جھوٹ کی عادت

ڈاکٹر پروفیسر حافظ محمد دین قاسمی
بچے کا جھوٹ بولنا، موجودہ فاسد ماحول میں ایک سنگین مسئلہ ہے۔ بچہ ترکِ زُور پر آمادہ نہیں ہے، والدین کو بچے کی یہ حالت بہت کھَلتی ہے، وہ بچے کی اصلاح کی جو کوشش بھی کرتے ہیں اُس میں ناکام رہتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ بچہ جھوٹ کا عادی کیسے ہوگیا؟ اس سوال پر جس قدر بھی غور کیا جائے یہی واضح ہوتا ہے کہ بچہ اس برائی کو پیدائشی طور پر لیے ہوئے اس دنیا میں نہیں آتا، اُس نے یہ عادتِ بد اپنے ماحول سے اخذ کی ہے۔ بچے کا قریبی اور اوّلین ماحول وہی ہے جو گھر میں اُسے میسر ہے، اس لیے وہ گھر ہی سے یہ حرکت سیکھتا ہے۔ مثلاً ایک پڑوسن کوئی چیز لینے کے لیے گھر میں آئی، اہلِ خانہ نے اس خیال سے کہ پڑوسی کے ہاتھ میں آکر وہ چیز خراب ہوجائے گی، بستر کے نیچے چھپا دی اور اس سے یہ کہہ دیا کہ ’’نہیں! وہ چیز تو اس وقت فلاں گھر میں ہے‘‘۔ بچہ اس جھوٹ کو دیکھتا ہے اور اس حرکت سے مانوس ہوجاتا ہے۔ بچے نے دیکھا کہ اُس کے بڑے بھائی نے اُس قیمتی کھلونے کو جو دو چار دن پہلے ہی خریدا گیا تھا، توڑ دیا ہے۔ والدہ نے بڑے بھائی سے پوچھا تو اُس نے کوئی بہانہ گھڑ کر ماں کو مطمئن کردیا اور اس کی ناراضی سے بھی محفوظ رہ گیا۔ بچے نے اب محسوس کیا کہ جس ’’جھوٹ‘‘ سے وہ مانوس ہے وہ بعض اوقات ڈانٹ ڈپٹ، سرزنش اور سزا سے بھی محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے اور بڑا کامیاب ذریعہ ہے۔ اس طرح بچہ پہلے جھوٹ کو دیکھتا ہے، اس سے مانوس ہوتا ہے، پھر اسے دفع مضرت کا کارگر ہتھیار سمجھتا ہے، تب وہ جلبِ منفعت کے لیے استعمال پر بھی اتر آتا ہے۔ اگر والدہ اور دیگر اہلِ خانہ بچے کے سامنے یوں جھوٹ کا عملاً مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی تربیت کے اہتمام سے بے بہرہ اور لاشعور بھی ہیں تو جھوٹ بچے کا مستقل شیوہ بن جاتا ہے۔ تاہم بچے کو اس گناہ سے محفوظ رکھنے کے لیے ماں کو درج ذیل ہدایات پر عمل پیرا ہونا چاہیے:
1۔ بچے کو کبھی بھی عدم توجہی کا شکار نہ ہونے دیا جائے۔ بچے کے ’’جھوٹ‘‘ کا یہی بڑا سبب ہوتا ہے۔
2۔بچے کے سامنے قطعاً جھوٹ نہ بولا جائے بلکہ کبھی بھی جھوٹ نہ بولا جائے۔ ظاہر ہے کہ جب بچے کے کان کبھی جھوٹ سے آشنا ہی نہ ہوں گے، اُس کے دل و دماغ کا تعارف ہمیشہ صداقت ہی سے ہوگا تو ’’جھوٹ‘‘ اس کے لیے اجنبی اور صداقت ایک جانی پہچانی ’’معروف‘‘ چیز ہوگی۔
3۔ مذاق کے طور پر بھی جھوٹ نہ بولا جائے۔ عموماً اسے اہمیت نہیں دی جاتی، لیکن بچے کی تربیت کے نقطہ نظر سے اس کی بڑی اہمیت ہے، اس لیے اس سے سخت پرہیز لازم ہے۔
4۔ بچے پر کبھی بدگمانی نہ کیجیے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے، جب تک کہ آپ کو اُس کے جھوٹ ہونے کا قطعی علم نہ ہو۔ قطعی علم ہوجانے پر بھی اُس کو دانش مندی اور حکمت سے جھوٹ کی برائی سمجھائی جائے تاکہ وہ خودبخود اسے ترک کرنے پر آمادہ ہوجائے۔
5۔ بچہ اگر جھوٹ بول رہا ہے مگر والدہ کو اس کے جھوٹ کا یقین نہیں ہے تو بچے کو خوامخوا جھوٹا ثابت کرنے کے لیے جرح نہیں کرنی چاہیے۔ جرح کے ردعمل میں بچہ اس برائی پر بضد ہوجاتا ہے جس سے والدہ اسے بچانا چاہتی ہے۔

آزادی فکر

آزادیٔ افکار سے ان کی تباہی
رکھتے نہیں جو فکر و تدبر کا سلیقہ
ہو فکر اگر خام تو آزادیٔ افکار
انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ!

علامہ نے ان اشعار کو ’’آزادیٔ فکر‘‘ کے عنوان سے بیان فرمایا ہے۔ وہ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ اظہارِ خیال کی آزادیاں اس دور کا ایک نعرہ ہیں، مگر وہ فرماتے ہیں کہ آزادیٔ افکار صرف اس صورت میں انسانوں کے لیے باعثِ ترقی و سکون ہے جب وہ فکر و تدبر کا سلیقہ بھی رکھتے ہوں، یعنی معاملات پر غور و فکر کرنے کے ساتھ ساتھ دوراندیش نگاہ کے مالک بھی ہوں، بصورتِ دیگر یہ فکری آزادی ان کی تباہی کو یقینی بناکر رکھ دیتی ہے، یہاں تک کہ اگر انسان غور و فکر اور سوچ بچار کے معاملے میں ذرا بھی ناپختہ ہو تو ایسی فضول اور لایعنی آزادی اُسے انسانیت کے مقام سے گرا کر حیوانیت کی پستیوں میں پہنچا دیتی ہے، یعنی بظاہر وہ انسان ہوتا ہے مگر اپنے اعمال اور کارکردگی کے لحاظ سے وہ حیوانوں سے بھی بدتر ہوجاتا ہے۔ ہمارے ہاں اس کا عام مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے سیاست کار آئے روز یہ دعویٰ کرتے رہتے ہیں کہ یہ ہمارا جمہوری حق ہے یا ہمیں اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ آزادی بے لگام نہیں بلکہ حکیم الامت کے فیصلے کی رو سے فکر و تدبر کے سلیقے کے ساتھ مشروط ہے۔ بصورتِ دیگر اس کے نتیجے میں انسان جانور کی سطح تک گر سکتا ہے۔
’’علامہ اقبال کے تعلیمی تصورات‘‘
پروفیسر رشید احمد انگوی

Share this: