قومی معیشت کو بحران سے نکالنا سب سے بڑا چیلنج ہو گا

حامد ریاض ڈوگر
فرائیڈے اسپیشل: ڈاکٹر صاحب! آپ نے حکومت میں رہتے ہوئے ملکی معاملات کو بہت قریب سے دیکھا ہے، 2018ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی جو نئی حکومت بن رہی ہے، اسے فوری طور پر کیا چیلنج درپیش ہوگا؟
وقار مسعود خاں: تحریک انصاف کی نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج قومی معیشت کو بحران سے نکالنے کا ہے۔ اس وقت ہمارا بیرونی ادائیگیوں کا توازن بری طرح بگڑ چکا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً ختم ہوچکے ہیں۔ کرنٹ اکائونٹ خسارہ 18 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو ہماری معیشت کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: اس صورتِ حال سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟
وقار مسعود خاں: بگڑتی ہوئی معاشی صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں آٹھ ماہ پہلے آئی ایم ایف کے پاس چلے جانا چاہیے تھا۔ اب بھی یہی ایک راستہ ہوسکتا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: مگر عمران خان صاحب تو اپنی تقریروں میں آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کے اعلانات کرتے رہے ہیں؟
وقار مسعود خاں: یہ تو سیاسی باتیں ہیں، انہیں چھوڑیں۔ حقیقت یہی ہے کہ ہمیں آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑے گا۔ اور کوئی ذریعہ نہیں۔ کہاں سے لائیں گے اتنی بڑی رقم…! بہتر یہی ہوگا کہ آئی ایم ایف سے بات کریں۔ اس طرح عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی امداد کے راستے بھی کھلیں گے۔ ہم یورو بونڈز بھی جاری کرسکیں گے۔
فرائیڈے اسپیشل: لیکن آئی ایم ایف کو بھی تو امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر اُس نے پاکستان کو بیل آئوٹ پیکیج دیا تو وہ اس کی مزاحمت کرے گا؟
وقار مسعود خاں: یہ دھمکی صحیح معلومات پر مبنی نہیں۔ آئی ایم ایف کی امداد سے چینی قرضے واپس کرنا تو ہمارے پیش نظر ہے ہی نہیں۔ ہم تو اس امداد سے اپنے ختم ہوتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں اور اس امداد کو اسٹیٹ بینک میں جمع کریں گے۔
فرائیڈے اسپیشل: شدید معاشی بحران کے اس مشکل وقت میں بیرونِ ملک پاکستانیوں سے کیا کوئی مدد نہیں مل سکتی؟
وقار مسعود خاں: مل سکتی ہے مگر بہت معمولی۔ وہ تھوڑا بہت اس مشکل وقت میں کام آسکتے ہیں، مگر بحران جس قدر شدید ہے اس پر مکمل طور پر قابو پانا بیرونِ ملک پاکستانیوں کی مدد سے ممکن نہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: سعودی عرب اور چین جیسے دوست ممالک سے بھی کوئی توقع رکھی جا سکتی ہے؟
وقار مسعود خاں: یہ عارضی طور پر ہمارا ہاتھ بٹا سکتے ہیں، مگر مستقل حل ان کے پاس نہیں۔ اس کے لیے آئی ایم ایف سے رابطہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ وہ معیشت کی بہتری کے لیے امداد دیتے وقت پالیسیوں میں مختلف نوعیت کی پائیدار تبدیلیاں بھی تجویز کرتا ہے اور پھر نگرانی بھی کرتا ہے۔ وہ ایک باقاعدہ پروگرام کے تحت آگے بڑھتا اور حسابات وغیرہ پر بھی نظر رکھتا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: گویا آپ کی رائے میں آئی ایم ایف سے پیچھا چھڑانا ممکن نہیں ہے؟
وقار مسعود خاں: آئی ایم ایف نے تو ہمارا پیچھا چھوڑ دیا تھا مگر ہم نے خود ہی موقع ضائع کردیا۔ پچھلی حکومت نے تین سال تک کامیابی سے آئی ایم ایف کے پروگرام پر عمل کیا جس سے ہماری معیشت کو استحکام حاصل ہوا، مگر جاتے جاتے یہ حکمران سب کچھ ضائع کر گئے۔ اب بھی سنجیدگی سے آئی ایم ایف کے پروگرام پر عمل کریں گے تو دوبارہ اس سے پیچھا چھوٹ جائے گا۔
فرائیڈے اسپیشل: ہماری معاشی زبوں حالی کا ایک بڑا سبب درآمدات اور برآمدات میں زبردست عدم توازن بھی ہے، اس کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟
وقار مسعود خاں: برآمدات ایک دن میں بڑھ نہیں سکتیں، فوری طور پر درآمدات میں کمی ممکن ہے، جس سے معاشی عدم توازن میں قدرے بہتری لائی جا سکتی ہے۔ برآمدات کو بڑھانے کے لیے بھی ہمیں طویل المیعاد منصوبہ بندی کرنا اور ٹھوس و مستقل نوعیت کی پالیسیاں تشکیل دینا ہوں گی۔ درآمدات میں کمی کے لیے بھی سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔ گزشتہ مالی سال کے بجٹ میں ہم نے 1480 ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا تھا مگر جون 2018ء تک یہ خسارہ 2450 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ طے شدہ اہداف سے خسارے میں ایک ہزار ارب روپے کا یہ اضافہ ہماری معیشت کو لے ڈوبا۔
فرائیڈے اسپیشل: عمران خان نے سادگی اپنانے کے جو اعلانات کیے ہیں، کیا ان سے مثبت نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے؟
وقار مسعود خاں: یہ نہایت مثبت سوچ ہے کہ حکمران سادہ طرززندگی اپنائیں۔ عوام کا پیسہ شاہ خرچیوں پر نہ اڑایا جائے۔ اس سے لوگوں میں اعتماد بڑھے گا… قوم کو مضبوط پیغام ملے گا تو لوگوں میں ٹیکس دینے کا رجحان بھی بڑھے گا۔
فرائیڈے اسپیشل: انتخابات کے فوری بعد ڈالر کی قیمت میں کمی کا جو رجحان دیکھنے میں آیا ہے اسے آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
وقار مسعود خاں: ملک میں گزشتہ عرصے میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی فضا کے باعث لوگوں میں ایک خوف نے جنم لیا اور انہوں نے دھڑا دھڑ ڈالروں کی خریداری شروع کردی۔ انتخابات کے بعد لوگوں میں ایک اعتماد پیدا ہوا ہے اور ملک میں مستحکم حکومت کے قیام کی توقع پیدا ہوئی ہے تو عوام کے رجحان میں تبدیلی آئی ہے، اور جن لوگوں نے بے تحاشا ڈالر خرید لیے تھے وہ اب انہیں واپس مارکیٹ میں لے آئے ہیں جس سے ڈالر کی قیمت میں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: عمران خان صاحب نے اپنے منشور میں ایک کروڑ لوگوں کو روزگار دینے اور پچاس لاکھ مکانوں کی تعمیر کے جو وعدے کیے ہیں کیا ان کی تکمیل ممکن ہے؟
وقار مسعود خاں: یقینا ممکن ہے، مگر یہ پانچ سال کے اہداف ہیں۔ فی الحال انہیں معیشت کی بحالی کے لیے فوری اور ہنگامی نوعیت کے اقدامات پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔

Share this: