ترکی کی جدید تاریخ کا روشن باب، شیخ بدیع الزمان نُورسی

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی
کسی خطہ زمین میں اسلام کے عروج، زوال اور پھر عروج کی تاریخ کا مطالعہ کرنا ہو تو اس کی بہترین مثال ترکی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب پوری دنیا پر اس کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کے سلاطین بڑے کرّوفر کے مالک تھے۔ ایک بڑے خطۂ زمین پر اس کی حکمرانی قائم تھی۔ دنیا کی بڑی بڑی مملکتیں اس کے سامنے لرزاں و ترساں رہتی تھیں۔ پھر ایک زمانہ آیا کہ اس کی حدودِ مملکت سکڑتی اور سمٹتی چلی گئیں، دیگر ممالک اس پر شیر ہوگئے، یہاں تک کہ انھوں نے عسکری طاقت کے بل پر اس کے حصے بخرے کردیے۔ اس عرصے میں اس کے ایک فوجی جنرل نے کچھ دم خم دکھایا۔ اس نے ترکی کے دشمنوں سے لوہا لیا اور مملکت کو بچاکر جدید ترکی کی تعمیر کی۔ لیکن اس نے غضب یہ کیا کہ اپنی حدودِ مملکت سے اسلام کو دیس نکالا دے دیا۔ اس نے خلافت کی قبا چاک کردی، اسلام کا نام لینے کو جرم قرار دیا، اتنا سنگین جرم کہ اس کی سزا موت قرار پائی، اذان پر پابندی عائد کردی، مساجد کو میوزیم اور گوداموں میں تبدیل کردیا، دینی مدارس و مکاتب پر تالے ڈال دیے، شرعی عدالتوں کو بند کردیا اور اوقاف کو ختم کردیا، اسلامی کلینڈر کی جگہ مغربی کلینڈر جاری کیا، ترکی زبان کے رسم الخط کو عربی سے بدل کر لاطینی کردیا، خواتین کے لیے حجاب پر پابندی عائد کردی۔ الغرض اس نے سیکولرازم یعنی لادینیت کو اپنا قبلہ و کعبہ بنا لیا اور اسلام کو کھرچ کھرچ کر مٹادینے کی ہر ممکن کوشش کی۔
لیکن یہ تمام کوششیں ترک عوام کے دلوں سے اسلام کو محو کردینے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کچھ بندوں کو توفیق دی کہ وہ اسلام کی شمع جلاتے رہیں اور شدید طوفانوں کے باوجود اس کی لَو کو بجھنے نہ دیں۔ انھوں نے اس راہ میں بے مثال قربانیاں پیش کیں، قید و بند کی اذیتیں برداشت کیں، جلا وطنی کی زندگی گزاری، دار و رسن کو چوما، حکومت و اقتدار سے بے دخل کیے گئے، پابندیوں پر پابندیاں قبول کیں… لیکن نہ بکے، نہ تھکے، نہ اپنی راہ کھوٹی کی۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں دھیرے دھیرے ترکی میں اسلام کا کلمہ بلند ہونے لگا، مساجد کے میناروں سے اذانیں سنائی دینے لگیں، مدارس و مکاتب پھر آباد ہونے لگے، خواتین اپنی مرضی سے حجاب اختیار کرنے لگیں اور اس پر روک ٹوک باقی نہ رہی۔ غرض ترکی میں اسلام کی بازگشت سنائی دینے لگی۔
ترکی میں اسلام کے احیاء کے میدان میں اللہ کے جن بندوں نے غیر معمولی خدمات انجام دیں ان کی طویل فہرست ہے۔ ان میں ایک نمایاں نام شیخ بدیع الزماں نورسی کا ہے۔ ترکی ادبیات کے ماہر جناب ثروت صولت نے انھیں درج ذیل الفاظ میں خراج پیش کیا ہے:
’’ ترکی میں تجدید و احیائے اسلام کے فرض کو گزشتہ نصف صدی میں جس عظیم ہستی نے انجام دیا وہ استاد بدیع الزماں نورسی کی ذات ہے۔وہ بلا شبہ اس صدی کی عظیم ہستیوں میں سے ایک ہیں۔ان کی کوششوں سے ترکی میں جس طرح اسلام کا احیاء ہوا ہے اس کی مثال شاید آسانی سے نہ پیش کی جا سکے۔ ان کی اصل اہمیت اور عظمت یہ ہے کہ انھوں نے نا سازگار حالات میں اسلام کی شمع روشن رکھنے کی کوشش جاری رکھی اور پچیس سال کی جد و جہد کے بعد ترکی کو مذہب دشمنی کی راہ سے ہٹاکر ایک بار پھر خادمِ اسلام ملک کی حیثیت میں تبدیل کر دیا۔‘‘
(ثروت صولت،ترکی کا مردِ مجاہد،مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی۔1996ء ،ص9۔10)
ابتدائی زندگی
سعید نورسی ترکی کے صوبے ’ تبلیس‘ کے ضلع ہیزان کے گائوں ’نورس‘ میں 1873ء /1290ھ میں پیدا ہوئے۔ اسی نسبت سے انھیں نورسی کہا جاتا ہے۔ابتدائی تعلیم انھوں نے اپنے والد سے حاصل کی۔ بعد میں مختلف اساتذہ سے کسبِ فیض کیا۔ ان کا حافظہ بڑا غضب کا تھا۔ جو کچھ پڑھتے تھے یاد ہو جاتا تھا۔ ابھی سنِ بلوغ کو نہیں پہنچے تھے کہ مختلف علوم کی 80 کتابیں پڑھ ڈالیں۔ ان کی قوتِ حافظہ اور غیر معمولی ذہانت کی خبر وقت کے علما ء کو ہوئی تو انھوں نے ان کا متحان لینا چاہا۔ انھوں نے مختلف سوالات کیے جن کے نورسی نے صحیح صحیح جوابات دیے۔ یہ دیکھ کر علماء بہت حیران ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ نوجوان تو’ بدیع الزمان‘(یعنی نادرِ روزگار) ہے۔ اس طرح آہستہ آہستہ یہ لقب ان کے نام کا جز بن گیا۔
شیخ نورسی نے دینی تعلیم عام کرنے کی غرض سے مصر کی جامعۃ الازہر کے طرز پر جامعۃ الزہراء قائم کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس منصوبہ پر 1951ء میں اس وقت عمل ہو سکا جب ترکی کے وزیراعظم عدنان مندریس کی جانب سے ان کو مالی امداد فراہم کی گئی۔اس جامعہ میں عربی، ترکی اور کردی تینوں زبانوں کی تعلیم دی جاتی تھی، البتہ سب سے زیادہ زور عربی زبان پر دیا جاتا تھا اور روایتی علوم کے ساتھ جدید علوم کو بھی شاملِ نصاب کیا گیا تھا۔
نوجوانوں کی انجمن
مغربی فکر سے متاثر ترک نوجوانوں نے انجمن اتحاد و ترقی قائم کی، جس کا مقصد ترکی سے خلافت کا خاتمہ اور مغربی افکار و اقدار کی بالادستی قائم کرنا تھا۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے 1909ء میں انجمن اتحاد محمدی کی تشکیل کی گئی۔اس کے بانیوں میںشیخ سعید نورسی کا بھی نام ملتا ہے۔ اس انجمن کا مقصد اسلام کی بنیاد پر خلافت کی تشکیل ِ نو کرنا اور اتحادِ اسلامی کو فروغ دینا تھا۔اس انجمن کی تشکیل کے کچھ ہی عرصہ بعد بغاوت پھوٹ پڑی،جس میں انجمن کے متعدد افراد سمیت سعید نورسی بھی ماخوذ ہوئے۔ انھیں جیل میں ڈال دیا گیا، ان پر مقدمہ چلا،لیکن عوامی دبائو کے نتیجے میں جلد ہی انھیں رہا کردیا گیا۔
جنگ عظیم اول کے دوران سعید نورسی نے فوج میں رضاکارانہ خدمت انجام دی۔ اس عرصہ میں بھی وہ نوجوانوں کی تربیت سے غافل نہیں ہوئے۔ وہ ان کے سامنے قرآن اور اسلامی علوم کا درس دیتے۔ اسی عرصے میں انھوں نے ’اشارات الاعجاز فی مظان الایجاز‘ تصنیف کی۔ دورانِ جنگ وہ روسیوں کے ہاتھوں قید ہوکر سائبیریا بھیج دیے گئے۔ ایک طویل عرصے تک انھوں نے وہاں کی تکلیفیں برداشت کیں، پھر وہاں سے فرار ہوکر جرمنی، ویانا اور بلغاریہ ہوتے ہوئے واپس استنبول پہنچے۔
قرآن سے تعلّق
استنبول آمد کے بعد ہمیں شیخ سعید کی زندگی میں زبردست تبدیلی نظر آتی ہے۔انھوں نے سیاسی سرگرمیوں سے علیٰحدگی اختیار کرلی۔ وہ دریائے باسفورس کے کنارے ایک گائوں منتقل ہو گئے اور وہاں قرآن مجید کے مطالعہ اور غور و تدبر میں مشغول ہوگئے۔اس کے نتیجے میں انھیں احساس ہوا کہ ان کے اندرون کی تاریکیاں چھٹ گئی ہیں اور قرآن مجید کے نور سے ان کا وجود منوّر ہو گیا ہے۔ اس تجربے نے شیخ کی آئندہ کی تحریروں اور بیانات کا رخ متعیّن کردیا اور قرآن سے افادہ و استفادہ کی تحریک نے ’رسائلِ نور‘ کا قالب اختیار کرلیا۔
مصطفی کمال پاشا نے نے ترکی فوج کو منظّم کرکے بیرونی طاقتوں کے حملے کو پسپا کردیا تھا اور ترکی قوم کے اندر بیداری اور خود اعتمادی کی روح پھونک دی تھی۔ اس کے پیش نظر ابتدا میں شیخ کے دل میں اس کا احترام پایا جاتا تھا۔وہ اسے الحاد کی تاریکی سے نکال کر اسلام کی روشنی میں لانا چاہتے تھے۔ لیکن لادینی عناصر نے شیخ کے اس ارادے کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ مصطفی کمال شیخ کی غیر معمولی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے انھیں اپنا آلۂ کار بنانا چاہتا تھا، اسی لیے اس نے ان کو مشرقی اناطولیہ کا رئیس الواعظین مقرر کیا اور دار الحکمۃ بورڈ کا رکن بنادیا۔ لیکن شیخ سعید نے اپنی فراستِ ایمانی سے اس کی نیت تاڑ لی اور اس کی تمام نوازشوں کو ٹھکرا کر انقرہ سے چلے گئے۔ یہ1921ء کا واقعہ ہے۔ شیخ نے سیاسی زندگی سے کنارہ کش ہوکر خاموش دعوت و تبلیغ اور تربیت و تزکیہ پر اپنی توجہ مرکوز کردی۔
آزمائش
1925ء میں ملحد حکومت کے خلاف بغاوت ہوئی۔ اس بغاوت سے شیخ نورسی کا کوئی تعلق نہ تھا، لیکن محض شک کی بنیاد پر انھیں گرفتار کیا گیا اور وہاں سے مشرقی اناطولیہ کے ایک گائوں بردور میں جلا وطن کردیا گیا۔اس کے بعد تو قید و بند،پولیس کی نگرانی میں نظربندی، جلاوطنی، ایذا و تعذیب،عدالت میں پیشی، جھوٹے مقدمات اوربے بنیاد الزامات وغیرہ کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس سے شیخ کی زندگی اجیرن کر دی گئی۔ لیکن ان کے پائے ثبات و استقامت میں ذرا بھی لرزش نہ آئی۔ انھوں نے رسائل نور کی تصنیف و تالیف اور ان کی خفیہ ترسیل و اشاعت کا کام جاری رکھا۔ بردور سے انھیں جلا وطن کرکے اسپارٹا کے ایک گائوں بارلا بھیج دیا گیا، جہاں وہ آٹھ سال مقیم رہے۔وہاں پولیس کا سخت پہرہ بٹھا دیا گیا اور کسی کو بھی ان سے ملنے جلنے کی اجازت نہ تھی۔
ان کے اخلاق و کردار سے متاثر ہوکر ان کے پہرے دار ہی ان کے ہم نوا بن گئے۔ وہ وہاں جو رسائل تصنیف کرتے انہی پہرے داروں کے ذریعے وہ دوسرے لوگوں تک پہنچتے۔
1934ء میں شیخ نورسی پر خفیہ مذہبی تنظیم قائم کرنے اور ترکی کے سیکولر زم کے خلاف کام کرنے کا الزام لگا کر انھیں ان کے ڈیڑھ سو شاگردوں کوگرفتار کیا گیا۔ مقدمہ چلایا گیا، لیکن ان کے خلاف کوئی پختہ ثبوت نہ مل سکا، پھر بھی پندرہ دیگر افراد کے ساتھ انھیں چھ ماہ کی سزا سنائی گئی۔ رہائی کے بعد انھیں بحر اسود کے ساحل پر آباد ایک گائوں’کاستامانو‘ جلا وطن کر دیا گیا۔ وہاں بھی انھوں نے رسائل نور کی تصنیف اور ان کی اشاعت کا کام جاری رکھا۔1943ء میں انھیں ایک بار پھر عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا گیا اوران پر حکومت کے خلاف سرگرمیاں انجام دینے کا الزام لگایا گیا۔ انقرہ یونی ورسٹی کے پروفیسرس پر مشتمل ایک ٹیم بنائی گئی جس کے ذمے ان کے رسائل کا جائزہ لینے کاکام سونپا گیا۔ کمیٹی نے فیصلہ دیا کہ یہ رسائل خالص مذہبی نوعیت کے ہیں۔ اس کی رپورٹ پر انھیں بری کردیا گیااور انھیںرہائی مل گئی۔
1947ء میں شیخ نورسی کو ایک بار پھر جلا وطن کردیا گیا۔ ان پر پولیس کا سخت پہرہ بٹھا دیا گیا اور ان سے لکھنے پڑھنے کی آزادی بھی چھین لی گئی۔ لیکن انھوں نے ہمت نہیں ہاری۔ متعدد افسران ان کی تقریروں اور تحریروں سے متاثر ہوکر ان کے معتقدوں میں شامل ہوچکے تھے۔ ان لوگوںکے تعاون سے انھیں کارکنوں سے ملنے اور اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت مل گئی۔۷۴۹۱ء￿ کے اواخر میں ایک بار پھر انھیں عدالت میں طلب کیا گیا اور پرانے الزامات دہراکر بیس ماہ کی سزا سنائی گئی۔ترکی کے مختلف مقامات سے شیخ کے ان عقیدت مندکارکنوں کو بھی پابندِ سلاسل کیا گیا جو رسائل نور کو تقسیم کرتے تھے۔ عدالتِ عالیہ نے یہ سزا منسوخ کردی، لیکن انھیں دوبارہ اسی الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ دو سال کی نظر بندی کے بعد ستمبر 1949ء میں ان کی رہائی ہوئی۔
رسائل نور
شیخ نورسی نے اب اپنی دعوت کا مرکز مشرقی اناطولیہ کے بجائے دیاربکر کو بنایا۔ اس سے حکومت کی جارحانہ کارروائیوں میں کچھ کمی آئی۔ اس عرصے میں رسائلِ نور کی توسیع و اشاعت میں خاصا اضافہ ہو چکا تھا۔ انقرہ اور استنبول کی یونی ورسٹیوں کے طلبہ میں یہ رسائل بہت مقبول تھے۔تعلیم یافتہ طبقہ بھی ان کی تعلیمات و افکار سے کافی متعارف ہو چکاتھا۔1950ء میں عدنان مندریس ترکی کے وزیر اعظم بنے تو انھوں نے اسلامی افکار و اقدار کے بارے میں کچھ نرمی کی پالیسی اختیار کی۔ لیکن پھر بھی شیخ نورسی کے ابتلا و آزمائش میں کچھ کمی نہیں آئی۔ 1952ء میں انھیں ان کے رفقاء کے ساتھ ایک بار پھر گرفتار کیا گیا اور استنبول میں ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ان پر رسائلِ نور کی اشاعت اور تقسیم کے ذریعے حکومتی پالیسیوں کی مخالفت کی فردِ جرم عائد کی گئی۔ عدالت میں جرم ثابت نہ ہو سکا تو انھیں رہا کر دیا گیا، لیکن استنبول چھوڑ کر امیر ڈاگ چلے جانے کی ہدایت دی گئی۔
1953ء میں شیخ اسپارٹا منتقل ہو گئے، جہاں انھوں نے زندگی کے باقی ایام گزارے۔یہاں ان کے معتقدین کی بھی ایک بڑی تعداد قیام پذیر تھی۔ اب تک رسائلِ نور کی نقلیں تیار کرواکے انھیں بڑے پیمانے پر عوام میں تقسیم کیا جاتا تھا۔یہاں بعض رسائل زیورِ طباعت سے بھی آراستہ ہوئے۔ زندگی کے آخری ایام میں بھی پولیس کی طرف سے تفتیش، دھمکی اور جانچ پڑتال جاری رہی۔ مارچ 1960ء میں شیخ اورفہ تشریف لے گئے، لیکن وہاں پہنچتے ہی حکومت نے فوراً شہر چھوڑنے اور اسپارٹا واپس جانے کے احکام صادر کر دیے۔ابھی شیخ اورفہ ہی میںتھے کہ ان کا آخری وقت آپہنچا اور24 مارچ 1960ء کو ان کی وفات ہو گئی۔
رسائل کے اثرات
نورسی تحریک میں رسائل نور کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ شیخ نے چھوٹے بڑے130 رسائل تصنیف کیے ہیں۔ ان میں آسان الفاظ اور دل نشین اسلوب میںقرآنی علوم و معارف کی تشریح و توضیح کی گئی ہے۔انھوں نے قرآن مجید کی مکمل تفسیر لکھنے کے بجائے دینی اقدار و مفاہیم کو قرآنی آیات کی روشنی میں بیان کیا اور اعجازِ قرآن کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالی۔ ان رسائل میں ترکی کے سیکولر معاشرہ پر تنقید کی گئی ہے اور اصلاحِ حال کی ترغیب دی گئی ہے۔ان رسائل کا مقصدِتصنیف یہ تھا کہ عوام کو غلط راہوں پر چلنے سے روکا جائے اور ان کے لیے صحیح سمتِ سفر کی نشان دہی کی جائے، تاکہ وہ صحیح اور غلط کے درمیان تمیز کر سکیں اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ بعض رسائلِ نور میں سائنسی ایجادات اور صنعتی ترقیات سے متعلق قرآن مجید کی پیشین گوئیوں اور معجزات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس طرح شیخ نے اس پہلو کی جانب توجہ دلانا چاہا تھا کہ دورِ جدید کی ترقیات کے سلسلے میںقرآن مجید سے رہ نمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔
سیاست پر اثرات
کہا جاتا ہے کہ شیخ نورسی نے اپنے رسائل میں سیاسی افکار سے بحث نہیں کی ہے۔ یہ بات بڑی حد تک درست ہے۔ لیکن ان رسائل میں آیاتِ قرآنی کی جو تعبیر و تشریح پیش کی گئی ہے ان کے سیاسی مضمرات ضرور تھے۔ ان رسائل کے ترک معاشرہ پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔شیخ نورسی کی دعوتی جدو جہد اور ان کی تحریک کا جامع تعارف آج سے چار دہائیوں قبل(1975ء میں) مشہور دانش ور خاتون مریم جمیلہ نے ان الفاظ میں کرایا تھا:
’’ بدیع الزماں نورسی کی طاقت کی بنیاد اس بات پر ہے کہ انھوں نے اپنی مشکلات اور مجبوریوں کو سمجھ لیا تھا اور مسلمان جن حالات میں مبتلا ہیں ان کا حقیقت پسندانہ اندازہ کر لیا تھا۔ انھوں نے دانش مندی سے کام لے کر ایک سخت، بے لچک تنظیم قائم کرنے سے احتراز کیا، کیوں کہ اس قسم کی تنظیم پر ایک صاحبِ اقتدار آمر آسانی سے پابندی لگا سکتا ہے، اس کے رہ نمائوں کو قید کر سکتا ہے اور ان کو پھانسی دے سکتا ہے۔ سعید نورسی نے اس کے برخلاف تبلیغ و اشاعت اور اپنی کتابوں کے ذریعے ہزاروں ترکوں کے دلوں میں ایمان کی جڑیں مضبوط کردیں۔ یہ ایسی تحریک تھی جس پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی تھی اور ایک جابر ترین استبداد بھی اس کی تعلیمات کو پھیلنے سے نہیں روک سکتا تھا۔۔۔ نورسی تحریک کا طریق کار ایک استبدادی نظام کے تحت، جو مسلمان ملکوں کا مقدر بن چکا ہے، زندگی گزارنے والے مختلف طبقوں کے لوگوں میں کام کرنے کے لیے انتہائی موزوں ہے۔اس دعوے میں کوئی مبالغہ نہیں کہ آج ترکی میں جو کچھ اسلام باقی ہے بدیع الزماں سعید نورسی کی انتھک اور بے لوث جد و جہد کا نتیجہ ہے۔‘‘
(ترکی کا مردِ مجاہد،حوالہ سابق،ص13۔14)
شیخ سعید نورسی کی زندگی مثالی زندگی تھی۔شدید مخالف ماحول میںانھوں نے بڑی حکمت اور دانش مندی سے اصلاحی سرگرمیاں انجام دیںاورہر طرح کی آزمائشوں کا دیوانہ وار مقابلہ کیا۔ ان کی خاموش دعوت و تبلیغ کے ترک معاشرہ پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ ان کی جد و جہد ترکی کی جدید تاریخ کا روشن باب ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ ان کی کوششیں ثمر بار ہو رہی ہیں اور ترکی کی پیش رفت آہستہ آہستہ پھر اسلام کی جانب ہو رہی ہے۔

Share this: