ششماہی السیرۃ عالمی

مجلہ : ششماہی السیرۃ عالمی
(شمارہ 38)
مدیر : سید فضل الرحمن
نائب : سید عزیز الرحمن
صفحات : 400، قیمت فی شمارہ 300 روپے
زیر اہتمام : مولانا سید زوار حسین اکیڈمی ٹرسٹ (وقف) پاکستان
ناشر : زوار اکیڈمی پبلی کیشنز۔ اے۔ 17/4 ناظم آباد نمبر 4 کراچی 74600
فون : 021-36684790
ای میل : info@rahet.org
ویب گاہ : www.rahet.org
کراچی پر اللہ جل شانہٗ کی بڑی رحمتیں اور برکتیں ہیں۔ کیا کیا طوفان اس پر نہیں گزر گئے، لیکن پھر بھی اللہ جل شانہٗ کے فضل و کرم سے آباد و شاد ہے۔ اس کی برکات میں اس کی علمی و دینی خدمات بھی ہیں۔ یہاں سے شائع ہونے والے علمی و دینی مجلات کا بلند مقام ہے، ان میں ایک اردو زبان میں شائع ہونے والا سیرتِ طیبہ اور تعلیماتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا نقیب، یہ علمی و تحقیقی مجلہ ششماہی السیرۃ عالمی ہے جس کا شمارہ نمبر 38 زیر نظر ہے، یعنی اس کو شائع ہوتے 19 سال ہوگئے ہیں۔ ہر شمارہ 400 صفحات پر مشتمل ہوتا ہے، اس طرح سیرت پر پندرہ ہزار دو سو صفحات اب تک چھپ چکے ہیں۔ اس شمارے میں جو مقالات شامل ہیں ان کا مختصر ذکر ہم یہاں کرتے ہیں:
اداریہ ’’پیغام سیرت کے تحت کامیاب زندگی، اسوۂ حسنہ کی روشنی میں، چند گر کی باتیں‘‘ سید فضل الرحمن مدیراعلیٰ کی نہایت عمدہ پُرنصائح تحریر ہے۔ 63 صفحات پر پھیلی ہوئی اس تحریر میں بہت سے مسائل پر گفتگو ہے۔ اداریے کا اختتام ان الفاظ پر ہوتا ہے:
’’کامیابی کی تلاش کسے نہیں؟ مگر یہ راستہ محنت طلب ہے اور انسان عجلت پسند۔ اس لیے انسان اپنی سستی اور کاہلی کے سبب جانتے بوجھتے بھی، اور بھرپور خواہش کے باوجود یہ راہ اختیار کرنے سے گریزاں رہتا ہے۔ کام اتنا مشکل نہیں، مگر استقامت چاہتا ہے اور تھوڑی سی ہمت۔ ایک مسلمان کے لیے یہ محنت اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس کی اخروی، ہمیشہ کی، دائمی اور حتمی زندگی کی کامیابی کا مدار دنیاوی زندگی کی کامیاب تکمیل پر ہے، اس لیے کامیابی ہماری دینی ضرورت بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ عمل کی راہ آسان فرمائے۔‘‘
پہلا مقالہ اصل میں پانچواں مولانا سید زوار حسین یادگاری خطبہ ہے جو بعنوان ’’مکاتیب نبوی، تقابلی مطالعہ‘‘ ڈاکٹر سید سلمان ندوی نے دیا تھا۔ تعارف میں لکھا ہے:
’’یہ خطبہ مولانا ڈاکٹر سید سلمان ندوی ابن علامہ سید سلیمان ندوی نے مولانا سید زوار حسین شاہ صاحب یادگاری خطبے کے سلسلے میں مئی 2011ء میں دارالعلم والتحقیق میں ارشاد فرمایا تھا۔ اسے کاغذ پر منتقل کرنے اور مناسب تدوین کے بعد شش ماہی السیرۃ کے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے کے ابتدائی چار خطبات ’’خطباتِ کراچی‘‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع ہوچکے ہیں۔‘‘
دوسرامقالہ پروفیسر ڈاکٹر محمد یاسین مظہر صدیقی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی تحقیق ہے ’’عہدِ جدید میں خواتین کی سیرت نگاری، ایک تنقیدی مطالعہ‘‘۔ معلومات افزا مقالہ ہے۔ یہ مقالہ بھی بیس صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔
تیسرا مقالہ جناب نادر عقیل انصاری کے مقالہ ’’استعماریات اور شبلی کی سیرت نگاری‘‘ پر جناب محمد رشید کا ’’استعماریات اور شبلی کی سیرت نگاری کا ایک ناقدانہ جائزہ‘‘ کے نام سے تنقیدی جائزہ ہے۔
چوتھا مقالہ پروفیسر ظفر احمد کی تحریر ہے ’’السیرۃ النبویہ علی صاحبھا الصلوٰۃ والسلام… تحقیقی و توقیتی مطالعہ‘‘ (حصہ جدلیات) کی تیسویں قسط ہے۔ عنوان ہے ’’فتنۂ انکارِ حدیث تشقیق جدلی کی زد میں‘‘۔ یہ 93 صفحات کی طویل قسط ہے۔
پانچواں مقالہ کتاب المغازی کا ترجمہ ہے۔ مغازی معمر بن راشد قدیم ترین ماخذِ سیرت ہے۔ معمر کی وفات مشہور قول کے مطابق 156ھ میں ہوئی، یہ کتاب حال ہی میں ڈبلیو سین انتھونی کی ادارت سے انگریزی ترجمے کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔ اس متن کو اس کی قدامت اور اہمیت کے پیش نظر ترجمہ کرکے شائع کیا گیا ہے۔ اب یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ترجمہ عربی سے کیا گیا ہے یا انگریزی سے۔ معمر بن راشد کا مکمل تعارف کرانا چاہیے تھا۔ ڈبلیو سین انتھونی کون ہے اور اس ترجمے کا انگریزی نام اور پبلشر کون ہے، اور ڈاکٹر محمد یونس خالد صاحب کون ہیں، ان کا تعارف بھی کرانا ضروری تھا۔ یہ ترجمہ مجلے کے 132 صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔
چھٹا مقالہ عبدالغفور تحقیق کار ایم فل عربی، معلم گورنمنٹ ہائی اسکول مورت تحصیل تلہ گنگ ضلع چکوال کے قلم سے ہے۔ عنوان ہے ’’عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہمدان میں دعوتِ اسلام، ایک مطالعہ‘‘۔ ہمدان یمن میں عرب کا سب سے بڑا قبیلہ ہے۔
آخر میں حسبِ معمول حافظ محمد عارف گھانچی کی مرتبہ جدید کتابیاتِ سیرت ایک مفید فہرست ہے۔
خوبصورت رنگین سرورق سے آراستہ ہے۔
ایسے مجلات سے تعاون ضرور کرنا چاہیے تاکہ وہ عمدہ سے عمدہ لوازمہ پیش کرسکیں۔ اس وقت دو ہزار سے زیادہ یونیورسٹیاں، کالج اور مدارس ہیں جن میں لائبریریاں ہیں، اگر وہ دستِ تعاون بڑھائیں تو علمی بہار آجائے۔

Share this: