نئی حکومت کا اصل امتحان

پاکستان میں انتخابی عمل مکمل ہوگیا ہے۔ انتخابی نتائج کی شفافیت پر داغ لگ جانے کے باوجود اندرون و بیرون ملک یہ تسلیم کرلیا گیا ہے کہ قومی اسمبلی میں سب سے بڑی منتخب ہونے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان متوقع وزیراعظم ہوں گے۔ 2018ء کے انتخابات نے پاکستان کی سیاست میں ابھرنے والی نئی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو تین بڑی پارٹیوں میں شامل کردیا ہے۔ اپنی مقبولیت کے باوجود تحریک انصاف قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل نہیں کرسکی ہے۔ متنازع انتخابی نتائج اور مقتدر قوتوں کی کھلی اور پوشیدہ مداخلت کی وجہ سے حزب اختلاف کی کثیر جماعتوں کا وسیع تر اتحاد بھی بن گیا ہے۔ اس لیے قومی اسمبلی میں تاریخ کی سب سے بڑی حزب اختلاف بھی موجود ہوگی، جس کی وجہ سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نئی حکومت کے لیے کام کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ ماضی کی حکمراں دو بڑی جماعتوں کی ناقص کارکردگی نے نئے سیاسی حقائق تخلیق کیے ہیں۔ نئی حکومت کے لیے جو مسائل موجود ہیں ان میں عالمی حالات اور داخلی معاشی بحران اوّلیت رکھتے ہیں۔ انتخابی نتائج کے فوری بعد جیتنے والی سیاسی جماعت کے سربراہ سے امریکہ اور بھارت سمیت اہم عالمی قائدین نے رابطہ کیا ہے۔ سعودی عرب کے سفیر نے سب سے پہلے ملاقات بھی کی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں امریکہ، بھارت، چین سے تعلقات سمیت اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ سب سے پہلا مسئلہ جو نئی منتخب حکومت کو درپیش ہے وہ یہ ہے کہ ملک اقتصادی طور پر جس بحران کا شکار ہے اس کا حل کیسے تلاش کریں گے۔ سب سے اہم اور کلیدی سوال یہ ہے کہ قرضوں کے بوجھ، اور زرمبادلہ کے ذخائر اور پاکستانی روپے کی قدر میں غیر معمولی کمی کی وجہ سے نئی حکومت کو کیا آئی ایم ایف کے پاس مدد کے لیے جانا ہوگا؟ پاکستان تحریک انصاف کے متوقع وزیر خزانہ اسد عمر نے اعتراف کیا ہے کہ معاشی بحران انتہائی شدید ہے اور معیشت کی بحالی کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جانے سمیت ہر قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے معاشی بحران کی سنگینی کی وجہ سے پاکستان کے قریب ترین دوست چین نے دو قسطوں میں 2 ارب ڈالر ادا کیے ہیں جس کا ردعمل امریکہ کی طرف سے آگیا ہے۔ انتخابات سے قبل اکثر معاشی ماہرین کا خیال یہ تھا کہ نئی حکومت کو ہر صورت میں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا اور آئی ایم ایف جو شرائط عائد کرے گا وہ پاکستان کی بچی کھچی آزادی اور قومی سلامتی کے لیے مزید خطرناک ہوں گی۔ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہوا ہے کہ نئی حکومت آئی ایم ایف کے پاس جائے گی یا کوئی اور راستہ اختیار کرے گی۔ امریکی حکومت کا نئی حکومت کے اوپر دباؤ سامنے آگیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے آئی ایم ایف کو تنبیہ کی ہے کہ وہ پاکستان کو ممکنہ بیل آؤٹ پیکیج نہ دے۔ مائیک پومپیو نے جو وزیر خارجہ سے قبل سی آئی اے کے سربراہ رہ چکے ہیں، امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے متوقع نئے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ کام کرنے کا خواہش مند ہے، لیکن چینی قرض کو ادا کرنے کے لیے پاکستان کو بیل آؤٹ دینے کا کوئی جواز نہیں۔ پومپیو نے کہا کہ کوئی غلطی نہ کریں، ہم لوگ آئی ایم ایف پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ وہ کیا کرتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے اپنے بیان میں یہ الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے نیا قرضہ لے کر چین کا قرض ادا کرے گا جس کے متعلق امریکہ کو اعتراض ہے۔ ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ امریکہ اور بھارت نے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی مشکوک فہرست میں شامل کرادیا ہے۔ ایک طرف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں غیر معمولی کمی ہوچکی ہے، پاکستانی روپے کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں تیزی سے کم ہوگئی ہے جس کی وجہ سے قرضوں کی ادائیگی کے حجم میں اضافہ ہوجاتا ہے، درآمدات برآمدات کے مقابلے میں زیادہ ہیں، خاص طور پر تیل کی درآمد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ روپے کی قیمت میں کمی کی وجہ سے تیل کی قیمت میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے جو مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے سب سے بڑا بحران معاشی ہے۔ معاشی بحران کی وجہ سے بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے شکنجے سے کس طرح بچا جائے؟ آئی ایم ایف کے پروگرام کے ذریعے امریکہ اپنی شرائط منواتا ہے۔ یہ شرائط پاکستان کے مفادات اور عوام کی فلاح کے خلاف ہوتی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے بظاہر بیان یہ دیا ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ آئی ایم ایف پاکستان کو نیا قرضہ دے۔ جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ آئی ایم ایف پر امریکہ کا کنٹرول ہے، وہ یہ چاہتا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے چنگل سے نہ نکل پائے اور نئے پروگرام کے ذریعے پاکستان پر نئی شرائط عائد کروائی جائیں۔
نئی عالمی حقیقتوں اور نئی عالمی صف بندیوں کی وجہ سے پاکستان کی جغرافیائی اور تزویراتی اہمیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ون روڈ، ون بیلٹ کے منصوبے کے تحت سی پیک کی وجہ سے پاکستان اور چین کے تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچے ہیں۔ اسی وجہ سے امریکہ نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے پیسے لے کر چین کے قرض کو لوٹائے گا۔ حالانکہ آئی ایم ایف نئے قرضے دے کر پرانے قرضے اور سود وصول کرتا ہے جس کی تباہ کاری بھوک اور جرائم کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ نئی حکومت نے طرز حکمرانی میں بہتری کے لیے تبدیلی کا نعرہ لگایا ہے۔ نئی حکومت کی ’’تبدیلی‘‘ کا سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ کیسے پاکستان کو آئی ایم ایف کے شکنجے سے نکالنے کا آغاز کرتی ہے۔

Share this: