عمران خان کا فرائیڈے اسپیشل سے یادگار انٹرویو

جناب وزیراعظم عمران خان۔۔۔! تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔۔۔ اور سچی بات تو یہی ہے کہ خود ہمیں بھی یاد نہیں تھا کہ آج سے بائیس برس قبل آپ نے ہم سے کس قدر تفصیل سے اور کیا کیا باتیں کی تھیں۔ مگر وہ جو کہا جاتا ہے کہ تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہوگیا، اور آپ کا یہ انٹرویو بھی ’’فرائیڈے اسپیشل‘‘ کے 17 مئی 1996ء کے شمارے کے صفحات میں محفوظ تھا۔۔۔ یہ ان عزائم کا آئینہ دار ہے جن کا اظہار آپ نے ’’تحریک انصاف‘‘ کی تاسیس کے وقت کیا تھا۔ آپ کو اکثر ’’یوٹرن‘‘ کا طعنہ دیا جاتا ہے مگر آپ کے سیاست میں آنے کے فوری بعد کے اس انٹرویو کو پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ الزام کچھ زیادہ درست نہیں۔ تب اور اب کے عمران خان کے خیالات و افکار اور عزائم و ارادوں میں ایک تسلسل نمایاں ہے۔۔۔ گاہے گاہے باز خاں ایں قصۂ پارینہ را۔۔۔ جناب عمران خان کا یہ طویل انٹرویو بعض غیر متعلق ہوجانے والے حصوں کو حذف کرنے کے بعد قارئین کے مطالعہ کے لیے پیش کیا جارہا ہے تاکہ ان کے کل اور آج کے افکار اور عزائم میں تقابل میں آسانی رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرائیڈے اسپیشل: تحریک انصاف کا اعلان کرتے وقت اپنی پریس کانفرنس کے دوران آپ ایک مصلح (Reformer) کے بجائے ایک سیاست دان کے طور پر سامنے آئے، جب کہ آپ کے جو مضامین اس سے قبل شائع ہوئے اُن سے آپ کا تصور ایک مصلح کا بنتا تھا، لیکن آپ نے پریس کانفرنس میں جو بیان پڑھا، جس میں آپ نے احتساب (Acountabieity) کی بات کی، وی آئی پی کلچر کے خاتمے اور پاکستان کو قرضوں کے بوجھ سے نجات دلانے کی بات کی تو وہ ایک سطحی سا بیان تھا جو آج کل پاکستان کا ہر سیاست دان دیتا ہے اور جن موضوعات پر ہر کالم نگار لکھتا ہے، اس میں کوئی اعلیٰ خیال یا منفرد اور قابلِ عمل پروگرام ایسا نظر نہیں آتا کہ پڑھے لکھے، باصلاحیت اور ذہین لوگ اس کی طرف کشش محسوس کریں۔ اس میں کوئی ایسا نعرہ بھی نہیں تھا جس سے عام آدمی آپ کی طرف لپکے، اس سے یہ سوال ملک بھر میں پیدا ہوا کہ عمران خان، جن کے اعلان کا بڑی دیر سے انتظار تھا، وہ آخر کیا لے کر سامنے آئے ہیں اور کیونکر دوسروں کو چھوڑ کر لوگ ان کا ساتھ دیں! ورلڈ کپ تو دنیا میں بہت سے لوگوں نے جیتا ہے اور بڑے خیراتی اسپتال چلانے والے لوگ بھی بہت ہیں، مگر ایک سیاست دان کے طور پر اور ایک مصلح کے طور پر لوگ کس وجہ سے آپ کی طرف آئیں اور کیوں آپ کی لیڈرشپ قبول کریں؟
عمران خان: پہلی بات تو یہ ہے کہ جو پروگرام بھی ایک ریفارمر سوچتا ہے اس پر عمل درآمد نہیں کرسکتا اگر اس کے پاس سیاسی قوت نہ ہو۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم بھی تیرہ سال تک مکہ مکرمہ میں تبلیغ کرتے رہے تو محدود تعداد میں افراد مسلمان ہوئے، مگر جب مدینہ تشریف لے گئے تو یہ تعداد ہزاروں میں پہنچ گئی۔ گویا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنے پروگرام پر عمل درآمد کے لیے سیاست میں آنا پڑا۔ کالم نگاروں اور مجھ میں یہ فرق ہے کہ میں اب ان باتوں پر عمل درآمد کرنا چاہتا ہوں۔ جہاں تک میری اور دوسرے سیاست دانوں کی آپ نے بات کی، وہ فرق یہ ہے کہ میرے پاس ایک ٹریک ریکارڈ ہے۔ جب آپ کے پاس کوئی نوکری لینے آتا ہے تو آپ پوچھتے ہیں کہ آپ نے پہلے کیا کیا ہے؟ یہ آپ اس لیے پوچھتے ہیں کہ معلوم ہو پہلے اس کی کارکردگی کیا رہی ہے۔ پندرہ بیس سال میں میری لوگوں کے سامنے ایک کریڈیبلٹی بنی ہے، کرکٹ میں بھی میرا یہ کردار سامنے آیا کہ کبھی جھوٹے بیان نہیں دیئے، یہ نہیں ہوا کہ کہا ہو یہ کردوں گا، اور کیا نہیں۔ لوگوں کو نظر آیا کہ اس آدمی میں کریڈیبلٹی ہے۔ بطور کپتان بھی غلطیاں کی ہوں گی مگر انصاف کیا۔ میرا یہ تصور بھی ابھرا ہے کہ یہ ایک کامیاب انسان ہے۔ اسپتال کے بارے میں لوگوں نے کہا کہ کینسر اسپتال تو بن ہی نہیں سکتا، پھر لوگوں نے کہا کہ یہ چلے گا نہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ غریبوں کے جھوٹے نعرے مار رہا ہوں، ان کا مفت علاج نہیں ہوسکے گا۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ دنیا میں پہلا کینسر اسپتال ہے جہاں غریب آکر مفت علاج کراتے ہیں۔ یہ کریڈیبلٹی ہے۔ مجھ میں اور باقی لوگوں میں فرق شاید عوام کی نظر میں یہ ہو کہ یہ جو کہتا ہے وہ کرتا ہے۔ آپ نے کہا کہ پریس کانفرنس میں بہت بڑی بات نہیں تھی۔ انصاف سے بڑی بات کیا ہوسکتی ہے! انصاف سے براہِ راست کرپشن کا خاتمہ ہوگا۔ اس وقت اگر میں سربراہِ مملکت ہوں تو اپنے لیے ڈیوٹی فری گاڑیاں منگوا رہا ہوں، اپنے گورنرز اور وزراء اعلیٰ کو بھی ڈیوٹی فری گاڑیاں دے رہا ہوں اور پسے ہوئے عام آدمی سے کہتا ہوں کہ سوزوکی پر سو فیصد ڈیوٹی ادا کریں۔ یہ بہت بڑی ناانصافی ہے کہ میں خود ٹیکس نہیں دیتا اور لوگوں سے کہتا ہوں آپ ٹیکس دیں۔۔۔ خود محلات میں رہ رہا ہوں اور پسے ہوئے لوگوں پر سارا بوجھ ڈال رہا ہوں۔ یہ ساری نا انصافی ہی ہے۔ میرے خیال میں اس سے بڑا مسئلہ پاکستان میں کوئی ہے نہیں کہ یہاں ظلم ہورہا ہے۔ جس دن آپ ملک میں انصاف لے آئیں گے، انصاف کا مطلب ہے ایسی سوسائٹی جس میں میرٹ کو بنیادی اہمیت دی جائے، یعنی آدمی میرٹ پر آنے لگیں تو آپ کے مسائل خود حل ہوجائیں گے۔ وزیراعظم ]بے نظیر[ اب پھر بیرونِ ملک جا رہی ہیں، مگر سرمایہ کاری کیسے ہو! یہاں تو ایک سے بڑھ کر ایک مگرمچھ بیٹھا ہوا ہے اور آتے ہی رشوت کے لیے پکڑ لیتا ہے۔ اس طرح لوگ یہاں نہیں آئیں گے، نہ ہی سرمایہ کاری ہوگی۔ پہلے انصاف اور قانون پیش کریں جو سب کے لیے ایک ہو۔ یہاں غریب آدمی کو قرضہ نہیں ملتا اور بڑا ویسے ہی قرضہ لے جاتا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: انصاف کے حوالے سے جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ مصلح اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے سیاسی لائحہ عمل اختیار کرتا ہے، لیکن اس کے لیے لازم ہے کہ بڑے بڑے اہداف کے ساتھ اس کے پاس کوئی ٹھوس اور قابلِ عمل پروگرام بھی ہو، اس کے بغیر اگر آپ بظاہر کامیاب بھی ہوجائیں یعنی اقتدار آپ کو مل جائے لیکن کچھ کرنے کے قابل آپ نہیں ہوتے۔۔۔ فرض کیجیے آپ دو تہائی اکثریت لے کر اسمبلی میں آ جاتے ہیں لیکن پاکستان کا پاور اسٹرکچر ایسا ہے کہ اب تک جو لوگ بھی انصاف یا قانون کی حکمرانی کے نعرے لگا کر آئے ہیں اُن کے پاس اگر کوئی عملی لائحہ عمل تبدیلی لانے کا نہ ہو تو وہ یہاں کے پاور اسٹرکچر کے سامنے جھک جانے پر مجبور ہوجاتے ہیں یا انہیں باہر نکال دیا جاتا ہے، مثلاً بھٹو صاحب ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کے نعرے کے ساتھ بزعم خود انصاف دلانے کا وعدہ لے کر آئے تھے، بہت بھاری اکثریت کے باوجود چونکہ اُن کے پاس کوئی قابلِ عمل لائحہ عمل نہیں تھا تو انہیں پاور اسٹرکچر اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جلد سمجھوتہ کرنا پڑا جس نے اُن کی شخصیت ختم کرکے رکھ دی، آپ کی طرف سے بھی ابھی تک کوئی لائحہ عمل سامنے نہیں آیا کہ آپ کیا اپروچ اختیار کریں گے کہ اسٹیبلشمنٹ اور پاور اسٹرکچر کی جانب سے قدم قدم پر کھڑی کی جانے والی رکاوٹوں کا آپ مقابلہ کرسکیں؟
عمران خان: اس میں شاید آپ کی تشخیص غلط ہو، آپ کہہ رہے ہیں کہ بھٹو صاحب کو سمجھوتہ کرنا پڑا، میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ انہوں نے سمجھوتہ کیا کیوں؟
فرائیڈے اسپیشل: پاور اسٹرکچر مضبوط تھا، اسٹیبلشمنٹ کرپٹ تھی، خود اُن کا اپنا تعلق انہی طبقات سے تھا اور چند صنعتوں کو قومیانے کے سوا اُن کے پاس کوئی لائحہ عمل نہیں تھا، لہٰذا بہت جلد وہ خود اس کا حصہ بن گئے۔
عمران خان: میری نظر میں جب انسان کا ہدف واضح نہ ہو، اگر میرا مقصد محض کرسی ہے تو میں ہر قسم کا سمجھوتہ کروں گا، اگر میرا مقصد اصلاح ہے تو میں تو سمجھوتہ نہیں کروں گا۔ آپ قائداعظم کی مثال لے لیں، میں تو ان کے سوا پاکستان میں کسی کو لیڈر مانتا ہی نہیں۔ ان کے خلاف ایک سے بڑھ کر ایک لیڈر کھڑا تھا، آزاد، نہرو، گاندھی، حتیٰ کہ مولانا مودودیؒ ۔۔۔ مگر قائداعظم نے حالات سے سمجھوتہ نہیں کیا اور پاکستان بنا لیا۔ انہیں سمجھوتہ نہیں کرنا تھا کیونکہ ان کا ہدف بڑا واضح تھا۔
فرائیڈے اسپیشل: مگر اس کے لیے انہوں نے لائحہ عمل بھی قوم کو دیا تھا۔ حصولِ پاکستان کی جدوجہد کے عملی خطوط قوم کے سامنے رکھے تھے۔ ان پر وہ اپنے ساتھیوں اور پوری قوم کو ساتھ لے کر چلے۔
عمران خان: جب آپ کا ہدف واضح ہو تو یہ عمل بھی واضح ہوگا۔ یہ جو آپ کہہ رہے ہیں یہ کوئی مشکل بات نہیں ہے، اسے مشکل بنادیا گیا ہے۔ میں آپ کو اسپتال کی مثال دیتا ہوں، حکومت نے دس سال اسپتال بنانے کی کوشش کی مگر نہیں بنا سکی، کیوں نہیں بنا سکی؟ کہا گیا کہ پاکستان میں اس کے لیے ڈاکٹر اور ٹیکنیشن ہی دستیاب نہیں ہیں۔ مگر ہمارے پاس ڈاکٹر بھی آگئے اور ٹیکنیشن بھی آگئے اور پاکستانی آئے۔ یہ جو باہر پاکستانی بیٹھے ہوئے ہیں ان میں کسی بھی چیز کی کمی ہے؟ اگر آپ کا خیال ہے کہ ایک شعبے میں بیوروکریٹ کام نہیں کررہا اور کرپٹ ہے تو آپ اُسے کیوں رکھتے ہیں؟ ان سے کمپرومائز کیوں کرتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کی نظر ہدف کے بجائے کرسی پر ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ نے ماضی کے کردار کے حوالے سے اپنی کریڈیبلٹی کی بات کی مگر تعلیم آپ کا ایک بڑا مقصد رہا ہے، آپ نے تعلیم کی ایک اسکیم شروع کی تھی مگر آغاز ہی میں دم توڑ گئی، آپ بتا سکیں گے کہ آپ اسے کیوں آگے نہیں لے جا سکے؟
عمران خان: آپ اس میں بھی مجھے ناکام نہیں کہہ سکتے، کیونکہ میں نے کبھی ٹائم فریم کا اعلان نہیں کیا تھا کہ ایک سال میں یہ کردوں گا۔ میں نے تو ایک پاکستانی کے طور پر یہ اعلان کیا تھا کہ اسپتال کے بعد میرا اگلا ہدف تعلیم ہوگا، کیونکہ سب سے زیادہ اس کی ضرورت ہے، مگر میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ ایک سال میں اسے کردوں گا۔ جب میں نے تعلیم پر کام شروع کیا تب ہی حکومت نے مجھے اپنے لیے سیاسی خطرہ سمجھ لیا۔ میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ جب میں اسپتال بنانے کے مرحلے میں تھا حکومت تب مجھے اپنے لیے خطرہ سمجھ لیتی تو میں یہ اسپتال اس طرح نہیں بنا سکتا تھا، تب مجھے انتظار کرنا پڑتا کہ یہ حکومت جائے اور ایک ایسی حکومت آئے جو واقعی ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہو۔ جس ملک میں حکومت ایک فردِ واحد کے خلاف ہوجائے تو وہ فرد بالکل تنہا ہوجاتا ہے۔ میں دعوے سے کہتا ہوں آپ مجھے کوئی سوشل ورک کرکے دکھا دیں، میں آپ کو چیلنج کرتا ہوں کہ ایک چھوٹی ڈسپنسری بناکر دکھا دیں۔ آپ کے ملک میں پانچ تو انٹیلی جنس ایجنسیاں ہیں، اور جہاں ایک چھوٹے علاقے میں تھانیدار بادشاہ ہو اگر حکومت آپ کے خلاف ہوجائے تو آپ کچھ بھی نہیں کرسکتے۔
فرائیڈے اسپیشل: مگر خان صاحب! آپ کو یہ کیسے توقع ہے کہ حکومت تحریک انصاف کی مخالفت نہیں کرے گی؟
عمران خان: یہ تو حکومت کے خلاف ہے ناں جی!
فرائیڈے اسپیشل: مگر اس کی کامیابی کی توقع کیونکر کی جا سکتی ہے؟ جب کہ آپ کے خیال میں حکومت کی مخالفت کی وجہ سے کوئی اہم کام نہیں ہوسکتا؟
عمران خان: میں آپ کو سمجھاتا ہوں۔۔۔ تعلیم حکومت کے ساتھ مل کر ہی ہوسکتی تھی کیونکہ سارا اسٹرکچر تو حکومت کے پاس ہے۔ حکومت ہمیں ٹیلی ویژن پر اجازت دیتی اور اُس انسان کو جس کی کریڈیبلٹی ہے، حکومت استعمال کرتی۔ میرے پاس کوئی پیسے نہیں تھے، میں یہ کام کیسے کرتا! اگر حکومت سنجیدہ تھی تو مجھے سامنے لے آتی۔
فرائیڈے اسپیشل: حکومت آپ کے پروگرام میں آپ کی مدد کیسے کرتی؟ آپ اس سے ایسی توقع کیسے رکھ سکتے تھے جب کہ آپ کے خیال میں وہ آپ کو ایک سیاسی خطرہ سمجھ رہی تھی اور آپ کے اندر مستقبل کا سیاست دان دیکھ رہی تھی؟
عمران خان: یہ مسئلہ نہ اٹھائیں کہ حکومت مجھے خطرہ سمجھ رہی تھی۔ میں یہی کہہ رہا ہوں کہ چونکہ مجھے خطرہ سمجھ رہی تھی اس لیے اس کے بعد کام نہیں ہوسکا، کیونکہ آپ کو تعاون نہیں مل سکا۔ اور میں یہ بھی کہہ رہا ہوں کہ اگر اسپتال بننے سے پہلے میں خطرہ بن جاتا تو اسپتال بھی نہیں بن سکتا تھا۔ اگر حکومت خلاف ہے تو میرے پاس تو کوئی وزارتِ تعلیم نہیں ہے، مجھے تو کوئی اہداف پورے نہیں کرنے تھے، میں تو بحیثیت محب وطن پاکستانی کام کررہا تھا۔ مجھے تو آپ تب کہیں کہ میں ناکام ہوگیا ہوں اگر میں آپ کو ہدف دیتا کہ 1997ء میں اتنے اسکول، کالج کھول دوں گا۔ مگر میں نے تو کوئی ہدف نہیں دیا تھا۔
فرائیڈے اسپیشل: مگر سوال تو وہیں رہتا ہے کہ اگر آپ حکومت کی مخالفت کی وجہ سے اپنے تعلیمی منصوبے کو آگے نہیں بڑھا سکتے تو تحریک انصاف کے کہیں بڑے منصوبے کو کیسے کامیابی سے ہم کنار کرسکیں گے، جب کہ حکومت تو تحریک انصاف کی مخالفت کرے گی۔ تب تو صرف ٹی وی پر پابندی عائد کی، اب تو شاید حکومت آپ کو باہر بھی نہ نکلنے دے۔ آپ نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط بھی لکھا ہے کہ حکومت یہ رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔ ان حالات میں آپ کیسے توقع رکھتے ہیں کہ تحریک انصاف کامیاب ہوجائے گی؟
عمران خان: اب تو ہم کھڑے ہی ان کے خلاف ہوئے ہیں۔ ہم اس اسٹرکچر ہی کے خلاف ہیں۔ یہ تو بڑی ناانصافی ہے کہ ایک طرف آپ خود کو جمہوری کہتے ہیں اور دوسری طرف ہر قسم کے حربے استعمال کرتے ہیں، اور جو بھی سیاسی مخالف ہوجائے اُس کی ٹانگ کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ جمہوریت میں نہیں آمریت میں ہوتا ہے۔ اس لیے ہم سب جمہوریت چاہتے ہیں، اسی لیے ہم نے آزادی حاصل کی تھی۔
فرائیڈے اسپیشل: تحریک انصاف کی رکنیت سازی آپ نے شروع کردی ہے۔ اس کا دستور، تنظیمی ڈھانچہ اور منشور وغیرہ کے بنیادی نکات کیا ہوں گے؟
عمران خان: ہماری کوشش یہ ہے کہ ہم اب لوگوں میں نکلیں گے، میں سارے پاکستان میں جاؤں گا، جگہ جگہ جاکر کوشش یہ ہوگی کہ وہ لوگ ڈھونڈیں جن پر کوئی دھبہ نہ ہو، اور ایسی لیڈرشپ مقامی سطح پر اوپر آئے۔ ہم یہاں پر پارٹی اور اس کے عہدیداروں کا اعلان کرسکتے تھے، مگر یہ طریقہ غلط ہے اور جمہوریت کے منافی ہے۔ ہم چاہتے ہیں مقامی لیڈرشپ سامنے آئے، اس لیے کوئی عہدیدار نہیں بنایا۔ جب ہم تحریک انصاف کا کنونشن کریں گے اور اسے پارٹی میں تبدیل کریں گے تب تک ہمارے پاس ہر علاقے سے ایسے معروف لوگ ہوں گے جن پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ نے پریس کانفرنس والے بیان میں وی آئی پی کلچر کو ختم کرنے کی بات کی ہے۔ حالیہ تاریخ میں جن لوگوں نے وی آئی پی کلچر کو اپنے اپنے ملک میں ختم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے انہوں نے پہلا قدم یہ اٹھایا تھا کہ اپنے آپ کو ڈی کلاس کیا تھا، یعنی اپنی ذات اور افرادِ خانہ کے لیے عام آدمی کی مانند سادہ طرزِ رہن سہن اختیار کیا تھا۔ اور جنہوں نے خود کو ڈی کلاس نہیں کیا وہ نعروں کے باوجود وی آئی پی کلچر کو ختم نہیں کرسکے۔ چین میں چو این لائی کا تعلق بورژوا کلاس سے تھا لیکن جب وہ ماؤزے تنگ کے ساتھ کمیونسٹ تحریک میں شریک ہوئے تو انہوں نے خود کو مکمل طور پر ڈی کلاس کرلیا اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔ پاکستان میں کمیونسٹ لیڈروں نے وی آئی پی کلچر ختم کرنے کا دعویٰ بہت کیا مگر خود کو ڈی کلاس نہیں کیا، مثلاً میاں افتخارالدین اور ذوالفقار علی بھٹو۔۔۔ مگر یہ لوگ اپنے دعوے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ اب آپ سامنے آئے ہیں مگر آپ نے سوائے اس کے کہ کرتا شلوار پہنا ہے، آپ کا اور آپ کے کنبے کا رہن سہن پوری طرح وی آئی پی کلچر کا نمائندہ ہے؟
عمران خان: آپ پہلے وی آئی پی کلچر اور سوشلزم میں فرق سمجھ لیں۔ وی آئی پی کلچر یہ ہے کہ جو لوگ اس ملک کے حکمران ہیں وہ بجائے ملک کے کام کرنے کے، اور ملک کے نوکر بننے کے، ملک کے مالک بن گئے ہیں۔ یہ وی آئی پی کلچر انگریز نے بخشا تھا۔ وہ تو آیا ہی بادشاہت کرنے تھا۔ مگر اس کے بعد جو لوگ پچاس سال سے حکمران بن کر آرہے ہیں انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ وہ لوگوں کے نمائندے بن کر آرہے ہیں۔ جو بھی وزیراعظم ہوں گے وہ جب تک لوگوں کے اندر نہیں رہیں گے، ان کی کلاس میں سفر نہیں کریں گے، اسپتال میں اسی طرح لائنوں میں نہیں لگیں گے، سرکاری اسکولوں میں اپنے بچے نہیں بھیجیں گے تب تک یہ چیزیں ٹھیک کیسے ہوں گی! اگر میں اپنا علاج باہر کراؤں تو مجھے کیسے پتا چلے گا کہ یہاں علاج کیسے ہورہا ہے؟ یہاں کا اسپتال کیسے ٹھیک ہوگا؟ میں اپنے بچوں کو بڑے اسکولوں میں بھیجوں گا تو مجھے کیا معلوم کہ گورنمنٹ اسکولوں میں کیا ہورہا ہے اور اردو میڈیم اسکولوں میں کیا ہورہا ہے؟ وی آئی پی کلچر کی یہ لعنت بہت بری ہے۔ جہاں تک فرد کے رہن سہن کا تعلق ہے یہاں اسلام اور سوشلزم میں فرق ہوجاتا ہے۔ سوشلزم کہتا ہے کہ سب ایک ہی طرح کے ہیں، اسلام یہ نہیں کہتا، اسلام یہ کہتا ہے کہ حکمران اسی طرح رہیں جس طرح عام آدمی رہتا ہے، لیکن اگر کسی کے پاس زیادہ پیسہ ہے تو یہ کہیں نہیں کہا کہ وہ اپنا پیسہ اپنی ذات پر خرچ نہ کرے، فرسٹ کلاس میں سفر نہ کرے۔ یہ تو کمیونسٹ آئیڈیا ہے ۔ البتہ جو لیڈر حکومت کے پیسے پر رہ رہا ہے وہ وی آئی پی اسٹائل اختیار نہیں کرسکتا۔
فرائیڈے اسپیشل: جب تک کوئی لیڈر حکومت میں نہیں آتا، مثلاً آپ لیڈر ہیں، تو جب تک آپ حکومت میں نہیں آتے کیا آپ وی آئی پی اسٹائل اپنا سکتے ہیں؟ آپ لوگوں کے لیے مثال کیسے بنیں گے؟ اسلام حکمرانوں سمیت سب کو سادہ طرز زندگی اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے۔
عمران خان: دیکھیں آپ پھر نہیں سمجھے، اگر آج فرسٹ کلاس میں سفر کرنا برداشت کرسکتا ہوں، اگر میرے اپنے جائز پیسے ہیں و اس میں کوئی غلط چیز نہیں ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: کیا یہ ایسے لیڈر کے لیے بھی جائز ہے جو وی آئی پی کلچر ختم کرنے کا نعرہ لے کر اٹھے؟
عمران خان: اس میں کسی کے لیے بھی پابندی نہیں۔ لیڈر پاکستانی بن کے رہے۔ اب ہم قائداعظم کی مثال لیتے ہیں، ہمارے لیے اس وقت وہ سب سے بڑے لیڈر ہیں، وہ پبلک پیسے میں ایک ایک آنے کا حساب رکھتے تھے، لیکن طرز زندگی انہوں نے تبدیل نہیں کیا، یہ ان کے اپنے کمائے ہوئے پیسے تھے، وہ اس طرح نہیں رہتے تھے جس طرح کہ وہ کوئی۔۔۔۔۔۔
فرائیڈے اسپیشل: یہ تو دیانت داری (Honesty) کی بات ہے۔ دیانت داری اختیار کرنا اپنی جگہ لازم ہے لیکن۔۔۔؟
عمران خان: اس کا دوسرا رخ یہ ہے کہ آپ پبلک پیسے پر عیاشی کررہے ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: یہ تو بددیانتی (Dishonesty) ہے اور ایک دوسری چیز ہے، جبکہ وی آئی پی کلچر اور چیز ہے۔ دیانت دار اور بددیانت ہونا ایک الگ چیز ہے۔ قائداعظم نے وی آئی پی کلچر کے بارے میں کبھی کوئی گفتگو نہیں کی، وہ تو پاکستان کا مقصد لے کر اٹھے اور اسے حاصل کیا۔ وہ خود جانتے تھے کہ وہ تپ دق کے مریض ہیں مگر اس کا انکشاف نہیں کرتے تھے تاکہ انگریز اور ہندو کو معلوم نہ ہوجائے کہ ان کی زندگی ختم ہونے والی ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ اپنی ذات کے لیے قومی خزانے سے ایک پیسہ خرچ نہیں کرتے تھے وہ ایک مختلف چیز ہے۔ ہم نے یہ دیکھا ہے کہ لیڈر جب خود کو ڈی کلاس اور لوگوں سے ہم آہنگ نہیں کرتا تو پھر اس کا نعرہ محض نعرہ رہ جاتا ہے اور عمل میں کوئی چیز سامنے نہیں آتی۔
عمران خان: میں اس میں آپ سے اتفاق نہیں کرتا۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ نے براؤن صاحب کلچر کے بارے میں بہت کچھ لکھا مگر آپ کی زندگی کے ایسے مظاہر سامنے آئے ہیں، لباس کو چھوڑ کر۔۔۔ جو براؤن صاحب کلچر کا حصہ ہیں؟
عمران خان: ہم اگر اپنی محنت سے پیسے کمائیں تو ان کو خرچ کرنا میری نظر میں وی آئی پی کلچر نہیں ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وی آئی پی انکلوژر اور دیگر وی آئی پی سہولتوں پر جو خرچہ ہورہا ہے یہ اپنی جیب سے کرتے ہیں؟ یہ سب قومی خزانے سے ہورہا ہے۔ یہ ناانصافی ہے۔ اگر ایک آدمی منتخب ہوکر سامنے آتا ہے تو اس کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان کا حکمران بن جائے اور اپنا لائف اسٹائل ہی علیحدہ کرلے۔۔۔ یہ غلط ہے۔ جہاں تک فرد کا تعلق ہے ہوسکتا ہے میں ذاتی حیثیت میں یہ کروں، مگر میں اپنی باقی لیڈرشپ پر یہ مسلط نہیں کرسکتا۔ اگر میں آج آپ کے سامنے یہ اعلان کردوں تو ہوسکتا ہے میرے ساتھ کوئی آئے ہی نہ۔۔۔ آپ لوگوں پر یہ ٹھونس نہیں سکتے کہ آپ نے جو پیسہ کمایا ہے اس میں آپ اپنی مرضی کے لائف اسٹائل میں رہ ہی نہیں سکتے۔ یہ غلط ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ نے اپنے ابتدائی پروگرام میں قرضوں کے بوجھ کا بھی ذکر کیا، مگر اس سے نجات کے لیے طریق کار نہیں بتایا تھا کہ آپ نجات کس طرح دلائیں گے۔ اس وقت جس طریقے پر عمل ہورہا ہے وہ تو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی ہدایات ہیں، مثلاً یہ کہ بجٹ کے خسارے کو مجموعی قومی پیداوار کے چار فیصد تک لے آیا جائے۔ درآمدی ڈیوٹی کی شرح کم کی جائے۔ سبسڈیز نہ دی جائیں وغیرہ، جن پر حکومت کبھی عمل کرتی ہے کبھی نہیں کرتی۔ سوال یہ ہے کہ آپ جب برسراقتدار آئیں گے تو ملک کو اندرونی اور بیرونی قرضوں کے بوجھ سے نجات دلانے کے لیے کیا آئی ایم ایف کے نسخے کو اپنائیں گے یا آپ کے پاس کوئی اور معاشی و اقتصادی پروگرام ہے؟ اگر ہے تو وہ کیا ہے؟
عمران خان: پہلے تو اندرونی قرضوں کی بات کریں۔ یہ بہت سادہ حل ہے کہ کبھی کوئی سیاسی قرضہ نہ دیا جائے، جس دن آپ کے بینک کے سربراہ آزاد ہوگئے کہ میرٹ پر جس کا حق بنتا ہے اس کو قرضہ دیں اس دن۔۔۔
فرائیڈے اسپیشل: ہمارا سوال اُن قرضوں کے بارے میں نہیں جو ایک صنعت کار یا جاگیردار بینکوں سے حاصل کرکے واپس نہیں کرے گا۔
عمران خان: یہ بھی تو قرضہ ہے ناں۔۔۔
فرائیڈے اسپیشل: لیکن اقتصادیات کے حوالے سے اصل اندرونی قرضہ وہ ہے جو ایک حکومت نے شہریوں سے مختلف حوالوں مثلاً بینکوں سے، واپڈا بانڈز کے ذریعے اور مختلف دیگر طریقوں کے ذریعے لیا۔ یہ وہ بوجھ ہے جس کے نیچے ٹیکس دہندہ پس رہا ہے؟
عمران خان: اس کا تو بہت سادہ جواب ہے کہ حکومت کے ماہرینِ معیشت اندازہ لگاتے ہیں کہ اتنا ہمارے پاس پیسہ ہے اور اتنا ہمارا خرچ ہے، مثلاً میرے پاس اگر دس روپے ہیں اور پندرہ خرچ کردوں تو مجھ پر قرضہ تو چڑھ جائے گا، یہ تو فنانشل ڈسپلن کی بات ہے۔ اس میں اسٹیٹ بینک کا بہت بڑا ہاتھ ہونا چاہیے۔ اسٹیٹ بینک آزاد ہو اور بتائے کہ آپ کا خسارہ بڑھتا جارہا ہے۔ اقتصادی پالیسی بنائی ہی اس لیے جاتی ہے کہ بجٹ متوازن ہو۔ بیرونی قرضوں کی جو آپ بات کررہے ہیں اس کا یہ ہے کہ جب تک پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں ہوگی اور دوسرے یہ کہ آپ اپنی مدد آپ کے تحت جب تک نہ چلیں گے یہ قرضہ بڑھتا ہی جائے گا۔
فرائیڈے اسپیشل: اس وقت جو 22 ارب ڈالر کا بیرونی اور بھاری اندرونی قرضہ ہے اس سے آپ کون سا لائحہ عمل اختیار کرکے نجات دلائیں گے؟
عمران خان: اس کے لیے دو اقدامات ضروری ہیں، اول تو یہ کہ نجکاری ہونی چاہیے، یہ اب ثابت ہوچکا ہے کہ اس ملک کے لیے پرائیویٹائزیشن لازمی ہے، اس سے جو بھی پیسہ آئے اس سے پہلے قرضہ ادا کیا جائے، اسے کبھی اندرونی اخراجات میں نہ ڈالا جائے جیسا کہ کیا گیا ہے کہ پی ٹی سی ایل کی نجکاری سے حاصل ہونے والی رقم اندرونی اخراجات میں لگا دی گئی۔ یہ صرف بیرونی قرضے کی ادائیگی پر صرف ہونی چاہیے۔ اور ہمارے پاس ایسے اثاثہ جات ہیں جو یہ قرض ادا کرسکتے ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: اس سے تو محض جزوی قرضہ واپس ہو گا؟
عمران خان: نہیں جی! محبوب الحق صاحب کے مطابق یہ سارا قرضہ واپس ہوسکتا ہے۔ جہاں تک آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے دباؤ کا تعلق ہے پاکستان کی اپنی پالیسی کبھی آزادانہ نہیں ہوسکے گی جب تک اپنے پاؤں پر کھڑے نہ ہوں، اور اپنے پاؤں پر تب ہی کھڑے ہوں گے جب ہر منصوبہ اپنی مدد آپ کے تحت ہو۔ آپ کو اس میں تنگی کرنی پڑے گی۔ ہم قیمتی گاڑیاں منگوا لیتے ہیں یا نجی جٹ طیارے منگوا لیتے ہیں، ہمارے چیف ایگزیکٹو پرائیویٹ طیاروں میں باہر جاتے ہیں۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ جب ہم وسائل سے زیادہ خرچ کریں گے تو قرضہ چڑھے گا۔ ہمیں اپنے خرچے کم کرنے پڑیں گے۔ اور جب ملک میں کرپشن کم ہوگی تبھی آپ کے پاس انوسٹمنٹ آئے گی۔ جب آپ انصاف کریں گے، بینکوں کے قرضے میرٹ پر ملیں گے تو اصل محنتی بزنس مین کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
فرائیڈے اسپیشل: اصل میں جو بات ماہرین کرتے ہیں کہ سامانِ تعیش پر جو خرچ ہوتا ہے وہ شاید دس فیصد سے زیادہ نہیں، اس کی ایک علامتی حیثیت ضرور ہے اور ناپسندیدہ علامت کے طور پر اس کا ختم ہونا ضروری ہے لیکن اس سے مسئلہ پوری طرح حل نہیں ہوتا۔ اس وقت بیرونی اور اندرونی قرضے کی جو قسطیں ہمیں سالانہ ادا کرنی ہوتی ہیں وہ کسی بھی دوسرے Expenditure سے زیادہ ہیں، نتیجہ اس کا یہ سامنے آتا ہے کہ اب جاری اخراجات کے لیے بھی مزید قرضے کی ضرورت پڑتی ہے، چنانچہ ملک کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے ہمیں رقم درکار ہے۔ وہ آمدن جو ٹیکسوں کے ذریعے جمع ہوتی ہے وہ تو رواں اخراجات بھی پورے نہیں کرتی؟
عمران خان: اس میں شک نہیں کہ سارے ٹیکس سسٹم پر نظرثانی کرنا پڑے گی، یہ پکی بات ہے کہ جو پیسے دینے والے ہیں وہ بھی پیسے نہیں دیتے۔ صنعت کار جن کو اس وقت دبایا جارہا ہے وہ بھی کم پیسے دیتے ہیں، اور ایک اندازے کے مطابق 25 فیصد طبقہ جو ٹیکس دے سکتا ہے وہ دیتا ہی نہیں۔ زرعی ٹیکس بھی لگنے چاہئیں۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایک طبقے پر ٹیکس بالکل ہی نہ لگے اور چھوٹے سے طبقے پر بوجھ پڑرہا ہو۔ ہمیں ٹیکس کا سارا ڈھانچہ تبدیل کرنا پڑے گا۔ اسے حقیقت پسندانہ ہونا چاہیے۔
فرائیڈے اسپیشل: یہ تو آپ نے ٹیکس لگا لیے، مگر ترقیاتی منصوبوں کے لیے تو مزید بہت کچھ چاہیے؟
عمران خان: ڈاکٹر محبوب الحق کا ہی یہ تخمینہ ہے کہ ٹیکسوں کا نظام درست ہوجائے تو ہمارے بجٹ کا خسارہ پورا ہوسکتا ہے، اور اگر زراعت سے کم از کم ٹیکس بھی آجائے تو ہمیں چالیس ارب روپیہ زائد مل سکتا ہے۔ جب ہر جگہ انصاف ہوگا تو ٹیکسوں کا نظام بھی منصفانہ ہوگا۔ آپ یہ کریں کہ ٹیکس تھوڑا کردیں مگر سب سے لیں، یہ نہ کریں کہ پورا شعبہ ہی اس سے مستثنیٰ کردیں۔ اس کے علاوہ آپ یہاں سرمایہ کاری کے لیے ترغیبات دیں تو پاکستان کو بہت سرمایہ ملے گا۔ جمیل نشتر نے بالکل ٹھیک کہا تھا کہ Mis Managed Economy ہے، Poor Economy نہیں ہے۔ ہم اپنی معیشت کو صحیح طرح مینج ہی کرلیں۔ اس کے لیے آپ معاشیات کے ماہرین کو آگے لائیں، ان کی بات مانیں۔ وہ جو کہتے ہیں کیوں اس پر عمل نہیں کیا جاتا؟ بڑے بڑے لوگ ہیں جو اس وجہ سے ہمیں چھوڑ چکے ہیں، اور ڈاکٹر محبوب الحق خود جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں کہتے تھے کہ وہ جو چیزیں کہتے تھے ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا تھا۔
فرائیڈے اسپیشل: اگر ان کی یہ بات اسی طرح تسلیم کرلی جائے تو مسئلہ پھر یہی رہ جاتا ہے کہ جب کوئی تبدیلی لانا چاہتا ہے تو پاور اسٹرکچر اسے تبدیل کرنے نہیں دیتا؟
عمران خان: وہ کمپرومائز کرتا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ کو بھی یہ معاملہ پیش آئے گا تو آپ اس کو کیسے حل کریں گے؟
عمران خان: اگر میں کمپرومائز نہیں چاہتا اور اپنے اہداف پر ڈٹا ہوا ہوں تو ہوسکتا ہے کہ میں کرجاؤں۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ نے آج تحریک انصاف کی رکنیت کا جو فارم جاری کیا ہے اُس میں ایک نکتہ یہ رکھا ہے کہ ’’میں حلفاً کہتا ہوں کہ مجھے کرپشن یا کسی اخلاقی جرم میں کبھی سزا نہیں ہوئی‘‘۔ پاکستان میں صورت حال یہ ہے کہ جتنے کامیاب کرپٹ لوگ ہیں انہیں کبھی سزا نہیں ملی، نہ کوئی سیاست دان نہ بائیس سے سترہ گریڈ تک افسر۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر کامیاب کرپٹ شخص آپ کی پارٹی کا رکن بن سکتا ہے، کیونکہ اسے سزا نہیں ہوئی۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ یہاں اوپر سے نیچے تک کڑے احتساب کا عمل شروع کیا جائے۔ آپ نے جو نعرہ لگایا ہے وہ ہر سیاست دان لگاتا ہے، لیکن دوسرے سیاست دانوں کی طرح آپ کے پاس بھی کوئی طریق کار نہیں ہے؟
عمران خان: طریق کار یہ ہے کہ ہماری پارٹی میں اوپر صرف وہی آئیں گے جن کے بارے میں ہماری اپنی کونسل مطمئن ہوگی کہ وہ باکردار ہیں، اور یہ اتنا مشکل کام نہیں ہے۔ آپ اگر سمجھتے ہیں کہ سب پر دھبے لگے ہوئے ہیں اور سارا معاشرہ ہی ایسا ہے، تو ایسا نہیں۔ معاشرے میں اچھے برے ہر طرح کے لوگ موجود ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: لیکن کوئی معیار تو آپ قوم کے سامنے رکھیں تاکہ قوم کو واضح طور پر معلوم ہوسکے۔ یہ جو معیار آپ نے رکنیت فارم میں رکھا ہے اس سے تو کوئی متاثر نہیں ہوگا؟
عمران خان: رکنیت کے لیے تو رکاوٹ ہی کوئی نہیں۔ ہم چاہتے ہیں جو بھی آنا چاہے، شامل ہو۔ لیکن اصل فیصلہ قیادت پر ہوگا۔ قیادت میں کرپٹ لوگ نہیں آئیں گے۔
فرائیڈے اسپیشل: انہی میں سے آئیں گے ناں جو رکن ہوں گے؟
عمران خان: آپ ہمیں موقع دیں، جس دن قیادت کا اعلان ہوگا، آپ کو ان میں ان شاء اللہ کرپٹ لوگ ڈھونڈے سے بھی نہیں ملیں گے۔
فرائیڈے اسپیشل: کیا آپ اپنی قیادت کا انتخاب کرتے وقت اسلامی اقدار پر عمل کو بھی کچھ اہمیت دیں گے؟
عمران خان: ہماری پارٹی پاکستان پر یقین رکھتی ہے، اس لیے سیکولر نہیں ہوسکتی۔
فرائیڈے اسپیشل: مراد یہ ہے کہ نماز، روزے اور زکوٰۃ وغیرہ جیسے بنیادی اسلامی فرائض کی ادائیگی کو آپ کی پارٹی رکنیت یا قیادت پر پہنچنے کے لیے کوئی اہمیت حاصل ہوگی یا نہیں؟
عمران خان: ہم مسلمان ہیں اور وہ مسلمان جو پاکستان کے بارے میں سیکولر سوچ نہ رکھتا ہو، یعنی وہ تسلیم کرے کہ پاکستان اسلام کے لیے بنا تھا۔
فرائیڈے اسپیشل: اسلام قبول کرتے وقت اور کلمہ طیبہ پڑھتے وقت ہر مسلمان یہ عہد کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام کی پابندی کرے گا۔ جب ایک شخص اللہ سے حلف باندھنے کے بعد اس کی پابندی نہیں کرتا اور بنیادی اسلامی فرائض ادا نہیں کرتا تو آپ کیسے توقع رکھتے ہیں کہ وہ آپ کی پارٹی کے حلف کی پاسداری کرے گا؟ اور قیادت کی ذمے داریاں صحیح طور پر ادا کرتا رہے گا؟
عمران خان: یہ مجھے کیسے پتا چلے گا! لوگ منافقت بھی کرسکتے ہیں۔ دکھاوے کے لیے تو وہ کرلیں لیکن مجھے کیا پتا اندر جاکر وہ کیا کرتے ہیں! یہ آپ لازمی نہیں کرسکتے، آپ تو صرف اپنی کوشش کریں کہ اس کی ذہنیت آپ سے ملتی ہو، وہ یہ یقین رکھتا ہو کہ یہ ملک اسلام کے لیے بنا ہے۔ یہاں تو ایک ایسی کلاس ہے جو یہ کہتے ہیں کہ نہیں، یہ ملک سیکولر ہے۔ میں کیسے مجبور کروں گا کہ نماز پڑھو، جو نماز نہ پڑھے اسے نکال دوں؟ خدا تو میں نہیں بن سکتا۔
فرائیڈے اسپیشل: یہ تعمیر کردار کا ایک ذریعہ تو ہے ناں؟
عمران خان: انسان کوشش کرتا ہے کہ اپنی مثال پیش کرے جو ہمارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پیش کی۔
فرائیڈے اسپیشل: رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اول حضرت ابوبکرؓ نے تو اُن لوگوں سے جنگ کا اعلان کیا تھا جو زکوٰۃ دینے سے انکاری تھے۔ نماز کی تو زکوٰۃ سے کہیں زیادہ تاکید قرآن و حدیث میں آئی ہے؟
عمران خان: اس کے لیے ہم کوشش کرسکتے ہیں، آپ اس پر زیادہ اصرار نہ کریں۔
فرائیڈے اسپیشل: تبدیلی کے لیے آئینی راستہ اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے اور ظاہر ہے آپ انتخابات میں بھی حصہ لیں گے۔ کیا اس بات کا امکان ہے کہ انتخابات میں ہم خیال جماعتوں کے ساتھ کسی کم سے کم پروگرام پر کوئی مفاہمت پیدا کرلیں؟ اس وقت جو صورتِ حال ہے اس میں کوئی پارٹی یہ دعویٰ نہیں کرسکتی کہ اسے پاکستان کے ہر علاقے اور شہر میں برابر کی حمایت حاصل ہے۔ لہٰذا مکمل کامیابی حاصل کرنے کے لیے کیا ایسا امکان ہے کہ کسی ہم خیال پارٹی سے اتحادکی کوئی صورت بن سکے؟
عمران خان: جو ہمارے مقاصد سے اتفاق کرلیں اُن سے اتحاد ہوسکتا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: اس وقت ملک میں جو بڑی بڑی سیاسی جماعتیں ہیں مثلاً پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، جمعیت علمائے اسلام، جمعیت علمائے پاکستان اور جماعت اسلامی۔۔۔ ان میں سے کس سے آپ کی مفاہمت کے امکانات زیادہ ہیں؟
عمران خان: ابھی اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ ابھی پارٹی بنے گی اور ہم نکلیں گے تب پتا چلے گا کہ کس سے مفاہمت کے امکانات زیادہ ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: آج ہی میر مرتضیٰ بھٹو کا یہ بیان شائع ہوا ہے کہ آپ سے تعاون ہوسکتا ہے؟
عمران خان: میں نے آپ سے کہا ہے کہ اگر وہ ہمارے تبدیلی کے پروگرام سے اتفاق کرتے ہیں تو اتجاد ہوسکتا ہے، میں ابھی حتمی کوئی بات نہیں کہہ سکتا۔
فرائیڈے اسپیشل: شوکت خانم اسپتال میں دھماکے کے بعد میاں نوازشریف وہاں گئے تو آپ نے اُن کا خیرمقدم بھی کیا اور انہوں نے بھی کہا کہ ہم آپ سے تعاون کریں گے۔ آپ کے خیال میں اُن کے ساتھ کس حد تک مفاہمت ہوسکتی ہے؟
عمران خان: ہمارے مقاصد میں اگر وہ تعاون کرتے ہیں تو ہم ساتھ چل سکتے ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: کوئی انتخابی اتحاد بھی ہوسکتا ہے؟
عمران خان: ہوسکتا ہے، لیکن میں اکیلا اِس وقت آپ کو کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ہماری پارٹی بننے کے بعد جب اس کی قیادت بیٹھے گی تو فیصلہ کرے گی کہ ہمارے مقاصد کس سے ملتے ہیں۔ یہ تو طویل بحث مباحثہ کی بات ہے۔ میں اکیلا کچھ نہیں کہہ سکتا۔
فرائیڈے اسپیشل: قاضی حسین احمد کے ساتھ آپ کی کافی ملاقاتیں ہوئی ہیں تو جماعت اسلامی کے ساتھ آپ کے اتحاد کے کتنے امکانات ہیں اور آپ جماعت کو اپنے کتنا قریب سمجھتے ہیں؟ ابھی حال ہی میں قاضی صاحب نے ایک پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ انہوں نے آپ کو شباب ملّی میں شمولیت کی دعوت بھی دی ہے جس کے مقاصد آپ کی تحریک سے ملتے ہیں؟
عمران خان: میں نے قاضی صاحب کو اپنے مقاصد بتائے تھے، اگر وہ ان مقاصد کے حصول میں ہماری مدد کرسکتے ہیں تو ہم کسی کو بھی نہیں کہیں گے کہ ہماری مدد نہ کریں۔
فرائیڈے اسپیشل: اس وقت جو بین الاقوامی صورتِ حال ہے اُس میں امریکہ کا ایک ایجنڈا ہے۔ یہ ایجنڈا کئی جگہ ہمارے قومی مقاصد سے ٹکراتا ہے، مثلاً امریکہ نہیں چاہتا کہ ہمارے وسط ایشیا کے ساتھ بیک وقت تجارتی، تہذیبی اور مذہبی تعلقات بڑھیں، اس علاقے میں ایک مضبوط مسلم بلاک ابھرے۔ وہ نہیں چاہتا کہ مسلمان دنیا میں ایک بار پھر طاقتور قوت بنیں، اور اس کے تدارک کے لیے وہ مختلف اقدامات کررہا ہے۔ بے نظیر بھٹو سے انہوں نے کہلوا لیا ہے کہ وہ اسلامی بنیاد پرستی کے خلاف پاکستان کو فرنٹ لائن اسٹیٹ بنائیں گی۔ ظاہر ہے ہم امریکہ سے لڑائی تو نہیں کرنا چاہتے، ہم اس سے بہتر تعلقات چاہتے ہیں، لیکن ایسے تعلقات جن میں ہمارے اپنے ملّی و قومی مقاصد کو بھی پورا کرنے کا موقع ملے۔ اس کے لیے آپ کے نزدیک کون سا طرزعمل زیادہ بہتر ہے؟
عمران خان: میرا تو یہ مؤقف ہے کہ کسی ملک سے لڑائی نہیں کرنی چاہیے، ہمیں سب سے دوستی رکھنی چاہیے اور امریکہ سے بھی، لیکن یہ تو واضح ہونا چاہیے کہ ہم کسی کے لیے کیوں استعمال ہوتے ہیں۔ میں پھر یہی کہوں گا کہ ہماری نیت ہی ٹھیک نہیں ہوتی۔ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ ہماری کرسی رہ جائے، ہم سب سے سودے بازی کرلیں۔
فرائیڈے اسپیشل: کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں امریکہ کی مرضی کے بغیر کرسی مل ہی نہیں سکتی اور جب تک امریکی مقاصد کے لیے کام کرنے پر آمادگی نہ ہو۔ اور بے نظیر تو اس کے لیے تیار ہوگئی تھیں اور انہیں کرسی مل گئی، لیکن آپ کیسے اس کا مقابلہ کریں گے؟
عمران خان: میں اس سے بالکل اختلاف کرتا ہوں۔ جب بھی آپ کسی کی سرپرستی لیتے ہیں تو پھر آپ کے ہاتھ بندھ جاتے ہیں، آپ کے گلے میں زنجیر بندھ جاتی ہے، وہ جس طرف زنجیر کھینچتے ہیں آپ اس طرف چل دیتے ہیں۔ اِن شاء اللہ اقتدار میں آؤں گا اور لوگوں کی قوت سے آؤں گا، لوگوں کو ساتھ لے کر آؤں گا، اور جو کہہ کر آؤں گا وہ ان شاء اللہ کرکے دکھاؤں گا۔ اور جب کسی اور کی میرے گلے میں زنجیر نہیں ہوگی، آزاد انسان کی طرح آؤں گا تو پاکستان کے فائدے دیکھ کر فیصلے کروں گا۔
فرائیڈے اسپیشل: ہماری خارجہ پالیسی کے حوالے سے امریکہ سے ہمارے تعلقات اچھے برے جیسے بھی ہیں لیکن ایران اور چین سے ہمارے تعلقات پہلے جیسے نہیں رہے، اور یہ امریکی ایجنڈے کا حصہ ہے کہ ہم ایران و چین سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ کیا آپ برسراقتدار آکر امریکہ کی مرضی کے خلاف ایران، افغانستان اور چین سے اچھے تعلقات قائم کریں گے، جو پاکستان کے مفادات کا تقاضا ہے؟
عمران خان: میں پھر وہی کہوں گا کہ جب آپ کے گلے میں زنجیر ہوگی تو آپ ہر قسم کا سمجھوتہ کرنے پر تیار ہوں گے۔ لیکن آپ میرے مضمون پڑھ لیں، ’’براؤن صاحب‘‘ پڑھ لیں، جس کی آج تک لوگوں کو سمجھ نہیں آئی۔ وہ کپڑوں پر آ جاتے ہیں، جب کہ میں کیا بات کہہ رہا ہوں! آپ میری کتاب ’’غیرت مند مسلمان‘‘ پڑھ لیں، کرکٹ بھی دیکھ لیں کہ کس طرح کھیلی۔ میں ہر چیز میں ایک بات کہتا ہوں کہ ہم میں غیرت ہونی چاہیے۔ جب آپ میں غیرت اور عزتِ نفس ہوگی تو آپ کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ آپ کو اپنے پیر پر کھڑا ہونا ہوگا۔ جب انسان اپنے پیر پر کھڑا ہوتا ہے تبھی اس میں عزتِ نفس اور غیرت آتی ہے، اور تبھی آپ اپنے ملک کا سوچتے ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: کیا امتِ مسلمہ کے اتحاد کی بھی کوئی کوشش کریں گے جو اس وقت امریکہ کی مرضی کے خلاف ہے؟
عمران خان: کیوں نہیں کروں گا؟ ہر مسلمان کو اس طرح ہی سوچنا چاہیے۔ ہماری دنیا بلاکوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اکنامک بلاک بننا چاہیے۔ لیکن میں ساتھ ساتھ یہ بھی کہوں گا کہ ہمیں ان کو بتانا چاہیے کہ اسلام کیا ہے؟ اس کی کیا پاور ہے؟ اسلام دنیا کے لیے متبادل نظام ہے، ہمیں انہیں اسلام کا فیملی سسٹم سمجھانا چاہیے، یہ انہیں فائدے دے سکتا ہے۔ ہمیں شرمانے کے بجائے ان سے بات کرنی چاہیے۔ مادام تانسو چلر نے عجیب بات کہی کہ مجھے مسلمانوں سے بچاؤ۔ یہ تو ظلم ہے کہ ہم ایک خدا کی عبادت بھی کرتے ہیں اور لوگوں کے سامنے بھی جھکتے ہیں۔ یہ تو شرک ہے۔ میں نہ کسی کے سامنے جھکا ہوں نہ جھکوں گا، میرا تو اللہ پر بھروسہ ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ نے فیملی سسٹم کا ذکر کیا تو یاد آیا کہ آپ کی شادی کا معاملہ بھی بڑا پراسرار رہا ہے، اور اس کے بارے میں بھی مختلف باتیں کی جاتی رہی ہیں، پھر جس طرح آپ منگنی کا اعلان کرتے ہی اچانک لندن گئے اس نے بھی معاملات کو مشکوک بنادیا؟
عمران خان: اس میں کوئی پراسراریت نہیں تھی، ہم منگنی کرچکے تھے اور ایک دن دھماکا تو ہونا تھا۔ سوچا کہ شادی کے بعد اعلان کریں گے۔ مگر جب اس سے پہلے ہی اخبارات میں شور مچ گیا تو بجائے انتظار کرنے کے میں فوراً وہاں گیا اور شادی کرلی۔ میرے سسرال نے بھی جب دیکھا کہ بات اخبارات میں آگئی ہے تو انہوں نے بھی اعلان کردیا۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ کے بارے میں ایک تاثر یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر آپ کے جو تعلقات ہیں اور جو حمایت و ہمدردی آپ کو حاصل ہے، لیڈی ڈیانا آپ کو اس وقت پبلسٹی دینے آئیں جب آپ کو اس کی ضرورت تھی، اسپتال میں بم کا دھماکا ہوا تو مطبوعہ خبروں کے مطابق وہائٹ ہاؤس تک اس پر تشویش ہوئی، پھر یورپ کے نہایت بااثر سیاسی گھرانے میں آپ کی شادی ہوئی تو اس سے یہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ آپ کی طنابیں غیر ممالک میں طاقت کے اہم مراکز کے پاس ہیں، جب کہ بے نظیر بھٹو صاحبہ پہلے ہی بیرونی عالمی مفادات کی حفاظت کررہی ہیں، یوں پاکستان میں یہ صورت حال پیدا ہوگئی ہے کہ حکومتی سربراہ کے علاوہ ابھرتا ہوا اپوزیشن لیڈر بھی غیر ملکی مفادات کا نگہبان بن کر سامنے آئے گا، اس طرح پاکستان کی پوری سیاست یعنی حکومت اور اپوزیشن دونوں امریکہ و یورپ کی مرضی کے تابع ہوں گی، آپ اس پر کیا تبصرہ کریں گے؟
عمران خان: پہلے آپ یہ تو غور کریں کہ انہیں سازش کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ موجودہ حالات جاری رہے تو پاکستان ویسے ہی تین سال میں دیوالیہ ہوجائے گا، پھر ہماری آزادی رہ ہی کہاں جائے گی؟ اگر ہمیں قابلِ اعتماد قیادت نہ ملی تو یہ صورت حال دور کی بات نہیں۔ ایسی صورت میں تو ہمیں وہ جو بھی حکم کریں ہم انکار نہیں کرسکتے۔ اس کے لیے انہیں سازش کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے!
فرائیڈے اسپیشل: سازش نہیں لیکن وہ اپنے مقاصد کی خاطر منصوبہ بندی تو کرتے ہیں؟
عمران خان: لیکن آخر انہیں اس کی ضرورت کیا ہے جب کہ ہم خود دیوالیہ ہونے والے ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: اس صورت حال سے بچنے کے کیا امکانات ہیں؟
عمران خان: ابھی سے کوشش کریں تو امکان موجود ہے، ورنہ ہم بڑی تیزی سے اس جانب بڑھ رہے ہیں۔ دوسرے یہ بھی کہ اگر میرے لیے سازش کرنا تھی تو یہ بہت دیر سے کی جا رہی تھی، پہلے ورلڈ کپ میں لوگوں میں میرا امیج بنایا گیا، پھر مجھے ورلڈ کپ جتوایا گیا اور پھر شوکت خانم اسپتال کے ذریعے معاملہ آگے بڑھایا گیا۔
فرائیڈے اسپیشل: کشمیر کا مسئلہ پاکستان کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اس کے مختلف حل پیش کیے جا رہے ہیں، امریکہ تھرڈ آپشن کے نام سے کئی حل پیش کرچکا ہے ۔آپ ان میں سے کس حل کو قرین انصاف اور پاکستان کے مفادات کے نزدیک تر سمجھتے ہیں؟
عمران خان: ہمیں پہلے پاکستان کو مضبوط بنانا ہوگا، جب ہم مضبوط ہوں گے تو کوئی ہماری بات سنے گا۔ جہاں تک کشمیر کے مسئلے کا تعلق ہے، اس میں طے ہے کہ جنوری 1949ء کی اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق رائے شماری ہی مسئلے کا حل ہے جس کے تحت کشمیری اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کریں گے۔ یہی انصاف ہے اور جمہوری اصولوں کا تقاضا بھی یہی ہے، اور اس قرارداد میں بھی یہی کہا گیا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: اگر حکومت امریکی دباؤ کے تحت اس کے منصوبے کے سامنے جھک جاتی ہے تو۔۔۔؟
عمران خان: لوگ نہیں جھکنے دیں گے۔ مسئلہ کشمیر عوام کے ذہنوں میں بیٹھا ہوا ہے، وہ حکومت کو اس مسئلے پر کسی طرح نہیں جھکنے دیں گے۔ بہرصورت ہمیں ہر حالت میں اپنی آنکھیں کھلی رکھنی چاہئیں تاکہ کوئی پاکستان اور کشمیری عوام کے مفادات کے خلاف اپنی مرضی کا حل مسلط کرنے کی کوشش میں کامیاب نہ ہونے پائے۔

Share this: