وفا شعاری کے تقاضے

مولانا سید مناظر احسن گیلانی

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ فرمایا کرتے تھے:
’’دنیا کی ہر قوم اپنے اپنے فرعونوں کو لے کر کھڑی ہو، اور ان سارے فرعونوں کے مقابلے میں مسلمانوں کی طرف سے حجاج اگر پیش کردیا جائے تو مسلمانوں کا یہ فرعون سب پر بھاری ہوجائے گا۔‘‘ (ابنِ عساکر، ج۴، ص ۸۰)
حجاج بن یوسف طائف کے مکتب میں بچوں کو پڑھاتا تھا، لیکن معلم الصبیانی کے اس پیشے سے اتنی آمدنی جو ضروریات کے لیے کافی ہوتی، نہیں ہوتی تھی۔ پھر کیا کیا جائے! طائف سے اٹھا، دمشق پہنچا۔ وقت کے حکمراں کا جو وزیر باتدبیر تھا، اُس کے باڈی گارڈ کے سپاہیوں میں بھرتی ہوگیا۔ وزیر کا نام روح بن زنباع تھا۔ مروانی حکومت کے پہلے حکمران عبدالملک بن مروان نے روح کو اپنا وزیر بنالیا تھا۔ بھرتی ہونے والا سپاہی یوسف ثقفی باشندۂ طائف کا لڑکا تھا۔ نام اس کا حجاج تھا۔ یہ وہی حجاج ہے جس کی یاد کو مسلمان اپنے حافظہ سے مٹانا چاہتے ہیں لیکن بجائے مٹنے کے وہ تازہ ہی ہوتی رہتی ہے۔ یہ امتِ اسلامی کے جگر کا وہ گھائو ہے جو صدیاں گزر جانے کے بعد بھی اسی طرح ہرا ہے، نہ اس کی ٹیس کم ہوتی ہے اور نہ دکھ ہی اس کا بھلایا جاسکتا ہے۔
مگر باوجود بے دینی… اور حد سے گزری ہوئی بے دینی کے، یہ عجیب بات ہے کہ ہمارے مؤرخین نے جو کچھ لکھا ہے اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ بے آئینی کا الزام حجاج پر مشکل ہی سے لگایا جاسکتا ہے۔ غلط ہو یا صحیح، لیکن ایک ضابطہ اور آئین طے کرلینے کے بعد کرتا تھا جو کچھ بھی وہ کرتا تھا۔ اس کا شدید فطری رجحان تھا کہ وقت کی حکومت خواہ کسی طرح قائم ہوگئی ہو، رعایا کو چاہیے کہ بے چوں و چرا اس کے احکام کی پابندی کرے۔ ظاہراً و باطناً اس کی وفادار رہے۔ وہ اپنے نزدیک سمجھتا تھا کہ قرآنی آیت ’’ڈرو اللہ سے، جہاں تک تمہارے بس میں ہو، سنو اور فرماں بردار بنے رہو‘‘ (التغابن ۶۴:۱۶) کا مطلب یہ ہے کہ اللہ سے ڈرنے کے لیے استطاعت کی شرط لگادی گئی ہے۔ یعنی جہاں تک آدمی کے بس میں ہو خدا سے ڈرے، لیکن حکومت کے احکام کے متعلق صرف یہی حکم دیا گیا ہے کہ سننے والے ان کو سنیں اور بے چوں و چرا اس کے فرماں بردار بنے رہیں۔ اسی لیے کہتا تھا کہ میں جو حکومت کا نمائندہ ہوں اگر حکم دوں کہ مسجد کے فلاں دروازے سے نکلیں، اس حکم کے بعد بھی کسی دوسرے دروازے سے جو نکلے گا میرے لیے اُس کا خون بھی حلال ہوجائے گا اور اس کا مال بھی۔ یہی وہ کہتا بھی تھا اور اس کے مطابق عمل بھی کرتا تھا۔

ظلم کی چشم دید شہادتیں

عمر بن عبدالعزیزؒ کے سامنے ایک صاحب، عنبسہ بن سعید نامی نے اپنی بعض چشم دید شہادتیں بیان کی تھیں۔ حجاج نے حکم دے رکھا تھا کہ رات میں کسی کو کوفہ کی گلیوں اور سڑکوں پر فلاں وقت سے صبح تک نکلنے کی اجازت نہیں۔ گویا کرفیو آرڈر نافذ کردیا گیا تھا۔ عنبسہ کہتے ہیں کہ صرف ایک رات جب میں حجاج کے پاس بیٹھا تھا لوگ گرفتار ہو ہو کر آتے تھے، بے چارے وجہ بھی بتاتے، لیکن کسی کی شنوائی نہ ہوتی، اور یہ کہتے ہوئے کہ ’’ہم تم کو منع کرتے ہیں اور تم ہماری نافرمانی کرتے ہو!‘‘ حجاج حکم دے دیتا کہ اس کی گردن اڑا دی جائے، بے چارے قتل کردیے جاتے تھے۔ حجاج نے اپنے عہدِ حکومت میں واسط نامی شہر آباد کیا تھا۔ اس میں میونسپلٹی کا قانون نافذ تھا، برسرِراہ پیشاب کرنے والوں کی سزا حبس دوام تھی۔
حکومت کے ساتھ وفاداری کے اسی جذبے کی شدت نے ترقی کی راہ بھی اُس کے لیے ہموار کی تھی۔ جس زمانے میں عبدالملک کے وزیر کے باڈی گارڈ کا حجاج سپاہی تھا، وزیر نے یہ کہتے ہوئے عبدالملک کے سامنے پیش کیا تھا کہ نظم و ضبط کے قائم کرنے میں میرا خیال ہے کہ اس شخص سے آپ کو مدد ملے گی۔ عبدالملک سفر میں تھا، حجاج کو حکم دیا کہ جس وقت میں سوار ہوجائوں تم اس کی نگرانی کرو کہ کوئی میرے سوار ہونے کے بعد بیٹھا نہ رہے۔ حکم سن کر حجاج چلا گیا۔ کوچ کا نقارہ بجا۔ حجاج بھی سب کو سوار ہونے کا حکم دے رہا تھا اور لوگ سوار ہوتے چلے جاتے تھے، لیکن جب وزیر کے ان ہی آدمیوں کے سامنے آیا جن میں کا ایک سپاہی وہ بھی تھا، تو لوگوں نے اس سے کہا کہ آئو، ابھی کچھ کھا پی لیں تب روانہ ہوں گے۔ یہ سننا تھا کہ حجاج نے ایک ایک کی پیٹھ کوڑے سے پھاڑ دی اور وزیر کے خیمے میں آگ لگادی۔ یہ خبر وزیر نے خود روتے ہوئے عبدالملک تک پہنچائی۔ حجاج بلایا گیا تو ’’یہ کیا کیا؟‘‘ کے جواب میں جس وقت وہ کہہ رہا تھا ’’امیرالمومنین! میں نے تو کچھ نہیں کیا، میرا کوڑا میرا کوڑا نہیں آپ کا کوڑا تھا، میرا ہاتھ میرا ہاتھ نہیں آپ کا ہاتھ تھا۔‘‘ (الیافعی) عبدالملک کی بانچھیں کھل گئیں، جس آدمی کی تلاش تھی گویا وہی اس کو مل گیا۔ ترقیوں کی راہ حجاج پر کھل گئی۔
پہلے حجاز کا گورنر ہوا اور عبدالملک کی وفاداری میں صحابی حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کو صحنِ کعبہ میں شہید کیا۔ کعبہ تک میں آگ لگنے کی پروا اس نے عبدالملک کے حکم کے مقابلے میں نہ کی۔ تب عراق اور خراسان کی گورنری سے سرفراز ہوا۔ گیارہ سال تک عبدالملک کی حکومت میں، اور عبدالملک کے مرنے کے بعد اُس کے بیٹے اور جانشین ولید کے زمانے میں نو سال تک، مروانی حکومت کے سب سے بڑے علاقے میں حکومت کرتا رہا۔
اسی زمانے میں، دو سال کی مدت میں، واسط کا شہر کوفہ اور بصرہ کے درمیان اس نے تعمیر کیا۔ یہ اُس زمانے میں دنیا کے حسین ترین شہروں میں شمار ہوتا تھا اور خضراء واسط یعنی واسط کے سبزہ زار کے نام سے مشہور تھا جسے دیکھ کر زبانوں پر بے ساختہ، قرآنی آیت ’’ہر ٹیلے پر نشانی کی عمارتیں، جن کا کوئی فائدہ نہیں، کھڑی کرتے ہو، اور ایسے مکانات تعمیر کرتے ہو کہ شاید تم ہمیشہ دنیا میں رہوگے‘‘ آجاتی تھی۔

حجاج کے ہاتھوں مقتولوں کی تعداد

معلم الصبیانی کے مکتب سے نکل کر عراق و ایران، خراسان جیسے ممالک کی حکومت تک پہنچنے کے بعد بھی، حکومت کے ساتھ وفاداری کا جذبہ حجاج کا ترقی پذیر ہی تھا۔ اس نے بڑے بڑوں کی بھی اس راہ میں پروا نہ کی۔ جنگ کے یا لڑائی کے مقتولوں کے سوا، اس راہ میں، بیان کیا گیا ہے کہ ایک لاکھ بیس ہزار تعداد حجاج کے ان مقتولوں کی ہے جو اس کے سامنے باندھ کر قتل کیے گئے، اور جیل خانے سے حجاج کے مرنے کے بعد ۸۱ ہزار قیدیوں کو رہائی بخشی گئی جن میں ۳۳ ہزار تعداد ایسے لوگوں کی تھی جنہوں نے نہ چوری کی تھی اور نہ کوئی ایسا جرم کیا تھا جس کی سزا سولی وغیرہ ہو‘‘۔ (ابنِ عساکر، ج۴، ص۸۰)
حکومت کے حکم سے بال برابر تجاوز اُس کے نزدیک لوگوں کو قتل و حبس کا مستحق بنادیتا تھا۔ اس سلسلے میں جو کچھ بھی اس کے متعلق بیان کیا جاتا ہے بظاہر اس سے انکار کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ قانون بنالینے کے بعد جو فعل بھی کیا جائے، آئینی بن جاتا ہے، یہی اس کا خیال بھی تھا۔ پوچھنے والے نے ایک دفعہ اس سے پوچھا بھی کہ اپنے ضمیر میں تم اپنی خونریزیوں اور سفاکیوں کے متعلق کسی قسم کی خلش بھی محسوس کرتے ہو؟ جواب میں اس نے کہا تھا ’’لبنان اور سینیر (شام کے دو پہاڑوں) کے برابر سونا خیرات کرنے سے زیادہ میں ثواب کا کام اپنے ان اعمال و افعال کو سمجھ رہا ہوں جو حکومت کی فرماں برداری اور وفاشعاری کے سلسلے میں مجھ سے اب تک بن پڑے ہیں‘‘۔ (ابنِ عساکر، ج۴، ص۶۸)
اس راہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابیوں کی صحابیت کے شرف کی بھی پروا نہ کرتا تھا۔ حضرت انس بن مالکؓ کی گردن میں جیسا کہ مشہور ہے، اس نے مہر لگائی تھی، جو علامت تھی اس بات کی کہ ان کی وفاداری مشکوک ہے۔ اس نے بڑے جلیل القدر تابعی حضرت سعید بن جبیرؒ کو بے دردی اور شقاوت قلبی سے قتل کیا۔ عام طور سے اس دور کی داستان کو لوگ بیان کرتے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ کچھ ایسے خواب دیکھنے لگا کہ جو اس کی موت کی خبر دے رہے تھے۔ مگر بایں ہمہ، اس نے اس کے بعد بھی جو وصیت نامہ لکھوایا تھا، وہ یہ تھا ’’حجاج، یوسف کا بیٹا، (مرنے کے وقت) یہ وصیت لکھوا رہا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے، اس کی بھی میں گواہی دیتا ہوں، اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول ہیں‘‘۔
اس رسمی تمہیدی فقرے کے بعد ’’وصیت نامہ‘‘ کے الفاظ یہ تھے:
’’اور حجاج، ولید بن عبدالملک (وقت کے حکمراں) کی اطاعت و فرماں برداری کے سوا اور کچھ نہیں جانتا۔ اسی پر وہ زندہ رہا، اسی پر مرے گا اور اسی پر قیامت کے دن اٹھایا جائے گا۔‘‘ (ابنِ عساکر، ج۴، ص۶۸)
اور اس سے بھی دلچسپ لطیفہ ’’ضمیری مغالطہ‘‘ کا یہ ہے: حجاج ایک دفعہ بیمار ہوا اور اتنا سخت بیمار کہ کوفہ میں اس کے مرنے کی خبر مشہور ہوگئی۔ قدرتاً لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا۔ مگر بجائے مرنے کے حجاج چنگا ہوگیا۔ جمعہ کے دن منبر پر آکر اس نے تقریر کی، جس کا ایک فقرہ یہ بھی تھا کہ ’’تم نے مشہور کردیا کہ حجاج مرگیا۔ خدا کی قسم اپنے متعلق ہر طرح کی بہتری اور بھلائی کی امید مجھے اپنی موت ہی سے ہے‘‘۔ (ابنِ عساکر، ج۴، ص۸۲)

خراج کی وصول کا انوکھا واقعہ

اسی لیے پسند بھی وہ ان ہی لوگوں کو کرتا تھا جو حکومت کے مفاد کی حفاظت کو اپنی زندگی کا نصب العین بنالیتے تھے، اور اس راہ میں سب کچھ کرنے پر آمادہ ہوجاتے تھے۔ اصفہان کا گورنر بناکر حجاج نے ایک بدوی عرب کو اس لیے بھیجا کہ خراج کا بقایا سالہا سال سے اصفہان والوں پر چڑھا چلا آتا تھا، وصول نہیں ہوتا تھا۔ المسعودی نے لکھا ہے کہ اصفہان پہنچ کر نمبرداران اور مقدموں کو گورنر نے جمع کیا۔ آٹھ مہینوں کی مہلت ان لوگوں نے طلب کی۔ اس نے بجائے آٹھ کے دس مہینے تک مہلت دیتے ہوئے کہا کہ دس آدمیوں کی ضمانت پیش کرو۔ ضمانت لینے والوں نے ضمانت دے دی۔ مقررہ مدت تک رقم جب وصول نہ ہوئی تو ضمانت دینے والوں کو طلب کرکے، اس گورنر نے حکم دیا کہ خالی تھیلیاں خزانے سے لائی جائیں اور ان ضمانت دینے والوں میں سے ایک ایک کی منڈی کاٹ کاٹ کر تھیلی بھری جائے۔ حکم کے مطابق ابھی دو ایک منڈیوں تک نوبت پہنچی تھی، تھیلیاں جو بھری گئیں اور منہ ان کا بند کردیا گیا تھا، مہر لگائی گئی اور پشت پر گورنر نے لکھا ’’فلاں ابنِ فلاں کے ذمے جتنی رقم واجب الادا تھی وہ وصول ہوگئی‘‘۔ لوگوں میں ہلچل مچ گئی اور چند گھنٹوں میں سالہا سال کا بقایا وصول ہوگیا۔
حجاج تک وصول کرنے کے اس طریقے کی خبر پہنچی تو اپنے انتخاب کی داد خود دے رہا تھا۔ لکھا ہے کہ جب تک حجاج زندہ رہا، اصفہان پر اس کا یہی بدوی گورنر مسلط رہا، حالانکہ بداوت میں حال اُس کا یہ تھا کہ چار درہم دے کر حجاج نے حکم دیا کہ تین پر اس کو تقسیم کردو۔ تین درہم تک تو حساب صاف تھا لیکن چوتھے درہم کو کیا کرے اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ (المسعودی، ص ۱۰۴)
اسی سے سمجھ میں آتا ہے کہ ’’ضمیر‘‘کو دینی حدود سے آزاد کردینے کے بعد بآسانی دھوکا دیا جاسکتا ہے۔ حجاج کی زندگی اس مغالطہ کی ایک عبرتناک تاریخی مثال ہے۔ وہ دین کا نہیں بلکہ آئین کا پابند بن کر حکومت کرنا چاہتا تھا۔ ظاہر ہے کہ آئین کے بنانے والے خود انسانی عقول اور دماغ ہوتے ہیں۔ اپنی خواہش کے مطابق عقل اور دماغ سے مشورہ حاصل کرنا کچھ بھی مشکل نہیں۔ دین کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا سرچشمہ عقل و دماغ نہیں بلکہ عقل و دماغ کے خالق حق سبحانہٗ وتعالیٰ کی ذاتِ پاک ہوتی ہے۔ اس لیے شعوری اور غیر شعوری خواہشوں کی آلودگیوں سے دین کے دفعات پاک ہوتے ہیں۔
حجاج اور حکومت کی بہی خواہی
حجاج نے حکومت کی بہی خواہی اور وفاداری کے سلسلے میں یہ واقعہ ہے کہ وہ سب کیا جو وہ کرسکتا تھا۔ دین کے ساتھ، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسی نصب العین پر اپنی دنیا بھی اس نے قربان کردی تھی۔ ابنِ عساکر نے لکھا ہے ’’حجاج جب مرا تو اس نے نہ چھوڑا مگر صرف تین سو درہم (نقد کی شکل میں)۔ ان کے سوا ایک قرآن، ایک تلوار، ایک زین، ایک کجاوہ اور سو عدد زرہیں جو جنگ کے لیے وقف تھیں‘‘۔ (ج۴، ص۸۱)
اس کا خیال تھا اور کلیتاً بے بنیاد خیال نہ تھا کہ، اسلام کی وجہ سے دولت و ثروت کا جو طوفان عربوں میں امنڈ پڑا تھا اس نے عربی قبائل اور ان کے منچلے شیوخ کے قلوب میں طرح طرح کی امنگیں پیدا کردی تھیں۔ ابتدا تو ان کی عہدِ نبوت ہی میں ہوچکی تھی۔ ملک کے مختلف حصوں میں تنبی (زبردستی جھوٹی نبوت) کے دعوے کرنے والے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان کے بعد حکومت کے باغیوں کا ایک طویل الذیل سلسلہ تھا جو کسی طرح رکتا ہی نہ تھا۔ اسلامی تاریخوں میں حکومت کے ان ہی باغیوں کو الخوارج کہتے تھے۔ دس لاکھ مربع میل بادیہ عرب کے مختلف حصوں میں طرح طرح کے لوگ تھے۔ ان کی نظر اسلامی فتوحات پر جب پڑی اور یہ محسوس ہوا کہ بظاہر عربی فوجوں کے یہ کارنامے ہیں تو طرح طرح کے خیالات ان میں پیدا ہونے لگے ’’آئو ناں ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کی‘‘۔
قسمت آزمائی کے میدان میں لوگ اترنے لگے۔ ان میں عجیب و غریب صلاحیتوں کے لوگ تھے۔ علاقہ نجد کے ایک خارجی ڈاکو حجدر کے متعلق لکھا ہے کہ گرفتار ہوکر حجاج کے پاس وہ لایا گیا۔ اس کی صلاحیتوں کو دیکھ کر حجاج مبہوت سا رہ گیا۔ ایک بھوکے شیر سے حجاج نے مقابلے کا حکم دیا۔ ابنِ عساکر کی روایت ہے کہ حجدر ڈاکو کا سیدھا ہاتھ بیڑیوں سے جکڑا ہوا تھا، صرف بایاں ہاتھ کھلا تھا، تلوار اسی ہاتھ میں تھی۔ شیر چھوڑا گیا، حجاج جھروکے سے دیکھ رہا تھا۔ شیر حجدر پر جھپٹا، اس نے تلوار پر اس کو روکتے ہوئے ایسی ضرب لگائی کہ ’’شیر چکرا کر اس طریقے سے گرپڑا جیسے آندھی نے کسی خیمے کو اکھاڑ کر زمین پر گرادیا ہو‘‘۔ (ص ۶۴)
جس کے بائیں ہاتھ میں اتنی قوت تھی اور جیوٹ کا حال جس کے یہ تھا کہ ایسی حالت میں بھی غضب ناک بھوکے شیر سے لڑنے پر آمادہ ہوگیا، اندازہ کیجیے کہ امکانات کے کیسے کیسے طلسمی ایوان اس کے دل و دماغ میں تیار ہوتے ہوں گے۔ خدا ہی جانتا ہے کہ حجدر جیسے خارجی اور باغی کتنے تھے۔ حجاج بیخ و بنیاد سے ان عناصر کو ختم کردینے کا تہیہ کرچکا تھا۔
خواجہ حسن بصریؒ کا فرمان
کہتے ہیں کہ کوفہ اور بصرہ کے قرا (یعنی علما) کی اکثریت، ابنِ اشعث کو لیڈر بناکر حجاج کے مقابلے میں جب کھڑی ہوئی تو خواجہ حسن بصریؒ فرماتے تھے:
’’حجاج ایک قدرتی سزا ہے جسے خدا نے تم لوگوں پر مسلط کیا ہے، تم تلوار سے اللہ کی اس سزا کا مقابلہ مت کرو‘‘۔ (ابنِ عساکر، ج ۴، ص ۴۶)
خود بھی وہ یہی کہتے تھے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے حوالے سے ایسی روایتیں نقل کیا کرتے تھے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کوفہ کے باشندوں کی سرکشیوں سے تنگ آکر حضرت علیؓ نے بددعا کی تھی:
’’اے اللہ ان پر ثقیف قبیلے کے لونڈے (یعنی حجاج) کو مسلط فرما، جو ان کے خون اور ان کے مال کے متعلق جاہلیت کے فیصلے کرے گا‘‘۔ (ابنِ عساکر، ج ۴، ص ۷۲)
مطلب خواجہ حسن بصریؒ کا یہی تھا کہ بجائے باہر کے، چاہیے کہ ایسے مواقع پر مسلمان اپنے اندر کو ٹٹولیں۔ باہر کی آگ کو دیکھیں کہ خود ان ہی کے اندر سے تو کہیں بھڑک نہیں اٹھی ہے۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ جو بات اپنے بس کی ہوتی ہے عموماً اس سے لاپروائی اختیار کی جاتی ہے اور بظاہر جس کا مقابلہ ناممکن نظر آتا ہے اسی سے مقابلہ کرنے کے لیے لوگ تیار ہوجاتے ہیں۔ ممکنات سے اعراض کرتے ہیں، اور ناممکنات کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں، جسے کرسکتے ہیں وہی نہیں کرتے اور جو نہیں ہوسکتا اسی کے کرنے کی تجویزوں میں اپنا وقت بھی ضائع کرتے ہیں، مال بھی برباد کرتے ہیں، آبرو بھی لٹاتے ہیں اور اپنے خون کو بھی رائیگاں کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ خواجہ حسن بصریؒ کی تلقین عرب کے گرم خون رکھنے والے نوجوانوں کو پسند نہ آئی۔ ’’اس گنوار پردیسی کی بات کیا ہم مان لیں؟‘‘ کہتے ہوئے لوگ آپ کے پاس سے اٹھ کر چلے گئے۔ حالانکہ اس سے پہلے یہی خواجہ حسن بصریؒ باوجود غیر عربی النسل مسلمان ہونے کے، بصرہ کے سب سے بڑے عالم، سب سے بڑے متقی، پرہیزگار اور سب سے بہتر تقریر کرنے والوں میں شمار ہوتے تھے۔ مگر ان پر بزدلی کا الزام لگایا گیا۔ جو کچھ ہوسکتا تھا وہ تو نہ کیا گیا، اور جو نہیں ہوسکتا تھا اسی کو کرنے کے لیے میدان میں اترگئے۔ مروانیوں کی بے پناہ فوجی طاقت سے نہتے مسلمانوں کو ٹکرا دیا گیا۔ اس کا جو انجام ہوسکتا تھا وہی ہوا۔ خواجہ حسن بصریؒ ایک طرف عام مسلمانوں کو یہ سمجھاتے سمجھاتے تھکے چلے جاتے تھے کہ تلوار سے یہ مصیبت نہیں ٹلے گی جو تم پر ٹوٹ پڑی ہے، بلکہ ’’اس مصیبت کا مقابلہ چاہیے کہ دعا اور خدا کے حضور نالہ و زاری سے کرو‘‘ (ابنِ عساکر، ج ۴، ص ۷۷)۔ دوسری طرف حجاج کو بھی، جب موقع ملتا یہ نصیحت فرماتے ’’دیکھنا اللہ کے نیک بندوں سے بچتے رہنا‘‘۔ (الیافعی، ج ۱، ص ۱۹۷)
لیکن اس پر تو خون سوار تھا، وہ اعلان کیے ہوئے تھا کہ غیر مجرم لوگوں کو مجرموں کے بدلے میں پکڑوں گا… اور وہ لوگوں کو پکڑ رہا تھا، بے دھڑک قتل کررہا تھا۔ حکومت کے ساتھ جس کی وفاداری میں ہلکا سا شبہ کسی وجہ سے پیدا ہوتا، اُس پر عَلانیہ غداری کا الزام لگادیا جاتا تھا۔ لوگ مارے جارہے تھے، قید خانوں میں سڑ رہے تھے، ان کے گھر گرادیے جاتے تھے، ان کے بچے یتیم، عورتیں بیوہ ہورہی تھیں لیکن حکومت کی طاقت کو سب کچھ سمجھتے ہوئے، حجاج بغیر کسی دغدغہ کے سب کچھ کررہا تھا۔ کہتے ہیں کہ جیل خانے جو حجاج نے بنائے تھے کسی میں چھت نہ تھی، کھلے میدانوں میں چار دیواریوں کے اندر گرمی، سردی، رات دن لوگ گزارنے پر مجبور کیے جاتے تھے۔ جو مرجاتے، کتوں کی طرح ان کی لاش پھنکوادی جاتی تھی۔
یہ سب اس لیے کیا جارہا تھا کہ اپنی حکومت کی بے پناہ طاقت پر بھی اس کو بھروسا تھا، اور اس کے ساتھ باور کیے ہوئے تھا کہ مروانیوں کی حکومت کے استحکام اور استواری کی سیاسی تدبیر بھی یہی ہے۔ بظاہر حجاج کے زمانے میں حکومت کی قوت میں اضافہ جس طرح سے ہورہا تھا اس کو دیکھتے ہوئے ہر دیکھنے والا شاید یہی باور کیے ہوئے تھا جو حجاج کا خیال تھا، لیکن اچانک واقعات کا رخ بدلنے لگا۔ حجاج نے خواب میں دیکھا کہ اس کی پیشانی سے دونوں آنکھیں اکھڑ کر باہر نکل آئی ہیں۔ بیدار ہونے کے بعد اپنے اس خواب سے خاصا متاثر تھا۔ چند ہی دنوں کے بعد اس کے سامنے اس کے بیٹے نے دم توڑ دیا۔ ابھی اس کا جنازہ شاید اٹھا بھی نہ تھا کہ یمن سے قاصد پہنچا اور خبر لایا کہ حجاج کا بھائی، محمد بن یوسف جو یمن کا گورنر تھا، مرگیا۔ ان جاں گداز دو حادثوں کی خبر سے متاثر ہی تھا کہ دربار میں اتفاقاً کہیں سے ایک نجومی پہنچا۔ حجاج نے پوچھا کہ اس سال کسی والیٔ ملک کے مرنے کی خبر بھی تیرے زائچہ سے ملتی ہے؟ نجومی نے کہا ہاں ملتی تو ہے، لیکن میرے حساب سے اس مرنے والے کا نام ’’کلیب‘‘ (کتیا) ہے۔ حجاج چیخ اٹھا ’’اسی نام (یعنی کلیب یا میری کتیا کے نام) سے میری ماں مجھے پکارتی تھی‘‘۔ (الیافعی، ص ۱۹۴)
اب دنیا حجاج پر اندھیر تھی، اسی عرصے میں حضرت سعید بن جبیرؒ رئیس الصالحین کی شہادت کا حادثۂ فاجعہ پیش آیا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ بڑے بڑے لوگ حجاج کے جور و ظلم سے تنگ آکر روپوش ہوچکے تھے۔ خود خواجہ حسن بصریؒ بھی ان ہی لوگوں میں تھے۔ کہتے ہیں کہ سعید بن جبیرؒ کو قتل کرنے کے بعد حجاج پر ایک قسم کے جنون کا دورہ پڑنے لگا۔ نیند میں بھی چیخ اٹھتا ’’سعید سعید! تم میرا پیچھا کیوں کررہے ہو؟‘‘ اور بیداری میں بھی کبھی چلاّ اٹھتا ’’دیکھو دیکھو! سعید مجھے قتل کرنے کے لیے میری طرف چلا آرہا ہے‘‘۔ سر میں جنون کے ساتھ ساتھ پیٹ میں درد کی سی کیفیت پیدا ہوئی اور وہی حجاج جس کے متعلق دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ کھاتے ہوئے ہم نے دیکھا تھا کہ ’’کفِ دست میں بھر بھر کر روٹی میں مکھن کو لپیٹتا اور ایک لقمہ اس کا بنالیتا‘‘، راوی کا بیان ہے کہ ۸۴ لقمے میں نے گنے۔ (ابنِ عساکر، ج ۴، ص ۷۲)

ظالم حجاج اپنے انجام کی طرف

اللہ اللہ جو مکھن اور روٹی کے لقموں کو بغیر کسی دغدغہ کے یوں ہی ہڑپ کرجاتا تھا، اچانک اسی حجاج کو پایا گیا کہ پیٹ کے درد سے تڑپ رہا ہے، حلق کے پار کوئی چیز اتار نہیں سکتا۔ طبیب نے گوشت کے ایک ٹکڑے میں دھاگا باندھا، اور بولا ’’اے امیر! اللہ آپ کو شفا بخشے، ذرا اس لقمہ کو کسی طرح فرو کرنے کی کوشش کیجیے‘‘۔ بہ مشکل لقمہ فرو ہوا۔ طبیب نے دھاگے کو پکڑ کر کھینچا، گوشت کا ٹکڑا باہر نکل آیا، مگر اس حال کے ساتھ باہر نکلا کہ ’’بہت سے کیڑے گوشت کے اسی ٹکڑے میں لپٹے ہوئے تھے‘‘۔ (الیافعی، ج ۱، ص ۱۹۵)
طبیب نے عرض کیا: معدے میں سرطان کا پھوڑا ہے جس میں کیڑے پڑچکے ہیں، درد اور بے چینی اسی کی وجہ سے ہے۔ علاج ہورہا تھا، لیکن بجائے فائدے کے ایک نیا قصہ شروع ہوا۔ زخم کی وجہ سے یا خدا ہی جانتا ہے کیا اسباب تھے، اچانک زمہریرہ (سخت سردی) کا احساس حجاج میں شدت پذیر ہونے لگا۔ پہلے تو کمبل اوڑھا اوڑھا کر لوگوں نے اندر سے ابھرنے والی سردی کو دبانا چاہا، لیکن وہ بڑھتی چلی جاتی تھی۔ آخری حال یہ تھا کہ ’’انگیٹھیاں دہکتے ہوئے انگاروں سے بھری ہوئی چاروں طرف سے حجاج کے لگائی جاتیں مگر کچھ اثر نہ ہوتا، لوگ بدن سے انگیٹھیوں کو اتنا قریب کردیتے کہ کھال حجاج کی جل اٹھتی مگر اس کو خبر بھی نہ ہوتی‘‘۔ (الیافعی ج ۲، ص ۱۹۵)
حالانکہ اسی حجاج کو اسی کوفہ میں دیکھا گیا کہ موسم گرما میں تازہ تازہ بید کی سرسبز شاخوں سے قبہ بنواتا تھا اور بید کی ان شاخوں کے ساتھ کوئی ایسی تدبیر کی جاتی تھی کہ پھاڑ پھاڑ کر بیچ میں برف کا چورا ان میں بھرا جاتا تھا۔ حجاج اسی قبہ میں آرام کیا کرتا تھا اور گرمیوں میں سردیوں کا لطف اٹھایا کرتا تھا۔ (ابنِ عساکر، ج ۴، ص ۷۶)
مگر آج اس کے اندر کی سردی کو گرمی سے بدلنے کی ہر کوشش ناکام ہورہی تھی۔
کہتے ہیں کہ بری سے بری بات کو اچھی سے اچھی تعبیروں میں پیش کرنے کی مہارت میں حجاج اپنی آپ نظیر تھا۔ اہم معاملات کو اپنی منہ زوری سے غیراہم، اور غیراہم کو اہم بنادینا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ موت کی پرچھائیاں شروع شروع میں جب اسے محسوس ہوئیں تو کہتا تھا ’’اوہ، نہ مرنا اگر کوئی اچھی بات ہوتی تو شیطان کو خدا کبھی اتنی دراز زندگی عطا نہ کرتا‘‘۔ (ابنِ عساکر، ص ۸۲)
یعنی ابلیس کی دعا ’’مہلت دیجیے اُس دن تک جب لوگ اٹھائے جائیں‘‘ قبول نہ ہوتی۔ مگر شکمی سرطان اور زمہریرہ نے ہوش و حواس اس کے بگاڑ دیے۔ اب نہ اسے حکومت ہی یاد آتی تھی اور نہ حکومت کا وہ حکمراں جس کی اطاعت و فرماں برداری کو سب کچھ ٹھیرائے ہوئے تھا۔ عبدالملک جس نے اس کو آگے بڑھایا تھا، وہ تو مرچکا تھا۔ ولید بن عبدالملک کا عہد تھا۔ وصیت نامہ میں اسی لیے ولید کا نام اس نے درج کیا تھا، لیکن اب ولید اور اس کی حکمرانی سب خواب و خیال ہوچکی تھی۔

موت سے پہلے خواجہ حسن بصریؒ کی تلاش

حجاج صرف ایک آدمی کو ڈھونڈ رہا تھا، جو اس کے خوف سے روپوش تھے، یعنی خواجہ حسن بصریؒ۔ تلاش کرنے والوں نے آخر حضرتِ والا کا پتا چلالیا۔ عرض کیا گیا کہ حجاج بڑی بے کسی کے ساتھ آپ کو ڈھونڈ رہا ہے۔ آپ باہر نکل آئے۔ جہاں پڑا کراہ رہا تھا، پہنچے۔ دیکھنے کے ساتھ رونے لگا اور گڑگڑا کر کہہ رہا تھا ’’حسن! للہ میری مشکل آسان ہو، اس کی دعا کردو۔ دیکھ رہے ہو میں کس حال میں مبتلا ہوں‘‘۔ خواجہؒ نے فرمایا ’’دیکھ اللہ کے نیک بندوں کو نہ چھیڑنا، ہمیشہ اس کی تاکید تجھے میں کرتا رہا، لیکن تُو نے نہ مانا‘‘۔ پھر فرمایا کہ تیرے لیے دعا کروں گا۔ بلبلا کر حجاج نے کہا ’’حسن! شفا کی نہیں، اب شفا کی بھلا کیا امید ہے، تم دعا کرو کہ موت میری تکلیف کا جلد خاتمہ کردے‘‘۔
آئینی بنالینے کے بعد ہر فعل قانوناً جائز ہوجاتا ہے۔ ضمیر کو اس مغالطے سے دھوکا دینے والے پر اب واضح ہوا کہ یہ صرف مغالطہ تھا۔ جب دم نکل رہا تھا تو لوگوں کا بیان ہے، زبان پر اس کی یہ الفاظ تھے:
’’اللہ میرے گناہوں کو بخش دے، لوگ کہتے ہیں کہ تُو ایسا نہیں کرے گا‘‘۔
اس کی طرف دو شعر بھی منسوب کیے گئے ہیں، جو سکرات کے وقت اُس کی زبان پر جاری تھے۔ ترجمہ جن کا یہی ہے ’’لوگوں کا فیصلہ ہے کہ میں جہنمی ہوں، مگر وہ فیصلہ بے دیکھے کررہے ہیں، ان کو کیا معلوم کہ بہت بڑے درگزر کرنے والے آمرزگار کے دربار میں حاضر ہورہا ہوں‘‘۔
اس کی سوانح عمریوں میں تو نہیں لیکن دوسری کتابوں میں نظر سے یہ بھی گزرا ہے کہ حجاج کی ماں اس کے مرنے کے وقت رو رہی تھی اور کہتی تھی: ہائے بچے تُو نے زندگی بھر یہ کیا کیا! کہتے ہیں کہ حجاج نے آنکھیں کھول دیں اور بولا ’’ماں، میرا فیصلہ قیامت کے دن اگر تیرے ہاتھ میں دے دیا جائے تو سب کچھ جاننے کے باوجود میرے ساتھ تُو کیا سلوک کرے گی؟‘‘ ماں نے کہا ’’بیٹا! اگر ایسا ہوا تو جہنم میں بھلا اپنے لختِ جگر کو میں جانے دوں گی؟‘‘ حجاج نے، خدا ہی جانتا ہے کہ کہاں تک یہ روایت صحیح ہے، ماں سے یہ سن کر کہا تھا کہ ’’تو ماں، تُو مطمئن رہ، جس کے ہاتھ میں میرا فیصلہ ہے، وہ تجھ سے کہیں زیادہ اپنے بندوں پر مہربان اور ترس کھانے والا ارحم الراحمین ہے‘‘۔

اعتذار

فرائیڈے اسپیشل کے پچھلے شمارے (شمارہ نمبر 30) میں خاکسار کا جو مضمون بعنوان ’’وہ قیدی کون تھا‘‘ حضرت امام احمد بن حنبلؒ کے بارے میں شائع ہوا وہ خاکسار نے مندرجہ ذیل کتب و رسائل کی مدد سے تیار کیا تھا اور فدوی نے آپ کو جو ای میل بھیجی تھی اس میں مولانا مناظر احسن گیلانی کا نام کہیں نہیں لکھا تھا بلکہ مولانا مناظر گیلانی کا ایک دوسرا مضمون ’’وفا شعاری کے تقاضے‘‘ ان کی تصنیف تھی۔(جو اس کے ساتھ بھیجا تھا)کتب و رسائل یہ ہیں-1 تاریخ دعوت و عزیمت۔ از مولانا ابوالحسن ندویؒ-2 تذکرہ ابوالکلام۔ مطبوعہ مکتبہ جماعت-3 سیارہ ڈائجسٹ لاہور اولیائے کرام نمبر، جلد نمبر ایک۔
فقط خاکسار
محمود عالم صدیقی
٭…٭…٭
شمارہ 29جون تا 5جولائی2018ء میں صفحہ44 پر خواجہ حسن نظامی 1878ء تا 1921ء تحریر ہے۔ براہ مہربانی تاریخ درست لکھوائیں۔ میں نے 1946ء میں بچشم خود اُنہیں دیکھا ہے (دہلی میں)۔ اُن کاتاریخ وفات 1953ء ہے۔
٭…٭…٭
فرائیڈے اسپیشل (شمارہ نمبر 30۔ 27 جولائی تا 2 اگست 2018ء) میں ’’وفیات‘‘ کے تحت محمد عمر میمن مرحوم کے والد کا نام سہواً محمد یوسف میمن شائع ہوگیا ہے۔ برصغیر میں عربی زبان کے جید ترین عالم اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ عربی کے سربراہ کا نام ڈاکٹر محمد عبدالعزیز میمن ہے۔ اس سہو کے لیے ہم معذرت خواہ ہیں۔
٭…٭…٭
فرائیڈے اسپیشل (شمارہ نمبر 26۔ 29 جون تا 5 جولائی 2018ء) میں محمود عالم صدیقی صاحب کے مضمون ’’اردو مزاح، جعفرزٹلی سے مشتاق یوسفی تک‘‘ میں کمپوزنگ کی غلطی کی وجہ سے خواجہ حسن نظامی کا سن وفات غلط شائع ہوگیا ہے۔ صحیح سن وفات 1953ء ہے۔
(ادارہ)

Share this: