صوتی آلودگی، اسباب اور مُضمرات

۔ ۔ ۔ محمد شعیب ندوی ۔ ۔ ۔

موجودہ دور کو سائنس کا دور کہا جاتا ہے۔ اس دور میں سائنس کی تیز رفتار ترقی کے باعث نت نئے اکتشافات و ایجادات ہوئیں… آلات و مشینوں کا انبار لگ گیا… سیاسی و طبی، اجتماعی و اقتصادی، معاشی و معاشرتی، تہذیبی و تمدنی غرض کہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں حیرت انگیز کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ سائنس نے اپنا اثر رسوخ و تفوق قائم کرنے کے لیے ایسے ایسے آلات مہیا کیے، جن سے انسان آرام طلب، سہل انگار، نزاکت پسند، کاہل اور عیش و عشرت کا دلدادہ ہوگیا، اس کی وجہ سے شہروں کی وسعت اور صنعتوں کی کثرت ہوئی۔ سائنس کی افادیت، اہمیت اور ضرورت سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا، لیکن دوسری طرف اس نے ایسے کیمیکلز، تابکاری اثرات و کیمیائی اجزاء کو استعمال کرکے مضر اثرات چھوڑے جن سے زمین و فضا زہر آلود ہوگئی۔ جس قدر حیاتِ انسانی کی آرام طلبی و عیش کوشی کے لیے آلات فراہم کیے اس سے کہیں زیادہ اس نے نقصان دہ اثرات ونتائج چھوڑ ے جن سے فضا مسموم ہوگئی، زمین خراب ہوگئی، زیرِ زمین تک ان گیسوں و کھادوں کے جراثیم سرایت کر گئے۔
بڑی صنعتوں سے نکلنے والی بھاپ، دھویں اور فضلہ نے پوری فضا کو متاثر کیا۔ انسان کے کان، آنکھ، پھیپھڑے اور دوسرے اعضاء متاثر ہوئے۔ ان خطرات و نقصانات اور منفی نتائج کو عالمی و قومی سطح پر دور کرنے اور ان کی تلافی کی جدوجہد جاری و ساری ہے۔
صوتی آلودگی کیا ہے؟ اس کے اسباب و مضر اثرات کیا ہیں؟ ماحول کا تحفظ، اور مضر اثرات کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟
شور کا پیمانہ
یہ بات ذہن میں رہے کہ شور کو ناپنے کا پیمانہ ڈیسی بیل ہے اور سائنس دانوں کے مطابق زیرو ڈیسی بیل کا مطلب وہ کم سے کم آواز ہے جو انسانی کان محسوس کرسکتے ہیں۔ 20 ڈیسی بیل آواز ایک سرگوشی سے پیدا ہوتی ہے، 40 ڈیسی بیل آواز کسی پُرسکون دفتر میں ہوسکتی ہے، 60 ڈیسی بیل آواز عام گفتگو سے پیدا ہوسکتی ہے، جبکہ 80 ڈیسی بیل سے اوپر آواز انسانی سماعت کے لیے تکلیف دہ ہوتی ہے۔ لہٰذا کسی بھی قسم کا شور و غل ہماری قوتِ سماعت پر منفی اثر مرتب کرتا ہے جسے دوسرے الفاظ میںصوتی آلودگی سے تعبیرکیا جاتا ہے۔ سائنسی اعتبار سے انسانی کان عام طور پر شورو غل کی 55 تا 65 ڈیسی بیل تک کے متحمل ہوسکتے ہیں، اس کے علاوہ اگر 55 تا 90 ڈیسی بیل تک پہنچ جائے تو ہمارے جسم پر منفی اثرات پڑنے لگتے ہیں۔
صوتی آلودگی کے اسباب
صنعتی ترقی
موجودہ دور میں صنعت و حرفت نے نہایت تیزی کے ساتھ ترقی کی۔ بڑے بڑے کارخانے و مراکز قائم کیے گئے۔ ان میں سے بعض کارخانوں و فیکٹریوں کا مقصد عام انسانوں کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے بجائے سامانِ عیش و عشرت و تعیش پیدا کرنا ہے۔ بعض صنعتیں ایسی ہیں جن کے اغراض و مقاصد میں نہ تو عام انسانی ضروریات و حاجات کی تکمیل ہے اور نہ ہی عیش و عشرت کے سامان پیدا کرنا ہے، بلکہ ان کے ذریعے جنگی ساز وسامان اور اسلحہ تیار کیا جاتاہے۔ ان کا استعمال وہ ممالک کرتے ہیں جن کا مطمح نظر پوری دنیا پر بالادستی و حکمرانی قائم کرنا ہے، اور وہ روایتی اسلحہ سے لے کر ایٹمی اسلحہ تک تیار کرتے ہیں، اور ان کے بے دریغ استعمال میں تمام قوانین، اصول اور ضوابط کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔ غرض خود ہی انسان اپنی ہلاکت و تباہی کا سامان فراہم کررہا ہے، ان میں مستعمل کیمیکلز و تابکاری اثرات جن کے ذریعے مضر اثرات اور الیکٹرون ہوا، پانی اور مٹی میں جذب ہونے کے بعد جان داروں کی صحت خراب کرنے کا سبب بنتے ہیں، خاص طور سے ایٹمی اثرات نسل در نسل کی تباہی کا باعث ہوتے ہیں۔ اس صنعت و حرفت کے بے جا استعمال سے صوتی آلودگی کثرت سے بڑھ رہی ہے۔
شہری آبادی کی وسعت
مادہ پرستی اور دولت کی ریل پیل کے دور میں انسان کی ہوس نے اس کو دنیوی بوقلمونیوں اور رنگینیوں میں جکڑ دیا ہے۔ شہرت و ناموری کی طلب، عزت و فرماں روائی کی خواہش اور مال و دولت کے حصول کے لیے اس نے نہ جانے کیا کیا منصوبے و تدابیر اختیار کیں۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے انسان قناعت پسند ہوتا تھا اور دیہات و قصبوں میں پُرسکون زندگی بسر کرتا تھا، لیکن اب شہروں کی طرف منتقلی کا رجحان عام ہوگیا ہے اور بلاوجہ آبادیوں میں اضافہ ہورہا ہے جس سے کثرتِ آبادی کے مسائل کا سامنا ہے۔ بڑے بڑے شہروں میں غذا، پانی، صفائی، رہائش اور آمد و رفت وغیرہ کے بہت سے ایسے مسائل ہیں جن کا صحت سے گہرا تعلق ہے۔ ان میں اصولِ صحت کی رعایت اور اس کے متعلق کوئی پلاننگ نہیں ہے۔
حکومت کے فراہم کردہ اصلاحی بورڈ اسی علاقے تک محدود رہتے ہیں جہاں سرمایہ دار اور دولت مند طبقہ رہتا ہے۔ عام انسانی زندگی سے یہ بورڈ کوئی تعرض کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں جس سے عام زندگی مفلوج رہتی ہے، طرح طرح کی بیماریاں جڑ پکڑتی ہیں اور متعدد امراض آسانی سے متعدی ہوتے چلے جاتے ہیں۔ شہروں میں موجود ایئرپورٹ اور اسٹیشن، شادی بیاہ یا تفریحی تقاریب، میلے، مذہبی جلسوں و مشاعروں میں بجائے جانے والے بینڈ، باجے، قوالیوں اور گانوں کی ریکارڈنگ کا شور اور ان میں بے دریغ لائوڈ اسپیکر کے استعمال کی وجہ سے صوتی آلودگی عروج پر ہے۔ اسی طرح صوتی آلودگی میں نمایاں کردار ادا کرنے والے موجودہ دور کے پُرتعیش ٹیلی ویژن، میوزک سسٹم وغیرہ مزید آتش بازی بھی ہیں۔
ذرائع میں اضافہ
اس ترقی یافتہ دور میں انسان بہت عجلت پسند ہوگیا ہے جس کی وجہ سے وہ نقل و حمل کے نت نئے اور تیز رفتار ذرائع اختیار کرتا ہے۔ اپنی اس خواہش و ہوس کو پورا کرنے کے لیے وہ بے دریغ ایسے آلات و گاڑیوں کا استعمال کرتا ہے جن سے فضا زہر آلود ہورہی ہے، شور بڑھ رہا ہے، فطری ماحول خراب ہورہا ہے۔ غرض بے ہنگم ٹریفک، موٹر، ریل گاڑیوں، کاروں، فیکٹریوں، کارخانوں، مشینوں اور ہوائی جہاز سے پیدا ہونے والا شور غیر محسوس طور پر انسانی صحت کے ساتھ حیوانات وغیرہ کی صحت پر بھی بتدریج اثرانداز ہورہا ہے۔ صوتی آلودگی کی وجہ سے بھیانک و پُرخطر نتائج سامنے آرہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق پریشر ہارن اور ٹریفک کے شور سے دنیا بھر میں تقریباً بارہ کروڑ لوگ مختلف سماعتی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔
صوتی آلودگی کے نقصانات
صوتی آلودگی کا بہت عرصے تک سامنا صحت کے لیے بتدریج نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ صوتی آلودگی کے مضر اثرات ماحول کے پراگندہ ہونے، پانی، ہوا و غذا کے خراب ہونے پر منتج ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے مہلک امراض و لاعلاج بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ بڑھتے ہوئے شور و شغف کے باعث لوگوں کی سماعت متاثر ہورہی ہے۔ برین ہیمبرج، ہارٹ اٹیک، بلڈ پریشر اور شوگر جیسی کئی خطرناک بیماریاں صوتی آلودگی کی وجہ سے پیدا ہورہی ہیں۔ اس کے علاوہ نفسیاتی طور پر غصہ، نفرت، چڑچڑاپن، جارحیت، بے خوابی، بدہضمی، سستی، تھکن، بے توجہی،عدم دلچسپی، ذہنی دبائو اور غائب دماغی جیسی خرابیا ں ظہور میں آرہی ہیں۔
ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق جن افراد کو رات میں مسلسل چار سال تک 55 ڈیسی بیل یا اس سے زیادہ شور و شغف کا سامنا ہو تا ہے اُن میں تولیدی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔ اتنا شور شرابہ پرانے پنکھے اور ایئرکنڈیشنز کے چلنے سے بھی پیدا ہوتا ہے جسے عام طور پر نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دن کے اوقات میں 90 ڈیسی بیل یا اس سے زیادہ شور و غل والے ماحول میں چند ماہ تک انسان کے سکونت اختیار کرنے سے بھی مردانہ تولیدی صحت متاثر ہوتی ہے۔ اگر یہ سلسلہ کئی سال تک دراز ہوجائے تو مرد بانجھ پن کا شکار ہوجائے گا۔
اس تشویشناک صورت حال کے پیش نظر ہماری ذمے داری ہے کہ اس کا سدباب کریں، ماحول کے تحفظ و حفظانِ صحت کے تئیں جدوجہد کریں۔ اس کے لیے مندجہ ذیل تدابیر پیش خدمت ہیں۔ صوتی آلودگی کے خاتمے کے لیے معاشرے میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے، کہ معاشرے کا ہر فرد یا ادارہ صوتی آلودگی کی روک تھام کے لیے اپنی ذمے داریاں پوری کرے۔ انفرادی و اجتماعی طور پر اس کے خاتمے کے لیے کمربستہ ہوجائے، اس میں کسی قسم کی کوتاہی، سستی و کاہلی اور بے راہ روی نہ برتی جائے۔ جلسوں، مشاعروں اور دیگر رسوم و رواج میں ڈی جے وغیرہ تیز آواز کے ساتھ رات دیر تک استعمال نہ ہو اور لائوڈ اسپیکر کا استعمال نہ کیا جائے۔

Share this: