں کو خوش آمدید کہا ہے اور ان کو مطالعے کے قابل ٹھیرایا ہے۔ یہ ایک مثبت رویہ ہے جو اُن کو ہم عصر تنقید میں ممتاز کرتا ہے۔ اُن کے لہجے کی متانت اور شائستگی، تہذیب اور اخلاق کے لیے ان کی تائید، اُردو اور پاکستان کے ساتھ ان کی غیر متزلزل وابستگی اور تحریر کی شگفتگی ایسی خصوصیات ہیں جو اس کتاب کو آج کی تنقیدی دنیا میں ممتاز مقام عطا کریں گی۔‘‘
کتاب چار حصوں میں تقسیم ہے، ہر عنوان کے تحت متعدد مقالات ہیں جن کی تفصیل کچھ یوں ہے:
شخصی مطالعے
’’عجب چیز ہے لذتِ آشنائی‘‘۔ ’’حقیقتِ خیال (حضرتِ خیالؔ آفاقی کے فکرو فن کا مطالعہ)‘‘۔ ’’رؤف خیر کے فکرو فن پر ایک نظر‘‘۔ ’’فکرِ سدید کے کچھ درخشاں پہلو‘‘۔ ’’ڈاکٹر ماجد دیوبندی کی شعری کائنات (تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ)‘‘۔ ’’ڈاکٹر شکیل اوجؔ کی افتادِ طبع کے عناصر ترکیبی‘‘۔ ’’ڈاکٹر نگار کی علمی اور تحقیقی جہتیں (ایک مختصر شخصی مطالعہ)‘‘ ’’منیر احمد یزدانیؔ کی اقبال شناسی‘‘۔
نقد و نظر
’’ذرا سنبھال کے لفظوں کو جوڑیے صاحب!‘‘۔ ’’صد شعرِ غالب‘‘ کے تفردات‘‘۔ ’’خواجہ محمد عارف کی نعت گوئی‘‘۔ ’’ڈاکٹر ماجد دیوبندی کی نعت نگاری کے عناصرِ ترکیبی‘‘۔ ’’’پانچواں موسم‘… نفیس جذبوں کی بہارِ جاوداں‘‘۔ ’’نذیر فتح پوری کی خودنوشت… ’بیتے کل کا اِک اِک پل‘‘‘۔ ’’رفعت شمیم کی غزل… عصری شعور کا پرتو‘‘۔ ’’’طورِ طلسم‘ کا تجزیاتی مطالعہ‘‘۔ ’’پروفیسر رفیق بھٹی کی غزل کے اجزائے ترکیبی‘‘۔ ’’نوادراتِ علامہ اقبال‘‘۔ ’’خامہ بدست غالب‘‘۔ ’’علامہ اقبالؒ کے چند نادرو نایاب خطوط‘‘۔ فورٹ عباس کی علمی و ادبی روایت کی بنیاد‘‘۔ علمی دنیا میں ’’مفاہیم‘‘ کی ضوفشانی‘‘۔ ڈاکٹر محمد رفیع الدین ریسرچ سینٹر کی مطبوعات (ایک قابلِ قدر کارنامہ)‘‘
زبان و ادب
’’اردو توبے زبان ہے کس سے کرے سوال‘‘۔ ’’اردو اشعار… منسوبات اور صحتِ متن کے مسائل‘‘۔
’’اردو کے خلاف ’قیامت کی چال‘‘‘۔ ’’تحریکِ نفاذِ اردو میں ’قومی زبان‘ کا کردار‘‘۔ ’’صدائے بامِ دنیا… وخی زبان، ادب اور معاشرت پر ایک نظر‘‘۔
روبرو
’’انٹرویو… پروفیسر غازی علم الدین (پرنسپل)‘‘
’’پروفیسر غازی علم الدین کے ساتھ مصاحبہ‘‘
پروفیسر غازی علم الدین کی تصانیف میں ’’تخلیقی زاویے‘‘ کے علاوہ ’’میثاقِ عمرانی‘‘ دو ایڈیشن، ’’لسانی مطالعے‘‘ تین ایڈیشن، ’’ تنقیدی و تجزیاتی زاویے، سروش اقبال کے نام‘‘ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاک و ہند کے رسائل میں آپ کے مقالات اور مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔
٭٭٭
نام کتاب : دشمنانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عبرتناک انجام
تالیف : علامہ عبدالرشید عراقی
صفحات : 208
قیمت : 600روپے
ناشر :ٍ علم و عرفان پبلشرز
پتا : الحمد مارکیٹ،40 اردو بازار لاہور
یہ گراں قدر تحقیق علامہ عبدالرشید عراقی حفظہ اللہ کے قلم سے ہے اور اسلامی کتب خانے میں وقیع اضافہ ہے۔ کتاب گیارہ ابواب پر مشتمل ہے جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
(1) جزیرۃ العرب:
اس باب میں عرب کے قبائل، حجاز کی امارت اور عربوں کے تہذیب و تمدن و اخلاق و مذاہب وغیرہ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
(2) نبیٔ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم :
اس باب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مقدسہ یعنی خاندان، ولادت باسعادت، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جامعیت، خصائص، خلقِ عظیم وغیرہ کا تذکرہ ہے۔
(3) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور اس کے اسباب:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نبوت کا اعلان کیا اور لوگوں کو ایک اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دی تو عرب کے تمام قبائل اور خاص کر خاندانِ قریش مخالفت پر کمربستہ ہوگئے۔ اس بات میں اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
(4) مکہ میں اسلام پھیلنے کے اسباب:
قریشِ مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبردست مخالفت کی۔ لیکن مخالفت کے باوجود لوگ دینِ اسلام میں داخل ہونا شروع ہوگئے۔ کیا اسباب تھے کہ اسلام دن بدن مکہ میں پھیلتا گیا، اس باب میں اس کو واضح کیاگیا ہے۔
(5) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بدترین دشمن:
دینِ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں رئوسائے قریش میں جن لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مصائب و آلام میں مبتلا کیا ان کے حالات، ان کی اسلام دشمنی اور ان کے عبرت ناک انجام کا ذکر تفصیل سے بیان کیا گیاہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن یہ تھے:
ابولہب، عاص بن وائل، ولید بن مغیرہ، ابوجہل، عقبہ بن ابی معیط، امیہ بن خلف، اخنس بن شریق، نضر بن حارث اور ابی بن خلف وغیرہم۔
(6) مکی دور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رفقاء پر مصائب کا اجمالی تذکرہ:
کفارِ مکہ کو جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت پیش کی تو انہوں نے آپ ؐ کو مصائب و آلام میں مبتلا کردیا، اور اس کے ساتھ جو لوگ دینِ اسلام میں داخل ہوئے تھے اُن کو بھی کفارِ مکہ اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بناتے تھے۔ اس باب میں اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
(7)نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قاتلانہ حملے اور سازشیں:
کفارِ مکہ مخالفت میں اس قدر بڑھ گئے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ختم کرنے کا ارادہ کرلیا۔ اپنے ان ناپاک عزائم میں انہوں نے کئی بار آپ ؐ پر قاتلانہ حملے کرنے کے منصوبے بنائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مامون و محفوظ رکھا، اس باب میں اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
(8) مدنی دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمن اقوام:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی اور مدینہ میں جن قبائل اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور دینِ اسلام کی مخالفت میںکردار ادا کیا اس کی تفصیل اس باب میں بیان کی گئی ہے۔ مخالفین میں کون لوگ اور قبائل شامل تھے، ان کے نام یہ ہیں:
قریشِ مکہ، یہودِ مدینہ، منافقینِ اعراب یا بدوی قبائل وغیرہ۔
(9) مرزا غلام احمد قادیانی:
رسول دشمنی میں آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی جس کو برطانوی سامراج نے تیار کیا اور مرزا قادیانی نے جو کردار ادا کیا اس کی تفصیل اس باب میں بیان کی گئی ہے۔
(10) ختم نبوت:
اس باب میں مسئلہ ختم نبوت کو قرآن و حدیث و آثارِ صحابہ کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے۔
(11) کتابیات
اس باب میں مصنف نے جن کتابوں سے کتاب کی تیاری میں استفادہ کیا ہے ان کی فہرست درج کی گئی ہے۔
مقدمۂ کتاب جناب عبدالعزیز فاروق صاحب سابق ڈائریکٹر محکمہ آثار قدیمہ حکومتِ پاکستان کے قلم سے ہے اور تقریظ حکیم راحت نسیم سوہدروی کی تحریر ہے
کتاب نیوز پرنٹ پر طبع کی گئی ہے، مجلّد ہے۔

Share this: