ممتاز ماہر معیشت ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کا انٹرویو

ہماری معیشت بہتر ہو سکتی ہے،ملکی معیشت کو آئی ایم ایف کے شکنجے سے نکالنا ٹیسٹ کیس ہو گا

ممتاز ماہر اقتصادیات ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کی نظر صرف معاشی سرگرمیوں پر نہیں ہوتی، بلکہ ان کے تجزیے میں ملک کے سماجی، سیاسی اور عالمی حالات کا گہرا عکس ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان کا معاشی صورت حال پر اظہار اور تجزیہ منفرد ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے ان کا بینکنگ کا تیس سالہ تجربہ ہے۔ وہ پاکستان، مشرق وسطیٰ، یورپ اور افریقہ کے مالیاتی اداروں میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ اس وقت آپ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس (کراچی) کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صاحب انسٹی ٹیوٹ آف بینکرز پاکستان، انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ انشورنس لندن، اور انٹرنیشنل بینکرز ایسوسی ایشن کے رکن ہونے کے علاوہ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کے ممبر اکیڈمک کونسل، کالج آف بزنس مینجمنٹ کے ممبر برائے ریسرچ ایڈوائزری کونسل، خیبر بینک کے شریعہ سپروائزری بورڈ کے ممبر، قومی ادارہ برائے امراض قلب (NICND) کے فنانشل ایڈوائزر، جرنل آف دی انسٹی ٹیوٹ آف بینکرز پاکستان کے ایڈیٹوریل بورڈ کے ممبر اور کارپوریٹ ماہرین کے مجلّے ’’دی کارپوریٹ سیکرٹری‘‘ کے ممبر بھی ہیں۔ علاوہ ازیں ڈاکٹر صاحب ’’اسلامک بینکنگ‘‘ جیسی قابل قدر کتاب کی تصنیف کے ساتھ ساتھ پاکستانی اور بین الاقوامی اخبارات اور جرائد میں تین سوسے زائد مقالے و مضامین بھی تحریر کر چکے ہیں۔ فرائیڈے اسپیشل ان سے وقتاً فوقتاً ملکی اور بین الاقوامی خصوصی اور معاشی صورت حال پر اپنے قارئین کے لیے ان کا تجزیہ لیتا رہتا ہے۔
آج بھی پاکستان معاشی لحاظ سے اہم دور سے گزر رہا ہے۔ نئی حکومت جس کے سامنے کئی چیلنج موجود ہیں اور اس حوالے سے ان کے حل کے لیے بڑے دعوے بھی کیے گئے ہیں، ان میں سے ایک میعشت بھی ہے جس پر ہم نے ڈاکٹر صاحب سے معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس وقت پاکستان کی اقتصادی صورت حال کیا ہے، اس سے نمٹنے کے لیے تحریک انصاف کی حکومت کو کیا کرنا چاہیے اور وہ کیا کرسکتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب سے جو گفتگو کی گئی، وہ نذر قارئین ہے۔
٭٭٭
فرائیڈے اسپیشل: تحریک انصاف کی نئی حکومت کے متوقع وزیر خزانہ اسد عمر کی جانب سے یہ بیانیہ سامنے آیا ہے کہ اُنہیں سخت معاشی حالات ملے ہیں۔ آپ کے نزدیک نئی حکومت کو کن معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا؟ سابقہ حکومت کے بلند بانگ دعووںکے باوجود یہ چیلنج کیوں ابھرے؟
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی: پاکستانی معیشت اس وقت مجموعی طور پر بحران کا شکار ہے اور اسے سنگین چیلنج درپیش ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ ہمارے نومنتخب وزیراعظم عمران خان کو مشکلات میں گھری معیشت ملی ہے۔ چیلنجز کے ضمن میں ہمیں یہ بات بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ اس تباہ حال معیشت میں وفاق کے ساتھ چاروں صوبوں کا بھی کردار رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 2010ء میں اٹھارہویں ترمیم کے نتیجے میں اور قومی مالیاتی ایوارڈ سے صوبوں کو بہت زیادہ وسائل ملے۔ مالیاتی ایوارڈ کے نتیجے میں وفاق سے صوبوں کو پچھلے پانچ سال میں لگ بھگ 2500 ارب روپے اضافی ملے۔ صرف پیسہ ہی نہیں بلکہ صوبوںکو ذمے داریاں بھی ملیں اور اختیارات بھی ملے۔ اگر ہم یہ دیکھیں کہ23 ملین بچے اسکول نہیں جا رہے، اور اگر عوام کو علاج معالجہ کی سہولیات میسر نہیں ہیں تو بنیادی طور پر یہ دونوں شعبہ جات اب صوبوں کے پاس ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان خرابیوں کی موجودگی بتاتی ہے کہ اس کے اصل ذمے دار صوبے ہیں۔ اسی طرح زراعت، پراپرٹی پر ٹیکس… یہ سب صوبوں کے دائرۂ اختیار کا معاملہ بن چکا ہے۔ پراپرٹی کی قیمت کا مارکیٹ ریٹ پر نہ ہونا، سب صوبوں کی ہی ذمے داری ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف صوبوں کی حکمرانی اور وفاق میں حکومت کی وجہ سے خود ان خرابیوں کی ذمے دار رہی ہیں۔
اب آپ دیکھیں کہ 2015ء کے بعد معیشت کی شرح نمو طے ہوئی تھی کہ 8 فیصد سے زیادہ ہوگی، لیکن یہ تو بہت کم رہی۔ بجٹ خسارہ تاریخی حجم کو چھو گیا، ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل نہیں ہوا، بچتوں کی شرح بہت کم رہی ہے۔ ہمارا صرف گزشتہ مالی سال کا تجارتی خسارہ 37ارب ڈالر رہا۔ اس کے علاوہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی 18ارب ڈالر رہا جسے ہم نے 20 ارب ڈالر کی آنے والی ترسیلات سے پورا کرنے کی کوشش کی۔ یہ تو آگ سے کھیلنا ہوا کہ ترسیلات کو سرمایہ کاری میں استعمال کرنے کے بجائے، ہم اس کو کرپشن اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہونے والے تجارتی خسارے میں استعمال کرتے رہے۔ اس بات کا ادراک کرنے سے گریز، خود بڑے خطرے کی گھنٹی ہے کہ ان ترسیلات کا پچاس فیصد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ہے، جو کہ پہلے ہی امریکہ کی ریشہ دوانیوں اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی زد میں ہیں اور نیو گریٹ گیم کے تحت پاکستان کو جھٹکا دینے کے لیے وہ اس میںکمی کرا سکتے ہیں۔ ہم ان عوامل کو نظرانداز کرکے آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں، جبکہ اس کا بہت سنجیدگی سے نوٹس لینا ہوگا۔
اب جو نئی حکومت آئی ہے وہ اقتدار میں ’نظام کی تبدیلی‘کے نعرے پرآئی ہے۔ جو بات بار بار تحریک انصاف نے کہی ہے وہ یہ کہ ’لوٹی ہوئی دولت واپس لاکر تعلیم اور صحت پر خرچ کریں گے۔ کرپشن پر قابو پائیں گے اور بدعنوانی روکنے کے جو مالی ثمرات ہوں گے وہ ہم تعلیم پر خرچ کرکے پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا کرکے عوام کو ریلیف دیں گے‘۔ اب جو بھی پالیسی بنائی جائے وہ ایسی ہو کہ عوام کی توقعات پر پورا اترا جائے، یہ اہم چیلنج ہے۔
فرائیڈے اسپیشل:یہ جو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بات کی گئی ہے، اس پر آپ کیا کہتے ہیں؟
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی: ہم 1988ء سے اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرام کے تحت آئی ایم ایف کے شکنجے میں ہیں۔ ماضی کی حکومتوں نے وہ کام نہیںکیا یعنی اسٹرکچرل اصلاحات نہیں کیں جس کے لیے پیسہ لیا، اس لیے وہ شکنجہ کستا چلا گیا۔ امریکہ اپنے بدلے ہوئے رویّے کے تناظر میں نیو گریٹ گیم کے تحت پاکستان کے گرد شکنجہ مضبوط کرتا نظرآرہا ہے۔ سی پیک کو کمزور کرنے کی مسلسل کوششیں کی جارہی ہیں۔ جیسا کہ نئی حکومت نے عندیہ دیا ہے پاکستان آئی ایم ایف سے بھاری قرضہ لینے جا رہا ہے، تو آئی ایم ایف کی شرائط دیکھنا نہایت ضروری ہے۔ اب یا تو وہی 1988ء والا طریقہ استعمال ہوگا کہ بجلی، گیس، پیٹرول کو مہنگا کردیا جائے، روپے کی قدر گرا دیں، ترقیاتی اخراجات کم کرکے اور شرح سود میں اضافہ کرکے عوام پر بوجھ ڈالا جائے گا، یا جو اصل طریقہ ہے اُن کی سخت شرائط پوری کرنے کا کہ ٹیکس کی چوری روکیں، طاقتور طبقات سے ٹیکس لیں، شاہانہ اخراجات کم کریں تو آپ عوام پر بوجھ ڈالے بغیر قرض کی سخت شرائط پوری کرسکیں گے۔ اب یہی دیکھنا ہوگا کہ وہ اپنے منشور کے تحت کیا کرتے ہیں، آیا بہتری آئے گی یا وہی چلتا رہے گا۔
میں سمجھتا ہوں کہ اگلے45 دنوں میں نئی حکومت کی معاشی لائن آف ایکشن سامنے آجائے گی، اگر انہوں نے اپنے منشور پر عمل کیا تو یقینا خوشحالی کا سفر شروع ہوگا، لیکن اگر ماضی کی طرح طاقتور طبقات اور استعمار کے مفادات کا تحفظ کیا تو پاکستان کے مستقبل سے خوف آتا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل:کیا آئی ایم ایف کے شکنجے سے ہمیں آزادی مل سکتی ہے؟
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی: تحریک انصاف بھی آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ کرچکی ہے تو اب ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ تین سال کے لیے ملنے والے اس قرضے کو کیسے ڈیل کیا جائے گا۔ ہم تحریک انصاف سے یہ توقع کریں گے کہ جو انقلابی حکمت عملی اُن کے اپنے منشور میں پیش کی گئی ہے اُس پر عمل کرکے اپنی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے ایک سال کے اندر ملک کو آئی ایم ایف کے شکنجے سے نکال لیں۔ یہ قابلِ عمل منصوبہ ہے کہ ہم ایک سال کی جامع و مخلصانہ کوشش کے بعد اُن کو شکریہ کہہ کر قرض کا یہ دروازہ بند کردیں۔ عوام اُن کے ساتھ ہیں، عوام کو اپنے عمل سے یقین دلایا جائے کہ ہم کس طرح اپنے وعدوں کے مطابق پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا کرکے معیشت کو ترقی دیں گے۔ یہ سب عملاً ممکن ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تحریک انصاف کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہوگاکہ وہ کس طرح ملکی معیشت کو آئی ایم ایف کے شکنجے سے نکالتی ہے۔
فرائیڈے اسپیشل:عمران خان کا تو پورا انتخابی بیانیہ ہی آئی ایم ایف سے نجات حاصل کرنا تھا، یہ تو خود بھی تنقید کرتے رہے ہیں ماضی کی حکومتوں کے آئی ایم ایف کے پاس جانے پر، تو کیا اپنی باری میں آئی ایم ایف کے پاس جانا پاکستان کی حقیقی ضرورت بن گیا ہے؟
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی: تحریک انصاف نے ماضی کی حکومتوں پر تنقید کی وہ تو اپنی جگہ، لیکن خود خیبر پختون خوا میں اپنی پچھلی حکومت کے دوران وہ خود بھی آئی ایم ایف کے کہنے پر چلتے رہے۔ عوام کے سامنے وہ تنقید کرتے رہے لیکن آئی ایم ایف کے کہنے پر بجلی کے بڑھائے جانے والے نرخ، تعلیم و صحت کے بجٹ میں کمی، ترقیاتی اخراجات میں کمی، برآمدات میں کمی، پیسہ روکنا… یہ سب وہ آئی ایم ایف کے کہنے پر کرتے رہے۔
بیڈ گورننس، کرپشن اور لوٹ مار کی وجہ سے آج کے مالی بحران میں ان کا بھی مکمل حصہ ہے، اور تمام غلط پالیسیوں کے یہ بھی شریکِ کار رہے ہیں۔ اس لیے اس بات کی توقع رکھنا کہ یہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، غیر حقیقی ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر پچھلے دسمبر تک بھی یہ سیاسی جماعتیں دباؤ ڈالتیں حکومت پر، تو چند مہینوں میں ایسی بہتری لائی جا سکتی تھی کہ اب آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑتا۔ مگر اب وقت گزر چکا ہے، اس لیے ایسی توقع کرنا مناسب نہیں کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس نہ جائیں۔ اقتدار میں آنے کے لیے، امریکی آشیرواد و ڈالر کے لیے اُن کی غلط شرائط پر عمل درآمد پچھلے دورِ حکومت کی تمام صوبائی حکومتوں میں شامل پارٹیوں نے کیا۔
فرائیڈے اسپیشل:ملک میں پیسہ لانے کے لیے حکومت کیا کرسکتی ہے؟
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی: پہلے یہ تسلیم کرلیں کہ معاشی تباہی کے باوجود، ہمیں انسانی و مادی وسائل کا ایسا خزانہ اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے کہ اگر ہم اب بھی دانش مندانہ پالیسیاں بنا لیں تو بہتری دکھا سکتے ہیں اور دنیا کے سامنے ایک ایسی قوم کے طور پر ابھر سکتے ہیں جو بیرونی شکنجے کو ڈھیلا کردکھائے۔ یہ سب صلاحیتیں پاکستان میں موجود ہیں۔ ضرورت ایسے فیصلوں کی ہے جو درست سمت جا سکیں۔ اس ضمن میںکچھ قابلِ عمل تجاویز دی جا سکتی ہیں۔ یہ کوئی خیالی تجاویز نہیں، بلکہ میں نے یہ تحریک انصاف کے 2013ء۔2018ء کے منشور کی روشنی میں ہی بنائی ہیں۔ اس لیے یہ ضمانت ہیں کہ ہماری معیشت بہتر ہوسکتی ہے اور نئی حکومت 45 دن میں اپنے عمل سے یہ ثابت کرسکتی ہے۔
پہلی تجویز: بیس سال سے ہم بات کررہے ہیں کہ لوٹی ہوئی دولت کو واپس قومی خزانے میں لئیں گے۔ اس بات یا نعرے کے دو حصے ہیں، ایک وہ لوٹی ہوئی دولت جو پاکستان میں ہے، دوسری وہ جو دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلی ہوئی ہے اور اُس کی بہت زیادہ تفصیلات ہمیں مل بھی نہیں سکتیں،اور اگلے پانچ برسوں میں بھی وہ لوٹی ہوئی تمام دولت بیرونی ممالک سے واپس لانا ممکن نہیں۔ لیکن تحریک انصاف کا مؤقف یہ ہے کہ ہم پہلے تفصیلات حاصل کریں گے، پھر واپس لائیں گے۔ اس لیے میری قابلِ عمل تجویز یہ ہے کہ اس دعوے کو ذرا کم کریں اور ملک کے اندر والی ہی رقم واپس لے لائیں۔ اگر سو روپے لوٹے گئے ہیں تو ان میں سے60روپے پاکستان میں ہی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس کی تمام تفصیلات بھی ہمارے دائرہ کار میں ہیں، سب ہماری دسترس میں ہیں، سب پاکستان میں کہیں نہ کہیں ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ اس لیے میں پہلے مرحلے پر یہ کہوں گا کہ ٹیکس چوری، رشوت، لوٹ مار و دیگر ذرائع سے جمع کی گئی رقوم کا حصول ممکن بنائیں۔
یہ وہ رقم ہے جسے ’متعلقہ شخص‘ نے ٹیکس میں ظاہر نہیں کیا ہوتا، اس کے لیے آپ کو8 اپریل سے 31جولائی تک ٹیکس ایمنسٹی دی گئی، اب اگر وہاں بھی ظاہر نہیں کیا تو اب کوئی جواز نہیں کہ اُن پر رحم کیا جائے، جبکہ ٹیکس ایمنسٹی کے دوران چیئرمین ایف بی آر کی جانب سے کئی بار کہا گیا کہ ’’اس ٹیکس ایمنسٹی مہم کے بعد ہم ظاہر ہونے والے تمام اثاثوں پر ملکی قوانین کے مطابق ٹیکس وصول کریں گے۔‘‘
میری تحقیق یہ کہتی ہے کہ ان رقوم میں سے بڑی رقم جائدادوں، گاڑیوں، بینکوں، مالیاتی اداروں، قومی بچت اسکیم، اسٹاک، میوچل فنڈز، بانڈز وغیرہ میں لگائی گئی ہے۔ ان سب کا مکمل ڈیٹا حکومت ہی کے پاس موجود ہے۔ اس کے بعد ایف بی آر میں نہیں بلکہ وزیراعظم ہاؤس میں ایک سیل بنایا جائے اور ناجائز رقوم کا تمام تر ڈیٹا جمع کرکے ایک ایسی لسٹ بنائی جائے جس پر ایف بی آر بلا تفریق کارروائی کرے۔
ایک آدمی کہتا ہے کہ میرے پاس 25000 روپے بینک میں ہیں، ایمنسٹی میں اُس نے اس سے زیادہ کچھ بھی ڈکلیئر نہیںکیا، جبکہ اصل میں اُس کے پاس ایک کروڑ کی رقم ہے، تو پھر اُس کو ایک یا دو نوٹسز کے بعد آپ کے پاس باقی ساری رقم ضبط کرنے کا مکمل جواز ہوگا، کیونکہ اُس نے تو اُس رقم کو اپنا کہا ہی نہیں تھا۔ میں پوری ذمے داری سے کہتا ہوں کہ اس عملی کوشش سے صرف چھ ماہ میں 1500ارب روپیہ اضافی جمع ہوجائے گا۔ اس پیسہ سے آپ ایک بڑا یا چھوٹا ڈیم بنا سکتے ہیں، اس پیسہ سے آپ بجلی، گیس، پیٹرول کی قیمتوں کو کم کرسکتے ہیں، عوام کو ریلیف دے سکتے ہیں۔ تعلیم، صحت پر مزید بہتر بجٹ خرچ کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ نہیں کرتے تو بتائیے کہ اس کا کیا جواز ہوگا؟ پانچ فیصد پر ایمنسٹی بھی دے دی، جبکہ بھارت نے تو45 فیصد پر دی تھی۔ ہمیں بتایا جائے کہ لوٹی ہوئی ملک میں موجود رقم کیوں نہیں لائی جارہی۔ بات کی جارہی ہے باہر ملک سے دولت لانے کی، جبکہ وہ اس سے کہیں مشکل کام ہے، جس میں آپ کو معلومات نکالنے میں ہی کئی سال لگ جائیںگے، یہ ایسا کام ہے جو آپ کے اختیار میں ہی نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوںکہ یہ کام شفافیت کے ساتھ وزیراعظم کے زیر نگرانی کیا جائے۔
دوسری تجویز : پاکستان میں لوگ کھلی منڈی سے ڈالر خریدتے ہیں۔ یہ اہم نہیں کہ ٹیکس فائلر ہے کہ نہیں۔ بات یہ ہے کہ ایک پاکستانی اپنے پیسوں سے ڈالر خرید کر بینک میں جمع کرا دیتا ہے۔ ہم اس کو باہر لے جانے کی کیوں اجازت دیتے ہیں؟ صرف دو صورتیں ہیں، ایک تو بیماری کا علاج، دوسری اعلیٰ تعلیم، جس کے لیے ڈالر باہر لے جانے کی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔ صرف 15 ارب ڈالر 2017ء میں باہر گئے ہیں۔ اگر ہم ڈالر کو تعلیم اور صحت کے لیے باہر لے جانے تک مختص کردیں گے تو 12ارب ڈالر کی بچت یقینی ہے، یعنی ایک ماہ میں ایک ارب ڈالر بچے گا۔ میں واحد آدمی ہوں جس نے اس پر پابندی کے لیے آواز اٹھائی۔ احتساب بھی ہونا چاہیے،اس نقصان پرکسی نے بھی اعتراض نہیں کیا جس کے نتیجے میں پاکستانی معیشت ڈانواڈول رہی ہے۔ یہ بھی تبھی ممکن ہوگا جب آپ طاقتور طبقات کے مفادات سے زیادہ قومی مفادات کو مقدم رکھیں گے، کیونکہ یہ کام نہ کرنے کا کوئی اور جواز نہیں۔ یہ کام کرنے سے صرف پہلے ہی مہینے میں بہتری نظر آجائے گی۔
تیسری تجویز:حکومت بنانے سے قبل ہمیں یہ بتایا گیا کہ سی پیک کے معاہدے اور ایل این جی کے معاہدے پارلیمنٹ کے سامنے شفافیت کے لیے پیش کیے جائیںگے۔ یہ بہت اچھی بات ہے، موجودہ پارلیمنٹ کو یہ کرنا چاہیے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات نئی پارلیمنٹ کے لیے یہ ہے کہ جو ٹیکس ایمنسٹی پچھلی پارلیمنٹ نے منظور کی تھی وہ 30 جون کو ختم ہونی تھی، نگراں حکومت نے بغیر کسی قانونی جواز کے صدارتی آرڈی نینس جاری کرایا اور ٹیکس ایمنسٹی کی تاریخ میںایک ماہ کا اضافہ کردیا۔ آئین کے تحت کسی آرڈی نینس کو چار ماہ میں پارلیمنٹ سے منظور کرایا جاتا ہے۔ اب اس میں قومی مفادات کے خلاف جو کام کیا گیا ہے، کس کے کہنے پر، کیوں اور کس کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا گیا، یہ پارلیمنٹ کو دیکھنا ہوگا۔ لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے اعلانات اور دعوے سب کرتے ہیں، تو جناب کیسے لائیں گے جب آپ ایسی ملک دشمن اسکیمیں لائیں گے؟ اب اس اسکیم میں ایک شق خاموشی سے یہ ڈالی گئی تھی کہ ’’آپ کے پاس جو لوٹا ہوا، چھپایا ہوا ڈالر باہر پڑا ہے آپ بے شک یہاں نہ لائیں وہیں رکھیں، بس ہمیں پانچ فیصد ٹیکس دے دیں‘‘۔ ارے بھائی! ہمیں تو اس ڈالر کو پاکستان لانے کی شرط رکھنی تھی۔ اب مجرمانہ فعل یہ ہے کہ پاکستان کو تو ڈالر کی ضرورت ہے، آپ نے باہر پڑی ڈالر کی رقم کو یہاں آنے ہی نہیں دیا تو پاکستانی معیشت کو کیا فائدہ ہوا؟ فیڈریشن آف چیمبر کا مطالبہ یہی تھا کہ اُس دولت کو پاکستان لانے کی اجازت دی جائے، لیکن مجرمانہ طریقے سے یہ شق ڈال دی گئی جس پر نگراں حکومت اور سپریم کورٹ سمیت سب نے رضامندی ظاہر کردی۔ اب اس پر پارلیمنٹ فیصلہ کرے کہ یہ کیا باریک کام کیا گیا ہے، کس کو فائدہ پہنچانے کے لیے یہ کام کیا گیا ہے اس کا جائزہ لیا جائے اور پاکستانی معیشت کے مفاد میں لائحہ عمل بنایا جائے۔ پلان تھا کہ پیسہ پاکستان لایا جائے مگر یہ کام کرکے سب وہیں روک دیا گیا۔
چوتھی تجویز: ہمارے انکم ٹیکس آرڈیننس 111/4کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔یہ نہیں ہوسکتا کہ یہاں سے چوری کا پیسہ باہر جائے اور ہنڈی کے ذریعے واپس آجائے۔ حد ہے کہ ایک لاکھ ڈالر سے کم پر کوئی سوال نہیں پوچھا جا سکتا! ہر چیز پر سوال کی اجازت دی جائے۔چوروں کو تحفظ دینے والا یہ قانون منسوخ کیا جائے۔ اس کے نتیجے میں بھی ملکی معیشت میں فوری بہتری آئے گی۔
پانچویں تجویز:ایک اہم کام صوبائی سطح پر قانون سازی کی صورت کیا جائے کہ پاکستان میں تمام جائدادوں کی خرید و فروخت میں مارکیٹ ریٹ سے کم پر رجسٹریشن اب نہیں ہوگی۔ ہوتا یہ ہے کہ لوٹی ہوئی دولت چلی جاتی ہے پراپرٹی میں۔ پندرہ کروڑ کی پراپرٹی خریدی اور لکھے چار کروڑ، تو اس جائداد میں میرے گیارہ کروڑ محفوظ ہوگئے۔ یہ کیسی خطرناک بات ہے، اس کو فوری روکنا ہوگا۔ سرمائے کے فرار اور اس کی محفوظ جنت کو روکنے کے لیے یہ قانون سازی کی جائے۔
چھٹی تجویز :ملک سے سرمائے کے فرار کو روکا جائے۔ اس ضمن میں کئی اور قوانین موجود ہیں کہ سرمائے کے فرار کو روکا اور کم کیا جاسکے۔ کچھ قانون سازی اور طریقہ کار میں تبدیلی کے نتیجے میں ہر سال اچھی خاصی بچت ممکن ہوگی۔ اس میں تاخیر اچھی نہیں ہوگی۔
ساتویں تجویز: یہ جو پچھلا بجٹ آیا، غیر حقیقت پسندانہ بجٹ ہے۔ اب نئی حکومت کو دوبارہ نظرثانی بجٹ دینا چاہیے۔ تمام صوبوں کو بھی کہا جائے کہ وہ نظرثانی شدہ بجٹ دیں جس میں اُن کے اہداف واضح ہوں کہ برآمدات، ٹیکس وصولی، بجٹ خسارے، تعلیم، صحت کا کیا ہدف رکھا ہے؟ تحریک انصاف کے اپنے 2013ء کے منشور میں کیے گئے وعدے کے مطابق 7.6 فیصد تعلیم و صحت کے بجٹ میں اضافہ کرکے پیش کریں۔ اس سے صوبے ٹیکسوں کا جو بھی نظام بنائیں گے وہ واضح ہوجائے گا۔ وفاق اور صوبے ہر قسم کی آمدنی پر ٹیکس رکھیں۔ جی ایس ٹی کو زیادہ سے زیادہ 7.5فیصد کریں، ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کریں، معیشت کو دستاویزی بنانے کے لیے اقدامات کریں، بڑے پرائز بونڈ، بڑے نوٹ ختم کریں۔ ٹیکس چوری روکیں۔ دولت ٹیکس کا سلسلہ ختم کریں۔ اس سے اُس شخص پر زیادتی ہوگی جو ٹیکس دے رہا ہے، اُس کو تنگ نہ کریں۔
آٹھویں تجویز: درست معلومات، درست اعداد و شمار اور حقائق کا جاننا ضروری ہے۔ ٹیکس ایمنسٹی کے مسئلے میں عدلیہ کا بھی کردار ہے۔ سپریم کورٹ نے فروری میں ایک مقدمے میں ازخود نوٹس لیا ہوا ہے، چیف جسٹس نے ایک بات کہی تھی کہ اگر یہ لوٹی دولت واپس آجائے تو ہم ملک کے سارے بیرونی قرضے ادا کرسکتے ہیں۔ یہ بالکل درست بات ہے۔ خود میں نے 1999ء میں سپریم کورٹ کے ایک پانچ رکنی بینچ کے سامنے اس کی عملی تجاویز دی تھیں، اُس پانچ رکنی بینچ نے میری تجاویز کو فیصلے میں بھی شامل کیا۔ مگر افسوس کرپٹ حکومتیں ایسا کرنے سے گریز کرتی رہیں۔ اب اسی طرح دوبارہ نوٹس لیا گیا ہے، اب کی بار خاص بات یہ ہے کہ یہ ازخود نوٹس آئین کی دفعہ 184-3کے تحت لیا گیا ہے جس میں مفاد عامہ کے ضمن میں لوٹی ہوئی دولت کو واپس لاکر قرض اتارنے اور تعلیم و صحت کی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
یہ خالص مفادِ عامہ کی خاطر کیا جائے گا، مگر سوال یہ ہے کہ جب رقم کی واپسی کا راستہ نکالا گیا تو غالباً بنائی گئی کمیٹی کی غلط بریفنگ یا غلط مشوروںکے چکر میں ڈال کر ایک مرحلے پر ٹیکس ایمنسٹی کو سپریم کورٹ سے بھی منظور کروا لیا گیا۔ اس کے بعد مشتہر کیا گیا کہ یہ اسکیم تو سپریم کورٹ سے بھی منظور ہوچکی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے تو انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اور قومی دولت واپس لانے کے لیے اقدام اٹھایا تھا، تواس شق کی بنیاد پرتوثیق ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ اب ہونا یہ چاہیے کہ نئی حکومت سپریم کورٹ کے پاس جائے اور درست بریف کرے، کہ یہ پیسہ باہر رکھنے کے لیے تو نہیں تھا۔ چیمبر نے باہر کی دولت کو واپس لانے کے لیے ایمنسٹی مانگی تھی وہ تو آئی نہیں بلکہ ستم یہ ہوا کہ ملکی دولت بھی اس دائرے میں ڈال دی گئی۔ اس کا فائدہ کیا ہوا؟ کس کو ہوا؟ لوٹی دولت کو واپس لانے کے لیے درست سمت میں قدم بڑھایا جائے۔ ملکی اثاثوں کو بھی ایمنسٹی میں لے لیا گیا، اب اگر کوئی پراپرٹی لاہور، کراچی، اسلام آباد میں موجود ہے تو وہ تو سب کو نظرآرہی ہے، اُس پر ایمنسٹی کس بات کی!
نویں تجویز: ہمارے بینکنگ شعبے میں سودی کھاتے نفع نقصان میں شرکت کی بنیاد پر ہیںلیکن بینک کھاتے داروں کو اسٹیٹ بینک کی معاونت سے منافع میں شریک نہیں کررہے۔ آئین کے تحت بینکنگ کنٹرول آرڈی نینس کے تحت حکومتِ پاکستان نے ذمے داری لی ہے کہ کھاتے داروں کو منافع میں شریک کیا جائے گا۔ یہ ذمے داری اسٹیٹ بینک پر ڈالی گئی ہے۔ مگر 2002ء سے اب تک کوئی 1500ارب روپیہ کھاتے داروں کو کم دیا گیا ہے۔ اس پر سپریم کورٹ ایکشن لے اور اسٹیٹ بینک بھی اس معاملے کو دیکھے۔ اس ضمن میں سپریم کورٹ کو نئی حکومت سے اپنے احکامات کی پابندی کرانی چاہیے۔ یہ کیسے ہورہا ہے کہ منافع نہیں دیا جا رہا!
دسویں تجویز: سپریم کورٹ میں اس وقت قرضوں کی معافی کا ازخود نوٹس لیا گیا ہے، مگر اس میں بھی اصل حقائق کورٹ کو نہیں بتائے جارہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ یہ فیصلہ ہونے جارہا ہے کہ سب معاف کرا لیا جائے۔ جبکہ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے، خود گورنر اسٹیٹ بینک کی تقاریر موجود ہیں کہ بہت سے قرضے تو صرف لوٹنے کے لیے لیے گئے تھے۔ پیسہ لیا مشینری کے لیے اور باہر بھیج دیا، یہ تو جرم ہوا ہے، اس پر مستقل مس گائڈ کیا جا رہا ہے کورٹ کو۔ نئی حکومت کو چاہیے کہ ناجائز طریقے سے معاف کرائے گئے قرضوں کی وصولیابی کے لیے کورٹ کو درست سمت گائڈ کرے۔
گیارہویں تجویز: نیب کے نئے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ہم نے اب تک 289 بلین رقم بدعنوانوں سے وصول کی ہے اور قومی خزانے میں جمع کرادی ہے۔ اُن کی ویب سائٹ کے مطابق اب تک صرف12ارب روپے ہی جمع ہوسکے ہیں۔ اس کی چھان بین بھی ضروری ہے۔ احتساب کے ادارے کا احتساب کون کرے گا کہ یہ کیا اعداد وشمار ہیں! اسی طرح سود کا مقدمہ 2002ء سے موجود ہے۔ شق38-F میں لکھا ہے کہ جتنا جلدی ہو سود کو ختم کیا جائے۔ اسے ختم نہ کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ جماعت اسلامی کا بھی ایک کردار رہا ہے سود کے خاتمے کے لیے۔ اب پارلیمنٹ میں یہ بات سامنے لائی جائے۔ اس کو حرام قرار دے کر قانون سازی کرلی جائے۔
فرائیڈے اسپیشل:یہ جو نئی حکومت نے بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع دینے کی بات کی ہے عملاً ان حالات میں ایسا کیسے ممکن ہوگا، یا یہ بھی کوئی سیاسی نعرہ ہے؟
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی: میرے اندازے کے مطابق نئی حکومت کنسٹرکشن کی صنعت کو بڑھانے اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کی سرمایہ کاری پر انحصار کررہی ہے۔ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ کام ہوسکے گا۔ کیونکہ بیرون ملک پاکستانیوں کا مزاج یہ ہے کہ وہ اچھے منافع پر بانڈز تو خرید لیں گے مگر براہِ راست سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں لیں گے، یا یوں کہہ لیں کہ اس میں وقت لگے گا۔ میں سمجھتا ہوںکہ ہم خودانحصاری کی جانب بڑھیں اور تمام بینکوں سے مائیکرو فنانس کرائیں۔ اس سے پلمبر، الیکٹریشن، کارپینٹر،کسان، خواتین، ڈیری فارم والے سب مستفید ہوں گے۔ اس سے روزگار، کاروبار سب بڑھے گا۔ اپنے زکوٰۃ کے نظام کو مائیکرو فنانس سے منسلک کریں اسلامی بینکوں سے، اس میں شفافیت لائیں تو ایک انقلابی تبدیلی نظرآسکے گی۔ مجھے نہیں لگتا کہ صرف کنسٹرکشن میں سرمایہ کاری سے کچھ زیادہ فائدہ ہوگا۔
اگر ان تجاویز پر جو تمام کی تمام عملی ہیں، فوراً عمل کیا جائے اور نتائج لیے جائیں تو پاکستان کی ترقی کو کوئی نہیں روک سکتا۔ لیکن اگر وہی ہوا جو ماضی میں ہوتا آیا ہے کہ وعدے اپنی جگہ پڑے رہ گئے، تو مایوسی اور بددلی پھیلے گی۔ لوگوں کی وہی تکالیف رہیں، پیٹرول کے نرخ بڑھے، بے روزگاری بڑھی تو انتشار خاصا بڑھے گا۔ حکومت کے لیے مشکلات بڑھیںگی اور استعماری طاقتوں کے لیے اپنے ایجنڈے پر کام کرنا آسان ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو ایجنڈا نئی حکومت نے دیا وہ بہت زبردست ہے، اس پر عمل کرلیں تو بہت بہتری آئے گی۔

Share this: