سالانہ مجلہ حریمِ ادب

حر یم اد ب ۔ نام ہی ایسا ہے کہ ادب کے اس حرم کو باوضو ہوکر ہاتھ لگانا چاہیے۔ خواتین کے اس مجلے کے نام کا انتخاب جس نے کیا وہ قابل ستائش ہے۔ حریم کعبہ کی چار دیواری اور اس کے اطراف کو کہتے ہیں۔ علاوہ ازیں کسی گھر کے چاروں طرف کی دیوار کو بھی کہتے ہیں جس کے حوالے سے چادر اور چار دیواری کے تقدس کا نعرہ لگتا رہتا ہے اور اس کی پامالی کی خبریں بھی آتی رہتی ہیں۔ لیکن حریم ادب صحیح معنوں میں چادر اور چہار دیواری کے تقدس کا درس ہی نہیں دیتا اس کا اہتمام بھی کرتا ہے۔
حریم ادب کا سالانہ مجلہ (دسمبر 2017ء صوری اور معنوی خوبیوں سے متصف ہے۔ اس کے لیے حریم ادب پاکستان، اصلاحی ادبی انجمن خواتین پاکستان مبارکباد کی مستحق ہیں۔ خواتین کے جو رسائل و جرائد شائع ہورہے ہیں ان میں عموماً خواتین کی دلچسپیوں، کھانے پکانے کی ترکیبوں یا گھر کی سجاوٹ سے متعلق مضامین شائع ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کی بھی ضرورت ہے لیکن حریم ادب کا یہ مجلہ ان سے ہٹ کر بہت دلچسپ مضامین اور ان سے بڑھ کر بڑے مزے کے افسانوں سے مملو ہے۔ مجلہ خواتین ہی نے ترتیب دیا ہے اور لکھنے والیاں بھی خواتین ہی ہیں لیکن ہر تحریر ایسی ہے جو کسی بھی افسانوی ادب کے مقابلے میں رکھی جاسکتی ہے۔ افسانوی ادب میں متعدد خواتین بڑی معروف رہی ہیں۔ ان کے نام سے سبھی واقف ہیں۔ ان کو پڑھ کر یہ گمان ہوتا تھا کہ شاید افسانہ طرازی خواتین ہی کا حصہ ہے اور یہ ایسا غلط بھی نہیں۔ یہ سفر رکا نہیں ہے۔ آج بھی خواتین ناول لکھ رہی ہیں، افسانے بیان کررہی ہیں اور کچھ لکھنے والیاں تو خواتین کے لیے رسالے بھی شائع کررہی ہیں۔ تاہم حریم ادب کی ٹیم میں شامل خواتین افسانہ نگار ایک مقصد کے لیے لکھ رہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں دیگر خواتین نے بے مقصد لکھا ،ہر تحریر کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے اور حریم ادب کے لیے لکھنے والیوں کا بھی ایک مقصد ہے جو ’’اصلاحی ادبی انجمن خواتین‘‘ کے نام سے ظاہر ہے۔ یعنی کوئی ایک سطر بھی امت مسلمہ کے عقاید و نظریات کے خلاف نہیں ہونی چاہیے۔ حریم ادب کے پس ورق پر یہ وضاحت ہے کہ ’’ادب برائے زندگی، زندگی برائے بندگی، زندگی بے بندگی شرمندگی‘‘۔ یہی اس کا منشور ہے۔
کچھ لوگ چھوٹتے ہی طنز کر بیٹھتے ہیں کہ ہر معاملے میں اسلام ڈال دیا جاتا ہے۔ لیکن ایسا کیوں نہ ہو کہ مسلمان کا تو اوڑھنا، بچھونا ہی اسلام ہے، مکمل ضابطۂ حیات، سیاست و معیشت ہو یا ادب، سب کچھ اس کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ اسلامی ادب کیا ہے، اس کی وضاحت تو مشکل ہے لیکن کچھ لوگ گمان کرتے ہیں ایسے ادب میں محض نصیحتیں ہوتی ہیں اور نہایت خشک ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو حریم ادب کا مطالعہ کرنا چاہیے، سالانہ مجلے میں جتنے بھی افسانے شامل کیے گئے ہیں وہ نہایت دلچسپ ہیں اور مرد بھی شوق سے پڑھ سکتے ہیں۔ کسی ایک کا نام لینا تو دوسروں کے ساتھ زیادتی ہوگی۔
شکست میں محترمہ نیر کاشف نے بڑے سلیقے سے ایک مسئلے کی نشاندہی کی ہے اور سب کچھ بین السطور ہے لیکن اس کا موضوع ’’حریم ادب‘‘ سے لگا نہیں کھاتا۔ منزہ سہام مرزا بہت منجھی ہوئی قلم کار ہیں۔ ان کے افسانہ ٹھنڈک میں وجود کی گرمی محسوس ہوتی ہے۔ پاکستان کے ادبی رسائل، جرائد (ڈاکٹر اسماء قیصر) کا جائزہ جامع ہے۔ نگہت اعظمی نے معاشرے میں ادیب کا کردار بیان کیا ہے۔ یہ مشورے ادیبوں کے لیے ہیں۔ اس لیے صرف سرخی دیکھ لینا کافی ہے۔ نگہت فرمان نے ادب اور زندگی کے تعلق پر روشنی ڈالی ہے اور خاصے مشکل الفاظ استعمال کیے ہیں۔ چونکہ اس مضمون کی تیاری میں ڈاکٹر جمیل جالبی کے فرمودات سے مدد لی گئی ہے اس لیے اچھا ہی ہوگا۔ مجلہ حریم ادب میں مدیرہ عالیہ شمیم کی محنت اور توجہ کا بھرپور اظہار ہورہا ہے حالانکہ اسی مجلے سے معلوم ہوا ہے کہ وہ کتنی مصروف رہتی ہیں۔ نظمیں اور غزلیں سبھی خوب ہیں کہیں کہیں زبان کی اصلاح کی ضرورت ہے مثلاً کھیل کی جمع ’’کھیلیں، اسکولوں کی کھیلیں‘‘ وغیرہ۔ یہا صرف کھیل لکھنا کافی تھا۔ مثلاً اسکولوں میں ہونے والے کھیل۔ دھوکہ کا صحیح املا دھوکا ہے، لغت دیکھ لیں۔ مجموعی طور پر حریم ادب کا دوسرا سالانہ مجلہ ہر لحاظ سے یعنی ’’نک سک سے درست‘‘ ہے۔ مجلہ ضخیم ہے اور سرورق جاذب نظر، امید ہے کہ اس کا معیار آئندہ بھی قائم رہے گا۔

Share this: