خارجہ پالیسی، جیوپولیٹیکل صورت حال کو دیکھتے ہوئے بنانا چاہیے

عمران خان کو سب سے بڑا چیلنج امریکہ کی جانب سے درپیش ہے

مسلم لیگ (ض) کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر محمد اعجاز الحق سے انٹرویو

فرائیڈے اسپیشل: ملک میں عام انتخابات ہوچکے ہیں اور نئی پارلیمنٹ بھی وجود میں آچکی ہے، پاکستان جنوب ایشیا اور عالمی امن کے حوالے سے اپنے کردار کا صلہ عالمی برادری سے مانگ رہا ہے لیکن متعصب عالمی برادری بھارت کو پاکستان کے مقابلے میں اہمیت دے رہی ہے، اس صورتِ حال میں نئی حکومت کے لیے کیا چیلنجز ہیں اور اس حکومت سے آپ کی توقعات کیا ہیں؟ خارجہ محاذ پر پاکستان کو کن خطرات کا سامنا ہے؟ اگر میں اپنے سوال کو ماضی سے بھی جوڑ کر آپ کے سامنے رکھوں تو یہ بتائیے کہ سابق جنرل محمد ضیاء الحق بھی ایک سازش کا شکار ہوئے اور ان کا طیارہ تباہ ہوا لیکن آج تک کوئی حکومت اس واقعہ کا کھو ج نہیں لگا سکی، آپ چونکہ تحریک انصاف کے اتحادی ہیں، اس حکومت سے آپ کی توقعات کیا ہیں؟
اعجازالحق: ہمیں اپنی آزاد اور قومی مفاد کے عین مطابق خارجہ پالیسی اپنی جیو پولیٹکل پوزیشن کو دیکھتے ہوئے بنانی چاہیے۔ پاکستان کی جیو پولیٹکل پوزیشن بہت ہی اہمیت کی حامل ہے۔ وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی کے لیے اقوام عالم کو پاکستان سے ہی راستہ مانگنا پڑتا ہے۔ بھارت سمیت ان ریاستوں تک پہنچنے کے لیے ہماری ضرورت رہے گی، لہٰذا اس پوزیشن کی وجہ سے ہمیں دنیا میں اہمیت حاصل رہے گی۔ ہم اس کا کتنا فائدہ اٹھاتے ہیں یہ ہم پر منحصر ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس خطہ کے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر رکھیں۔ چین کے ساتھ، ایران کے ساتھ اور افغانستان کے ساتھ تعلقات ٹھیک رہنے چاہئیں۔ عمران خان نے اپنی پہلی نشری تقریر میں اس کا ذکر بھی کیا ہے۔ دیکھیں، افغانستان کو پاکستان نے جہادِ افغانستان کے دوران محفوظ بنایا تھا، آج بھی افغانوں کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان اُن کا محسن ہے۔ جہادِ افغانستان نے جو معجزہ دکھایا تھا ہم پاکستان کے لیے اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے اور اس کے بعد جس طرح حالات تبدیل ہوتے چلے گئے، ہماری حکومتیں بھی اپنا مؤقف بدلتی رہیں اور ہمارا بیانیہ بدلتا رہا۔ ہم نے ہی افغانوں کی مدد سے امریکہ اور سی آئی اے کے سامنے بند باندھا تھا۔ افغانوں کی ایک بڑی اکثریت اب بھی پاکستان کو اپنا محسن سمجھتی ہے، ’’پاکستان کا مطلب کیا… لا الٰہ الا اللہ‘‘ اس پر ہم سب کا یقین ہے، لیکن عملی طور پر ہم اس سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھی اور ہے، لیکن ہم اس محاذ پر کیا کررہے ہیں؟ کبھی بیک ڈور پالیسی، کبھی روشن خیالی میں بہہ جاتے ہیں۔ اسلامی قوانین کے خلاف باتیں ہورہی ہیں۔ ہمیں اپنی پالیسی بہتر بنانی چاہیے، ایران کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے چاہئیں، بھارت کے ساتھ ہم اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے کچھ بہت ہی واضح اصول ہیں، ہم ان اصولوں کو نظرانداز نہیں کرسکتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ضیاء الحق کے سوا سب حکومتوں نے سمجھوتا کیا۔ پرویزمشرف دور میں کشمیر پر مختلف فارمولے لائے گئے، اور کبھی سوچا گیا کہ تجارت بہتر بنالو۔ جنرل ضیاء الحق کے حادثے کو بہت وقت گزر چکا ہے اور اس کی تحقیقات بھی سامنے نہیں آئیں، سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ کہ جنرل ضیاء الحق کو پاکستان کو کمزور کرنے والی قوتوں نے راستے سے ہٹایا، ان قوتوں کو دکھ تھا کہ جنرل ضیاء الحق پاکستان کو دو قومی نظریے کے مطابق مستحکم بنارہے ہیں، مسلم دنیا کو مضبوط بنارہے ہیں، اور انہیں کہہ رہے ہیں کہ ڈٹ جائو، او آئی سی کو مضبوط بنارہے ہیں۔ انہوں نے مصر کی او آئی سی میں واپسی کے لیے کام کیا، ایران عراق جنگ میں وہ جنگ بندی کے لیے فرنٹ محاذ پر رہے اور پاکستان میں اسلامی نظام لا رہے ہیں ، زکوٰۃ و عشر کا نظام لا رہے ہیں ،کشمیر کی آزادی کے لیے حقیقی معنوں میں ٹھوس کام کررہے ہیں، انہوں نے ایٹمی پروگرام کو مکمل کیا، ملک کو دفاعی طور پر ناقابلِ تسخیر حد تک مضبوط کیا، تاریخ میں پہلی بار اقوام متحدہ میں قرآن مجید کی تلاوت کرائی، ایک ارب مسلمانوں کو متحد کیا، افغانستان میں وہ پاکستان کے مفاد کو مضبوط بنارہے تھے، اس وجہ سے انہیں راستے سے ہٹایا گیا۔ ان کے طیارے کے حادثے کی تحقیقات سے ہم نہ کل مطمئن تھے اور نہ آج تک ہمیں کسی نے تسلی بخش جواب دیا۔ جنرل ضیاء کے طیارے کے حادثے کی تحقیقات کی ذمے داری اُن پر تھی جو اُن کے بعد حکومت میں آئے۔ پیپلزپارٹی سے تو کسی کو توقع نہیں تھی لیکن جو لوگ جنرل ضیاء الحق کے ساتھ تھے، اُن کے بعد فوج کی کمان جن کے ہاتھ میں تھی، انہیںتحقیقات کرنی چاہیے تھی۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں یہ کام تسلی بخش طریقے سے نہیں ہوا۔ اس ملک کی ایک بہت بڑی اکثریت آج بھی جنرل ضیاء الحق کو اپنا ہیرو مانتی ہے۔ نوازشریف کو ہمیشہ جنرل ضیاء الحق کی وجہ سے ووٹ ملے۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ نے کہا کہ حکومتوں کی ترجیحات تبدیل ہوتی رہیں، ایسا کیوں ہوا؟
اعجازالحق: ایسا اس لیے ہوا کہ بعد کی حکومتوں کی ترجیح نہیں رہی۔ یہاں این آر او کی حکومت بنی تو اس کے اپنے مفاد تھے، یہ بھی درست ہے کہ جب بھی یہاں باہر کے مفاد کے تابع حکومت بنی اُس حکومت نے انہی کے مفاد کے لیے کام کیا۔ اس سے نقصان پہنچا۔ پاکستان میں کس حکومت نے سکھوں کی فہرستیں بھارت کو دی تھیں؟ یہ فہرستیں دے کر محترمہ نے کہا تھا کہ ہم نے بھارت کو بچالیا ہے۔ سکھ اُس وقت کشمیر کی آزادی کے لیے بہت کام کررہے تھے۔ ویسے اب تو قوم کو بھی عقل کے ناخن لینے چاہئیں۔ اسے چاہیے کہ ایسے حکمرانوں کا انتخاب کرے جو حقیقی معنوں میں ملک اور ریاست کے مفاد کے مطابق کام کریں۔ ضیاء الحق کے بعد آنے والی ہر حکومت نے خارجہ محاذ پر کمزوری دکھائی۔ کشمیر پر مضبوط مؤقف کے بجائے متعدد فارمولے دیے اور تجارت کرنے کو اپنی ترجیح بنایا۔ ضیاء الحق نے جہادِ افغانستان کے ذریعے وسط ایشیائی ریاستوں میں آٹھ مسلم ریاستیں بنائیں۔ یہ لوگ اسّی سال کے بعد آزاد ہوئے اور یہاں اسّی برسوں کے بعد مساجد آباد ہوئیں اور ان کے تالے کھلے۔ پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت سے بہت اہم ملک ہے۔ ہمیں اس خطہ کے ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات پیدا کرنے چاہئیں۔
فرائیڈے اسپیشل: ایک تجویز دی جارہی ہے کہ ملک میں صدارتی نظام لایا جائے، کیا یہ ایک بہتر تجویز ہے؟
اعجازالحق: اکثر جمہوری ملکوں میں صدارتی نظام ہی ہے، بھارت میں پارلیمانی نظام ہے۔ ہمارے دانش ور، میڈیا اور تجزیہ کار ضرور اس بارے میں غور کریں، اپنی رائے دیں۔ صدارتی نظام میں بیوروکریٹس وزراء بھی لیے جاسکتے ہیں جنہیں مختلف امور پر مہارت ہوتی ہے۔ وزیراعظم پارلیمنٹ میں قانون سازی کرائیں۔ اس میں ایک اعتراض یہ آسکتا ہے کہ منتخب نمائندے ترقیاتی فنڈز کیسے لیں گے اور کیسے یہ خرچ ہوگا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مقامی حکومتوں کا نظام مضبوط کیا جائے اور اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں۔ جنرل پرویزمشرف دور میں بلدیاتی نظام دیا گیا جس میں پولیس بھی بلدیہ کے ماتحت کردی گئی، لیکن یہ نظام چودھری پرویزالٰہی کو پسند نہیں آیا، انہوں نے پولیس آرڈر میں ترمیم کرکے اسے بلدیاتی نظام سے باہر کردیا۔ آپ نظام جو بھی بنائیں، جب تک چیک اینڈ بیلنس درست نہیں ہوگا بہتری نہیں آئے گی۔ ملک میں ایک مستحکم جمہوری اور سیاسی نظام کے لیے لازم ہے کہ یہاں نیشنل سیکورٹی کونسل بنائی جائے، اسے فعال رکھا جائے۔ اس کی وجہ سے سیاست دانوں اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین ہم آہنگی رہے گی۔ یہ تجویز دینے پر ہی جنرل جہانگیر کرامت کو اپنے عہدے سے الگ ہونا پڑا تھا۔ بہرحال اس کی تشکیل ضروری ہے، اور ملک میں جوڈیشل احتسابی نظام بنایا جائے جو بلا تفریق اور یکساں احتساب کرے۔ یہ نظام عدلیہ کے ماتحت ہو۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر بھی غور کرنا چاہیے، اس ترمیم نے پارٹی سربراہ کو پارلیمنٹ میں سیاسی لحاظ سے بہت مضبوط بنادیا ہے۔ اس ترمیم میں بہت سی خامیاں ہیں، جس کی وجہ سے جمہوریت مضبوط نہیں بلکہ کمزور ہوئی ہے۔ اس لیے اس کا ازسرنو جائزہ لینا ضروری ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: عالمی سطح پر اور اس خطہ میں امریکی دبائو کے بارے میں بہت بات کی جاتی ہے، تجزیے پیش کیے جاتے ہیں، لیکن کبھی اس دبائو سے باہر نکلنے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش ہوئی؟ آپ پارلیمنٹ کے رکن رہے ہیں، وفاقی وزیر بھی رہے، کشمیر کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے کشمیر کا مقدمہ عالمی برادری کے سامنے بھی لے کرگئے۔ یہ بتائیے کہ کیسے امریکی دبائو سے باہر نکلا جاسکتا ہے، اور امریکی دبائوکہاں کہاں آتا ہے؟
اعجازالحق: امریکہ نے اپنی جنگوں میں پاکستان کو بری طرح استعمال کیا اور پاکستان کی معیشت کو بری طرح پامال کیا، مگر پاکستان کو مالی سہارا دینے میں اُس نے ہمیشہ کنجوسی سے کام لیا، اور جب کام نکل گیا تو پاکستان کی طرف سے آنکھیں پھیر لیں۔ طوطا چشمی کا محاورہ شاید امریکی رویّے کے پیش نظر ایجاد کیا گیا تھا۔ امریکہ کو اچھی طرح علم ہے کہ پاکستان کی معیشت اس وقت کمزور ہے، قرضوں کا بوجھ ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ گیا ہے، ملک کی برآمدات گھٹتی چلی جا رہی ہیں، زرمبادلہ کی سطح مایوس کن حد تک کم ہوچکی ہے اور نئی حکومت آئی ایم ایف کے پاس جانے پر مجبور ہے۔ امریکہ نے امداد کم کردی ہے، وہ ستّر کروڑ سے ایک ارب ڈالر تک دیا کرتا تھا، اسے گھٹا کر صرف پندرہ کروڑ ڈالر کردیا ہے اور یہ شرط لگا دی ہے کہ اگر کوئی عالمی مالیاتی ادارہ پاکستان کی مدد بھی کرے تو پاکستان اس امداد میں سے چین کے قرضے واپس نہیں کرسکے گا۔ ویسے چین کے قرضے اس قدر طویل مدت کے ہیں کہ اگلی تین حکومتوں پر ان کاکوئی بوجھ نہیں ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی قوم اُس دن کو یاد کرکے سر پیٹ رہی ہے جب ایک حکمران نے کسی سے مشورہ کیے بغیر آدھی رات کو ایک ادنیٰ سطح کے امریکی اہلکار کے فون پر امریکی حلیف بننے کے لیے ہاں کردی تھی۔ پاکستان کو اس ’ہاں‘ کی بہت بھاری قیمت چکانا پڑی۔ اس ہاں سے قبل پاکستان میں مکمل امن و سکون تھا، کہیں دہشت گردی کا سایہ تک نہ تھا۔ مگر پھر ایسا عذاب نازل ہوا کہ روز بے گناہ پاکستانیوں کی لاشیں گرنے لگیں۔ کوئی جگہ محفوظ نہ رہی۔ ایک طرف یہ تباہی اور بربادی، اور دوسری طرف پاکستان سے امریکہ کا مسلسل اصرار کہ ڈومور۔ پاکستان کی مسلح افواج نے قربانیاں دی ہیں اور دہشت گردوں کا نام و نشان مٹادیا، مگر امریکہ کسی طور مطمئن نہیں۔ وہ پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں کمزور کرنا چاہتا ہے۔ اس وقت بھی جب امریکی کانگریس نے پاکستان کی امداد میں کمی کردی ہے تو ساتھ ہی بھارت پر نوازشات کی بارش برسا دی ہے۔ بھارت اس خطہ میں امریکہ کے لاڈلے کا کردار ادا کررہا ہے، دونوں کا ہدف یہ ہے کہ کسی طور چین کا سی پیک منصوبہ پروان نہ چڑھنے پائے۔ پچھلے دنوں سی پیک کے روٹ پر گلگت بلتستان میں درجنوں کے قریب اسکول نذرِ آتش کردیئے گئے۔ یہ ایک کھلی وارننگ ہے کہ پاکستان سی پیک کے منصوبے سے ہاتھ اٹھا لے۔ پاکستان کے چیف جسٹس نے ملک میں پانی کی کمی دور کرنے کے لیے مہمند ڈیم اور دیامیر بھاشا ڈیم کے لیے فنڈ کھولا ہے تو چیف جسٹس کے بقول اسے سبوتاژ کرنے کے لیے اسکولوں پر حملے کیے گئے ہیں۔ امریکہ بھی بیان دے چکا ہے کہ دیامیر بھاشا ڈیم کا علاقہ متنازع ہے، اس لیے عالمی مالیاتی ادارے اس کی فنڈنگ نہ کریں۔ اور یہی ہوا کہ کوئی ادارہ اپنی پہلے سے منظور شدہ امداد بھی ریلیز کرنے کے لیے تیار نہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: امریکہ اور بھارت مل کر پاکستان کے خلاف پانی کی سازش کررہے ہیں؟
اعجازالحق: اس میں کوئی شک نہیں ہے، امریکہ کو کشمیر کے متنازع علاقے میں پاکستانی ڈیم تو نظر آ گیا ہے مگر بھارت جس طرح جہلم اور چناب پر سینکڑوں ڈیم بنانے کی منصوبہ بندی کرچکاہے اس سے امریکہ نے چشم پوشی کررکھی ہے۔ بھارت صاف کہتا ہے کہ پاکستان پانی کی بوند بوند کے لیے ترسے گا۔ پاکستان کے لیے امریکہ دہرے معیار پر عمل کررہا ہے، بھارت کو کھل کھیلنے کی اجازت اور پاکستان کو زنجیریں پہنائی جا رہی ہیں۔ آج امریکہ پاکستان کے ساتھ وہی کچھ کررہا ہے جو اُس نے سوویت روس کے خلاف جہاد کی کامیابی کے بعد کیا تھا۔ امریکہ نے پریسلر ترمیم کا ہتھیار استعمال کیا اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی آڑ میں ساری امداد روک لی۔ اس جہاد کے سپہ سالار جنرل ضیاء کو ایک طیارے کے حادثے میں شہید کرا دیا گیا۔ اس سانحے کے ذمے داروں کا آج تک کوئی سراغ نہیں لگ سکا حالانکہ اس میں ایک امریکی سفیر بھی سوار تھا۔ امریکہ تو اپنے کسی عام شہری کی موت پر بھی قیامت کھڑی کردیتا ہے مگر اس سانحے پر اُس نے مگرمچھ کے آنسو بھی نہیں بہائے۔ اصل میں امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کو ایٹمی پروگرام میں پیش رفت کی سزا دینے کی کوشش کی ہے۔ امریکی منافقت کی انتہا یہ ہے کہ اُس نے اسرائیل کو ایٹمی پروگرام پر کوئی زبانی لعن طعن بھی نہیں کی، صرف پاکستان ہی اُسے کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے اور کسی نہ کسی بہانے وہ ہمارا بازو مروڑنے کی کوشش جاری رکھتا ہے۔ قوم کو نئی حکومت سے بہت سی توقعات ہیں، عمران خان نے پاکستان کے اقتدارِ اعلیٰ پر کوئی سمجھوتا کرنے سے انکار کردیا ہے، اس نے وکٹری تقریر میں کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ایسے تعلقات ہوں گے کہ دونوں کو اس کا فائدہ ہو۔ اگر وہ اپنے اس عزم کی تکمیل میں کامیاب ہوجائے اور دنیا کے سامنے جھولی نہ پھیلائے اور کشکول توڑ دے تو کوئی وجہ نہیںکہ پاکستان اپنے وسائل کے اندر رہ کر گزارہ نہ کرسکے۔ عمران خان کے لیے یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ سب سے پہلا چیلنج اسے امریکہ کی طرف سے درپیش ہے۔ عمران خان کو چاہیے کہ حکومت سنبھالنے کے بعد قوم کو اعتماد میں لے اور اسے خودداری کا بھولا ہوا سبق یاد دلائے۔ یہی نجات کا راستہ ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: ایک نئی بات یہ ہوئی کہ اِس بار امریکی امداد کی شرائط کچھ تبدیل ہوئی ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟
اعجازالحق: امریکی امداد کے نئے پلان میں البتہ ایک شرط ختم کردی گئی ہے۔ اب اسے حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ کی امداد روکنے سے مشروط نہیں کیا گیا۔ تاہم یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ امریکہ حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ کو کس حد تک برداشت کرتا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: ملک میں عام انتخابات ہوئے، نتائج بھی آچکے ہیں، متحدہ اپوزیشن بھی بن رہی ہے۔ ملک کے سیاسی منظرنامے کو کس طرح دیکھ رہے ہیں؟
اعجازالحق: اے پی سی میں ایک مطالبہ آیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے سیکریٹری بابر یعقوب فتح نے مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں بلائی گئی ملٹی پارٹیز کانفرنس کا یہ مطالبہ مسترد کردیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے دوسرے ارکان اپنے عہدوں سے مستعفی ہوں، انہوں نے جواباً یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ نتائج کو تسلیم کریں۔ 25 جولائی کو الیکشن کے نتائج آنے کے ساتھ ہی اعتراضات اٹھنا شروع ہوگئے تھے۔ یہ تو ہر کوئی تسلیم کرتا ہے کہ پولنگ پُرامن طور پر انعقاد پذیر ہوئی اور بعض پولنگ اسٹیشنوں پر سست روی کی شکایات تو ملتی رہیں، لیکن عمومی طور پر کسی بڑی رکاوٹ کا تذکرہ نہیں ہوا۔ شکایات تو گنتی شروع ہونے کے ساتھ ہی سامنے آئیں جب بغیر کسی وجہ کے پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکالا گیا۔ مخالفین کے ہاتھوں میں ایک ہتھیار دے دیا گیا جس کا استعمال کرکے وہ پورے انتخابی عمل کو مشکوک بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: دوسری شکایت یہ سامنے آئی کہ پولنگ ایجنٹوں کو اُن کی غیر حاضری میں کی جانے والی گنتی کا جو نتیجہ بھی تھمایا گیا وہ مقررہ فارم (فارم 45) پر نہیں تھا۔ یہ نتیجہ سادہ کاغذ پر تھا اور اس پر پریزائیڈنگ افسر کی مہریں لگی ہوئی تھیں۔ یہ طریق کار کیوں اختیار کیا گیا؟ مقررہ فارم پر نتیجہ کیوں نہیں دیا گیا؟ ماضی میں بہت سے الیکشن ایسے تھے جن پر دھاندلی کے الزام لگتے رہے لیکن پولنگ اسٹیشن پر نتیجہ عموماً درست فارم پر ہی دیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے حکام بار بار غیر ملکی مبصرین کا حوالہ دیتے ہیں کہ انہوں نے انتخابات کو شفاف قرار دیا، لیکن اس بات کا کوئی جواب نہیں دیتے کہ انہی مبصرین نے اپنی رپورٹ میں 35 ایسے حلقوں کی نشاندہی کی ہے جہاں ووٹ ہزاروں کی تعداد میں مسترد ہوئے اور جیتنے اور ہارنے والے ووٹوں کا فرق سینکڑوں میں رہا۔
اعجازالحق: یہ ہزاروں ووٹ کیوں مسترد کیے گئے، یہ ووٹ ایک تکنیک کے تحت مسترد کیے گئے، اور جس بیلٹ پیپر پر ایک امیدوار کے حق میں درست مہر لگی ہوئی تھی، اس پر دوسری مہر کسی طریقے سے لگا دی گئی۔ یہ کام کن لوگوں نے کیا؟ سیکریٹری الیکشن کمیشن کو اس سوال کا جواب دینا چاہیے کہ غیر ملکی مبصرین نے جو 35 حلقے ایسے بتائے ہیں کیا اُن کا جائزہ لیا گیا کہ ووٹوں کے مسترد ہونے کی کیا وجہ تھی؟ الیکشن کمیشن نے نادرا سے مل کر جو آر ٹی ایس سسٹم بنایا تھا، وہ کام ہی نہیں کرسکا، حالانکہ الیکشن سے پہلے اس سسٹم کے بڑے چرچے کیے گئے تھے۔ اس سسٹم کے ذریعے پولنگ اسٹیشنوں سے نتیجہ الیکشن کمیشن کو ملنا تھا، جو نہ مل سکا۔ الیکشن کمیشن نے پابندی لگائی تھی کہ کوئی نیوز چینل سات بجے سے پہلے نتیجے کا اعلان نہیں کرے گا، لیکن ٹی وی چینلز نے اس پابندی کو ہوا میں اڑایا اور دھڑا دھڑ نتیجہ بتانا شروع کردیا۔ کیا ان چینلوں سے بھی کسی نے پوچھا؟ یا یہ الیکشن کمیشن کی پابندی کے احکامات سے بے نیاز تھے؟

Share this: