نئی حکومت،درپیش چیلنج کیا ہیں؟

آخرکار عمران خان ایک طویل سیاسی جدوجہد کے بعد اقتدار کی سیاست میں داخل ہوگئے ہیں۔ اگرچہ ان کو 2013ء کے انتخابات کے نتیجے میں خیبر پختون خوا میں حکومت ملی تھی، مگر اِس بار اُن کے پاس مرکز سمیت پنجاب کی بھی حکمرانی ہے اور بلوچستان میں ان کی مخلوط حکومت بن رہی ہے۔ اس تناظر میں عمران خان کا نیا امتحان ان کی حکمرانی کے دور سے شروع ہوگیا ہے۔ اگرچہ انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کی تمام تر مخالفت کے باوجود انتخابی معرکہ جیت لیا ہے، مگر یہ ان کی سیاسی جنگ کی پہلی فتح ہے، جبکہ اصل اور بڑی جنگ کا فائنل رائونڈ زیادہ اہمیت اختیار کرگیا ہے، کیونکہ اب مسئلہ محض عمران خان یا اُن کی جماعت کا ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا ہے، کیونکہ عمران خان نے بنیادی طور پر اپنی سیاسی جدوجہد سے لوگوں میں تبدیلی اور نئے پاکستان کے تناظر میں بہت زیادہ امیدیں پیدا کردی ہیں۔ اگرچہ عمران خان فوری طور پر تو کوئی بڑا جادو نہیں کرسکیں گے، مگر کچھ ابتدائی خاکہ یا منصوبہ ایسا پیش کرسکتے ہیں جو بہتر مستقبل کی امید پیدا کرسکتا ہے۔ عمران خان سے اس وقت بہت سے لوگوں کو بہت زیادہ توقعات بھی ہیں، اور ان توقعات کو بڑھانے میں خود عمران خان کا اپنا کردار ہے،کیونکہ اُن کی ساری کی ساری سیاست تبدیلی کے ایجنڈے سے جڑی ہوئی ہے۔ اس لیے خود عمران خان نے ٹھیک کہا ہے کہ اگر ہم نے تبدیلی کے لیے کام نہیں کیا تو ہمارا حشر بھی ہمارے سیاسی مخالفین کی طرح ہی ہوگا۔ اُن کے بقول اس لیے ایک طرف میں قوم کو جوابدہ ہوں تو دوسری طرف آپ سب لو گ مجھے جوابدہ ہیں، اور میں خود براہِ راست حکمرانی کے نظام کی نگرانی کروں گا۔ اسی طرح انہوں نے برطانوی طرز پر ایک گھنٹے کے لیے خود کو پارلیمانی سیاست اور پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہی کے لیے پیش کیا ہے۔ عمران خان کو یہ بات پیش نظر رکھنی ہوگی کہ نہ صرف ان کے حمایتی بلکہ ان کے بڑے سیاسی مخالفین بھی ان کے ہر عمل اور اقدام کی کڑی نگرانی کریں گے۔ بالخصوص ان کے مخالفین ان کی اور ان کی حکومت کی کمزوریوں یا غلط فیصلوں کو بنیاد بناکر ان کو مشکل صورتِ حال سے دوچار کرنے کی کوشش کریں گے۔ اگرچہ عمران خان نے اپنی جیت کے بعد ابتدائی تقریر میں اپنے تمام مخالفین کو بھی دفاعی پوزیشن پر کھڑا کردیا ہے،کیونکہ ان کی تقریر کو ان کے مخالفین نے بھی سراہا ہے اور کہا ہے کہ اب عمران اس پر عمل درآمد کرکے دکھائیں۔ پاکستان اور پاکستان سے باہر بہت سے سیاسی تجزیہ نگار عمران خان کو ایک بڑے سیاسی گیم چینجر کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
یہی اب عمران خان اور ان کی ٹیم کا امتحان ہے کہ وہ اس میں کیسے کامیاب ہوتے ہیں۔ عمران خان کا پہلا امتحان اپنی حکمرانی کے لیے ٹیم کی سلیکشن کا ہوگا۔ اس کا اندازہ ان کی جانب سے وزرائے اعلیٰ، گورنرز، وفاقی اور صوبائی وزرا، مشیروں اور اعلیٰ اداروں میں اہم عہدوں پر تقرریوں سے ہوگا۔ اگر وہ میرٹ کے بجائے سیاسی سمجھوتوں، ذاتی دوستیوں اور اقربا پروری کی بنیاد پر نااہل اور بری شہرت کے حامل افراد کو سامنے لاتے ہیں تو ان کی ابتدا ہی غلط ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان خود بھی اپنی ٹیم کی سلیکشن میں طویل مشاورت کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ عمران خان کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ اپنی ٹیم کی سلیکشن کے بارے میں زیادہ غوروفکر کررہے ہیں اور خود کہہ چکے ہیں کہ ایسے افراد جن پر مقدمات ہیں یا جن کی شہرت اچھی نہیں وہ ان کی حکمران ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گے۔ دیکھنا ہوگا کہ وہ اپنے اس مؤقف میں کس حد تک سرخرو ہوتے ہیں۔ عمران خان کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ ان کی حکومت کے پہلے سو دن ہی ان کی حکومت کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ اس لیے جو ابتدا وہ کریں گے اسی کو دیکھ کر ان کی حکومت کے مستقبل کے بارے میں اندازہ کیا جاسکے گا۔ عمران خان کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ اُن کے اردگرد ایسے کئی غیر سیاسی اور ناتجربہ کار لوگ موجود ہیں جنہوں نے اُن کو اپنے حصار میں لیا ہوا ہے۔ اس حصار سے عمران خان کیسے باہر نکلیںگے اور ایسے افراد کوکیسے روکیں گے جو حکمرانی میں ذاتی مفاد یا کاروبار کو ترجیح دیتے ہیں، یہ عمران خان کا اصل امتحان ہوگا۔
عمران خان کے سامنے اس وقت چھے بڑے چیلنج ہیں۔ اول: درست ٹیم کا انتخاب، دوئم: موجودہ معاشی بحران سے نکلنے کا راستہ یا فوری ریلیف، سوئم: حکمرانی کا بحران، چہارم: عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف، پنجم: خارجی و علاقائی بحران، ششم: مؤثر، شفاف احتساب اور جوابدہی کا نظام۔
عمران خان کو چاہیے کہ وہ ماضی کے حکمرانوںکے مقابلے میں ایک ایسا طرزِ حکمرانی متعارف کروائیں جو لوگوں کو متاثر بھی کرے اور واضح نظر بھی آئے۔ یہ اچھی بات ہے کہ عمران خان نے خود ابتدا میں ایوانِ وزیراعظم، گورنر ہائوس سمیت تمام تر شاہانہ اخراجات، انداز اور پروٹوکول کو چھوڑ کر حکمرانی میں سادگی کے کلچر کو متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر واقعی وہ اس پر عمل کرتے ہیں تو یہ عمل صوبائی اور ضلعی سطح پر بھی آنا چاہیے جہاں بیوروکریسی سمیت پورے کا پورا نظام بادشاہت اور صوابدیدی اختیارات پر مبنی ہے، جو ختم ہوکر ایک متبادل نظام آنا چاہیے۔ اس وقت واقعی ملک کو ایک نئے نظام کی ضرورت ہے جو منصفانہ بھی ہو اور شفاف بھی۔ اس کے لیے روایتی سیاست سے باہر نکلنا ہوگا، اور اگر عمران خان ایسا کچھ کرسکے تو یہ ایک بڑی تبدیلی کی طرف پیش رفت ہوسکتی ہے اور ملک کو اس کی ضرورت بھی ہے۔
عمران خان بنیادی طور پر مقامی حکومتوں کے نظام کے بڑے حامی ہیں۔ خیبر پختون خوا میں ان کی حکومت نے ایک بہتر نظام چلایا ہے۔ اب عمران خان کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ چاروں صوبوں میں نچلی سطح پر مقامی حکمرانی کے نظام کو مؤثر بناکر عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کا ترقیاتی بجٹ ختم کرکے اسے مکمل طور پر مقامی نظام سے جوڑا جائے۔ اب وقت آگیا ہے کہ قومی اور صوبائی ارکان کا اصل کردار قانون سازی اور نگرانی کے نظام سے جوڑا جائے۔کیونکہ قومی، صوبائی اور مقامی نظام میں ترقیاتی فنڈ کے نام پر جاری کشمکش نے حکمرانی کے پورے نظام کو کمزور کردیا ہے۔ عمران خان میئرز کے براہِ راست انتخاب کے حامی ہیں اور اب اس معاملے میں ان کو بڑی پیش رفت کرنی چاہیے، اور بالخصوص 1973ء کے دستور کے تحت مقامی نظام کو آئین کی شق140-Aکے تحت سیاسی، انتظامی اور مالی اختیار دیے جائیں۔ کیونکہ لاہور، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ اور کراچی جیسے بڑے شہروں کے حالات اس وقت ہی عملاً تبدیل ہوں گے جب ان شہروں میں مقامی حکومتوں کا درست نظام ہوگا۔
عمران خان سماجی سرمایہ کاری سمیت انسانی ترقی پر وسائل خرچ کرنے کو اپنی اہم ترجیح قرار دیتے رہے ہیں۔ اب وقت ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت تعلیم، صحت، انصاف، سماجی شعبوں سمیت عورتوں، بچوں، اقلیتوں، خواجہ سرائوں، کسانوں، مزدوروں اور نوجوانوں کو اپنی ترجیحات کا عملی حصہ بنائے۔ خاص طور پر بنیادی ضرورتوں سے جڑے سرکاری اداروں کی حالتِ زار کو درست کرے تاکہ ان اداروں میں عام آدمی کی رسائی آسانی سے ہو اور ریاست اور شہریوں کا باہمی تعلق مضبوط ہو۔ عمران خان کو چاہیے کہ کابینہ کا سائز مختصر رکھیں اور وزراء کو زیادہ سے زیادہ جوابدہ بنائیں۔ عمران خان کو اپنی سابقہ اسمبلی میں نہ جانے کی روایت بھی ختم کرنا ہوگی، کیونکہ اگر وہ خود پارلیمنٹ میں جائیں گے تو ان کی کابینہ بھی پارلیمنٹ میں جائے گی اور جوابدہ بھی ہوگی۔
عمران خان کے سامنے معاشی بحالی اہم چیلنج ہے۔ عمران خان کی حکومت کو ابتدا میں ہی عالمی برادری سے بڑی پذیرائی ملی ہے۔ کئی عالمی مالیاتی ادارے اس وقت عمران خان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ہمارا مسئلہ شفافیت کا ہے، اگر ہم دنیا کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہوجائیں کہ ان کا فنڈ شفافیت کے ساتھ انسانی ترقی پر ہی خرچ ہوگا تو عالمی ادارے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ اصل چیلنج بیرونِ پاکستان موجود پاکستانیوں کو سرمایہ کاری پر آمادہ کرنا اور ایک ایسے کاروباری ماحول و سہولیات کی فراہمی کا ہے جو معاشی صورتِ حال میں بڑی تبدیلی پیدا کرسکے۔ عمران خان جب ٹیکس نیٹ میں اضافے کی بات کرتے ہیں تو اس کا براہِ راست تعلق عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی سے ہے۔ یہ عمل ریاست، حکومت اورعوام کے درمیان موجود خلیج کو کم کرکے نچلے طبقات کی غربت کو بھی کم کرے گا۔ خود عمران خان بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ غریب لوگوں کی حیثیت کو بدلنا چاہتے ہیں۔ ان کے سامنے ترکی اور چین کا ماڈل ہے جہاں غربت کا درست سمت میں مقابلہ کیا گیا اور کمزور طبقات کی معاشی حالت کو بدلا گیا ہے۔
احتساب اور جوابدہی کے نظام پر کوئی بھی سمجھوتا نہ کیا جائے اور یہ عمل بلاتفریق ہونا چاہیے۔ اس کے لیے عمران خان خود کو اور اپنی حکومت میں شامل افراد کو سب سے پہلے احتساب سے جڑے اداروں کے سامنے پیش کریں، اس کے بعد باقی لوگوں کی طرف بڑھا جائے۔کیونکہ عمران خان کو اصولی طور پر جو مینڈیٹ ملا ہے اس میں احتساب کا عمل سرفہرست ہے، کیونکہ لوگ واقعی اس ملک میں بلاتفریق احتساب دیکھنا چاہتے ہیں، اور اگر عمران خان نے بھی اس مسئلے پر سابقہ حکومتوں کی طرح سمجھوتا کیا یا کمزوری دکھائی تو یہ ان کی بھی ناکامی ہوگی اور ملک کو بھی اس کا نقصان پہنچے گا۔ اسی طرح نچلی سطح پر انصاف کے نظام کو مؤثر بنانا، پولیس کے نظام میں موجود خرابیاں ختم کرنا، اور بالخصوص افراد کے مقابلے میں اداروں کو مضبوط بنانا اوّلین ترجیحات میں ہونا چاہیے، اور اس کے لیے میرٹ کی پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔
خارجہ محاذ پر عمران خان کو تعلقات کی بہتری کے لیے بہت مؤثر کام کرنا ہوگا۔ اس وقت ان کا چیلنج خارجہ امور سے متعلق اپنی ٹیم کا انتخاب ہے۔ سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری ان کی جماعت میں ہیں۔ اگرچہ انہوں نے انتخاب نہیں لڑا لیکن جو خارجی اور بالخصوص علاقائی صورت حال ہے اس میں عمران خان کو خورشید محمود قصوری کے تجربے اور صلاحیتوں سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہیے اور ان کو مشیر خارجہ کے طور پر سامنے لانا چاہیے۔ خورشید محمود قصوری عالمی رابطوں اور عالمی اور علاقائی مسائل پر گہری نظر بھی رکھتے ہیں۔ فخر امام بہت عرصے کے بعد پارلیمنٹ کے رکن بنے ہیں، اب وہ تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں، وہ اب تک کی پارلیمنٹ کے بہترین اسپیکر رہے ہیں۔ ان کی خدمات سے بھی عمران خان کو ضرور استفادہ کرنا چاہیے۔ ریاض فتیانہ جو تحریک انصاف کی حمایت سے پارلیمنٹ میں پہنچے ہیں انہوں نے ماضی میں انسانی حقوق کے حوالے سے بہت کام کیا ہے، وہ انسانی حقوق کی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ بھی رہے ہیں۔ ان کی خدمات سے بھی ضرور فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔ البتہ عمران خان کو مرکز اور پنجاب میں ایک بڑی اور مضبوط حزب اختلاف کا سامنا ہوگا جس سے نمٹنا خود ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

Share this: