ہند، ہندو اور چوکھٹ

پاکستان کی بیرونی امداد تو کھٹائی میں پڑ گئی ہے لیکن ہمیں اس کالم کے لیے وافر بیرونی امداد مل رہی ہے، اتنی کہ ہمیں کچھ لکھنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آرہی۔ پہلی امداد اسلام آباد کے نوخیز دانشور عبدالخالق بٹ کی طرف سے موصول ہوئی ہے۔ انہوں نے 10 اگست 2018ء کے شمارے میں شائع ہونے والے کالم کے چند نکات پر توجہ دلائی ہے۔ لکھتے ہیں:
’’1۔ راقم نے اپنے مکتوب میں ’’ہندستان‘‘ درج کیا تھا جو بعد از اشاعت ’’ہندوستان‘‘ ہوگیا ہے۔ محققین کے نزدیک ’’ہندستان‘‘ کو ترجیح حاصل ہے۔ اس کی سادہ سی دلیل یہ ہے کہ اس خطے کو انگریزوں کی آمد سے قبل ’’ہندستان‘‘ ہی لکھا جاتا تھا۔ لہٰذا اسے اس کی اصل کے مطابق ہی لکھا جائے۔ ’’ہندوستان اور ہندستان‘‘ کے معنوں میں بھی’’جہاں دیدہ اور جہانِ دیدہ‘‘ کا سا دلچسپ فرق ہے۔
’’ہندستان اورہندوستان‘‘کا لاحقہ ’’ستان‘‘ اپنی مختلف صورتوں (استھان، ستھان، ستان، تھان، تھانہ،آستانہ اور اَن) کے ساتھ مفرد اور مرکب صورت میں مسکن، جگہ، علاقہ، خطہ، شہر اور ملک کے معنی دیتا ہے۔ اسے راجستھان، پاکستان، مہران اور مکران وغیرہ کی مثالوں سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔
یوں تو ’’ہندستان‘‘ کے معنی ’’سرزمینِ ہند، ارضِ ہند، خطۂ ہند اور ملک ہند وغیرہ‘‘ قرار پاتے ہیں۔ جب کہ ’’ہندوستان‘‘ کے معنی ’’ہندوؤں کا ملک، ہندوؤں کا وطن اور مسکن‘‘ وغیرہ ہوں گے۔
’’ہند‘‘ کا نام اصلاً ایرانیوں کی دَین ہے، جنہوں نے اس خطے کے سب سے بڑے دریا ’’سندھو‘‘ کو ’’ہندو‘‘ اور اس سرزمین کو جہاں ’’ہندو‘‘ بہتا تھا ’’ہند‘‘ کے نام سے پکارا (سین کا ہائے ہوز سے تبادل عام بات ہے، سنسکرت کا سپت (سات) فارسی کا ہفت ہے اور یہی سپت ’پ‘ کے ’ب‘ سے بدلنے پر عبرانی اور عربی میں سبت ہوگیا ہے)۔
جب یونانیوں نے اس خطے میں قدم رکھا تو ’’دریائے سندھ‘‘ کو اپنے لہجے میں ’’انڈوس‘‘(Indos) اور اس سے اوپر کی سرزمین کو ’’انڈیکا‘‘ (Indica) کا نام دیا اور یہ دونوں الفاظ لاطینی زبان میں پہنچ کر بالترتیب’’انڈس‘‘ اور ’’انڈیا‘‘ ہوگئے (انڈیا کی وجہ تسمیہ سے متعلق اور بھی تحقیقات پائی جاتی ہیں جو سردست طولِ کلام سے بچنے کے لیے درج نہیں کی جارہیں)۔ ایرانیوں، یونانیوں کے بعد یہاں عربوں نے قدم رکھا اور مفتوحہ علاقے کو ’’سند‘‘ اور غیر مفتوح خطے کو ’’ہند‘‘ کے نام سے پکارا۔
برسبیل تذکرہ ’’ہندو‘‘ کے حوالے سے ایک دلچسپ بات، اور وہ یہ کہ ہندوستان میں رہنے والا ہرفرد ’’ہندستان‘‘ کی نسبت سے ’’ہندو‘‘ کہلائے گا خواہ اس کا دین دھرم کچھ بھی ہو۔ دوم یہ کہ ہندوستان کے قدیم دراوڑی باشندوں کے رنگ و روپ کی رعایت سے فارسی میں ’’ہندو‘‘ کے معنی ’’سیاہ/کالا‘‘ ہیں۔ اس بات کو ایک تاریخی اور ایک شعری حوالے سے سمجھیں۔
یمن پر حبشہ کے قبضے کے بعد بے دخل ہونے والے حکمران خاندان کا فرد غالباً ’’شاہ ذی یزن‘‘ جب امداد کے لیے کسریٰ ایران کے پاس پہنچا اور اسے بتایاکہ اس کے ملک پر کوّوں (کنایۃً کالوں) نے حملہ کردیا ہے تو کسریٰ نے استفسار کیا ’’کون سے کوّے، ہندستان کے یا حبشہ کے؟‘‘
یہ تو ہوا تاریخی حوالہ۔ اب فارسی غزل کے سب سے بڑے شاعر حافظ شیرازی کی مشہورِ زمانہ غزل کا مشہور ترین مطلع ملاحظہ کریں :

گر آن ترک شیرازی بہ دست آرد دل ما را
بہ خال ہندویش بخشم سمرقند و بخارا را

’’اے شیرازی محبوب اگر تُو میرا نذرانہ دل قبول کرلے تو میں ترے رخسار پر موجود کالے تل کے بدلے سمرقند و بخارا بخش دوں‘‘
(اس شعر سے متعلق روایت ہے کہ امیر تیمور نے فتح ایران کے بعد جب حافظ سے شعر مذکور سے متعلق خفگی کا اظہارکیا کہ تم میرے وطن کو ایک سیاہ تل کے عوض بخشنے پر آمادہ ہو، تو حافظ شیرازی نے اپنی تنگ دستی کو اسی دریا دلی کا نتیجہ قرار دیا۔ مگر یہ روایت جتنی مشہور ہے اُتنی ہی غلط بھی ہے کیونکہ تاریخی اعتبار سے حافظ کا انتقال تیمور کی فتحِ ایران سے پہلے ہوگیا تھا)
بہت سے لفظوں اور ناموں کی طرح لفظ’’ہند‘‘کے ساتھ عجب اتفاق یہ کہ اگر یہ ایران میں ’’سیاہ/کالے‘‘ کے معنی دیتا ہے تو عرب میں یہ خوبصورتی اور کاملیت (Perfection) کا مفہوم رکھتا ہے۔ ہند کی تلواروں کو عرب میں خصوصی اہمیت حاصل تھی، اس حوالے سے روایت ہے کہ حضرت کعب ؓبن زہیر جو عرب کے مشہور شاعر تھے،جب دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے تو مدینہ منورہ آکر اپنی سابقہ خطاؤں پر معافی اور امان طلب کی، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں معاف فرما دیا۔ اس موقع پر کعب ؓبن زہیر نے ’’قصیدہ بانت سعاد‘‘ سنایا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بڑے ذوق اور محویت کے ساتھ قصیدہ سماعت فرمارہے تھے۔ حضرت کعب ؓ جب درج ذیل شعر پر پہنچے :

ان الرسول لسیف یستضاء بہ
مھند من سیوف الہند مسلول

ترجمہ:’’رسول اللہ ایسی کھینچی ہوئی ہندی تلوار ہیں، جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے۔‘‘
آپؐ نے اس شعر کے دوسرے مصرعے کی اصلاح فرماتے ہوئے ’’سیوف الہند‘‘ کو ’’سیوف اللہ‘‘ سے بدلنے کوکہا۔ (شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ بحیثیت پیغمبر کسی بھی مقام کے مقابلے میں نسبتِ الٰہی آپ کے شایانِ شان تھی) حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اشارہ پاتے ہی اس شعر کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اصلاح کے ساتھ دہرایا۔ چنانچہ مصرع ثانی یوں ہوگیا ’’مھند من سیوف اللہ مسلول‘‘۔ اس ایک لفظی اصلاح سے شعر کے معانی و مفاہیم ہی بدل گئے۔ شاعر و شعر دونوں ہی کو اونچا مقام مل گیا۔ اس شعر پر نبی علیہ السلام نے حضرت کعبؓ کو اپنی چادر اتار کر عطا فرمائی، یوں حضرت کعب ؓکا ’’قصیدہ بانت سعاد‘‘ چادر کی نسبت سے ’’قصیدہ بردہ شریف‘‘ کہلایا۔ قارئین کو یہاں امام بوصیری ؒ کے ’’قصیدہ بردہ شریف‘‘ سے التباس نہیں ہونا چاہیے۔
علاوہ ازیں عرب میں زمانہ قدیم سے لڑکیوں کا نام ’’ہند‘‘ رکھا جاتا ہے۔ حضرت ابوسفیانؓ کی زوجہ کا نام جنہیں ہمارے یہاں ’’ہندہ‘‘ لکھا جاتا ہے وہ درحقیقت ’’ہند‘‘ ہے۔
2۔ ’’چوکھٹ‘‘ کے حوالے سے آپ نے درج کیا ہے کہ ’’دروازے کی نیچے کی لکڑی کو چوکھٹ کہتے ہیں‘‘۔ یقینا کہتے ہیں مگر اس ’’چوکھٹ‘‘ پر غور کریں تو نیچے کے ساتھ ساتھ اِدھر اُدھر اور اوپر کی لکڑی بھی چوکھٹ ہی میں داخل ہوجاتی ہے، اور وہ یوں کہ چوکھٹ دو لفظوں چو (چار) اور کھٹ ( لکڑی) سے مرکب ہے۔ صاحبِ فرہنگ آصفیہ ’’چوکھٹ‘‘کے ضمن میں لکھتے ہیں: ’’دروازے کی چار لکڑیاں جن میں پٹ لگائے جاتے ہیں‘‘۔ اسی چوکھٹ کی ایک صورت’’چَوْکَھْٹَا‘‘ بھی ہے جو انگریزی لفظ frame ( فریم) کا ہندی مترادف ہے۔
’’چَوْ‘‘ اردو میں بہت سے مرکبات میں بطور سابقہ مستعمل ہے۔ مثلاً چوکھونٹ (چاروں طرف، دنیا)، چوپایہ (چار پیروں والا/ مویشی)، چو پہر (چارپہر کا) وغیرہ۔ علاوہ ازیں گنتی میں چودہ (چار اور دس)، چوبیس (چار اور بیس) اور چونتیس (چار اور تیس) وغیرہ بھی اسی ’’چو‘‘ سے مرکب ہیں۔
رہی بات ’’کھٹ‘‘(لکڑی)کی، تو سوال کیا جاسکتا ہے کہ لکڑی کو تو ’’کاٹھ‘‘ (تخفیفی صورت’’کٹھ‘‘)کہا جاتا ہے، جس سے ’’کاٹھ کا اُلّو‘‘ اور’’کاٹھ کی ہانڈی باربارنہیں چڑھتی‘‘ جیسے محاورے اور کاٹھ پتلی(کٹھ پتلی) اور کاٹھ کباڑ کی تراکیب بنی ہیں، تو ایسے میں یہ ’’کھٹ‘‘ کہاں سے آگیا؟ پھر ’’کھٹ‘‘ اور ’’کٹھ‘‘ میں ’’ٹ اور ھ‘‘ کی ترتیب بھی اُلٹی ہے۔ تو عرض ہے کہ الفاظ کے الٹ پھیر کے حوالے سے نہ تو اردو کوئی منفرد زبان ہے اور نہ ہی یہ اردو کا واحد لفظ ہے جو حروف کی بے ترتیبی کے ساتھ ہر دو صورتوں میں ایک ہی معنی کے ساتھ موجود ہے۔
عربی میں ابرِ باراں کے لیے لفظ ’’غیم‘‘ مستعمل ہے، فارسی میں یکساں معنی مگر یکسر الٹی ترتیب کے ساتھ بصورت’’میغ‘‘ بولا جاتا ہے۔ اور یہی میغ صوتی تبادل کے بعد ہندی میں میگھا (بارش کا دیوتا) ہے۔ پھر پانی کی نسبت سے مشرقی بنگال کا ایک اہم دریا ’’میگھنا‘‘ کہلاتا ہے۔
جانوروںکے ’’اسپیئر پارٹس‘‘ سے بنائی جانے والی ڈش کراچی میں ’’کٹاکٹ‘‘ کے نام سے پکاری جاتی ہے جو لاہور پہنچتے پہنچتے ’’ٹکاٹک‘‘ بن جاتی ہے۔ اردو کا ’’کیچڑ‘‘ پنجابی میں ’’چکّڑ‘‘ہے۔ اردو میں عام بولے جانے الفاظ ’’مہنگائی اور مہندی‘‘اپنی اصل میں ’’منہگائی اور منہدی‘‘ ہیں، مگر خواص اور عوام سب ہی انہیں اول الذکر صورت میں بولتے اور لکھتے ہیں۔ ان الفاظ کا ’’غلط‘‘استعمال اس قدر راسخ ہوچکا ہے کہ ان کا درست املا اور تلفظ صوری اور صوتی ہر دواعتبار سے نادرست معلوم ہوتا ہے۔
نیپال دنیا کی بلند ترین چوٹی کی نسبت جانا جاتا ہے اور اس کا دارالحکومت ’’کھٹمنڈو‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے، جب کہ درحقیقت یہ کاٹھمنڈو/کٹھمنڈو (لکڑی کی منڈی) ہے۔اصل میں ’’کٹھ‘‘ کہنے میں جو تکلف ہے وہ’’کھٹ‘‘ میں نہیں ہے اسی لیے یہ ’’کھٹ‘‘ سے ادا ہوجاتا ہے۔ اپنی اسی روانی کی بدولت یہ ’’کھٹ‘‘… کاٹھ/کٹھ کے شانہ بشانہ موجود ہے۔
3۔ فیل کے ضمن میں درج ہے کہ ’’عربی کے فیل (ہاتھی) کے بارے میں لغت کہتی ہے کہ یہ فارسی کے ’’پیل‘‘ کا معرب ہے، تاہم عربی کے بڑے محققین کا کہنا ہے کہ قرآن کریم میں جتنے بھی الفاظ آئے ہیں وہ عربی کے ہیں، اور کسی دوسری زبان سے نہیں لیے گئے۔‘‘
عرض ہے کہ کسی بھی زندہ زبان کے حوالے سے یہ حقیقت فراموش نہیں کی جاسکتی کہ جذب وانجذاب اس زبان کا لازمی خاصہ ہوتا ہے اور یہی کچھ عربی زبان کے ساتھ ہے۔ عربی زبان نے بھی حسب ضرورت اپنے اطراف موجود سریانی، عبرانی، رومی، فارسی، نبطی، حبشی اور ہندی (سنسکرت) زبانوں سے الفاظ لے کر انہیں معرب بنایا ہے۔ عربی میں ’’معرب الفاظ‘‘ کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔ انہیں ذیل کی چند مثالوں میں دیکھا جاسکتا ہے:
’’سراج المنیر‘‘ کا سراج اصلاً فارسی کا ’’چراغ‘‘ ہے۔سجیل فارسی ہی کے سنگ ِگل (یعنی سخت گندھی ہوئی مٹی/ پکی ہوئی مٹی جو پتھرا جائے) کی مرکب صورت ہے۔ صراط (راستہ) کی اصل یونانی لفظ سراط یا زراط ہے، وغیرہ۔ مولانا شبلی نعمانی ؒ نے تمدنی ضروریات سے متعلق عربی زبان میں موجود ایسی بہت سی چیزوں کے نام بیان کیے ہیں جن کی اصل عجمی ہے، جب کہ آپ کے شاگردِ رشید مولانا سید سلیمان ندوی ؒ نے قرآن میں بیان کردہ جنت کی خوشبوؤں میں سے تین خوشبوؤں کا ہندی الاصل ہونا ثابت کیا ہے، یعنی مسک (مشک)، زنجبیل (زرنجبیرا) اور کافور(کپور)۔ اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے قارئین شوکت سبزواری کا مضمون ’’قرآن میں عجمی الفاظ‘‘، ڈاکٹر سراج الاسلام حنیف کے مضمون ’’قرآن مجید میں مُعَرَّبْ‘‘، پروفیسر علی محسن صدیقی کے مضمون ’’قرآن میں غیر عربی الفاظ کی حقیقت‘‘، سیرت النبیؐ از شبلی نعمانی ؒ کی جلد اول میں ’’تہذیب وتمدن‘‘ کے زیر عنوان، سید سلیمان ندوی ؒکی کتابوں ’’عرب اور ہند کے تعلقات‘‘ اور ’’عربوں کی جہاز رانی‘‘ کے متعلقہ حصے سے رجوع کرسکتے ہیں۔
(واللہ اعلم بالصواب)‘‘

Share this: