تحریک انصاف حکومت کی ابتدائی “حماقتیں”

۔25 جولائی کے عام انتخابات اور اس کے بعد وفاق اور چاروں صوبوں میں وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ، اسپیکرز اور ڈپٹی اسپیکرز کا چنائو، اور اب صدارتی انتخاب کے نتائج سے لگتا ہے کہ ملک سیاسی طور پر ایک بار پھر 1970ء کی دہائی میں داخل ہورہا ہے۔
1970ء کے انتخابات میں جس طرح ذوالفقار علی بھٹو ملک کے مغربی بازو میں ایک قد آور شخصیت کے طور پر ابھرے تھے، تھوڑی سی ترمیم و اضافے کے ساتھ 2018ء میں یہی معاملہ عمران خان کا ہے۔ اُن کی شخصیت کا کرشمہ وہی ہے جو ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت کا تھا۔ دونوں آکسفورڈ کے گریجویٹ ہیں، دونوں نے بڑی محنت کے بعد عوامی سطح پر پذیرائی حاصل کی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جاگیرداری، سرمایہ داری اور ملاّ ازم کے خلاف فضا تیار کی تھی۔ عمران خان نے کرپشن اور برسراقتدار ٹولوں کے خلاف فضا کو گرمایا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی ٹیم میں بھی اپنے نعرے کے برخلاف جاگیردار، وڈیرے اور سیاسی لوٹے شامل تھے، اور عمران خان کے دائیں بائیں بھی اُن کے نعروں کا منہ چڑاتے ہوئے کرپٹ اشرافیہ اور سیاسی لوٹے نظر آرہے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی ساری سیاسی جماعت اُن کی ذات کے گرد گھومتی تھی، وہی عقلِ کُل تھے اور وہی فیصلہ ساز۔ عمران خان کی بھی اپنی سیاسی جماعت میں یہی حیثیت ہے۔ پیپلزپارٹی کے اقتدار کا آغاز بھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعاون سے ہوا تھا، اور تحریک انصاف بھی اسٹیبلشمنٹ کے تعاون اور آشیرباد سے اپنا سفر آگے بڑھا رہی ہے۔ پیپلزپارٹی کے وزرا، لیڈروں اور کارکنوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد وہی کچھ کیا تھا جو آج کل فیاض الحسن چوہان، فواد چودھری اور مانیکا فیملی کے پشت پناہ کررہے ہیں۔ پیپلزپارٹی نے بھی 1970ء کے انتخابات میں کوئی سیاسی اتحاد نہیں بنایا تھا، کہیں کہیں سیٹ ایڈجسٹمنٹ ضرور کی تھی۔ تحریک انصاف نے بھی 2018ء میں دوچار جگہوں پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ سولو فلائٹ کی ہے۔ پیپلزپارٹی کے خلاف بھی 1970ء کے انتخابات میں کوئی مؤثر انتخابی اتحاد نہیں تھا اور 2018ء میں مجلس عمل اور جی ڈی اے بھی کوئی قابل ذکر نتائج نہیں دے سکے۔ انتخابی مہم کے دوران بھٹو اور ان کی جماعت کی گالی گلوچ اور زبان ایسی ہی تھی جیسی 2018ء میں عمران خان اور ان کی جماعت نے استعمال کی ہے۔
سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد بچے کھچے پاکستان میں پیپلز پارٹی نے اقتدار سنبھالا تو صوبوں میں آج جیسی صورتِ حال تھی۔ پیپلزپارٹی کو وفاق کے بعد صرف پنجاب میں اکثریت حاصل تھی جس طرح آج تحریک انصاف کو صرف کے پی کے اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے۔ 1970ء میں سندھ میں پیپلز پارٹی سب سے بڑی پارٹی ضرور تھی مگر اس کو سادہ اکثریت حاصل نہیں تھی جس طرح آج پنجاب میں تحریک انصاف کو حاصل نہیں ہے۔ تحریک انصاف گو پنجاب میں عددی اعتبار سے دوسری بڑی جماعت ہے مگر جس طرح 1970ء میں پیپلز پارٹی نے آسانی سے صوبہ سندھ میں حکومت بنائی تھی اسی طرح تحریک انصاف نے بھی پنجاب میں حکومت بنا لی ہے۔ پیپلز پارٹی اُس وقت کے صوبہ سرحد اور بلوچستان میں عددی اعتبار سے تیسری، چوتھی جماعت تھی جس طرح آج سندھ اور بلوچستان میں تحریک انصاف ہے۔ اسی عددی کمزوری کے باعث پیپلزپارٹی 1970ء میں صوبہ سرحد اور بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کے گورنرز لگانے پر مجبور ہوئی تھی، چنانچہ اِن دونوں صوبوں میں نیپ اور جے یو آئی سے اتحاد کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں صوبہ سرحد میں نیپ کے ارباب سکندر خان خلیل اور بلوچستان میں غوث بخش بزنجو گورنر مقرر ہوئے تھے۔ یہی اِس بار ہوا ہے۔ تحریک انصاف بلوچستان میں بلوچستان نیشنل پارٹی اور اس کے اتحادیوں کا گورنر لگانے پر مجبور ہوگئی ہے۔
1970ء سے 1977ء تک کے عرصے میں ملک میں جو سیاسی رسّاکشی، کھینچا تانی اور مار دھاڑ تھی وہ اِس بار بھی اتنی ہی شدت کے ساتھ آگے بڑھتی نظر آرہی ہے۔ جو بے یقینی اُس دور میں تھی اِس دور میں بھی نظر آئے گی۔ جس طرح ذوالفقار علی بھٹو نے دو صوبوں میں اپنی مخالف حکومتوں کو توڑ دیا تھا اِس بار تحریک انصاف بھی ایک آدھ صوبے میں مخالف حکومت کو توڑ سکتی ہے۔ 1977ء میں بھی اپوزیشن جماعتوں نے اکٹھے ہونے میں دیر نہیں لگائی تھی حالانکہ انتخابات کا اعلان کرتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو کے ذہن میں یہ بات واضح تھی کہ اپوزیشن منتشر ہے، وہ اسے آسانی سے پچھاڑ لیں گے۔ لیکن فوراً ہی اپوزیشن متحد ہوگئی اور انتخابی نتائج کے بعد ظاہری شکست کے باوجود ملک کی ایک بہت بڑی سیاسی قوت بن کر ابھر آئی۔ آج بھی یہی صورتِ حال ہے۔ پولنگ والے دن ہی گنتی کے دوران سیاسی جماعتوں نے دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے نتائج کو مسترد کردیا تھا، اور ابھی نتائج کا سرکاری نوٹیفکیشن بھی نہیں ہوا تھا کہ مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، اے این پی، پانچ جماعتی اتحاد متحدہ مجلس عمل ایک گرینڈ الائنس کی جانب بڑھتے نظر آئے۔ 1970ء کی پیپلزپارٹی درحقیقت یونینسٹ پارٹی، ری پبلکن پارٹی، کنونشن مسلم لیگ اور قوم پرست سیاست دانوں کا مجموعہ تھی، اور آج کی تحریک انصاف بھی پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ق)، مسلم لیگ (ن)، اور دوسرے موقع پرستوں اور مفاد پرستوں ہی کا مجموعہ ہے، اس لیے اُس کی کارکردگی اور رویّے بھی 1970ء والی پیپلزپارٹی جیسے ہوں گے۔ پیپلزپارٹی حکومت کی ابتدائی حماقتیں ویسی ہی تھیں جیسی آج کل تحریک انصاف کررہی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹواور عمران خان کے درمیان بعض شخصی مماثلتوں کی وجہ سے عمران خان کے فیصلے، پالیسیاں، حکمت عملی اور سیاست بھی بڑی حد تک ذوالفقار علی بھٹو جیسی ہی ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے دونوں کی حکومتوں کے معاملات، مشکلات اور مسائل بھی ایک جیسے ہی ہوسکتے ہیں اور مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔

Share this: