فیس بک کی نوعمر صارفین کے لیے مفت ڈیجیٹل لائبریری

فیس بک نے نوعمر صارفین کے لیے مفت ڈیجیٹل لائبریری قائم کردی ہے جس میں انٹرنیٹ سیکورٹی، انٹرنیٹ پرائیویسی اور فیس بک پر صحت مندانہ دوستی اور روابط پر اسباق اور ویڈیوز رکھی گئی ہیں۔
پہلے مرحلے میں 18 اسباق انگریزی میں موجود ہیں جنہیں بہت جلد دنیا کی 45 مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا جائے گا۔ اسے فیس بک کی ’ڈیجیٹل لٹریسی لائبریری‘ کا نام دیا گیا ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر اس میں جعلی خبروں اور افواہوں کے تدارک کے لیے کوئی رہنمائی شامل نہیں جس کے تحت فیس بک پر روسی پروپیگنڈا کرکے 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات پر اثر ڈالا گیا تھا۔
فیس بک اس نئی سہولت سے نوعمر صارفین کو انٹرنیٹ کا استعمال ذمے داری کے ساتھ سکھانا چاہتا ہے۔ فیس بک نے کہا ہے کہ اس لائبریری کا مقصد دنیا بھر میں موجود 83 کروڑ نوعمر بچوں اور نوجوانوں کو ڈیجیٹل خواندگی، اس کے اصول اور حفاظتی اقدامات سے آگاہ کرنا ہے۔ لائبریری کے اسباق میں سوشل میڈیا کی خوفناک عادت، آن لائن بدتمیزی، پرائیویسی اور آن لائن سیکورٹی جیسے امور پر رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ فیس بک نے ہارورڈ یونیورسٹی میں واقع برکمان کلائن سینٹر کی ٹیم کی مدد سے یہ ڈیجیٹل لائبریری بنائی ہے۔
ان اسباق کو مفت میں ڈاؤن لوڈ کرکے اسکولوں اور گھروں میں پڑھا جاسکتا ہے۔ فیس بک کے مطابق اس کی تیاری میں نوعمر لڑکے لڑکیوں سے مدد لی گئی ہے اور اسے پانچ زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں پرائیویسی، شناخت، مثبت برتاؤ، سیکورٹی اور کمیونٹی سے وابستگی شامل ہے۔

ٹافیاں زہر ہیں

غذاؤں اور میک اَپ میں استعمال ہونے والے انتہائی مضر کیمیکلز پر آئے دن رپورٹیں چھپتی رہتی ہیں۔ اب امریکی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عام میک اَپ اور ٹافیوں میں استعمال ہونے والے کیمیکلز ٹائپ ٹو ذیابیطس کی وجہ بن رہے ہیں۔
آسٹن میں یونیورسٹی آف ٹیکساس کے ماہرین نے کہا ہے کہ ٹائٹانیم ڈائی آکسائیڈ ایک عام سفید رنگ ہے جو کاسمیٹکس سے لے کر ٹافیاں بنانے تک میں بکثرت استعمال ہوتا ہے۔ اس کی خاطرخواہ مقدار ایسے افراد کے لبلبوں میں ملی ہے جو پہلے ہی ٹائپ ٹو ذیابیطس کے شکار ہوچکے تھے۔
اسی بنا پر ماہرین کہہ رہے ہیں کہ ٹائٹانیم ڈائی آکسائیڈ بھی ٹائپ ٹو ذیابیطس کی وجہ بن سکتا ہے۔ انسانی جسم میں کئی دھاتوں کی موجودگی کے باوجود یہ رنگ (پگمنٹ) صحت مند انسانی ٹشوز اور خلیات میں نہیں پایا جاتا۔ اسی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کی اشیا سے انسانی جسم میں پہنچ رہا ہے۔ اس کے لیے ڈاکٹروں نے ٹائپ ٹو ذیابیطس کے 8 مریضوں اور 3 صحت مند افراد کے عطیہ کردہ لبلبے لے کر انہیں چیر پھاڑ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ شوگر سے محفوظ افراد کے لبلبوں میں ٹائٹانیم ڈائی آکسائیڈ موجود نہیں تھا، جبکہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کے لبلبوں میں اس دھات کے ذرات موجود تھے۔

سادہ کھانا کھائیں، دو دن روزہ رکھیں یا سخت پرہیز کریں

ماہرینِ صحت نے موٹاپے اور وزن میں کمی کرنے کے لیے نیا فارمولا پیش کردیا، جس کے مطابق ایسے افراد جو موٹاپے یا وزن کی زیادتی کا شکار ہیں، ایک ہفتے میں پانچ دن سادہ کھانا کھاکر اور دو دن روزہ رکھ کر اپنے وزن میں غیر معمولی کمی لاسکتے ہیں، ایسے افراد جو روزے نہ رکھ سکیں وہ دو دن کھانے میں انتہائی سخت پرہیز کرکے اپنے وزن میں غیر معمولی کمی لاسکتے ہیں۔
آسٹریلیا میں کی جانے والی نئی طبی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے سرسید انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیبیٹک کے سربراہ پروفیسر زمان شیخ کے مطابق حال ہی میں موٹاپے یا وزن کی زیادتی کو کم کرنے کے لیے کی جانے والی نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران پانچ دن معمول کے مطابق سادہ کھانے کھاکر اور دو دن روزے رکھ کر یا کھانے میں سخت پرہیز کرکے اپنے وزن میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔

Share this: