سیاست کا عالمگیر بحران

اہلِ پاکستان کا خیال ہے کہ صرف پاکستان کی سیاست بحران کا شکار ہے۔ ایسا نہیں ہے، سیاست کا بحران عالمگیر ہے۔
مغرب کے دانش ور پاکستان کو ’’بنانا ری پبلک‘‘ کہتے ہیں اور اُن کا خیال ہے کہ امریکہ دنیا کی سب سے مضبوط جمہوریت ہے۔ مگر سیاست کی خرابی اور بحران کے حوالے سے پاکستان اور امریکہ میں کوئی فرق نہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ میاں نوازشریف اپنی نااہلی اور بدعنوانی کی وجہ سے کوچۂ اقتدار سے نکالے گئے تو انہوں نے ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا نعرہ فضا میں بلند کردیا۔ اس نعرے کے ذریعے میاں نوازشریف نے تاثر دیا کہ وہ ’’مجرم‘‘ نہیں ’’معصوم‘‘ ہیں اور انہیں فوج اور عدلیہ نے ’’انتقام‘‘ کا نشانہ بنایا ہے۔ اس امر کی شہادتیں موجود ہیں کہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے میاں صاحب نے ایک جانب ’’قوم پرستی‘‘ کو آواز دی، دوسری جانب انہوں نے سپریم کورٹ اور فوج کے نظم و ضبط پر نقب لگانے کی کوشش کی، اور تیسری جانب عوام کو بغاوت پر اکسایا۔
اب آپ ذرا دنیا کی سب سے مضبوط، سب سے مشہور اور سب سے مقبول جمہوریت امریکہ کی مثال ملاحظہ کیجیے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق وکیل مائیکل کوہن نے ایک مقدمے میں اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دو طوائفوں کے ساتھ اپنے تعلق کو پوشیدہ رکھنے اور طوائفوں کو خاموش کرنے کے لیے رشوت دی اور اس طرح وہ الیکشن مہم کے قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔ مائیکل کوہن کے اس بیان نے امریکہ کی سیاست کو دھماکہ خیز بنادیا ہے اور صدر ٹرمپ کے مواخذے یا Impeachment کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ ہوسکے گا یا نہیں، اس بارے میں ابھی وثوق سے کچھ بھی کہنا دشوار ہے، البتہ جو بات واضح ہے وہ یہ کہ مائیکل کوہن کے بیان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میاں نوازشریف بنا دیا ہے۔ اس کا ٹھوس اور ناقابلِ تردید ثبوت ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹیلی ویژن انٹرویو اور ان کے وکیل اور مشیر روڈی جولیانی کا بیان ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے انٹرویو میں کہا:
’’اگر میرا مواخذہ کیا گیا تو امریکہ کی معیشت بیٹھ جائے گی اور سب غریب ہوجائیں گے۔ آخر آپ ایسے شخص کا مواخذہ کیسے کرسکتے ہیں جس نے (قوم کی خدمت کرکے) زبردست کام کیا ہے۔‘‘
(روزنامہ ڈان کراچی۔ 25 اگست 2018ء)
ٹرمپ کے وکیل اور مشیر روڈی جولیانی نے کیا کہا، ملاحظہ فرمایئے:
’’آپ ٹرمپ کا مواخذہ صرف سیاسی اسباب کی وجہ سے کریں گے اور امریکہ کے لوگ اس عمل کے خلاف بغاوت کردیں گے۔‘‘
ان خیالات کو دیکھا جائے تو ٹرمپ اور ان کے متاثرین تاثر دے رہے ہیں کہ ٹرمپ نے کوئی جرم تھوڑی کیا ہے، بلکہ وہ تو معصوم اور مظلوم ہیں۔ چنانچہ ان کا مواخذہ ہوا تو وہ کوئی ’’قانونی عمل‘‘ نہیں ہوگا بلکہ اس کی نوعیت سیاسی انتقام کی ہوگی اور اس سے ملک کی معیشت تباہ ہوجائے گی، لوگ غریب ہوجائیں گے، چنانچہ امریکہ کے عوام مواخذے کے خلاف بغاوت کردیں گے۔ میاں صاحب نے بھی ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ مہم کے دوران یہی فرمایا کہ کیا میرا جرم ملک و قوم کی خدمت ہے؟ کیا میرا جرم یہ ہے کہ میں نے ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالا؟ سی پیک کا آغاز کیا، موٹر وے بنائی؟ میاں صاحب کے صحافتی وکیل آئے دن قوم کو بتاتے تھے کہ چین میاں صاحب کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر خوش نہیں اور وہ میاں صاحب ہی کو اقتدار میں دیکھنا چاہتا ہے۔ سعودی عرب کو بھی میاں صاحب کی اقتدار سے محرومی گوارہ نہیں۔ مگر اب سعودی حکمران ایک ہفتے میں تین بار عمران خان کو فون کررہے ہیں، چین عمران خان کے ساتھ کام کرنے کے لیے ’’بے تاب‘‘ ہے۔ لیکن یہاں کہنے کی اصل بات یہ نہیں ہے، یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ جمہوریت قانون کی حکمرانی یا Rule of Law کا نام ہے۔ میاں صاحب اور ان کے حواریوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں قانون کی عمل داری یا قانون کی بالادستی کہاں ہے؟ یہاں تو ہر طرف ’’خلائی مخلوق‘‘ موجود ہے۔ اس بیان میں بڑی صداقت ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ دنیا کی سب سے مضبوط، مشہور اور مقبول جمہوریت امریکہ کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی میاں صاحب کی طرح قانون کی بالادستی یا Rule of Law کا قائل نہیں۔ وہ بھی زبانِ حال سے یہی کہہ رہا ہے کہ اگر مجھے نکالا گیا تو قیامت آجائے گی، معیشت تباہ ہوجائے گی، سب غریب ہوجائیں گے۔ ان کا وکیل کہہ رہا ہے کہ لوگ بغاوت کردیں گے۔ یعنی ٹرمپ کے وکیل کے نزدیک ٹرمپ کا مواخذہ ہو تو لوگوں کو بغاوت کردینی چاہیے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح میاں نوازشریف اور ان کی آل اولاد کی بدعنوانی ایک ہزار فیصد ثابت شدہ ہے، اسی طرح ٹرمپ کا ’’جھوٹ‘‘ بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ مگر نہ ’’بنانا ری پبلک‘‘ کے وزیراعظم میاں نوازشریف نے اپنا جرم تسلیم کیا، نہ دنیا کی سب سے مضبوط جِمہوریت کا صدر ٹرمپ اپنے جرم کو مان رہا ہے۔ وہ بھی ’’سیاسی انتقام‘‘ کا تاثر عام کرکے کہہ رہا ہے کہ پاکستان کی طرح امریکہ میں بھی ’’خلائی مخلوق‘‘ موجود ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو امریکہ میں صدر ٹرمپ کے مواخذے کی بات کیوں ہوتی؟ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان اور امریکہ کے سیاست دان ایک جیسے ہیں، پاکستان اور امریکہ کی سیاست بھی ایک جیسی ہے۔ اس اعتبار سے میاں نوازشریف کو پاکستان کا ڈونلڈ ٹرِمپ، اور ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکہ کا نوازشریف کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ مگر مسئلہ صرف نوازشریف اور ڈونلڈ ٹرمپ، اور پاکستان یا امریکہ کا نہیں۔
ہندوستان خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے مگر ہندوستان کی جمہوریت کا یہ عالم ہے کہ اس جمہوریت کی سب سے نمایاں عصری علامت نریندر مودی ہیں۔ اُن کی سیاست اسلام اور مسلمانوں کی نفرت پر کھڑی ہے، اور جو چیز نفرت پر کھڑی ہو وہ سیاست نہیں ہوسکتی۔ نریندر مودی کی نفرت کی سیاست کا قصہ یہ ہے کہ اُن سے ایک بار پوچھا گیا کہ کیا آپ کو مسلمانوں کی موت پر افسوس نہیں ہوتا؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ ’’اگر آپ کی کار کے نیچے کتے کا پلّا آجائے تو آپ کو دکھ تو ہوگا‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ نریندر مودی مسلمانوں کو کتے کا پلّا سمجھتے ہیں۔ مودی کی مسلمانوں سے نفرت اس امر سے بھی ظاہر ہے کہ بھارت کے ممتاز صحافی کرن تھاپر نے ایک انٹرویو میں مودی کو گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام سے متعلق کرکے سوال کرلیا۔ صرف ایک سوال کی بساط ہی کیا ہے! مگر مودی اس ایک سوال پر اتنا ناراض ہوئے کہ انہوں نے کرن تھاپر کو انٹرویو دینے سے انکار کردیا اور بی جے پی کے رہنمائوں سے کہا کہ وہ کرن تھاپر کو کبھی معاف نہیں کریں گے اور ان سے انتقام لے کر رہیں گے۔ یہ امر ریکارڈ پر ہے کہ مودی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو امریکہ نے انہیں مسلمانوں کی نسل کُشی کی وجہ سے امریکہ کا ویزا دینے سے صاف انکار کردیا تھا۔ بھارت کی سیاست ایک سطح پر اسلام اور مسلمانوں کی نفرت پر کھڑی ہے، دوسری سطح پر پاکستان کی نفرت سے وابستہ ہے، تیسری سطح پر ذات پات سے متعلق ہے، چوتھی سطح پر سرمائے اور جرائم پیشہ افراد سے منسلک ہے۔ اس اعتبار سے بھارت دنیا کا سب سے بڑا جمہوری اور سیاسی مذاق ہے۔
یادش بخیر ایک زمانے میں معین قریشی ہمارے عبوری وزیراعظم تھے۔ اُن سے ایک انٹرویو میں پوچھا گیا کہ آپ نے بڑے بڑے مالیاتی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر کام کیا ہے، ان عہدوں پر موجودگی کی وجہ سے آپ کی ملاقات دنیا بھر کے سفارت کاروں اور ماہرین سے ہوتی ہوگی، ذرا یہ تو بتایئے کہ آپ نے کس ملک کے سفارت کاروں اور ماہرین کو بہترین پایا؟ معین قریشی نے ایک لمحے کا توقف کیے بغیر کہا کہ چین کے سفارت کاروں اور ماہرین سے بہتر کوئی نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ معین قریشی نے یہ بتائی کہ چینی بڑے محنتی ہوتے ہیں، وہ اپنا ہوم ورک کرکے آتے ہیں، ان کے ذہن بالکل واضح ہوتے ہیں۔ معین قریشی کی یہ بات درست ہے۔ چین کا سیاسی نظام ’’میرٹ‘‘ پر کھڑا ہے، ایسا نہ ہوتا تو چین دنیا کی معاشی سپر پاور بن کر نہ ابھرتا۔ مگر اس کے باوجود چین کی سیاست بھی بحران کا شکار ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی نے اپنے آئین میں تبدیلی کرتے ہوئے چین کے موجودہ صدر شی جن پنگ کو ’’تاحیات صدر‘‘ بنادیا ہے۔ ان سے پہلے کوئی بھی شخص صرف دو بار صدر منتخب ہوسکتا تھا۔ صدر شی جن پنگ کے تاحیات صدر بننے کے عمل سے جہاں شی جن پنگ کا ’’غیر معمولی‘‘ ہونا ثابت ہے، وہیں اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ارب 30 کروڑ آبادی کے چین میں شی جن پنگ کا متبادل موجود نہیں۔
روس دنیا کی دوسری بڑی عسکری طاقت ہے۔ روس نے بھی سرمایہ دارانہ نظام اور جمہوری بندوبست کو قبول کرلیا ہے، مگر روس کی سیاست پر صرف ایک شخصیت چھائی ہوئی ہے، صدر پیوٹن کی شخصیت۔ پیوٹن کے جے بی کے سابق اہلکار ہیں مگر اب وہ اتنے طاقت ور ہیں کہ ان کا کوئی متبادل موجود نہیں۔ متبادل کی عدم موجودگی بتاتی ہے کہ روس کی سیاست میں نہ وسعت ہے نہ گہرائی، نہ تنوع ہے نہ میرٹ۔
یورپی اتحاد 28 ممالک پر مشتمل ہے اور اس کی آبادی 50 کروڑ سے زیادہ ہے، مگر یورپ کے تمام اہم ممالک میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے اور یورپ کی سیاست اسی نفرت کو بیساکھی بناکر آگے بڑھ رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پورے یورپ میں دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتوں کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے۔ یہ صورتِ حال مغرب کے تصورِ آزادی، تصورِ جمہوریت، تصورِ عقل پرستی اور تکثیریت یا Pluralism کے خلاف ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ یورپ کی سیاست خود یورپ کی اقدار کو کچلتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے۔ یہی یورپ کی سیاست کا بحران ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بحران یورپ کی قیادت کے معیار پر بھی منفی اثرات مرتب کررہا ہے، یہی وجہ ہے کہ یورپ میں مودی اور ٹرمپ جیسے سیاسی کردار سامنے آرہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی سیاست کا حال عیاں ہے۔ عراق اور شام تباہ ہوچکے ہیں، یمن تباہ ہونے والا ہے، بڑی بڑی عرب ریاستوں کی اوقات یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے صاف کہا ہے کہ اگر ہم عرب حکمرانوں کو تحفظ مہیا نہ کریں تو ان کی حکومتیں چند دنوں میں زمین بوس ہوجائیں۔ عرب سیاست کا ایک شرم ناک پہلو یہ ہے کہ اخوان المسلمون کی جڑیں اسلام میں پیوست ہیں، اسلامی تہذیب میں پیوست ہیں، اسلامی تاریخ میں پیوست ہیں، مگر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اخوان کو ’’دہشت گرد تنظیم‘‘ قرار دے کر عرب معاشروں کی ’’روح‘‘ سلب کرلی ہے۔ یہاں تک کہ قطر کو اس بات کی ’’سزا‘‘ دی جارہی ہے کہ اس نے اخوان کے رہنمائوں کو پناہ دی ہوئی ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی روحانیت اور اخلاقیات کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے سعودی عرب میں 10 برسوں میں تفریح فراہم کرنے کے لیے 62 ارب ڈالر مختص کردیے ہیں۔ اس صورتِ حال نے سعودی عرب میں تفریح کو بھی ’’سازش‘‘ بنادیا ہے۔
ملائشیا مسلم دنیا کے اُن چند ممالک میں سے ہے جن کو مادی ترقی کے اعتبار سے ایک معیار کی حیثیت حاصل ہے۔ اس ترقی کی پشت پر مہاتیر محمد کی قیادت موجود تھی، مگر مہاتیر کے ہٹتے ہی صورتِ حال خراب ہونا شروع ہوگئی، یہاں تک کہ سابق وزیراعظم نجیب رزاق کے دور میں نااہلی اور بدعنوانی کے حوالے سے صورتِ حال اتنی خراب ہوگئی کہ 93 سالہ مہاتیر محمد کو ایک بار پھر سیاست میں آنا اور انتخابات میں حصہ لینا پڑا۔ ان دنوں مہاتیر ملائشیا کے وزیراعظم ہیں۔ انہوں نے سابق وزیراعظم کو ڈیڑھ ارب ڈالر کی بدعنوانی کے الزام کے تحت جیل میں ڈال دیا ہے، انہوں نے چین کے ساتھ تقریباً 25 ارب ڈالر کے دو سمجھوتوں کو منسوخ کردیا ہے۔ مہاتیر کا اصرار ہے کہ سابق وزیراعظم نے ان معاہدوں کے سلسلے میں قومی مفادات کا تحفظ نہیں کیا، اس لیے یہ معاہدے صرف چین کے مفاد میں ہیں۔
آسٹریلیا پورا براعظم ہے اور وہاں سفید فاموں کا غلبہ ہے۔ مگر آسٹریلیا کی سیاست اور جمہوریت کی کمزوری کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ 2007ء سے 2015ء تک آسٹریلیا کے عوام کو 6 وزیراعظم بھگتنا پڑے۔ چند روز پیشتر آسٹریلیا میں ایک اور سیاسی بحران پیدا ہوا اور آسٹریلیا کی لیبر پارٹی کے وزیراعظم ٹرن بُل اپنا عہدہ بچا نہیں پائے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ آسٹریلیا کا حالیہ سیاسی بحران لیبر پارٹی کی داخلی کشمکش کا حاصل تھا۔ سوال یہ ہے کہ اس صورتِ حال کا سبب کیا ہے؟
جہاں تک مسلم معاشروں کا تعلق ہے، ان کی سیاست کے اصل مرض کی نشاندہی اقبال بہت پہلے کرچکے ہیں۔ اقبال نے کہا ہے:
جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشہ ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
سیاست طاقت اور سرمائے کا کھیل ہے، چنانچہ اسے روحانیت یا اخلاقیات کے تابع نہ کیا جائے تو اس سے چنگیزی ہی برآمد ہوگی۔ صرف دین کا حقیقی شعور ہی حکمران کو ذمے دار اور خدمت گار بنا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے پوری مسلم دنیا میں کہیں بھی سیاست حقیقی معنوں میں دین کے تابع نہیں۔ باقی دنیا دین کو نہیں مانتی نہ مانے، مگر اخلاقیات کے کسی نہ کسی تصور کو تو تسلیم کرے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اخلاقیات مذہب کے سوا کہیں سے نہیں آسکتی، اور مغرب کا پیدا کردہ ذہن ہر قیمت پر روحانیت اور اخلاقیات سے بچنا چاہتا ہے خواہ اسے خودکشی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔
چلیے سیاست مذہب کے تابع نہ ہو مگر اسے اہلیت یا میرٹ کو تو بالادست بنانا ہی چاہیے، لیکن مغربی جمہوریت خود مغرب میں اہل قیادت کو سامنے نہیں لا پا رہی تو باقی دنیا میں وہ ایسا کیونکر کرسکے گی! اس وقت دنیا کی سیاست میں سب سے زیادہ اہلیت چین کے سیاسی نظام میں ہے، اور چین کا سیاسی نظام جمہوری نہیں آمرانہ ہے۔ اس نظام نے ڈینگ ژیائو پنگ اور شی جن پنگ جیسے سیاسی رہنما پیدا کیے ہیں۔ ڈینگ ژیائو پنگ جدید چین کے بانی ہیں۔ ان کا مشہورِ زمانہ فقرہ ہے ’’مسئلہ بِلّی کے رنگ کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ بلی چوہے پکڑ رہی ہے یا نہیں۔ بلی چوہے پکڑ رہی ہو تو اس کے کالے یا سفید رنگ سے کیا فرق پڑتا ہے‘‘۔ چین نے گزشتہ 35 سال میں جو مادی ترقی کی ہے وہ اسی فقرے پر کھڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب کے دانش ور اور پالیسی ساز چین کی ترقی کو حیرت اور حسرت سے دیکھ رہے ہیں۔ اگر چین کی ترقی کا موجودہ سفر آئندہ پندرہ بیس سال تک جاری رہا تو مغربی ممالک اور ان کے بندر، مغرب کی نام نہاد لبرل ڈیموکریسی پر تھوک دیں گے اور کہیں گے کہ چین کا سیاسی نظام ہی بہترین نظام ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سرِدست دنیا کے اکثر ممالک کی سیاست میں اہلیت و صلاحیت کا فقدان ہے اور انہیں نوازشریفوں، آصف زرداریوں، نریندر مودیوں اور ڈونلڈ ٹرمپوں پر گزارا کرنا پڑرہا ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ دنیا کی سیاست میں مدبر موجود تھے، مگر اب سیاست سے مدبر غائب ہوگئے ہیں اور ہر طرف سیاست دانوں کا غلبہ ہوگیا ہے۔ مدبر اور سیاست دان کا فرق یہ ہے کہ مدبر خود ہارکر ملک و قوم کو فتح یاب کردیتا ہے، جبکہ سیاست دان خود کو فتح یاب کرنے کے لیے ملک و قوم کے منہ پر شکست کی کالک مَل دیتا ہے۔ مدبر کیسا ہوتا ہے اس کی ایک مثال قائداعظم تھے۔ بھارت کے سابق رکن پارلیمنٹ سید شہاب الدین نے اپنے انگریزی ماہنامہ ‘Muslim India’ کے ایک شمارے میں قیامِ پاکستان کے بعد ہونے والے آل انڈیا مسلم لیگ کے آخری اجلاس کی روداد شائع کی تھی۔ اس روداد کے مطابق قائداعظم نے مسلم لیگ کے رہنمائوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان بن گیا ہے اب آپ اسے سنبھالیں۔ ہندوستان کے مسلمان قیادت سے محروم ہیں یا Leader Less ہوگئے ہیں، چنانچہ میں اب بمبئی واپس جا رہا ہوں، میں وہیں رہوں گا اور ہندوستان کے مسلمانوں کی رہنمائی کروں گا۔ ظاہر ہے کہ یہ بات مسلم لیگ کی قیادت کے لیے قابل ِقبول نہیں ہوسکتی تھی، چنانچہ قائداعظم کو اپنا ارادہ ترک کرنا پڑا۔ لیکن اس سے معلوم ہوا کہ رہنما ہونے کا مفہوم کیا ہوتا ہے۔ قائداعظم پاکستان کے خالق تھے مگر وہ اپنی تخلیق سے بڑے تھے اور ان کے ذہن میں سیاسی مفاد کا تصور تک موجود نہ تھا۔ مگر اب مسئلہ یہ ہوگیا ہے کہ سیاست دان انفرادی، خاندانی، گروہی، اداراتی اور جماعتی مفادات سے بلند نہیں ہو پاتے۔ ایک وقت تھا کہ ہندوستان کے رہنما گاندھی اور نہرو تھے، اور ایک وقت یہ ہے کہ ہندوستان کا رہنما مودی ہے۔ ایک وقت تھا کہ پاکستان کی قیادت قائداعظم اور لیاقت علی خان کے پاس تھی، اور ایک وقت یہ ہے کہ ہمارے قائد نوازشریف اور آصف زرداری جیسے لوگ ہیں۔ عمران خان ابھی قیادت کے پلِ صراط پر چڑھے ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ وہ خود کو چھوٹا بنا کر ملک و قوم کو بڑا کرتے ہیں، یا خود کو بڑا کرکے ملک و قوم کو چھوٹا بناتے ہیں؟

Share this: