قبائلی علاقوں میں ڈیموں کی تعمیر کے امکانات

واپڈا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین نے قبائلی ضلع مہمند کی تحصیل پنڈیالی میں مجوزہ مہمند ڈیم کی سائٹ کا دورہ کرنے کے بعد ضلعی ہیڈ کوارٹر غلنئی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہمند ڈیم کی تعمیر سے وطنِ عزیز میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ مقامی نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع دستیاب ہوں گے۔ اس موقع پر واپڈا کے جنرل منیجر اعجاز پتانی، ایف سی کے شمالی سیکٹر کے کمانڈنٹ بریگیڈیئر عامرکیانی، کمانڈنٹ مہمند رائفلز کرنل عرفان علی، ڈپٹی کمشنر واصف سعید اور اسسٹنٹ کمشنر توصیف خالد کے علاوہ مقامی قبائلی زعماء کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ چیئرمین واپڈا نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہمند ڈیم کی فزیبلٹی تیار ہوچکی ہے جس کے مطابق اس ڈیم سے 800 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی، جبکہ ڈیم سے نکالی جانے والی نہروں سے گرد ونواح کی ہزاروں ایکڑ اراضی کی سیرابی کے علاوہ اس ڈیم سے نوشہرہ، چارسدہ اور پشاور کے اضلاع میں آنے والے سیلابوں کی روک تھام کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر قبائلی نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع بھی دستیاب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس ڈیم پر تعمیراتی کام کا آغاز اگلے سال جنوری میں ہوگا، جب کہ اس منصوبے کو پانچ سال میں مکمل کیا جائے گا۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے جن دو نئے ڈیموں کی تعمیر کے لیے وسائل کی دستیابی کی غرض سے ملک گیر سطح پر فنڈ جمع کرنے کا اعلان کیا ہے ان میں ایک بھاشا دیامر ڈیم ہے، جبکہ دوسرا ضلع مہمند میں پشاور سے تقریباً چالیس کلومیٹر فاصلے پر واقع منڈا ہیڈ ورکس سے پانچ کلومیٹر اوپر دریائے سوات پر تعمیر کیا جانے والا مہمند ڈیم ہے۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے اس سال جون میں بجلی کے بحران پر سوموٹو ایکشن لیتے ہوئے جہاں واپڈا اور وفاقی حکومت کو بجلی کے بحران پر قابو پاتے ہوئے عام لوگوں کو بجلی کی بلاتعطل فراہمی اور بلوں کی ادائیگی میں ریلیف فراہم کرنے کا حکم دیا تھا، وہیں ضرورت کے مطابق نئے ڈیموں کی تعمیر پر ماضی کی متعلقہ حکومتوں کی عدم توجہی اور لاپروائی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سپریم کورٹ کی نگرانی میں دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لیے چندہ جمع کرنے کا اعلان کرکے اسٹیٹ بینک کی براہِ راست نگرانی میں تمام شیڈولڈ بینکوں میں اکائونٹس کھولنے کا حکم دیا تھا، جس پر حکومت کے علاوہ مختلف ذرائع کی جانب سے نہ صرف اُس وقت شدید تنقید سامنے آئی تھی بلکہ تنقید اور اعتراض کا یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ بظاہر اس بات میں وزن نظر آتا ہے کہ ڈیم بنانا سپریم کورٹ کا کام نہیں ہے اور عدالتِ عظمیٰ نے بھاشا دیامر ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیرکے لیے اپنی نگرانی میں فنڈ کرنے کا اعلان کرکے عملاً اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کیا ہے، لیکن اگر دوسری جانب وطنِ عزیز کی زندگی اور موت کے حامل توانائی کے بحران اور ہر سال کم از کم 21 ارب ڈالر مالیت پر مشتمل پاکستانی دریائوں کا میٹھا پانی ضائع ہوکر سمندر برد ہونے کے مسئلے پر حکومتی عدم توجہی اور اس ضمن میں کسی خاص منصوبہ بندی کے فقدان کو مدنظر رکھا جائے تو ایسے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ نہ صرف مبنی برانصاف نظر آتا ہے بلکہ اس سلسلے میں اب تک جمع ہونے والی 65کروڑ روپے کی رقم بجائے خود اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے عوام ملک کو درپیش سنگین مسائل پر قابو پانے کے لیے کتنے بے تاب ہیں اور اس ضمن میں اپنے تئیں ہرقدم اٹھانے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں، لیکن اصل مسئلہ حکمرانوں پر ان کے اعتماد کا ہے۔
پاکستان میں پچھلے دس پندرہ برسوں سے جاری بجلی کے بحران پر نہ تو جنرل پرویزمشرف اور نہ ہی اُن کے بعد آنے والی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی حکومتیں کوئی خاطر خواہ قابو پانے میں کامیاب ہوئیں، بلکہ ہر گزرتا ہوا دن اس بحران میں اضافے کا باعث بنتا رہا ہے۔ اس عرصے میں عوام کے غیظ و غضب کوکم کرنے اور کسی حد تک ان کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے کبھی لوڈ مینجمنٹ اورکبھی لوڈشیڈنگ کے نام پر ان کو بے وقوف بنانے کی کوششیں کی گئیں، جب کہ اسی دوران قوم کو کبھی ایران، کبھی تاجکستان سے، اور کبھی چین اور بھارت سے سستی بجلی کی دستیابی کی نویدیں بھی سنائی گئیں، لیکن تاحال یہ مسئلہ نہ صرف جوں کا توں موجود ہے بلکہ ہرگزرتے ہوئے دن کے ساتھ اس بحران میں مزید اضافہ ہورہا ہے جس کا فوری حل اگر ایک جانب بجلی کی قیمتوں میں ناروا اضافے کی صورت میں نکالا جا رہا ہے تو دوسری طرف بیرونی ممالک سے کثیر زرمبادلہ خرچ کرتے ہوئے مہنگے داموں تیل اور گیس کی درآمد کے ذریعے مہنگی تھرمل بجلی کے پلانٹس لگاکر قوم کو مزید بیرونی قرضوں میں بھی جکڑا جا رہا ہے، حالانکہ پاکستان میں ہونے والی تحقیق کے مطابق یہاں پانی سے بجلی کی پیداوار کے اتنے وسیع ذرائع ہیں جو اگر ایک جانب انتہائی سستی بجلی پیدا کرنے کی استعداد رکھتے ہیں تو دوسری طرف ان ڈیموں کی تعمیر سے آئندہ کئی برسوں تک توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ ان ڈیموں میں ذخیرہ ہونے والے پانی کولاکھوں ایکڑ پر مشتمل بنجر زمینوں کی کاشت کاری اور مختلف اقسام کی فصلوں کی پیداوار کے لیے بھی بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ یہ بات یقینا پوری قوم کے لیے پریشانی اور تشویش کی حامل ہے کہ بھارت پچھلے ستّر برسوں میں ایک ہزار چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کرچکا ہے، جبکہ پاکستان کے چھوٹے بڑے ڈیموں کی کل تعداد محض سترہ ہے جو ہماری قومی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر بھی نہیں ہے۔ اسی طرح چین نے پچھلے ستّر برسوں میں اپنی آزادی کے بعد سے پانچ ہزار سے زائد چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کرکے جہاں چین میں ہر سال آنے والے تباہ کن سیلابوں پر قابو پالیا ہے، وہیں ان ڈیموں کی تعمیرکے ذریعے بجلی کی پیداوار کو اپنی صنعتوں کی ترقی کے لیے بھی کامیابی سے بروئے کار لاکر اقتصادی میدان میں امریکہ، جرمنی اور جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
پاکستان کے شمالی علاقوں میں بالخصوص اور دیگر علاقوں میں بالعموم ایسے سینکڑوں ڈیموں کی تعمیر کی گنجائش موجود ہے جہاں بآسانی ڈیم بناکر نہ صرف بڑی مقدار میں بجلی پیدا کی جاسکتی ہے بلکہ ان ڈیموں میں ذخیرہ شدہ پانی کو نہروں کے ذریعے سارا سال کاشت کاری، ماہی پروری، سیاحت، باغبانی اور موسمیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان ڈیموں میں دیامر بھاشا ڈیم گلگت بلتستان، جبکہ مہمند ڈیم ضلع مہمند میں تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔ ملک کے شمالی علاقوں کی طرح قبائلی علاقوں میں بھی ایسے متعدد مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں بعض بڑے اور زیادہ تر درمیانے اور چھوٹے درجے کے ڈیم بنانے کے روشن امکانات موجود ہیں، بلکہ ان میں سے بعض چھوٹے ڈیموں پر فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی زیر نگرانی کام بھی مکمل ہوچکا ہے جن میں جنوبی وزیرستان میں واقع درگئی پال ڈیم، شمالی وزیرستان میں ڈانڈے ڈیم، مہمند میں موٹوشاہ ڈیم، ایف آر ٹانک میں شین کچ ڈیم، خیبر ایجنسی میں زوا ڈیم، شمالی وزیرستان میں کنڈ ڈیم اور ایف آر بنوں میں پنگ ڈیم زیادہ قابلِ ذکر ہیں، جب کہ ان چھوٹے ڈیموں کے علاوہ جنوبی وزیرستان میں 2013ء میں مکمل ہونے والے گومل زام ڈیم اور شمالی وزیرستان میں زیر تعمیرکرم تنگی ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش اور بجلی کی پیداوار، نیز یہاں سے سیراب ہونے والی زمینوں کے وسیع و عریض رقبے کو مدنظر رکھا جائے تو مہمند کے مجوزہ ڈیم کے بعد ان متذکرہ بالا دونوں ڈیموں کا شمار قبائلی علاقوں کے بڑے ڈیموں میں ہوگا۔ یاد رہے کہ مہمند ڈیم سے جس کی لمبائی ڈھائی ہزار فٹ اور اونچائی سات سو فٹ پر مشتمل ہوگی، 800 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے علاوہ پندرہ ہزار ایکڑ زمین سیراب ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے جس سے سالانہ پانچ ارب روپے کے پانی کی بچت کے علاوہ تقریباً 20 ارب روپے کی بجلی پیدا ہوگی۔ اسی طرح گومل زام ڈیم سے جو جنوبی وزیرستان میں کھجوری کچ کے مقام پر چین، ترکی اور یو ایس ایڈ کے مالی اور تکنیکی تعاون سے تعمیرکیاگیا ہے، 18 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے علاوہ تقریباً 28 ہزار ایکڑ زمین سیراب ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ یہاں سے نکالی جانے والی واران نہر سے زیر کاشت رقبے کی پیداوار 26 فیصد سے بڑھ کر 87 فیصد تک ہونے کا امکان ہے۔ شمالی وزیرستان اور ایف آر بنوں کے سنگم پر میر علی تحصیل سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سپین وام کے مقام پر زیر تعمیر کرم تنگی ڈیم بجلی کی پیداوار کے لحاظ سے قبائلی علاقوں کا دوسرا بڑا ڈیم ہوگا جہاں سے 84 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے ساتھ ساتھ ہزاروں ایکڑ بنجر زمین سیراب ہوگی جسے یہاں سے نکالی جانے والی تین نہروں شیراتلا کینال، سپیرہ کینال اور تھل کینال کے ذریعے قابلِ کاشت بنایا جائے گا۔ اس ڈیم سے شمالی وزیرستان اور ایف آر بنوں کے اکثر علاقے سیراب ہوں گے۔ یہ ڈیم کیتھو اور کرم دریائوں پر بنایا جارہا ہے، جس کا پہلا مرحلہ اگلے سال اپریل میں مکمل ہونے کا امکان ہے۔
قبائلی علاقوں میں ڈیموں کی تعمیر کے وافر مواقع کی دستیابی کے باوجود پچھلے ستّر برسوں میں ان علاقوں کی تعمیر وترقی کے ان اہم منصوبوں کو یکسر نظرانداز کیا جاتا رہا ہے جس کے بنیادی اسباب میں جہاں امن وامان کے مخدوش حالات رہے ہیں، وہیں رسل ورسائل کی ناکافی سہولیات اور خاص کر قبائلی علاقوں کی غیر واضح آئینی اور انتظامی صورت حال بھی وہ وجویات ہیں جن کے باعث ان دستیاب مواقع سے ماضی میں فائدہ نہیں اٹھایا جاسکا۔ واضح رہے کہ گومل زام ڈیم کی موجودہ سائٹ کے بارے میں برطانوی انجینئرز فورس کے ماہرین نے1898ء میں یہاں ڈیم بنانے کی تجویز دی تھی جس پر قیام پاکستان کے بعد 1963ء میں کام کا آغاز بھی کردیا گیا تھا، لیکن یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی تھی، البتہ اب کہیں جاکر یہ منصوبہ 2013ء تک دو چینی اور آٹھ مقامی انجینئروں کے اغوا، بعد ازاں بھاری بھتے کی وصولی، نیز ایک چینی اور ایک مقامی انجینئر کی ہلاکتوں کی صورت میں مکمل ہوا ہے جس سے قبائلی علاقوں میں تعمیر وترقی اور سماجی ومعاشی انقلاب کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی شدت، نیز ہمارے حکمرانوں اور مقتدر اداروں کی قبائلی علاقوں میں عدم دلچسپی کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

Share this: