ششماہی دریافت اسلام آباد

نام مجلہ : ششماہی دریافت اسلام آباد
(شمارہ 16۔ 17)
مدیران : پروفیسر ڈاکٹر روبینہ شہناز۔ڈاکٹر صوبیہ سلیم
صفحات : 316۔205
قیمت : 300روپے فی شمارہ
بیرون ملک 5امریکی ڈالر(علاوہ خرچ)
ناشر : نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز،
ایچ 9-، اسلام آباد
فون : 051-9265100-10 Ext. 2260
ای میل : daryaft@numl.edu.pk
ویب سائٹ : www.numl.edu.pk/urdu_indux

’’گزشتہ دنوں ایک خصوصی کورس کے نتیجے میں اخبارات پر نظر ڈالنے کی ضرورت پیش آئی اور یہ دیکھ کر میں حیران ہوگئی کہ اخبارات کی جو اہمیت زبان کے حوالے سے اس سماجی میڈیا اور عالمی گائوں کی صورت سے پہلے تھی وہ اب معدوم ہوتی جارہی ہے۔ ادارے ہوں یا جامعات، ہر طرف نفاذِ اردو کی بحث شد و مد سے جاری نظر آتی ہے مگر کیا اس طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت نہیں جہاں نافذ شدہ اردو انگریزی کی دھول میں گم ہوتی جارہی ہے! کوئی توجہ کرے کہ اخبارات سے غائب ہوتی اردو میں سرخیاں، شہ سرخیاں، جائزے، کالم سبھی اپنا اپنا حصہ شامل کرتے نظر آتے ہیں۔ خبر اٹھاکر دیکھیں یا کسی اخبار کا کوئی خاص حصہ، انگریزی الفاظ آپ کا منہ چڑاتے نظر آتے ہیں۔ ہم ٹی وی کی خبروں میں سرخیوں اور اسکرین پر چلنے والی پٹی کے غلط املا کو روتے ہیں، میرا دکھ تو یہ ہے کہ اخبار جو ہماری زبان کے ابلاغ میں اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں، انگریزی کی لپیٹ کا ایسے شکار ہیں کہ یوں لگتا ہے اردو کے لفظ گویا دل پر چوٹ لگاتے محسوس ہوتے ہیں۔ اہلِ اردو سے گزارش ہے کہ اس طرف بھی توجہ مبذول کریں۔ نفاذِ اردو کی مٹتی روایات کا احیا بہت ضروری ہے‘‘۔
یہ اس مجلے کے اداریے کا ایک اقتباس ہے۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ جامعات اور علمی اداروں کے مجلات کا تعارف اپنے قارئین سے کراتے رہیں تاکہ ان کے علم میں رہے کہ ہمارے ہاں سے کون کون سے مجلات شائع ہوتے ہیں اور ان میں کیا شائع ہوتا ہے۔ اس مجلے میں شامل مقالات درج ذیل ہیں:
’’فراق کی شاعری پر اقبال کے اثرات‘‘، ڈاکٹر منور ہاشمی۔ ’’تلوک چند (محروم) کی شاعری میں اخلاقی رجحانات‘‘، پروفیسر ڈاکٹر اصغر علی بلوچ۔ ’’احمد ندیم قاسمی کی تخلیقی مساعی کا توضیحی جائزہ‘‘، پروفیسر ڈاکٹر شاہد اقبال کامران/ ڈاکٹر نورینہ تحریم بابر۔ ’’اقبال کا ذہنی ارتقاء‘‘، ڈاکٹر ظفر حسین ظفر۔ ’’علامہ اقبال کا تصورِ زمان و مکاں: ایک تناظر‘‘، ڈاکٹر عبدالکریم۔ ’’پاکستانی غزل میں ارفع جذباتِ عشق کی ترجمانی‘‘، ڈاکٹر ممحد نوید اظہر۔ ’’سرشار صدیقی اور قومی شاعری‘‘، ڈاکٹر صدف فاطمہ۔ ’’کلام اقبالؒ میں عشقِ رسولؐ کے نظریاتی اور جمالیاتی پہلو‘‘، بابر حسین۔ ’’بھوپال، والیانِ بھوپال اور سلطان جہاں بیگم کے مرشد کا حجرہ یا مقبرہ‘‘، ڈاکٹر صغیر افراہیم۔ ’’محسنِ نسواں: نواب سلطان جہاں بیگم‘‘، ڈاکٹر سیما صغیر۔ ’’دفتری اردو ترجمے کی مشکلات‘‘، ڈاکٹر خالد اقبال یاسر۔ ’’علمی خیانت، سرقہ، چوری، پس منظر، تعارف اور اقداماتِ نمل، HECکے تناظر میں‘‘، ڈاکٹر خوش بخت حنا۔ ’’مذاہب کی تشکیل اور فکری اثرات‘‘، شازیہ ارم۔ ’’عربی زبان کے اردو زبان پر اثرات‘‘، ڈاکٹر حبیب نواز‘‘۔ ’’ہندی نثر کا آغاز و ارتقاء‘‘، شاہین ظفر۔ ’’اردو، فارسی محاورات و ضرب الامثال، معانقہ و اتصال‘‘، مشتاق احمد امتیاز/ اللہ یار ثاقب۔ ’’امجد اسلام امجد کے مقبول ٹی وی ڈرامے: تہذیبی و سماجی مطالعہ‘‘، شاہدہ رسول/ ڈاکٹر نجیبہ عارف۔ ’’منٹو کی تشبیہات کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ‘‘، آسیہ خان/ پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین۔ ’’غلام عباس کے افسانوں میں تکنیک کا تنوع‘‘، ڈاکٹر عابد سیال۔ ’’پاکستانی جدید ادب کے عکاس دو ناول ’’خوشیوں کا باغ‘‘ اور ’’دیوار کے پیچھے‘‘، ڈاکٹر بشریٰ پروین۔ ’’اردو فکشن میں عصری آگہی کی روایت‘‘، ڈاکٹر نازیہ ملک۔ ’’اردو داستانِ زوال، اکیسویں صدی میں اس کے احیاء کے امکانات کا جائزہ‘‘، صفدر رشید۔ ’’صنفِ ادب کی حیثیت سے فیری ٹیل کا مقام‘‘، عامرہ توصیف۔ ’’منیر نیازی کا تصور حسن اور سماجی حدود‘‘، ڈاکٹر فرحت جبین ورک۔ ’’اردو تنقید قیام پاکستان کے بعد (ایک جائزہ)‘‘، ڈاکٹر محمد افضال۔ ’’مشتاق احمد یوسفی کا ہمزاد (مرزا عبدالودود بیگ)‘‘، سید بادشاہ ملک غیر۔ ’’عزیز احمد کی نایاب کتاب ’’صدیوں کے آر پار‘‘، قیصرہ ناہید۔ ’’انڈیکس‘‘، ڈاکٹر صوبیہ سلیم
اتنے بہت سے مقالات میں بہت سے مقاماتِ آہ وفغاں بھی آتے ہیں، آرا کا اختلاف مزید ہے، ان پر بحث بھی ہوسکتی ہے۔ علمی آرا پر تنقید بھی ہوسکتی ہے۔ ہر شخص کی پسند اور ناپسند مختلف ہوتی ہے۔ مزاج اور رجحان بھی اثرانداز ہوتا ہے۔ بہرحال جو متن کا مطالعہ کرے گا وہ اپنا فیصلہ خود ہی کرلے گا۔ ایک مثال ڈاکٹر منور ہاشمی کے مقالے فراق کی شاعری پر اقبال کے اثرات سے پیش خدمت ہے۔ رگھوپتی سہائے فراق گورکھ پوری نے جوش ملیح آبادی کے نام اپنے خط میں اقبال کو خراج تحسین ان الفاظ میں پیش کیا:
’’صحیح بات تو یہ ہے کہ تم اقبال کو سمجھ بھی نہیں سکے، کیوں کہ اقبال نے دینِ اسلام کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور اس کی افادیت میں اعلیٰ پیمانے کی گہر افشانی کی ہے۔ ان کا علم اس معاملے میں مکمل ہے۔ تمہارا اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ تم دین سے واقف ہی نہیں اور دین کی گہرائیوں کا مطالعہ کرنے کے لیے تمہارا علم کم ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ تم دہریے بھی ہو۔ تم آفاق کے کفر میں گم، اقبال دین کی ہمیشگی سے لبریز۔ تمہاری شاعری اس لیے نہیں مانی جاسکتی کہ دونوں میں تضاد ہے۔ میں نے جو اقبال پر اعتراض کیے ہیں ان کی نوعیت الگ ہے، یعنی وہ ملت کی شاعری اگر نہ کرتے تو عظیم شاعر ہوتے، لیکن ملت کی شاعری پر میں نے تنقید نہیں کی، کیوں کہ میں اسلامی مسائل سے نابلد ہوں، اگر واقف بھی ہوتا تو مجھے اس کا حق نہیں کہ کسی کے دینی معاملات میں دخل دوں۔ ملت کی شاعری کے علاوہ جو کچھ اقبال نے کہا وہ بھی بہت کچھ ہے، تمہاری تنقید اقبال پر ہر لحاظ سے غیر معتبر ہے۔ تم اقبال کو برا کہہ کر اقبال سے بلند ہونے کی کوشش نہ کرو، کیوں کہ یہ گناہِ عظیم ہے‘‘۔
(فراق گورکھپوری کا خط جوش کے نام، مشمولہ کتاب ’’شاعرِ ہند‘‘، مرتبہ فاروق ارگلی، دہلی فرید بک ڈپو، 2004ء، ص 210)
بعض مقالات بہت محنت سے لکھے گئے ہیں اور عمدہ ہیں، اور بعض سطحی اور خلافِ واقعہ ہیں۔ ان میں شازیہ ارم پی ایچ ڈی اسکالر کا ’’مذاہب کی تشکیل اور فکری اثرات‘‘ مذہب کی ملحدانہ تشریح پر مبنی ہے۔
مجلہ سفید کاغذ پر عمدہ طبع ہوا ہے، البتہ پروف احتیاط سے نہیں پڑھے گئے۔
٭٭٭٭
شمارہ 17میں جو مقالات شامل کیے گئے ہیں وہ درج ذیل ہیں:
’’ہدایت القلوب۔ ایک نادر اور کمیاب مجموعۂ ملفوظات‘‘، پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر۔ ’’دو ہم عصر خواتین‘‘، ڈاکٹر آرزو۔ ’’اردو غزل میں تمثال کاری‘‘، ڈاکٹر طارق محمود ہاشمی۔ ’’اردو اخبارات کا املائی مطالعہ‘‘، ڈاکٹر فوزیہ اسلم۔ ’’بیسویں صدی کے اردو ادب میں عورت کے حقیقت پسندانہ تصور کا سماجی سیاسی مطالعہ‘‘ ڈاکٹر روش ندیم۔ ’’اردو جاسوسی ناول‘‘، ناہید اختر/ ڈاکٹر نذر عابد۔ ’’گوگل کا افسانہ ’’ اوور کوٹ‘‘ تجزیاتی مطالعہ‘‘، ڈاکٹر اسماء نوید/ ڈاکٹر صوبیہ سلیم۔ ’’انیس ناگی اور البیغ کامیو کے ناولوں کا تقابلی مطالعہ‘‘،عکاشہ عنبرین / ڈاکٹر ساجد جاوید۔ ’’کلامِ منیر میں غیر مستحکم سیاسی اور سماجی صورتِ حال‘‘، ڈاکٹر عنبرین تبسم شاکر جان۔ ’’حجابِ بشریت ‘‘ اور گل صحرا‘‘ کا تجزیاتی مطالعہ‘‘، عثمان غنی/ ڈاکٹر نعیم مظہر۔ ’’خطۂ ملتان کی لسانی فضا میں علاقائی بولی کا کردار‘‘، ڈاکٹر عمران اختر۔ ’’جدید نظم اور اُردو غزل کے اسلوبیاتی ارتباط میں زبان و بیان اور علامت نگاری کا کردار‘‘، ڈاکٹر محمد شفیق آصف۔ ’’سنسکرت الاصل داستانوں کے نمایاں رجحانات‘‘، ڈاکٹر فہمیدہ تبسم۔ ’’خیبر پختون خوا میں تحقیق کی روایت، مطالعاتی تجزیہ‘‘، ڈاکٹر گلناز بانو۔ ’’اردو عالمی تناظر میں‘‘،ڈاکٹر عبدالستار ملک۔ ’’جوش ملیح آبادی کا نثری اسلوب‘‘، ڈاکٹر رخشندہ مراد۔ ’’اردو ادب میں ہیروئن کا تصور‘‘، صنوبر الطاف۔ ’’شہرت کی خاطر تجزیاتی مطالعہ‘‘،ڈاکٹر سائرہ بتول۔
’’اسلامی تصوف میں ہندی عناصر کی روایت‘‘، ڈاکٹر عبدالواجد تبسم۔ ’’انڈیکس‘‘، ڈاکٹر صوبیہ سلیم
اداریے میں لکھا ہے:
’’…جب معاشرے تہذیب یافتہ ہوتے ہیں تو ان میں طریقہ کار، اصول، قوانین طے پاتے ہیں جن کو انفرادی سطح پر نہیں عدالتی اور قانونی سطح پر حل کیا جاتا ہے۔ ہمارے اردگرد پھیلی افراتفری اور سزا اور جزا کے ذاتی فیصلوں کی بازگشت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہم مہذب ہونے کے بجائے جنگل کے قانون کو اپنانے جارہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جذباتیت سے نکلیں، قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے بجائے قانون ساز اور امن و امان قائم کرنے والے اداروں کو ان کا کام کرنے دیں۔ جب بھی جزا اور سزا کا کام انفرادی سطح پر جذبات میں بہہ کر کیا گیا، انسانیت کی سطح سے ہم ایک سیڑھی اور نیچے گر گئے۔کوشش کریں کہ جذباتیت اور غم و غصے کے بجائے ان کاموں کی طرف توجہ دیں جن کو انفرادی سطح پر بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ شاید اس طرح ان واقعات کی گونج کم ہوجائے جو آئے دن ہمارے دلوں کو دکھی کرجاتے ہیں ‘‘۔
یہ شمارہ اغلاط میں خودکفیل ہے، محسوس ہوتا ہے کہ پروف پڑھے ہی نہیں گئے۔ مجلہ سفید کاغذ پر طبع ہوا ہے۔

شبلی کی اوّلین تصنیف ’’مسلمانوں کی گزشتہ تعلیم‘‘کا عربی ترجمہ

علمی دنیا میں علامہ شبلی نعمانی کا تعارف ان کے مقالے ’’مسلمانوں کی گزشتہ تعلیم‘‘ سے ہوا تھا۔ یہ مقالہ انہوں نے سرسید احمد خان کی فرمائش پر تحریر کیا تھا اور مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے دوسرے اجلاس منعقدہ 27 دسمبر 1887ء میں پیش کیا تھا۔ یہ اجلاس لکھنؤ میں منعقد ہوا تھا۔ اس مقالے کو بڑے اہتمام کے ساتھ 1888ء میں رسالے کی صورت میں شائع کرایا گیا تھا۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں سرسید نے اس مقالے پر تفصیلی ریویو بھی لکھا تھا۔ حال ہی میں اس تاریخی مقالے کا عربی ترجمہ الحرکۃ العلمیہ و کیف طورھا کے عنوان سے دارالکتب العلمیہ بیروت سے شائع ہوا ہے۔ عربی ترجمہ ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی نے کیا ہے۔ عربی کتاب میں پروفیسر ظفرالاسلام اصلاحی سابق صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے مقالے ’’علامہ شبلی کے ایام علی گڑھ کی اوّلین تصنیف مسلمانوں کی گزشتہ تعلیم: ایک تعارفی مطالعہ‘‘ کا عربی ترجمہ بھی شامل ہے۔ یہ مقالہ معارف اعظم گڑھ کے شبلی نمبر (نومبر، دسمبر 2014ء) میں شائع ہوا تھا۔
(بہ شکریہ خبریں دہلی/ اردو دنیا، دہلی)

Share this: