فرائیڈے اسپیشل پر تبصرہ

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل ملکی اور بین الاقوامی صورت حال پر بروقت خبروں اور حالات پر تجزیہ کرنے والا منفرد میگزین ہے۔ اس سے ہمیں جہاں سیاسی ایشوز کو سمجھنے میں رہنمائی ملتی ہے وہیں یہ اہم معلوماتی، علمی اور تاریخی امور سے آگاہی کا ذریعہ بھی ہے۔ شمارہ33 میں ’’کمزور حکومت، تبدیلی کیسے آئے‘‘ کے عنوان سے ٹائٹل اسٹوری تھی جو قوم کے لیے بھی سوالیہ نشان ہے کہ اس طرح کی لڑکھڑاتی حکومت اپنی قوتِ نافذہ کس طرح قائم کرسکے گی۔ اس قوت کے بغیر حکومت کرنا کس طرح مناسب ہوسکتا ہے! یہ بھی ٹھیک ہے کہ مضبوط حزبِ اختلاف کے ساتھ حکومت کے اتحادی بھی حکومت کو ہر وقت دبائو میں رکھنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ مذکورہ آرٹیکل کے کالم نگار میاں منیر احمد نے قوم کو درپیش سنجیدہ سوال کا بہت اچھا تجزیہ کیا ہے۔ اللہ خیر کرے سب جمہوری انداز میں چلتا رہے ورنہ مارشل لا کی تلوار ہمارے سروں پر لٹکی ہوئی ہے۔’’عمران خان کو درپیش چیلنج‘‘ کے عنوان سے سید تاثر مصطفی کے مضمون میں حکومت پر دبائو کے حوالے سے ان کے دلائل بھی کچھ کچھ میاں منیر کے دلائل سے مماثلت رکھتے ہیں۔ شاہنواز فاروقی صاحب کا ایک اور آرٹیکل ’’تہذیبوں کا تصادم اور برنارڈ لیوس‘‘ کے عنوان سے میری نظر سے گزرا۔ کالم نگار نے اسلامی تہذیب کو مغربی تہذیب کے مقابلے میں بڑی دل سوزی سے اُجاگر کیا ہے۔ انہوں نے کالم میں اسلام و مسلمانوں سے ہمدردی جتانے کی آڑ میں منافقانہ کردار کو بے نقاب کیا ہے۔ چشم کشا آرٹیکل پر میری جانب سے شاہنواز فاروقی تک میری مبارک باد پہنچادیجیے۔ ہمیں شاہنواز فاروقی کی گفتگو کا انتظار رہتا ہے کیونکہ آپ انسانی تاریخ کے حوالے سے تاحال پیش آمدہ صورتِ حال کا تجزیہ خوب جم کر کرتے ہیں۔ مجھ جیسے قاری کے لیے فاروقی صاحب کے کالم اور مضامین حوالہ جات کے لیے بہت کام آتے ہیں، کالم نگار کی ہر سطر قاری کو دعوتِ فکر دیتی ہے۔ آپ کے آرٹیکل کی ایک سطر نے دل پر گہرا اثر چھوڑا ہے، وہ یہ کہ ’’معاشرے جب طاقت کی بنیاد پر چلائے جاتے ہیں تو ان میں حق اجنبی ہوجاتا ہے، اور طاقت جھوٹ کا تاج پہن کر گلی کوچوں میں رقص کرتی ہے‘‘۔ اسی طرح شمارہ 34 میں شاہنواز فاروقی کا ’’نئی حکومت اور عمران خان کی طوفانی سیاست‘‘ پر ایک اہم مضمون ہے، ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کا انٹرویو پڑھ کر یہ امید تو بندھی کہ اگر حکمران چاہیں تو معیشت بہتر ہوسکتی ہے اور غریب آدمی کو بھی اس ملک میں جینے کا حق مل سکتا ہے۔ اطہر ہاشمی کے ’’خبر لیجے زباں بگڑی‘‘ سے نہ صرف معلومات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ درست اردو بولنے اور لکھنے کا سبق بھی ملتا ہے، اور میں تو اس کالم کو گھر میں اجتماعی طور پر بول کر سناتا ہوں۔ دھنک اور اخبار نامہ اچھا سلسلہ ہے، علمی ادبی اہم شخصیات کے انٹرویوز میں کافی وقفہ آجاتا ہے۔
عبداللہ علی
فرائی ڈے اسپیشل کا مستقل قاری

روحانیت یا فرعونیت!

پاکپتن میں خاور مانیکا کے واقعے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ سب لوگ وزیراعظم کی اہلیہ کے حکم پر وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی جانب سے معافی مانگنے کے دباؤ اور پھر انکار پر ڈی پی او کی معطلی کی بات کررہے ہیں۔ لیکن اس سارے تماشے کا ایک سماجی پہلو بھی ہے۔ دراصل غلط فہمی پر مشتمل دو الگ الگ واقعات کے بعد یہ بڑا دھماکا ہوا ہے۔ چند روز قبل خاور مانیکا اپنے بیٹے اور بیٹی کے ساتھ ننگے پاؤں پیدل لاہور سے پاکپتن جا رہے تھے۔ اس خاندان نے عمران خان کے وزیراعظم بننے پر منت مانگی تھی جس کو پورا کرنے کے لیے وہ لاہور سے تین دن کا پیدل ننگے پاؤں سفر کرکے پاکپتن پہنچے۔ اس دوران بھی رات کی تاریکی میں پولیس نے انہیں روکا تھا، صرف یہ دریافت کرنے کے لیے کہ ایک خاندان کیوں اتنی رات گئے پیدل سفر کررہا ہے۔ خاور مانیکا کی، شناختی کارڈ طلب کرنے اور پوچھ گچھ کرنے پر پولیس سے تلخ کلامی بھی ہوئی۔ دراصل ناکے پر تعینات پولیس اہلکاروں کے لیے یہ بات پریشان کن تھی کہ ایک خاتون اور دو مرد یوں اس طرح رات گئے پیدل سفر کررہے ہیں۔ البتہ شناخت ہونے پر پولیس نے اس خاندان کی حفاظت کی خاطر سیکورٹی فراہم کی۔ تاہم خاور مانیکا صاحب کا غصہ کم نہیں ہوا۔ اسی دوران تین روز قبل ایک اور واقعہ ہوا جب خاور مانیکا کی بغیر نمبر پلیٹ گاڑی کو رات گئے روکا گیا۔ اسے بھی شناخت ہونے پر جانے دیا گیا۔ لیکن بات وزیراعظم ہاؤس پہنچ گئی۔ وزیراعلیٰ کو حکم ہوا اور باقی کہانی سب جانتے ہیں۔ اس معاملے کا سماجی پہلو یہ ہے کہ روحانیت کے حصول کے وہ کون سے درجے ہیں جو آپ کو فرعونیت پر اکساتے ہیں۔ یہ کون سی دین داری ہے جو آپ میں غرور و تکبر بھر دیتی ہے۔ وزیراعظم کی اہلیہ ہوں یا منت مان کر پیدل ننگے پاؤں تین دن کا سفر کرنے والا ان کا خاندان، سب ہی غرورو تکبر اور طاقت کے نشے سے چور دکھائی دیتے ہیں۔ کتنا بڑا المیہ ہے کہ تسبیح کے دانے، مزارات پر مختلف قسم کی رسومات، چلے، وظائف اور عملیات، گدی نشینیاں اور پیری مریدی آپ کو انسان دوست بنانے کے بجائے مخلوقِ خدا سے نفرت اور حقیر سمجھنے کا درس دیتی ہیں! یہ تو اُن بزرگانِ دین کی بھی توہین ہے کہ جن کے نام پر یہ سب حاصل کیا جارہا ہے۔ دراصل یہ ایک بشریٰ خان اور خاور مانیکا کا قصہ نہیں، ملک میں رائج نام نہاد پیری مریدی کے نظام کا افسوس ناک پہلو ہے۔ بزرگوں کے نام پر گدی نشینوں کے خاندان عوام کے پیسے پر عیاشی اور حکومت کررہے ہیں۔ آپ نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بھائی کے ایک مرید کو سرِعام تھپڑ مارنے کی ویڈیو تو دیکھی ہوگی۔ ہر سیاسی جماعت میں ایسے پیشوا موجود ہیں جو کسی نہ کسی درگاہ، گدی نشینی یا دین داری کی آڑ میں فیض یاب ہورہے ہیں۔ ایسے بے شمار واقعات دیکھے جا سکتے ہیں۔ کسی گدی نشین کے ہاں جاکر اُس کا رویہ دیکھ لیں۔ مزارات کی بے پناہ کمائی اور اجداد کو انگریزوں سے ملی جائدادوں کے بل بوتے پر وہ آج بھی حاکم ہیں اور اپنی اپنی ریاست کے راجا۔ روحانیت کی آڑ اور بزرگوں کی عقیدت میں ان کی خدمت کو عبادت کا درجہ دیا جاتا ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ لوگوں کی عقیدتوں سے فائدہ اٹھاتے ان خاندانوں کے رویّے میں دین داری دور تک نظر نہیں آتی۔ مریدین کے معاملے میں یہ حُسنِ اخلاق اور دین کی تعلیمات کو یکسر بھلا دیتے ہیں۔ جاگیردار کے روپ میں سامنے آتے ہیں، کسی وڈیرے کی طرح برتاؤ کرتے ہیں۔ دوسری جانب پکڑے جانے پر جعلی قرار دئیے جانے والے عاملوں اور پیروں کے قصے الگ ہیں۔ روحانیت کی آڑ میں فرعونیت کے مظاہرے کیے جاتے ہیں جس کی ایک جھلک خاور مانیکا نے دکھائی ہے۔ معاشرتی المیہ ہے کہ عوام الناس میں بزرگانِ دین سے عقیدت کو یہ طبقہ اپنے سیاسی، معاشی اور دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ خاور مانیکا کا واقعہ سیاسی وجوہات کی بنا پر میڈیا کی زینت بنا، ورنہ ہر روز کہیں نہ کہیں کوئی گدی نشین اپنی رعایا کو طاقت کے نشے میں روندتا پایا جاتا ہے لیکن کسی کو کانوں کانوں خبر نہیں ہوتی۔
محمد عاصم حفیظ… شیخوپورہ