نومنتخب وزیر اعظم عمران خان کا قوم سے خطاب

جمہوری ملکوں میں قومی انتخابات کے نتیجے میں ایک نیا سیاسی کلچر وجود میں آتا ہے۔ ریاست کے مختلف ادارے عوام کو سہولت اور ریلیف دینے کے لیے نئے نئے منصوبے بناتے ہیں، باہمی تعاون کی نئی راہیں اور مواقع تلاش کرتے ہیں۔ عوام کے منتخب نمائندے جن وعدوں اور دعووں کے ساتھ برسراقتدار آتے ہیں اور جس منشور کی پاسبانی کو اپنی ذمے داری قرار دیتے ہیں، ان کو پورا کرنا اور دعووں میں رنگ بھرنا ہی ان کا اصل کام ٹھیرتا ہے۔ اب پرویزمشرف کی بدترین آمریت کے بعد تسلسل کے ساتھ تیسری جمہوری حکومت بن چکی ہے اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران احمد خان نیازی ایوانِ صدر اسلام آباد میں حلف اٹھاکر باضابطہ طور پر پاکستان کے 22 ویں وزیرِاعظم بن گئے ہیں۔ صدرِ مملکت ممنون حسین نے ہفتے کی صبح عمران خان سے وزارتِ عظمیٰ کا حلف لیا۔ اس سے قبل وزیراعظم کے انتخاب میں عمران خان نے 176 ووٹ حاصل کیے، جب کہ ان کے حریف شہبازشریف کو 96 ووٹ ملے تھے، اور حزب اختلاف کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے ارکان نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا، اور اب خبر یہ ہے کہ آصف علی زرداری کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت منظور ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا ہے کہ میری سیاست کا مقصد ملک کی بہتری اور اسے مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنانا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم حالت بدلیں گے، ہمیں اپنے رول ماڈل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے سیکھنا ہے، سب سے پہلے قوم میں قانون کی بالادستی قائم کرنی ہے، رول آف لا کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی، انہوں نے وزیراعظم ہاؤس کو اعلیٰ درجے کی تحقیقی یونیورسٹی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہاں دنیا بھر سے بہترین محقق بلائیں گے جو اعلیٰ درجے کی تحقیق کریں گے۔عمران خان نے کہا کہ وہ قوم کو سادہ زندگی گزار کر دکھائیں گے اور قوم کا ایک ایک پیسہ بچائیں گے، وہ کوئی کاروبار نہیں کریں گے اور نہ ٹیکس کا غلط استعمال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں صرف سیکیورٹی کی وجہ سے چند گارڈز اپنے ساتھ رکھنے پر مجبور ہوں۔
عمران خان کے حالیہ دعووں اور ان کے سیاسی کیرئیر میں کیے جانے والوں دعووں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ عمران خان کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی سیاست کے ابتدائی دور میں تو اصولوں اور آئیڈیلزم کی بات کرتے رہے اور اپنے خیالات اور نظریات پر سودے بازی نہیں کی، لیکن 2013ء کے عام انتخابات کے بعد یہ سارے اصول اور نظریات بہت پیچھے رہ گئے، پھر ایک ایک کرکے وہ ہر وہ کام کرنے لگے جس کی بنیاد پر وہ لوگوں کے جذبات بھڑکاتے تھے، اور اسی سے تبدیلی کا نعرہ بھی سامنے آیا تھا۔ سمجھوتوں کی سب سے بڑی مثال الیکٹ ایبلز ہیں، کیوں کہ اب ان کے گرد اصل اور متحرک سیاست داں یہ الیکٹ ایبلز ہی ہیں، اور ان سمجھوتوں کا ہی نتیجہ ہے کہ وہ اب ملک کے وزیراعظم ہیں۔پھر انہوں نے جو اپنی کابینہ کا اعلان کیا ہے ان 21 میں سے 12مشرف کابینہ میں کام کرچکے ہیں۔ اس وقت وطن عزیز میں زندگی کے تمام دائروں میں لاقانونیت ہے اور پاکستان عالمی پس منظر میں اہم دور سے گزر رہا ہے۔ غلامی کی بدترین صورت حال سے دوچار پاکستان استعماری قوتوں کا دستِ نگر ہے۔
عمران خان کے سامنے کئی بڑے چیلنج ہیں، جن میں سب سے اہم اور بنیادی چیلنج معیشت کی بحالی اور آئی ایم ایف سے نجات کا ہے۔جس کا انہوں نے اپنے قوم سے خطاب میں بھی ذکر کیا ہے۔ تاریخ کا سبق ہے کہ جن ملکوں نے بیرونی امداد پر اپنی معیشت استوار کرنے کی کوشش کی ہے، وہ کبھی اقتصادی طور پر اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہو سکے۔ آج یہی وجہ ہے کہ نیو امریکی گریٹ گیم کے نتیجے اور اداروں کے عمل دخل سے حالات مسلسل خراب ہوئے ہیں، مہنگائی کے عفریت نے لوگوں کا جینا دوبھر کردیا ہے، غریب کی غربت میں بھی اضافہ ہوا ہے اور چاروں طرف احساسِ محرومی ہے، اور عوام ناداری، بے کسی اور بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ اخلاقی گراوٹ بڑھ رہی ہے، نوجوان نسل کو فحاشی، عریانی، بے حیائی اور جنسی ہیجان میں مبتلا کردیا گیا ہے، وہ بے مقصد اور بے ہدف زندگی گزار رہے ہیں۔ کرپشن اور بدعنوانی کا طوفان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک عام آدمی کے لیے زندگی میں صرف اور صرف تکلیف اور درد ہے۔ مغربی قوتیں سرکاری اور غیر سرکاری راستوں سے نصابِ تعلیم اور نظام تعلیم میں تحریفات کروا رہی ہیں۔عمران خان نے اپنی تقریر میں ان سارے ایشوز کا ذکر کیا ہے اور بڑی باتیں کی ہیں اب وہ ان پر کتنا عمل کرپاتے ہیں یہ اہم سوال ہے کیونکہ انتخابات 2018ء میں اپوزیشن جماعتوں کے اٹھنے والے سوالات اور کئی انتخابی نتائج میں تبدیلی کے باوجود عوام کے تحریک انصاف کے حق میں فیصلے کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ لوگوں نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا، وہ ملک کے نظام اور پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیوں کے خواہش مند ہیں، اور تحریک انصاف اور عمران خان ان حالات کو بدلنے کے لیے تبدیلی کے نعرے کے ساتھ آئے ہیں۔گو کہ لوگ عمران خان کے وعدوں کو اب شک کی نظر سے دیکھتے ہیں کیونکہ وہ بہت تیزی سے یوٹرن لیتے آئے ہیں۔ وہ مزید کتنا اپنے کہے ہوئے سے پیچھے ہٹتے ہیں یا ثابت قدم رہتے ہیں، یہ دیکھنے کے لیے ہمیں زیادہ انتظار شاید نہیں کرنا پڑے گا۔ ابتدائی سودن جسے ہنی مون پیریڈ بھی کہتے ہیں اس میں ہی اس کے اشارے مل جائیں گے۔ اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ جہاں نئی حکومت کو مناسب موقع ملنا چاہیے وہیں نئی حکومت بھی اپنی اعلان کردہ پالیسیوں پر عمل کرے اور اس بات کو ثابت کرے کہ اس کے وعدے اور نعرے ماضی کی حکومت کی طرح نہیں تھے، اور عمران خان نے اپنے خطاب میں قوم کو جو سو دن کا نقشہ دیا ہے اس کے مطابق احتساب اور ڈیلیوری کا نظام مرتب کیا جائے،جس پر پوری شفافیت کے ساتھ عمل ہو ، قوم اور پارلیمنٹ کو ہرقدم پر پوری طرح باخبر رکھا جائے۔مدینہ جیسی ریاست بنانے کے لیے عملی سفر بھی شروع کیا جائے اور اس تبدیلی کی جھلک ان کے اپنے اندر اور ان کی پارٹی میں بھی نظر آنی چاہئیے۔ اسی طرح حزبِ اختلاف کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنی آنکھیں کھلی رکھے اور تمام اہم امور پر پوری ذمے داری اور مستعدی دکھائے اور عوام کے حقوق کے تحفظ اور قوم کے وسائل کے صحیح استعمال کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

Share this: