تبدیلی کی شکل

س: جس تبدیلی کی آپ بات کررہے ہیں، میں اسے چشمِ تصور سے دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ کیا شکل اختیار کرے گی؟ حالات کو جوں کا توں رکھنا تو خدا کے قانونِ تبدیلی کے منافی ہے۔ آپ کو کیا نقشہ بنتا نظر آتا ہے؟
طارق جان: امریکہ کی سیاسی اور فلسفیانہ فکر میں قوت کا اظہار ایک لازمی عنصر ہے۔ ان کے مفکرین خواہ حالیہ صدی کے والٹر لپ مین (Walter Lippmann) ہوں یا قدیم ڈیوڈ ہیوم (David Hume) اور ان جیسے دوسرے… یہ سب بالعموم یہی کہتے ہیں کہ اگر آپ لوگوں کو جبر کے خاص حالات میں رکھیں، تو آپ ان کے ذہن تبدیل کرسکتے ہیں۔ خاص قسم کی معلومات خاص زاویے سے دیتے رہیں تو لوگ بدل جائیں گے۔ ڈیوڈ ہیوم نے تو کھل کر کہا ہے کہ لوگوں کو کچلنا مغربی فکر کا لازمی حصہ ہے۔
یہی چیز موجودہ زمانے میں برزنسکی، جو امریکی صدر جمی کارٹر کے دور میں قومی سلامتی کونسل کا سربراہ تھا، کہتا رہا ہے کہ جس قسم کا بھی ذہن ہو، اسے بدلا جا سکتا ہے۔ آپ ایک خاص درجہ حرارت میں اس معاشرے کو رکھیں اور جو انحراف کرے، اسے ماریں، پیٹیں۔ تیسرا یہ کہ پیسے دیں، پیسے دے کر قابو کریں۔ جیسے جنرل پیٹرائس نے عراق میں کہا تھا ــ”use money as amunition”، یعنی پیسے کو اسلحہ کے طور پر استعمال کرو۔ تو یہ جو سیکولر فکر ہے will to power میں یقین رکھتی ہے، جیسے کہ جرمن مفکر نطشے نے کہا ہوا ہے۔ یہ ول ٹو پاور کو ہر قیمت پر استعمال کرتی رہی ہے۔ “humans can be forced to change” یعنی انسانوں کو جبر کے ساتھ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ فکر اسلام آباد کے حکمرانوں میں بھی قدرے مختلف انداز سے جاری و ساری ہے۔ آنچہ اُستاذ ازل گفت ہماں می گویم، یہ تو اپنے اُستاذ کی زبان بولتے ہیں۔ دوسرا وہ یہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو اتنا تھکائو کہ مطالبہ کر کرکے تھک جائیں۔ آپ اپنی جگہ پر بیٹھے رہیں اور وہی کام کرتے چلے جائیں۔ ایسا رویہ لازماً کشمکش کی طرف جاتا ہے۔ اس میں آپ کسی ایک پارٹی کو مطعون نہیں کرسکتے۔ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ جو ہیں بڑے معقول ہیں جبکہ دوسرے نامعقول ہیں۔ اس میں سب برابر ہیں۔
س: آپ کا خیال ہے کہ آخری معرکہ اسلام آباد میں لڑا جائے گا؟
طارق جان: نہیں، یہ ایک طویل سفر ہے۔ میں کچھ اور دیکھ رہا ہوں۔ مجھے اپنے معاشرے میں آویزش اور تصادم نظر آرہا ہے۔ ملک میں نظریاتی تقسیم نظر آرہی ہے۔ سیکولر قوتوں کا حوالہ (reference point) اسلامی وحدت نہیں، بلکہ لسانیت، علاقائیت اور انتشار ہے۔ یہ ملک کو لسانی ٹکڑوں میں تقسیم کرتی ہیں۔ آج جو کراچی اور بلوچستان میں ہورہا ہے وہ کسی بڑے حادثے کی طرف جا سکتا ہے۔
دوسری چیز جو میں دیکھ رہا ہوں وہ مقتدر حلقوں، امریکہ اور انڈیا کی خواہش ہے کہ اجتماعی اسلام کو ریاست اور حکومت کی سطح پر پاکستان سے بے دخل کیا جائے۔ اس کے لیے فرقہ وارانہ فسادات کرائے جائیں۔ یہ جو قبروں سے مُردے نکالے جارہے ہیں، یہ طالبان کا کام نہیں۔ یہ بریلوی اورغیر بریلوی گروہوں کو فساد کی طرف دھکیلنا ہے۔ اس طرح شیعہ سنی کو بھی متصادم کیا جائے۔ مجھے یوں نظر آرہا ہے کہ جو کچھ ماضی میں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کے درمیان یورپ میں خون خرابے کرائے گئے، وہی کھیل یہاں بھی شروع کیا جا رہا ہے، تا کہ عوام روز روز کے جھگڑوں سے تنگ آکر اُسی طرح سیکولرزم کے آگے سر جھکا دیں جیسے یورپ میں ہوا۔
س: اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ملک میں وحدت ہونی ضروری ہے؟
طارق جان: جی ہاں! اس کے بغیر چارہ نہیں۔ سیکولرزم (لادینیت) ہمارے معاشرے کا حل نہیں۔ یہ انتشار کی طرف لے جائے گا جو غالباً سیکولر چاہتے ہیں۔ مسلمانوں نے کہیں بھی سیکولرزم کو خوش دلی سے قبول نہیں کیا۔ مدافعت کی ہے اور ہتھیار بھی اٹھائے ہیں۔ پرویزمشرف نے سیکولرزم کا ہانکہ لگایا، نتیجہ آپ دیکھ رہے ہیں۔ وحدت پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ محض اس کی خواہش نہ کی جائے، اور نہ محض اس کے حق میں تقریریں کی جائیں، اور شاید اس کا عقلی دلیلوں سے بھی کوئی تعلق نہیں، کیونکہ بالآخر وحدت معاشرے کو نظم میں لانے سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے لیے تین اقدام بڑے ضروری ہیں:
اول: ایک مرکزی نکتہ فکر کی ترویج جو محور (axle) فراہم کرسکے۔
دوم: اس کے اردگرد اداروں کی تشکیل جس میں تعلیم، عدالتیں، میڈیا، فوجی، سول اور پولیس کے تربیتی ادارے شامل ہیں۔ یہ ادارے وحدتِ فکر و عمل کے لیے ضروری ہیں، تاکہ معاشرے کو ممکنہ تضادات سے بچایا جا سکے۔
سوم: نگرانی کا طریقہ کار جو ہمہ وقت یہ دیکھے کہ مرکزی نکتہ فکر سے انحراف نہ ہو، اور جہاں ایسا ہورہا ہو وہاں ہر ممکنہ طریقے سے اُسے راست پر لائے جس میں طاقت کا استعمال (تعزیر) ایک اہم عنصر ہے۔
(’’سیکولرزم: مباحث اور مغالطے‘‘… طارق جان)

نصیحت

اک لرد فرنگی نے کہا اپنے پسر سے
منظر وہ طلب کر کہ تری آنکھ نہ ہو سیر
بیچارے کے حق میں ہے یہی سب سے بڑا ظلم
برے پہ اگر فاش کریں قاعدۂ شیر
سینے میں رہے رازِ ملوکانہ تو بہتر
کرتے نہیں محکوم کو تیغوں سے کبھی زیر
تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے اسے پھیر
تاثیر میں اکسیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب
سونے کا ہمالہ ہو تو مٹی کا ہے اک ڈھیر

لرد:لارڈ کی ایرانی شکل۔
1۔ ایک فرنگی لارڈ نے اپنے بیٹے سے کہا: کوئی ایسا نظارہ مانگ جسے دیکھتے دیکھتے تیری آنکھ کبھی سیر نہ ہو۔ یعنی معمولی نظاروں کی آرزو نہ کر۔ کسی بہت بڑے نظارے کو اپنا نصب العین بنا۔
2۔ اگر بھیڑ کے بچے پر شیر کے طور طریقے ظاہر کردیں تو اس غریب کے حق میں اس سے بڑا ظلم اور کوئی نہیں ہوسکتا۔
مراد یہ ہے کہ حکمرانوں کو اپنی حکومت کے بھید محکوموں کے سامنے کبھی ظاہر نہیں کرنے چاہئیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ وہ ان رازوں کو سمجھ نہ سکے گا۔ سمجھ بھی لے تو ان پر عمل نہ کرسکے گا۔ اس لیے کہ اس کا مقام ومرتبہ حکمرانی کا نہیں محکومی کا ہے۔ اگر بہ فرضِ محال وہ ان طور طریقوں کو اپنا لے تو پھر محکوم نہ رہے گا اور ہماری حکمرانی ختم ہوجائے گی۔
3۔ بہتر یہی ہے کہ حکمرانی کا راز اپنے سینے میں محفوظ رکھا جائے۔ یہ معلوم ہونا چاہیے کہ محکوم تلواروں کے ذریعے سے زیر نہیں کیے جاتے۔ انہیں حقیقی معنی میں زیر کرنے کے طریقے اور ہیں۔
4۔ وہ طور طریقے کیا ہیں؟ مثال کے طور پر تعلیم کا نظام ایسا بنایا جائے جو محکومی کی خودی کے لیے تیزاب کا کام دے۔ اس طرح خودی موم کی مانند ملائم ہوجائے گی۔ پھر اس سے جو کام چاہو، لے لو اور جس شکل پر چاہو ڈھال لو۔
5۔ تعلیم کے تیزاب کی خصوصیتوں پر غور کرو تو معلوم ہوجائے گا کہ یہ تاثیر میں اکسیر سے بڑھا ہوا ہے۔ یہ تیزاب سونے کے ہمالیہ جیسے پہاڑ کو بھی مٹی کا ڈھیر بناسکتا ہے۔

Share this: