سندھ کے انتخابی نتائج پر ایک نظر

توقع تو یہی باندھی جارہی تھی اور بیشتر سیاسی تجزیہ نگار اور مبصرین بھی اس امر پر متفق تھے کہ صوبہ سندھ میں اپنے گزشتہ دس برس پر محیط عرصۂ اقتدار میں پاکستان پیپلز پارٹی نے ہر شعبے میں حد درجہ ناقص اور بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، جس کی بنا پر اہلِ سندھ کی اکثریت اُس سے نالاں اور برہم ہوچکی ہے، لہٰذا 25 جولائی کو منعقدہ الیکشن میں پیپلزپارٹی کی قیادت کو اس کی سابقہ عدم کارکردگی کی وجہ سے ’’لگ پتا جائے گا‘‘۔ یعنی پیپلزپارٹی کو اِس بار سندھ میں اپنے ووٹرز کی ناراضی کے باعث اتنی نشستیں نہیں مل پائیں گی کہ وہ صوبے میں پہلے کی طرح اپنی حکومت تشکیل دے سکے۔ لیکن جب 25جولائی کو ہونے والے الیکشن کا نتیجہ سامنے آیا تو صورتِ حال اس کے برعکس دکھائی دی، جس نے نہ صرف عمومی رائے کو جھٹلا دیا بلکہ سیاسی مبصرین بھی حیرت میں پڑ گئے کہ آخر یہ کیا ماجرا ہوگیا ہے؟ اس طرح سوشل میڈیا سمیت دیگر ذرائع سے پیپلزپارٹی کے خلاف چلائی جانے والی مہم نہ صرف ناکامی سے دوچار ہوئی بلکہ پیپلزپارٹی جس نے گزشتہ انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی سندھ سے 68 سیٹیں جیتی تھیں اب کی بار اُس نے نہ صرف ماضی میں ناقابلِ شکست رہنے والی معروف قبائلی اور مذہبی و روحانی سیاسی شخصیات پیر صدر الدین شاہ راشدی اور مرتضیٰ جتوئی تک کو اُن کے اپنے اپنے حلقوں میں شکست سے دوچار کرڈالا ہے۔ یہی نہیں بلکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ضلع سانگھڑ جو پیر صاحب پگارا کی مسلم لیگ فنکشنل کا گڑھ گردانا جاتا ہے، سے بھی قومی اسمبلی کی ایک نشست جیت لی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ سندھ اسمبلی کی 76 نشستیں جیت کر ایک نیا ریکارڈ بھی قائم کرڈالا ہے۔
پیپلزپارٹی کی انتہائی ناقص اور غیر معیاری حکومتی کارکردگی جو کامل ایک عشرے پر محیط ہے، کے باوجود صوبہ سندھ میں توقعات کے برعکس یہ انتخابی کامیابی سمیٹنے کے پسِ پردہ بہت سارے عوامل ہیں۔ ان میں سے ایک تو پیپلزپارٹی مخالف انتخابی اتحاد جی ڈی اے جو مختلف قوم پرست اور دیگر سیاسی جماعتوں کا ملغوبہ تھا، کے رہنماؤں کا ایک دوسرے سے عدم اخلاص اور عدم تعاون کا رویہ تھا۔ جی ڈی اے میں شامل جماعتوں کے وہ رہنما جو ماضی میں ارکانِ قومی اور صوبائی اسمبلی رہ چکے ہیں انہوں نے بھی پیپلزپارٹی کے ارکان کی طرح کبھی اپنے اپنے انتخابی حلقوں کے عوام کے دکھوں اور مسائل و مصائب کو دور کرنے کے لیے کوئی کام نہیں کیا، اور صرف الیکشن کے مواقع پر ہی حصولِ ووٹ اور تعاون کے طلب گار ہوتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اِس مرتبہ انتخابات میں جی ڈی اے کے رہنماؤں کو اُن کے حلقوں کے ووٹرز نے اپنے ووٹ نہ دے کر اور شکست سے دوچار کرکے اپنی سابقہ ناراضی اور برہمی کا برملا اظہار کیا ہے۔ جی ڈی اے کے متعدد اہم رہنما جو ماضی میں قومی یا صوبائی اسمبلی کے رکن تھے، اسی سبب سے انتخابات میں ہزیمت سے دوچار ہوئے ہیں کہ انہوں نے اپنے تئیں یہ سمجھ رکھا تھا کہ چاہے وہ اپنے اہلِ حلقہ کے کام کریں یا نہ کریں، ان کا بطور پیر، میر یا سردار اثر رسوخ اتنا زیادہ ہے کہ اب کی مرتبہ بھی ان کے حلقے کے ووٹرز انہی کو اپنی حمایت سے نوازیں گے۔ اس غلط فہمی (یا خوش فہمی کہہ لیجیے) کا نتیجہ ان کی شکست اور ان کے مدمقابل ماضی میں ہار جانے والے پیپلزپارٹی کے امیدواران کی فتح یابی کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔ جی ڈی اے کے مرکزی اور اہم شکست یافتہ رہنماؤں میں سابق ارکان اسمبلی ارباب غلام رحیم، ذوالفقار مرزا، پیر صدر الدین شاہ راشدی، غلام مرتضیٰ جتوئی سمیت لیاقت جتوئی اور دیگر اہم رہنما شامل ہیں۔ تمام اہم قوم پرست رہنما بھی جن میں ڈاکٹر قادر مگسی، ایاز لطیف پلیجو، سید جلال محمود شاہ، سید زین شاہ وغیرہ شامل ہیں، حسبِ سابق اس الیکشن میں ہزیمت سے دوچار ہوئے ہیں۔ ’’تبدیلی پسند پارٹی‘‘ کے سربراہ اور ’’کاوش‘‘، ’’کے ٹی این‘‘ سندھی نیوز چینل کے کرتا دھرتا محمد علی قاضی عرف علی قاضی بھی حیدرآباد سے شرجیل انعام میمن کے ہاتھوں کچھ اس طرح سے شکست سے دوچار ہوئے ہیں کہ شرجیل میمن کے مقابلے میں موصوف نصف (لگ بھگ 22ہزار) ووٹ حاصل کرپائے ہیں۔ حالیہ الیکشن میں جس طرح سے سندھ پر لگاتار 2008ء سے حکمرانی کرنے والی پیپلز پارٹی نے دوبارہ 76نشستیں حاصل کرلی ہیں، اس کی وجہ سے فی الحال سندھ میں تو کسی بھی خاص تبدیلی کے امکانات ہویدا ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے۔
اس الیکشن میں ایم کیو ایم کے بجائے پی ٹی آئی 22 سیٹیں جیت کر سندھ میں دوسرے نمبرکی بڑی پارٹی کا درجہ حاصل کرچکی ہے۔ پیپلزپارٹی کے گڑھ ضلع جیکب آباد سے پی ٹی آئی کے امیدوار NA-196 برائے قومی اسمبلی سابق نگران وزیراعظم محمد میاں سومرو اپنے حریف اور قبل ازیں دو مرتبہ پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی رہنے والے میر اعجاز خان جکھرانی کو ساڑھے 5ہزار ووٹوں کی سبقت سے ہراکر کامیاب ہوئے ہیں، اور دورانِ گنتی تقریباً 13ہزار ووٹ اس حلقے میں مسترد قرار دیے گئے ہیں جو بہرحال ایک قابلِ توجہ اور لائقِ تشویش امر ہے۔ اسی طرح پی ایس ون جیکب آباد سے میاں نوازشریف کے سندھ سے قریبی ساتھی اور قبل از الیکشن پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرنے والے محمد اسلم ابڑو بھی پیپلزپارٹی کے امیدوار میر اورنگ زیب پنہور (حاصل کردہ ووٹ 25251) کو ہراکر اور36896 ووٹ حاصل کرکے پیپلزپارٹی کے گڑھ میں کامیابی حاصل کرچکے ہیں۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ سندھ میں جہاں جہاں ایم ایم اے کے امیدواران برائے صوبائی اور قومی اسمبلی پیپلزپارٹی کے امیدواروں کے مقابلے میں صف آرا تھے وہاں سے انہوں نے بڑی تعداد میں یعنی ہزاروں کی تعداد میں ووٹ حاصل کیے ہیں، جب کہ ماسوائے قوم پرست مرکزی رہنما ؤں کے اُن کی تنظیموں کے دیگر امیدواروں کے حاصل کردہ ووٹ سینکڑوں کی تعداد میں ہی تھے۔ پیپلز پارٹی کے مقابلے میں الیکشن لڑنے والے اتحاد جی ڈی اے، پی ٹی آئی اور ایم ایم اے کے امیدواران کے ووٹوں کو اگر سندھ کے کئی انتخابی حلقوں میں یکجا کردیا جائے تو ان کی تعداد پیپلزپارٹی کے امیدواروں کے حاصل کیے گئے ووٹوں سے کہیں زیادہ بنتی ہے، لیکن کسی نوع کی مربوط حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے پیپلزپارٹی کے مدمقابل اتحادوں کے ووٹ باہم تقسیم ہوگئے، اور اس طرح پیپلزپارٹی نے اپنے مخالفین کی نااتفاقی کا فائدہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں حاصل کرلیا۔ پیپلزپارٹی کی قیادت نے سندھ کے مختلف حلقوں میں حصولِ کامیابی کے لیے مختلف طریقے اور حربے آزمائے جن میں اسے بہت حد تک کامیابی بھی ملی۔ جی ڈی اے کے پیر صاحب پگارا انتخابی مہم میں اِس بار خود بھی بہ نفسِ نفیس شامل رہے، کیونکہ اب کی بار جی ڈی اے سے کہیں زیادہ اُن کی جماعت مسلم لیگ فنکشنل کی بقاء کا سوال بھی انہیں درپیش تھا۔ گزشتہ انتخابات اور بلدیاتی الیکشن میں ان کی جماعت کی انتخابی طاقت بتدریج کم ہوئی تھی اور انہیں یہ خدشہ تھا کہ اس حوالے سے انہیں مزید نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کہ ان کے خاندان اور پارٹی سے قریبی رفاقت رکھنے والے متعدد ایم پی ایز پیپلزپارٹی قیادت کی ترغیب اور تحریص کی تاب نہ لاکر پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرچکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پیر صاحب پگارا نے اپنے اتحاد جی ڈی اے کو پیپلز پارٹی کا متبادل بناکر پیش کرنے کی بھرپور سعی کی، جس کی وجہ سے سندھ سے ماضی میں کامیاب ہونے والے کئی ارکان صوبائی اور قومی اسمبلی نے جی ڈی اے میں شمولیت بھی اختیار کی۔ پیپلز پارٹی کے سرپرست و کرتا دھرتا آصف علی زرداری نے اس کے جواب میں کئی حربے آزمائے اور خصوصاً ان کے امیدواران اپنی تقاریر اور رابطۂ عوام مہم میں سندھ کی خواتین کو یہ تاثر دینے میں کامیاب رہے کہ اگر 25 جولائی کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کو کامیابی نہ دلائی گئی تو انہیں ملنے والی بے نظیر انکم سپورٹ کی سہ ماہی رقم ملنا بند ہوجائے گی اور وہ اپنی روزمرہ کی ضروریاتِ زندگی کے حصول تک سے محروم رہ جائیں گی، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر دیہی سندھ کی خواتین نے مذکورہ بیان کردہ خودساختہ خدشے کی بنا پر پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے حق میں اپنے ووٹ کاسٹ کیے۔ دوسرا طریقہ یہ آزمایا گیا کہ آخری انتخابی ایام میں محض بلاول بھٹو زرداری کو بغیر فریال تالپور یا آصف علی زرداری کے، انتخابی مہم چلانے کے لیے مختلف اضلاع میں بھیجا گیا جس کی وجہ سے مقامی عوام نے یہ تاثر قائم کیا کہ بلاول بھٹو کی زیر قیادت پیپلز پارٹی کو ایک بار پھر ووٹ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس طرح گرگِ باراں دیدہ اور میدانِ سیاست کے گرم و سرد چشیدہ سابق صدر آصف علی زرداری نہ صرف ایک مرتبہ پھر دیہی سندھ کے عوام کے ووٹوں کے حصول میں کامیاب ثابت ہوئے بلکہ اپنے انتخابی حریفوں اور اُن کے قائم کردہ مختلف اتحادوں جی ڈی اے، ایم ایم اے، پیپلزپارٹی سے ناراض ہوکر آزاد کھڑے ہونے والے امیدواروں اور پی ٹی آئی کے ووٹوں کو باہم تقسیم کرکے انہیں ہرانے میں کامیابی حاصل کرلی۔ پیپلزپارٹی کی قیادت یہ تاثر قائم کرنے میں بھی اپنی انتخابی مہم میں کامیاب رہی کہ ان کے مخالفین اہلِ جی ڈی اے نے اس سے پہلے انتخابات میں کامیاب ہوکر عوام کو بھلا کیا دیا ہے کہ وہ اب کی مرتبہ کامیابی کے بعد عوام کو دے سکیں گے! لہٰذا اِس مرتبہ بلاول بھٹو کی زیر قیادت پیپلزپارٹی کو آزمانا ہی سب سے بہتر آپشن ہوگا۔ یہ امر بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر انتخابی مہم کے آخری دنوں میں بلاول بھٹو زرداری شکارپور سے ماضی میں ہمیشہ کامیاب ہونے والے ایم این اے آفتاب شعبان میرانی سمیت دیگر اضلاع میں پیپلزپارٹی کے صوبائی اور قومی اسمبلی کے امیدواروں کے لیے ان کے ہاتھ تھام کر اپنی والدہ مرحومہ بے نظیر بھٹو کے نام پر ووٹ مقامی عوام سے نہ مانگتے تو پیپلزپارٹی کے امیدواروں کی بہت سے انتخابی حلقوں میں کامیابی مشکوک تھی۔ تاہم جیکب آباد جیسے پیپلزپارٹی کے روایتی سیاسی گڑھ میں بلاول بھٹو کا جادو کام نہیں کرسکا، جس کا ذکر اوپر بھی کیا جاچکا ہے۔
25 جولائی کو ہونے والے الیکشن میں انتخابی عملہ جو ڈاکٹرز، پروفیسرز، اسکول اساتذہ اور دیگر سرکاری اداروں سے لیاگیا تھا، ان معزز مرد و خواتین سرکاری ملازمین کی جس طرح سے نااہل الیکشن کمیشن کے ذمے داروں اور متعلقہ آر اوز اور ڈی آر اوز نے بے توقیری کی اور قدم قدم پر پریشان، ہراساں اور ذلت و خواری سے دوچار کیا وہ ایک الگ طولانی اور افسردہ کردینے والی داستان ہے جو ان متاثرہ اور برہم و ناراض سرکاری فرائض سرانجام دینے والے انتخابی عملہ کی شکایات کی روشنی میں ترتیب دے کر ان شا اللہ آئندہ کسی وقت پیش کی جائے گی، جس سے یہ امر بھی واضح ہوسکے گا کہ الیکشن کمیشن کے فارم 45کا اصل قصہ دراصل کیا ہے؟
بہرکیف یہ اوّلین الیکشن تھے جن میں پیپلزپارٹی کے امیدواروں سے نالاں اور ناراض مقامی عوام نے سندھ بھر میں ہر مقام اور ہر جگہ پر ان کی سابقہ غیر اطمینان بخش کارکردگی پر ان کا نہ صرف سخت احتساب کیا بلکہ اس حوالے سے وڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ تیسری مرتبہ سندھ میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد اور اپنی حکومت تشکیل دے کر پیپلزپارٹی اہلِ سندھ کی توقعات پر پورا اترپائے گی یا نہیں؟

Share this: