ترک امریکہ کشیدگی

ترکی اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ٹرمپ نے ترکی کے وزرائے انصاف اور داخلہ پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تو ترنت ہی صدر ایردوان نے اپنے وزرا کے امریکی ہم منصبوں کے اثاثے ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ امریکہ اور ترکی کے درمیان کشیدگی خاصی پرانی ہے جس کی بڑی وجہ صدر ایردوان کی آزاد خارجہ پالیسی، مشرق وسطیٰ میں جمہوری قوتوں کی پشتیبانی اور فلسطینیوں کی دوٹوک حمایت ہے۔ ترکی غزہ کی ناکہ بندی کو ناکام بنانے کے لیے بحر روم کے راستے امدادی کشتیاں بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، حالانکہ2010ء میں بھیجے جانے والے کشتیوں کے قافلے پر اسرائیلی بحریہ کے حملے میں 10 ترک رضاکار مارے گئے تھے۔ قافلے کی ایک کشتی پر پاکستان کے مشہور ٹیلی ویژن میزبان جناب طلعت حسین بھی سوار تھے۔گزشتہ ہفتے اٹلی سے ایک کشتی غزہ کی طرف بھیجی گئی جس پر 15000 ڈالر مالیت کی ادویہ لدی ہوئی تھیں۔کشتی پر سوار 23 رضاکاروں میں ترک، افریقی، ملائی، عرب اور یورپی مسلمانوں کے ساتھ کچھ سلیم الفطرت اسرائیلی یہودی بھی شامل تھے۔ اس کشتی کو اسرائیلی بحریہ نے روک کر اشدود کی بندرگاہ پہنچا دیا۔ تین دن پہلے امدادی سامان سے لدی ایک سویڈش پرچم بردار کشتی ڈنمارک سے غزہ کی طرف روانہ کی گئی جس پر 12 یورپی رضاکار سوار تھے۔ اس کشتی کو بھی اسرائیلی بحریہ نے روک کر اشدود کی بندرگاہ پہنچا دیا۔ گرفتار ہونے والے رضاکاروں نے کہا کہ ہمیں یقین تھا اسرائیلی اور جنرل السیسی کی بحریہ اس کشتی کو ضرور پکڑے گی، لیکن ہم نے د نیا کو بتانے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے کہ غزہ میں محصور 18 لاکھ فلسطینیوں کو بھوک اور وبائی امراض سے بچانے کے لیے ساری دنیا کو قدم اٹھانا چاہیے، اس لیے کہ اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی ادارے اس معاملے میں بالکل مفلوج نظر آرہے ہیں۔ ترکی اور یورپ کے انسانی حقوق کے اداروں کی اس جسارت پر صدر ٹرمپ سخت برہم ہیں اور امریکیوں کا خیال ہے کہ یہ سب کچھ صدر ایردوان کا کیا دھرا ہے۔
صدر ایردوان نے مصر میں صدر مرسی حکومت کا تختہ الٹنے کی کارروائی کی شدید مخالفت کی تھی اور وہ اب بھی جنرل السیسی کو مصر کا صدر تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کی مخالفت اور روس سے ترکی کے قریبی تعلقات بھی امریکہ کو پسند نہیں۔ دوسری طرف شام میں کرد علیحدگی پسندوں اور کالعدم دہشت گرد تنظیم PKKکے چھاپہ ماروں کی امریکی حمایت ترکی کے لیے ناقابلِ قبول ہے اور انقرہ دھمکی دے چکا ہے کہ اگر امریکہ نے PKKکی بغل بچہ تنظیم YPG کے دہشت گردوں کو اسلحہ کی فراہمی جاری رکھی تو ترکی دفاع کے لیے شام میں اپنے فوجی دستے داخل کردے گا۔ اس سلسلے میں شمالی شام کے علاقوں منبجی اور عفرین میں کامیاب فوجی کارروائی کرکے ترکی اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنا چکا ہے۔
حالیہ کشیدگی کی بنیادی وجہ ترکی میں ایک امریکی پادری اینڈریو کریگ برنسن (Andrew Craig Brunson)کی گرفتاری ہے۔ اس پادری کو 2016ء کی ناکام فوجی بغاوت میں معاونت پر گرفتار کیا گیا ہے۔ 15 جولائی 2016ء کو برپا کی جانے والی اس کارروائی کے بارے میں ترکوں کو یقین ہے کہ اس کی منصوبہ بندی فتح اللہ گولن نے امریکیوں سے مل کر کی تھی۔ دائیں بازو کے دانشور گولن پہلے صدر ایردوان کے اتحادی تھے لیکن بعد میں ان دونوں کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوگئے۔ جناب گولن ایک عرصے سے امریکی ریاست پنسلوانیا میں مقیم ہیں۔ باغی فوجیوں کو فضائیہ کی مدد حاصل تھی اور ترکوں کا کہنا ہے کہ یہ لڑاکا بمبار طیارے ترکی میں امریکہ کے فوجی اڈے انجیرلک سے روانہ کیے گئے تھے بلکہ پورے کا پورا آپریشن ہی انجیرلک میں ترتیب دیا گیا تھا۔ فوجی بغاوت کی امریکی حمایت پر ترکی کی حزبِ اختلاف کو بھی یقین ہے اور گزشتہ صدارتی انتخاب میں ایردوان کا مقابلہ کرنے والے ری پبلکن پارٹی کے امیدوار محرم اینج نے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ انتخاب جیت گئے تو انجیرلک کا امریکی اڈہ بند کروادیں گے۔
فوجی انقلاب کی ناکامی کے بعد اس کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوا۔ ہزاروں باغی فوجی اور ان کے سہولت کار گرفتار ہوئے۔ اس دوران ترکی کے سراغ رساں اداروں نے انکشاف کیا کہ پادری برنسن بھی اس سازش میں ملوث تھے۔ امریکی ریاست شمالی کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے 50 سالہ اینڈریو کریگ برنسن 23 برس پہلے ترکی آئے تھے اور وہ ازمیر کے سب سے بڑے پروٹسٹنٹ (Protestant)گرجا میں پادری ہیں۔ روانی سے ترکی اور یونانی بولنے والے برنسن درس و وعظ کے لیے امریکی فوجی اڈے انجیرلک بھی جاتے تھے۔ تحقیقات سے پتا چلاکہ برنسن کے فتح اللہ گولن سے قریبی تعلقات ہیں اور فوجی بغاوت کی سازش میں دونوں شریک تھے۔ پادری صاحب کو اکتوبر 2016ء میں گرفتار کیا گیا۔ ان پر فوجی بغاوت میں حصہ لینے اور انجیرلک پر تعینات امریکی فوجیوں کو باغیوں کی حمایت پر آمادہ کرنے کے الزامات ہیں۔ استغاثہ کے مطابق پادری کے کالعدم جماعت PKKسے قریبی تعلقات تھے اور وہ دہشت گردوں کو مالی امداد فراہم کرتے تھے۔ اگر یہ الزامات ثابت ہوگئے تو پادری صاحب کو 35 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ انھی الزامات پر انقرہ کے امریکی سفارت خانے میں کام کرنے والے تین ترک شہریوں اور امریکی خلائی ادارے NASAکے ترک امریکی سائنس دان Serkan Golgeکو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پادری کی گرفتاری پر بارک اوباما انتظامیہ نے افسوس کا اظہار تو کیا لیکن ردعمل سفارتی نوعیت کا تھا، یعنی شفاف مقدمہ اور پادری کے لیے امریکی وکیل کی تعینانی کا مطالبہ کیا گیا جسے ترک عدالت نے فوراً منظور کرلیا۔ جج نے حکم دیا کہ خرابیٔ صحت کی بنا پر دورانِ مقدمہ پادری کو جیل کے بجائے گھر پر نظربند رکھا جائے اور ان سے ملاقات پر کسی قسم کی پابندی عائد نہ کی جائے۔ چنانچہ پادری صاحب حراست کے دوران اخباری نمائندوں سے بھی گفتگو فرماتے ہیں۔ سماعت کے دوران امریکی سفارت کار اور محکمہ انصاف کے عہدیدار کمرۂ عدالت میں موجود رہتے ہیں۔ شمالی کیرولائنا کے سینیٹر ٹام ٹلس (Thom Tillis) پہلی پیشی کے دوران کمرۂ عدالت میں موجود تھے اور عدالت نے سینیٹر صاحب کو پادری سے تخلیے میں گفتگو کی اجازت بھی دی۔ ملاقات کے بعد سینیٹر صاحب نے پادری سے کسی ناروا سلوک کا ذکر نہیں کیا اور محض یہ کہا کہ پادری نے 25 سال ترکوں اور ترکی کے لیے مخلصانہ دعائیں کی ہیں اور وہ ترکی میں بدامنی اور بغاوت کا سوچ بھی نہیں سکتے۔
صدر ٹرمپ کے اقتدار سنبھالتے ہی امریکہ کا رویہ بہت سخت ہوگیا اور ریاست اوکلاہاما کے سینیٹر جیمز لینک فورڈ (James Lankford) نے دھمکی دی کہ اگر ترکی نے پادری کو رہا نہ کیا تو وہ سینیٹ میں انقرہ کے خلاف تادیبی اقدامات کی سفارش کریں گے۔گزشتہ دنوں امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس نے اپنے ایک بیان میں ’خداترس‘ اور ’پرہیزگار‘ شخص کی گرفتاری کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے اس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ امریکی نائب صدر نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمیٹی سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ترکی کی ’مسیح دشمن‘ پالیسیوں کا نوٹس لے۔ دلچسپ بات یہ کہ اسرائیل کی ’غیر ضروری اور غیر منصفانہ‘ مخالفت کا الزام لگاکر امریکہ اقوام متحدہ کی اس کمیٹی کو خیرباد کہہ چکا ہے۔ چند دن پہلے صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں پادری کی گرفتاری کو شرمناک اور مذہبی امور میں ریاستی مداخلت قرار دیتے ہوئے اسے حبسِ بے جا اور پادری کو یرغمالی قرار دیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ صدر ایردوان کو چاہیے کہ اس متقی کرسچین کو فوری طور پر رہا کردیں۔ وہ بے قصور ہے۔ اس معصوم کے بیوی اور بچے اپنے شوہر اور باپ کا انتظار کررہے ہیں۔ اپنے ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر امریکی پادری کو رہا نہ کیا گیا تو وہ ترکی کے خلاف پابندیاں عائد کرسکتے ہیں۔
ترکی نے امریکی تشویش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ایردوان اور ترک حکومت کو عدالتی معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں۔ ترک وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پادری صاحب کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جارہا ہے اور انھیں ان کی مرضی کا وکیل کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے، ان سے ملاقات پر بھی کسی قسم کی پابندی نہیں۔ صدر رجب طیب ایردوان نے امریکی صدر کے ٹوئٹ کے جواب میں کہا کہ دھمکی کے باوجود ان کا ملک قانون کی بالادستی پر کوئی سودے بازی نہ کرتے ہوئے اپنے مؤقف پر قائم رہے گا۔ ترک صدر نے کہا کہ اگر امریکہ نے دھمکیوں کا سلسلہ جاری رکھا تو وہ اپنے ایک پُرخلوص دوست سے محروم ہوجائے گا۔ ترک صدر نے اپنے مؤقف میں لچک کاپیدا کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ اپنے یہاں پناہ دیئے ہوئے غدار فتح اللہ گولن کو ترک عدالت کے حوالے کرنے پر رضامند ہو تو وہ بھی اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے پادری کی امریکہ کو حوالگی پر غور کرسکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز ٹوئٹ کے دوسرے ہی روز واشنگٹن نے ترکی کے خلاف تادیبی کارروائی کا آغاز کردیا اور اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے امریکی قصرِِ مرمریں کی ترجمان محترمہ سارہ سینڈرز نے کہا کہ ترک وزیر انصاف عبدالحمید گل اور وزیر داخلہ سلیمان سولو کے خلاف پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔ اسی روز ترکی کی عدالت نے مسٹر برنسن کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انھیں 12 اکتوبر کو عدالت میں طلب کرلیا۔ امریکہ کی مداخلت پر ترکی کے عیسائیوں اور یہودیوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ قسطنطنیہ میں یونانی قدامت پسند عیسائیوں کے روحانی پیشوا (Patriarch) اعلیٰ حضرت بارتھلم اول، ترک ارمینائی مسیحیوں کے قائد ارم اتیسان اور ترک یہودیوں کے ربائی اعظم حضرت اسحق حلیویٰ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں ترک حکومت کے خلاف امریکہ کے منفی پروپیگنڈے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ترکی میں تما م مذاہب کے ماننے والوں کو مکمل آزادی حاصل ہے اور امریکی حکومت اپنے مذموم مقاصد کے لیے امریکی عیسائیوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکا رہی ہے۔
امریکی پابندیوں کے جواب میں صدر ایردوان نے اعلان کیا کہ وہ عبدالحمید گل اور سلیمان سولو کے امریکی ہم منصبوں کے ذاتی اثاثہ جات منجمد کرنے کے احکامات جاری کررہے ہیں۔ امریکہ میں وزارتِ انصاف کی نگرانی اٹارنی جنرل کی ذمے داری ہے، گویا ان پابندیوں کا اطلاق جیف سیشنز (Jeff Sessions) پر ہوگا۔ اسی طرح امریکہ میں وزیرداخلہ یا Secretary of Interior وفاق کے زیرانتظام زمینوں اور آبی اثاثہ جات (Offshore)کا ذمہ دار ہے جبکہ اندرونی امن و امان اور ویزہ وغیرہ کی ذمے داری وزارتِ داخلی سلامتی (Department of Homeland Security) یا DHSپر عائد ہے۔ اس اعتبار سے پابندیوں کا اطلاق DHSکی وزیر محترمہ کرسچین نیلسن (Kirstjen Michele Nielsen) پر ہوگا۔
ترکی کی جوابی کارروائی پر امریکہ سخت مشتعل ہے اور قدامت پسند حلقے انقرہ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کررہے ہیں جس میں امریکی لڑاکا طیارے F-35کی ترکی کو فروخت پر پابندی شامل ہے۔ امریکی وزارت دفاع اس مطالبے کی مخالفت کررہی ہے۔ واشنگٹن کے عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکی نیٹو کا ایک اہم اتحادی ہے اور اس سے کھلی لڑائی امریکہ کے لیے شام میں مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اب جبکہ امریکہ افغانستا ن سے واپسی کے لیے پر تول رہا ہے، نیٹو کے انخلا کے بعد ترکی ایک مستحکم افغانستان کی ضمانت ہے جس کے شمالی اتحاد سے قریبی تعلقات ہیں اور طالبان بھی ترکی کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔
اسی بنا پر تنازعے کو سفارتی سطح پر حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ گزشتہ ہفتے ملائشیا میں آسیان (ASEAN)کے بین الوزارتی اجلاس کے دوران امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے ترک ہم منصب مولت اوغلو (Mevlut Cavusoglu) سے ملاقات میں اس مسئلے کو اٹھایا۔ ملاقات کے بعد صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے جناب پومپیو نے ترک وزیر خارجہ سے ملاقات کو حوصلہ افزا اور خوشگوار قرار دیا، لیکن ملائشیا سے سنگاپور جاتے ہوئے ان کے رویّے پر مخصوص امریکی تکبر غالب آگیا۔ اپنے خصوصی جہاز میں اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے جناب پومپیو نے کہا کہ پادری کے معاملے میں امریکہ کا پیمانۂ صبر لبریز ہورہا ہے۔ انھوں نے ترکی کے صدر کو مشورہ دیا کہ وہ تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی پادری، امریکی سفارت خانے کے ترک ملازمین اور NASA کے ترک سائنس دان کو رہا کردیں۔ ترک وزارتِ خارجہ نے جناب پومپیو کے مشورے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی بالادستی پر کسی قسم کی سودے بازی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور ان کی حکومت عدالتی امور میں مداخلت کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ ایک سادہ سے قانونی مسئلے کو صدر ٹرمپ اور نائب صدر سمیت اُن کے انتہا پسند دوستوں نے ایک عالمی تنازع بنادیا ہے جو امریکہ، ترکی اور نیٹو کے لیے تو نقصان دہ ہے ہی، اس سے ترکی اور ساری دنیا میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان بھی بد مزگی پیدا ہوسکتی ہے۔

Share this: