۔35A کی ممکنہ منسوخی،کشمیر کو فلسطین بنانے کی کوشش

کشمیر جنت نظیر 1947ء سے لہو لہو ہے، لیکن اگست کے آغاز سے وادی کے تمام بڑے شہروں پر تشدد کی ایک خوفناک لہر کا غلبہ ہے، اور اِس بار کشمیری بھی ایک نئے عزم سے سامنے آئے ہیں کہ اب معاملہ واقعی ان کی زندگی اور موت کا ہے۔ یہ انتہائی حساس نکتہ ہندوستان کے آئین سے دفعہ 35-A کی ممکنہ منسوخی کا ہے۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے خطے کی تاریخ پر چند سطور:
جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ انگریز بہادر نے ہندوستان پر قبضے کے بعد اس کے اکثر علاقوں کو تو براہِ راست تاجِِ برطانیہ کا حصہ بنا لیا تھا لیکن کچھ وفادار راجوں مہاراجوں کے زیرنگیں ریاستوں کو سلطنتِ برطانیہ کے باج گزار علاقے کے طور پر خودمختار ریاست رہنے دیا گیا۔ ان ریاستوں کو Princely Stateکہا جاتا تھا۔ جونا گڑھ اور جموں و کشمیر ایسی ہی ریاستیں تھیں۔ جوناگڑھ کے راجا مسلمان تھے جبکہ جموں و کشمیر پر ہندو ڈوگروں کی حکمرانی تھی۔ جب تقسیم ہند کے وقت رائے شماری کا مرحلہ آیا تو لندن سرکار نے Princely ریاستوں میں رائے شماری کے بجائے ہندوستان، پاکستان سے الحاق یا آزاد رہنے کا فیصلہ وہاں کے راجوں کو سونپ دیا۔ جوناگڑھ کے راجا اپنی ریاست کا الحاق پاکستان سے چاہتے تھے تاہم اُن کا یہ دعویٰ اس بنیاد پر مسترد کردیا گیا کہ رعایا کی اکثریت ہندو ہے جو ہندوستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس اصول کا اطلاق جموں و کشمیر پر نہیں ہوا جہاں کے عوام کی غالب اکثریت مسلمان ہے اور کشمیری اپنی ریاست کو پاکستان کا حصہ بنانا چاہتے تھے۔ کشمیری راجا نے اپنی رعایا کا موڈ دیکھتے ہوئے ہندوستان و پاکستان کا حصہ بننے کے بجائے ایک آزاد و خودمختار ریاست کے طور پر اپنا وجود برقرار رکھنے کا اعلان کیا، لیکن چند ہی ماہ بعد ’پٹھانوں کے حملے‘ کا ہوّا کھڑا کرکے ہندوستان نے وہاں اپنی فوج اتار دی، اور اکتوبر 1947ء تک جموں و کشمیر پر ہندوستان کا قبضہ مکمل ہوگیا۔
سقوطِ کشمیر میں بھی اپنوں کی غداری کا بڑا دخل تھا۔ ہندوستانی فوج کی نقل و حرکت کو دیکھتے ہوئے قائداعظم نے پاکستانی فوج کو جوابی کارروائی کا حکم دیا، لیکن اُس وقت کے فوجی سربراہ جنرل گریسی نے گورنر جنرل کا حکم ماننے سے صاف انکار کردیا اور سر ظفراللہ خان نے بھی جو اُس وقت قائد کے مشیر تھے، فوجی پیش قدمی کی مخالفت کی۔ سر ظفراللہ نے قائداعظم کو یقین دلایا کہ پاکستان کا مقدمہ بہت مضبوط ہے، ہم اقوام متحدہ کے ذریعے ہندوستان کو فوجی انخلا پر مجبور کرسکتے ہیں۔ چنانچہ بھارتی فوج نے کشمیر پر قبضہ کرلیا اور وادی عملاً ہندوستان کا حصہ بن گئی۔ اس دوران محدود پیمانے پر پاک بھارت جنگ بھی ہوئی۔
قبضہ مکمل ہوتے ہی جنوری 1948ء میں ہندوستان کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ لے گیا اور وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے کشمیر کے مسئلے کو کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کی تجویز پیش کی۔ اُس وقت تک سر ظفراللہ پاکستان کے وزیرخارجہ بن چکے تھے جنھوں نے بھارت کے عزم کو سراہا اور اس معاملے پر ’مل کر‘کام کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ جس پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں چینی ری پبلک نے ایک قرارداد پیش کی۔ اُس وقت عوامی جمہوریہ چین وجود میں نہیں آیا تھا اور فارموسا ہی چین کہلاتا تھا۔ 21 اپریل 1948ء کو یہ تحریک منظور کرلی گئی جو قرارداد نمبر 47 کے نام سے مشہور ہے۔ قرارداد 47کا سب سے بڑا سقم یہ ہے کہ اسے اقوام متحدہ کے چارٹر VIکے تحت پیش کیا گیا۔ چارٹر VI تنازعے کے پُرامن حل کے لیے اقوام متحدہ کی درخواست کی حیثیت رکھتا ہے اور عالمی ادارہ اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے طاقت کے استعمال کا پابند نہیں۔ اس کے مقابلے میں چارٹر VII کے تحت منظور ہونے والی قرارداد فوری طور پر اقوام متحدہ کی فوج یا ملٹری اسٹاف کمیٹی (MSC) کے سپرد کردی جاتی ہے، اور MSCکا سربراہ قرارداد پر اُس کی روح کے مطابق عمل درآمد کا پابند ہے۔ 9/11 کے بعد افغانستان کے خلاف قرارداد چارٹر VIIکے تحت پیش کی گئی تھی جس کی رو سے اقوام متحدہ کے تمام ارکان فوجی قوت کے ذریعے افغانستان کو قائل کرنے کے پابند تھے۔ سرظفراللہ نے قرارداد پر رائے شماری کے دوران اسے چارٹر VII کے تحت منظور کرانے پر زور نہیں دیا۔ ان جیسے مستند ماہرِ قانون اور جہاندیدہ سفارت کار سے اتنی غلطی کی توقع نہیں تھی۔
کشمیر کے معاملے میں اقوام متحدہ نے جو قرارداد منظور کی اُس میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے 3 مراحل تجویز کیے گئے تھے۔ یعنی پہلے کشمیر سے ’پاکستانی قبائلیوں‘ کا انخلا، دوسرے مرحلے میں وادی سے ہندوستانی فوج کی واپسی، جس کے بعد جموں و کشمیر میں سرگرم تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک نگراں حکومت کا قیام جو ریفرنڈم کے ذریعے یہ معلوم کرے گی کہ کشمیری پاکستان یا ہندوستان میں سے کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔
اس قرارداد کی تشریح ہندوستان نے کچھ اس انداز میں کی کہ پاکستان کی دراندازی کا الزام لگاکر مزید فوجی دستے وادی میں بھیج دیے اور عبوری حکومت کا ڈھونگ رچاکر ریاستی اسمبلی کے نام سے کٹھ پتلی پارلیمان قائم کردی گئی۔ قائداعظم کی وفات کے بعد پاکستان سیاسی بحران میں مبتلا ہوگیا جس کی وجہ سے سفارتی سطح پر کشمیریوں کا مقدمہ لڑنے والا کوئی نہ تھا، لیکن کشمیریوں کی پُرامن مزاحمت جاری رہی۔ قیام ہند وپاکستان کے وقت کشمیر کے مہاراجا ہری سنگھ نے جس دستاویزِ وابستگی یا Instrument of Accession پر دستخط کیے تھے اس کے مطابق کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی اور ریاست پر ہندوستان کے قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا تھا۔ اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل درآمد کا تاثر دینے کے لیے دستاویزِ وابستگی کے حوالے سے ایک صدارتی حکم کے ذریعے ہندوستانی آئین کے باب 21 میں دفعہ 370 کا اندراج ہوا جس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت اور اس کی اسمبلی کو مکمل خودمختاری عطا کی گئی۔
اسی کے ساتھ جموں کے پنڈتوں نے سارے دیش کے ہندوئوں کو کشمیر آنے کی دعوت دی تاکہ ریفرنڈم سے پہلے یہاں ہندوئوں کے تناسب کو بڑھایا جاسکے۔ اس مقصد کے لیے باہر سے کشمیر آنے والوں کو ریاستی ملازمتیں اور سیاحتی صنعت میں سرمایہ کاری کے لیے پُرکشش مراعات دی گئیں۔ ان اقدامات پر کشمیریوں کی جانب سے شدید مزاحمت ہوئی اور کئی جگہ ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے۔ ہندوستانی فوج نے کشمیریوں کی مزاحمت کو کچلنے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا اور ہزاروں کشمیری مارے گئے۔ دوسری طرف ’شرپسندوں‘ کی سرکوبی کے نام پر مزید فوجی دستے یہاں تعینات کردیے گئے۔ اسی کے ساتھ وزیراعظم نہرو اور شیخ عبداللہ نے سیاسی بھاشن کے ذریعے کشمیریوں کو منانے کی کوشش کی۔ نہرو نے سری نگر میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے ’کشمیری بھائیوں‘ کے تحفظات کا اچھی طرح اندازہ ہے۔ دورِ غلامی میں انگریز جائدادیں خرید کر وادی پر قبضہ کرنا چاہتے تھے اس لیے مہاراجا نے باہر سے آنے والوں پر پابندی لگادی تھی، لیکن اب ہمارا دیس آزاد ہوگیا ہے اور غاصب انگریزوں کے آنے کا کوئی خطرہ نہیں، لہٰذا کشمیر آنے اور جانے والوں پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ شیخ عبداللہ کا کہنا تھا کہ وادی میں سرمایہ کاری آنے سے روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے۔
بہیمانہ تشدد اور روشن مستقبل کا جھانسہ کشمیریوں کو متاثر نہ کرسکا، اور کشمیر کی شناخت برقرار رکھنے کے لیے تحریک جاری رہی بلکہ اس میں مزید شدت آگئی جس کی وجہ سے پنڈتوں نے ’کشمیر چلو‘ کی تحریک معطل کردی۔ حالات کا رُخ دیکھتے ہوئے وزیراعظم نہرو کی سفارش پر ہندوستان کے صدر راجندرا پرشاد نے 14 مئی 1954ء کو ایک صدارتی فرمان کے ذریعے ہندوستانی آئین کی دفعہ 370 میں ترمیم کرکے ایک ذیلی شق دفعہ 35-A کے اندراج کا حکم دیا، جس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو مزید مستحکم کردیاگیا۔ دفعہ 35-A کی رو سے صرف وہی لوگ ریاست کشمیر میں سرکاری ملازمت، غیر منقولہ جائداد کی خرید و فروخت، مستقل رہائش، ریاستی اسمبلیوں کی رکنیت اور تعلیمی وظائف و گرانٹ کے حقدار ٹھیرے جن کی کئی نسلیں یہاں آباد ہیں، یا یوں کہیے کہ صرف جدی پشتی کشمیری ہی ریاست کے قانونی شہری ہیں۔ اس ترمیم کے ذریعے ’کشمیر کشمیریوں کا‘ مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے وادی کی مذہبی، لسانی و عمرانی شناخت کو محفوظ کردیا گیا۔
یہ آئینی بندوبست نسل پرست ہندوئوں کو پسند نہ آیا اور پنڈتوں نے احتجاج شروع کردیا جس میں بی جے پی کے دور میں شدت آگئی۔ وزیراعظم بننے سے چند ہفتے پہلے مہاراشٹر میں اپنی جماعت کے سالانہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے نہرو خاندان پر ملک سے غداری کی جو فردِ جرم عائد کی اُس میں سرِفہرست35-A ترمیم تھی۔ بی جے پی کے برسراقتدار آتے ہی اس ترمیم کو منسوخ کرنے کی تحریک نے زور پکڑ لیا۔ انتہاپسندوں کا کہنا ہے کہ ترمیم لوک سبھا (قومی اسمبلی) سے منظور نہیں ہوئی بلکہ محض ایک صدارتی فرمان کے ذریعے آئین کا حصہ بنائی گئی ہے، اس لیے اسے صدارتی فرمان کے ذریعے منسوخ کرنا مشکل نہیں۔ اور اس ضمن میں کئی بار وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے۔ تاہم بی جے پی کی حکومت نے اب تک نہ تو مسئلے کو لوک سبھا میں اٹھایا اور نہ ہی وزیراعظم نے اس نوعیت کی کوئی سفارش ہندوستانی صدر کو بھیجی۔
اگست کے آغاز پر ایک غیر معروف بھارتی شہری نے سپریم کورٹ کو دہائی دی کہ دفعہ 35-A ایک امتیازی قانون ہے۔ درخواست میں کہا گیاہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ اور یوپی، بہار و آسام کی طرح ہندوستان کی ایک ریاست ہے، اور جب کسی بھی ریاست میں رہائش اختیار کرنے اور جائداد خریدنے پر کوئی پابندی نہیں تو کشمیر کے دروازے عام ہندوستانیوں پر کیوں بند ہیں! اب تک سپریم کورٹ نے اس درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کا فیصلہ نہیں کیا اور اس سلسلے میں 31 اگست کو ہونے والی سماعت ہندوستانی اٹارنی جنرل وینو گوپال کی درخواست پر 4 مہینے کے لیے مؤخر کردی گئی ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ آئینی درخواست نریندرمودی کی ایما پر دائر کی گئی ہے۔ بھارتی آئین کے تحت عدالتیں دستور سے متصادم صدارتی فرمان کو منسوخ کرسکتی ہیں، اور اگر ہندوستانی عدالتِ عظمیٰ نے ترمیم کو منسوخ کردیا تو مسلم دشمنی کا الزام سر پر آئے بغیر مودی جی کی دلی مراد پوری ہوجائے گی۔
لیکن کشمیری مسلمان بھی اتنے بھولے نہیں، اور انھیں اچھی طرح معلوم ہے کہ آئینی درخواست کے پیچھے کن پردہ نشینوں کا ہاتھ ہے۔ ریاست کی امتیازی حیثیت ختم کرنے کے خلاف 5 اگست سے تحریک جاری ہے۔ ہڑتالوں اور دھرنوں میں لاتعداد کشمیری شہید اور زخمی ہوئے۔ کئی ہزار کم عمر نوجوان جیلوں میں ہیں۔ حریت کانفرنس نے 35-A کی ممکنہ منسوخی کے خلاف تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جس کی وجہ سے اننت ناگ، سری نگر، پلوامہ، بارہ مولہ اور دوسرے شہروں میں عملاً کرفیو نافذ ہے، اقتصادی سرگرمیاں معطل ہیں اور دہاڑی دار گھرانوں میں فاقے کی کیفیت ہے۔ دفعہ 35-A کشمیریوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے کہ اس کا خاتمہ وادیٔ کشمیر کو برصغیر کا فلسطین بنادے گا۔ اس بحران کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پاکستانی وزارتِ خارجہ اس معاملے پر خاموش ہے اور پاکستانی میڈیا بھی دنیا کی توجہ اس سنگین مسئلے کی طرف دلانے میں سنجیدہ نہیں۔ امید ہے محترم محمود قریشی صاحب اس جانب توجہ فرمائیں گے۔

Share this: