حضرت ابراہیم ؑ اور قربانی

پیکر سعادت معز
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک سے آج تک ہر سال پوری دنیا میں جہاں جہاں مسلمان ہیں وہ اس سہ روزہ عظیم تہوار میں قربانی کے ذریعے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو زندہ کرتے ہیں۔ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ قرآن حکیم میں 17 ویں پارہ میں ارشاد ہے: اللہ کو تمہارے گوشت، خون کی ضرورت نہیں ہے۔ اسے صرف تمہارے تقوے کی ضرورت ہے۔ یعنی کتنے اخلاص اور کس نیت سے قربانی کرتے ہو۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی دینِ ابراہیمی کی روح ہے۔ اسی کی بدولت حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل اللہ کا اعزازِ عظیم نصیب ہوا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو توحید کی خاطر سب سے پہلے باپ جیسی عظیم ہستی کی محبت کی قربانی دینی پڑی، جس کی تفصیل سولہویں پارے کے چھٹے رکوع میں موجود ہے۔ پورا مکالمہ قرآن نے نقل کیا ہے۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعوتِ توحید پیش فرمائی تو والد غصہ میں آگئے اور کہا: اگر تم باز نہ آئے (دعوتِ حق سے) تو میں پتھروں سے تمہارا سر توڑ دوں گا اور تم میرے پاس سے چلے جائو۔ حضرت ابراہیمؑ نے ادب و احترام کے دامن کو نہ چھوڑا، بلکہ جواباً فرمایا: تم پر سلامتی ہو، میں اپنے رب سے تمہارے لیے دعا کا خواست گار رہوں گا، وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے۔ اس طرح حق و دین کی خاطر اللہ کا یہ نبی اپنے باپ کی محبت و شفقت سے محروم ہوگیا۔ اور اللہ کے دین کی خاطر یہ قربانی بھی بصد خوشی پیش کردی۔
اب دوسرا مرحلہ آتا ہے، جس میں حضرت ابراہیمؑ نے اپنی جان کی قربانی پیش کردی۔ کفر و شرک کی تمام قوتیں متحد تھیں کہ اللہ کے اس برگزیدہ نبی کو آگ میں ڈال کر جلا دیں تاکہ حق کی آواز بلند کرنے والا ہی نہ رہے۔ کفر و شرک نے ایڑی چوٹی کا زور لگاکر آگ کا الائو تیار کیا، لیکن دربارِ ربانی سے حکم ہوا: ’’اے آگ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا ابراہیم پر‘‘۔ حضرت ابراہیمؑ اس مرحلے میں بھی سرخرو ہوئے۔ کفر و شرک نے حیران و پریشان اپنی نگاہوں سے مشاہدہ کیا۔
تیسرا اہم قربانی کا مرحلہ آتا ہے۔ وہ ہے وطن اور اہلِ وطن سے الوداع ہونے کا۔ اللہ کا نبی برضا و رغبت، ہنسی خوشی گزر گیا۔ اپنے وطن کو خیرباد کہا۔ جوانی گزر گئی، بڑھاپے کی منزل آگئی۔ اللہ نے بیٹا عطا فرمایا اور اس کے ساتھ ہی امتحان کا پرچہ ہاتھ میں دے دیا کہ اس شیر خوار کو مع اس کی والدہ کے اس سرزمین پر لے جائو، جہاں نہ پانی ہو، نہ کھانے کا سامان ہو، نہ سبزہ لہلہاتا ہو۔ یہ خلیل اللہ اس امتحان میں بھی کامیاب ہوگیا اور یہ قربانی بھی دے ڈالی۔
بالآخر ایک اور امتحان کا وقت آگیا اور عظیم قربانی اللہ نے اپنے خلیل سے طلب کی جس میں یہ نبیٔ برحق سو فیصد پورا اترا اور ایسا امتحان دیا کہ فرشتے بھی حیران رہ گئے۔ اللہ کی طرف سے حکم ہوا کہ اکلوتے بیٹے (وہ بھی بڑھاپے میں ملنے والی اولاد) کو ہماری راہ میں قربان کردو۔ ابراہیمؑ نے اپنے اکلوتے بیٹے کو جب اللہ کا حکم سنایا تو اس معصوم بچے نے جواب دیا: ’’اے ابا جان! اگر خدا کی یہی مرضی ہے تو اِن شاء اللہ آپ مجھ کو صابر پائیں گے۔‘‘ پورا منظر قرآن نے نقل کیا ہے۔ 23 ویں پارے، 8 ویں رکوع میں قیامت تک کے لیے محفوظ کردیا گیا۔ حالانکہ یہ وقت وہ تھا کہ بوڑھے باپ کا ہاتھ بٹائے، لیکن خلیل اللہ کا بیٹا بھی اس امتحان میں سو فیصد پورا اترا۔ بارگاہِ خداوندی سے کیا اعزاز ملا ’’بے شک یہ کڑی آزمائش تھی‘‘(پارہ 23)۔ اللہ کو اکلوتے فرزند کی قربانی مقصود نہ تھی۔ صرف اپنے دوست کی محبت اور عشق کا امتحان مقصود تھا۔ جب رب نے دیکھا کہ بیٹا منہ کے بل زمین پر ہے اور باپ چھری لے کر تیار ہے تو اس سے قبل کہ چھری کام دکھائے، دربارِ ربانی سے ندا آتی ہے: اے ابراہیمؑ تُو نے تو خواب ہی سچ کر دکھایا۔ تجھے تیرا بیٹا مبارک ہو۔ ہمیں تیرے بیٹے کی قربانی کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم تو صرف آزما رہے ہیں۔ ہم دیکھ رہے تھے کہ تُو ہماری محبت میں کتنا صادق ہے۔ تُو تو واقعی صادق نکلا۔ لیکن تیرا بیٹا عاشقِ صادق نکلا۔ اس عشق و محبت کے امتحان میں پورا اترنے اور قربانیوں کے صلے میں ذاتِ ربانی سے یہ نوید ملی: ’’میں تمہیں بنی آدم کا امام بنائوں گا‘‘ (پارہ 1، رکوع 15)۔ اور اس امامتِ کبریٰ کا ظہور اس طرح ہوا کہ حضرت ابراہیمؑ کی اولاد میں سیدالکونین صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بناکر بھیجا جن پر امامت، نبوت، رسالت، معصومیت سب ختم ہوگئیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وہی دین پسند کیا گیا جو حضرت ابراہیمؑ کا تھا۔ اس اعلان کو زبانِ ختم نبوت سے اس طرح کرایا گیا: ’’اور کہہ دیجیے (اے محمد عربی) مجھے میرے رب نے سیدھا راستہ دکھایا یعنی دین قیم، جو طریقہ ہے ابراہیمِ حنیف کا‘‘ (الانعام)۔ یہی وہ ’’قربانی‘‘ ہے جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی مقبول ہوئی کہ بطور یادگار ہمیشہ کے لیے ملتِ ابراہیمی کا شعار قرار پائی اور آج بھی ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو تمام دنیائے اسلام میں یہ ’’شعار‘‘ اسی طرح منایا جاتاہے۔

Share this: