علی بابا کمپنی کے مالک چینی ارب پتی کی درس وتدریس کی طرف واپسی

چین کے ایک ارب پتی نے اپنی دولت کی ریل پیل ترک کرکے درس و تدریس کی طرف واپسی کا اعلان کیا ہے۔ آن لائن کاروبار کی مشہور ویب سائٹ ’علی بابا‘ کے بانی ’جیک ما‘ کی ثروت کا اندازہ 4 ارب 20 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے۔ ان کی زندگی کئی نشیب و فراز کا مجموعہ ہے مگر اُنہوں نے یہ مقام مسلسل محنت اور لگن سے حاصل کیا۔ آج اُن کا شمار نہ صرف چین بلکہ دنیا کے انتہائی کامیاب کاروباری لوگوں میں ہوتا ہے۔ مشہور امریکی ارب پتی ’بل گیٹس‘ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ’جیک ما‘ نے بھی اپنے وقت اور دولت کو تعلیم اور فلاحی کاموں کے لیے وقف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اُن کے قبل از وقت کمپنی سے ریٹائرمنٹ کے اعلان سے لوگ حیران بھی ہیں کیونکہ انہوں نے اچانک یہ اعلان کیا ہے۔ امریکی شہر نیویارک میں ’جیک ما‘ کی ریٹائرمنٹ کی خبر کے اگلے روز بیجنگ کی طرف سے اس کی تردید بھی آئی تھی۔ یہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ جاری ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تجارتی حجم 505 ارب ڈالر ہے مگر حال ہی میں امریکہ نے چینی مصنوعات پر اضافی ٹیکس لگانے کا اعلان کیا، جس پر چین نے بھی امریکی مصنوعات پر ٹیرف بڑھا دیا تھا۔ امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 54 سالہ ’جیک ما‘ نے اپنی مستقبل کی مصروفیات تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وہ مائیکرو سافٹ کمپنی کے بانی ’بل گیٹس‘ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنی دولت کے ایک بڑے حصے سے دست بردار ہونا چاہتے ہیں۔ چونکہ ’نیویارک ٹائمز‘ کی چین میں اشاعت پر پابندی ہے، اس لیے چینیوں کے لیے جیک ما کی کمپنی سے علیحدگی کی خبر حیران کن تھی۔ وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تجارتی جنگ اپنے عروج پر ہے۔ تاہم ’علی بابا‘ کی کمپنی کے اخبار The South China Morning Post نے جیک ما کی کمپنی سے ریٹائرمنٹ کی خبر کی تردید کی اور کہا کہ جیک ما کمپنی میں اپنے جانشین کا فیصلہ کرنے کے بعد ہی کوئی اگلا قدم اٹھائیں گے۔ جیک ما 15 اکتوبر 1964ء کو چینی شہر ہانگشور میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی زندگی آوارہ لوگوں کے ساتھ گزری، مگر جب انہوں نے کاروبار کی دنیا میں قدم رکھا تو کامرانیوں نے ان کے قدم چومے۔ انہوں نے انٹرنیٹ کی دنیا میں اپنی کمپنی ’علی بابا‘ قائم کی۔ وہ پہلے ایشیائی ارب پتی ہیں جن کی تصویر بزنس جریدے ’فوربز‘ کے سرورق پر ایک ارب پتی کی حیثیت سے شائع ہوئی۔ جیک ما کو شروع میں انگریزی سیکھنے کا بہت زیادہ شوق تھا۔ اپنے اس شوق کی تکمیل کے لیے وہ اپنے گھر سے موٹرسائیکل پر روزانہ 45 منٹ کا سفر کرکے ایک ہوٹل میں جاتے جہاں موجود غیر ملکیوں سے انگریزی میں بات چیت کرکے اپنی انگریزی بہتر کرنے کی کوشش کرتے۔ جیک ما انگریزی سیکھنے میں کامیاب ہوگئے، جس کے بعد وہ ایک اسکول میں انگریزی کے استاد بھی مقرر ہوئے۔ انہوں نے یونیورسٹی میں انگریزی کے شعبے میں دو بار امتحان دیا مگر ناکام رہے۔ 1988ء میں انہوں نے ہانگشو کالج سے گریجویشن کی۔ ان کا انگریزی کی طرف سفر اتنا ہی کٹھن اور دشوار تھا جتنا چین میں انٹرنیٹ کے کاروبار میں قدم رکھنا، مگر بعد میں ان کے لیے یہ دونوں راستے انتہائی مفید ثابت ہوئے۔
ایک وہ وقت تھا جب انٹرنیٹ پر Dail Upکے ذریعے کال کے لیے ساڑھے تین گھنٹے انتظار کرنا پڑتا تھا، مگر آج ایک کلک پر ایک سیکنڈ کے اندر ان کی کمپنی اپنی مصنوعات فروخت کررہی ہے۔

قاہرہ: اخوان المسلمون کے رہنمائوں سمیت 75 افراد کو موت کی سزا

مصر کی ایک عدالت نے 75 افراد کو جن میں اخوان المسلمون کے رہنما بھی شامل ہیں، موت کی سزا، جب کہ 47 دیگر افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ اُن پر 2013ء میں اخوان المسلمون کی جانب سے دیے گئے دھرنوں کے دو کیمپوں کو منتشر کرنے کے دوران خونریز جھڑپیں ہوئی تھیں۔ تاہم یہ سزائیں حتمی نہیں، ان پر اپیل ہوسکتی ہے۔ انسانی حقوق کے گروہوں نے، جن میں ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ بھی شامل ہے، مقدمے کی مذمت کرتے ہوئے اِنہیں ’ذلت آمیز‘ اور ملک کے آئین کے خلاف قرار دیا ہے۔ وائس آف امریکہ کے مطابق ایمنسٹی نے مصر کی حکومت پر تنقید کی ہے کہ اس نے ملک کی سلامتی افواج کو کسی جرم کا ذمے دار نہیں ٹھیرایا، جن کے ہاتھوں دھرنے کے کیمپوں میں 900 کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس سال کے اوائل میں مصر کی پارلیمان نے ایک قانون منظور کیا جس میں قاہرہ کے ربعہ اور نھضہ کے علاقوں میں قائم کیمپوں میں 2013ء میں ہونے والے احتجاج پر اقدام کے سلسلے میں فوج اور پولیس کی کارروائی کو جائز قرار دیا گیا تھا۔

واشنگٹن کی وینزویلا میں فوجی انقلاب کی منصوبہ بندی کا انکشاف

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے عہدے داران نے خفیہ طور پر وینزویلا کی فوج کے افسران کے ساتھ ملاقات کی تھی تاکہ وینزویلا کے صدر نکولاس میڈورو کا تخہ الٹنے کا منصوبہ زیر بحث لایا جاسکے۔ تاہم آخرکار ان افسران نے اس حوالے سے آگے نہ بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ ٹرمپ کی جانب سے میڈورو کی بائیں بازو کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جب کہ وینزویلا کو سنگین نوعیت کے اقتصادی اور انسانی بحرانوں کا سامنا ہے۔ ایسے میں عوام کے اندر پُرتشدد احتجاج کے جذبات بھڑک اٹھے ہیں اور پڑوسی ممالک کی جانب ہجرت کی لہر بھی نظر آرہی ہے۔امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان گیرٹ مارکیز کے مطابق ’’امریکی انتظامیہ روزانہ وینزویلا کے لوگوں کے اندیشوں کو سن رہی ہے۔ اُن سب کا ایک مقصد ہے اور وہ ہے اپنے وطن میں جمہوریت کی تعمیرِ نو‘‘۔ مارکیز کا کہنا ہے کہ ’’وینزویلا کے بڑھتے ہوئے بحران کا مستقل حل اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک جمہوریت کے ذریعے حکومت، قانون کی بالادستی، انسانی حقوق کا احترام اور بنیادی آزادی کو واپس لے کر نہیں آیا جاتا‘‘۔ نیویارک ٹائمز نے امریکی عہدے داران (جن کے نام نہیں بتائے گئے) اور خفیہ بات چیت میں شریک وینزویلا کے ایک عسکری کمانڈر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملک میں انقلاب کے منصوبے پر عمل درآمد معلّق چھوڑ دیا گیا۔ دوسری جانب وینزویلا کے وزیر خارجہ جورجی ایریازا نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ’’ہم دنیا کے سامنے امریکی انتظامیہ کی مداخلت کے منصوبوں اور وینزویلا کے خلاف فوجی سازش کی سپورٹ کی بھرپور مذمت کرتے ہیں‘‘۔ گزشتہ ماہ 4 اگست کو ایک اجتماع کے دوران وینزویلا کے صدر میڈورو کے نزدیک دھماکا خیز مواد کا حامل ڈرون طیارہ دھماکے سے تباہ ہوگیا تھا۔ وینزویلا کے صدر نے اس کارروائی پر عمل درآمد کا الزام امریکہ، کولمبیا اور اندرونی دشمنوں پر عائد کیا۔ امریکی قومی سلامتی کے لیے وہائٹ ہاؤس کے مشیر جان بولٹن نے باور کرایا کہ اس واقعے میں امریکی حکومت ملوث نہیں ہے۔اگست 2017ء میں میڈیا رپورٹوں میں کہا گیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا پر فوجی حملے کی تجویز پیش کی تھی۔ اسی عرصے میں امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ وہ وینزویلا میں انارکی اور شورش کے خاتمے کے واسطے ’’فوجی آپشن‘‘ کو خارج از امکان قرار نہیں دیتے۔

پاکستان کیا کچھ کرسکتا ہے؟

افغانستان میں طالبان کے حملوں میں امریکی اموات کی تعداد بڑھتی جارہی ہے جس کی وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہیں، وہ افغانستان پر حملے کی بات کرچکے ہیں اور انہوں نے اپنے وزیرخارجہ کے دورے سے پہلے پاکستان کا 300 ملین ڈالرز کا بل امداد کہہ کر ادا کرنے سے انکار کردیا اور مائیک پومپیو نے پاکستان آنے سے پہلے روزویلٹ اسٹرائیک کیریئر کا دورہ کیا تاکہ پاکستان کو ڈرانے کی کوشش کی جائے، کیونکہ اس ایئرکرافٹ کیریئر میں 5 سے 6 ہزار فوجی، میرین اور دیگرشعبوںکی مسلح فوج موجود ہے، اس میں دو فریگیٹ، 50 سے 60 ایئرکرافٹ موجود ہیں۔ یہ اسٹرائکنگ فورس اس لیے بنائی گئی ہے کہ ٹرمپ کی پالیسی کے تحت جہاں بھی حملہ کرنا ہو وہاں یہ جہاز چلا جاتا ہے اور حملہ کرکے واپس آجاتا ہے۔ وہ عراق، شام اور افغانستان میں 1200حملے کرکے آ چکا ہے، اس نے بہت خون بہایا ہے، امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو کا اِس جہاز کے دورے کا مقصد کچھ بھی ہو مگر وہاں سے سیدھا پاکستان آنے سے یہ پیغام وصول ہوا کہ وہ پاکستان کو کھلی دھمکی دینا چاہتے ہیں۔ اب اس سلسلے میں پاکستان کیا کرے، کیونکہ امریکی مسلح افواج کے سربراہان اور وزارتِ خارجہ کے حکام ڈونلڈ ٹرمپ کو پاگل قرار دے چکے ہیں۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں کے خلاف انتظامی بغاوت ہوچکی ہے، اُن کے کئی فیصلوں کو چھپا دیا جاتا ہے۔ امریکی صحافی باب ووڈورڈ نے اپنی نئی کتاب Fear میں لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا کی امداد بند کرنے کا فیصلہ کیا، اس کو غائب کردیا۔ اس نے شمالی کوریا پر حملے کی بات کی، وہ نظرانداز کردی گئی۔ بشارالاسد کو قتل کرنے کا حکم دیا، اس کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔ پینٹاگون اور امریکی انتظامیہ یہ بات جانتی ہے کہ پاکستان کیا کچھ کرسکتا ہے۔ ہماری امریکیوں سے دشمنی نہیں مگر وہ پاکستان کے خلاف کوئی کارروائی کریں گے تو پاکستان بھی کچھ کرے گا۔ پاکستان امریکہ کے مقابلے میں شمالی کوریا کے صدر کی طرح ’’چھوٹا بچہ‘‘ نہیں ہے بلکہ وہ ایٹمی اسلحہ اور میزائلوں سے لیس ایک ملک ہے اور اپنے محلِ وقوع کے لحاظ سے امریکہ کا ناطقہ بند کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکہ سے جو کچھ ہوا وہ اس نے کرکے دیکھ لیا، ہما را ردعمل ابھی ادھار ہے۔
(نصرت مرزا۔ جنگ، 10ستمبر2018ء)

دھندہ کرنے والے گئے… چندے والے آگئے

نیا بادشاہ تخت پر بٹھا دیا گیا۔ ملک بھر میں جگہ جگہ موجود طلسمی آئینوں پر بیٹھے پری زاد اور دیو ایک طلسمی دھن بجانے لگے: نیا بادشاہ جادوگر ہے، غضب کا جادوگرہے، بلا کا جادوگر ہے، کمال کا جادوگر ہے۔ یہ ایسا جادو چلائے گا کہ غریبوں کی غربت کم ہوجائے گی، بے گھروں کو مکان مل جائیں گے، بے کار پھرتے لوگوں کو نوکری اور کام مل جائے گا، کارخانوں کی پیداوار آپ ہی آپ بڑھ جائے گی، ہر شے سستی ہوجائے گی۔ کوہ قاف میں غربت تھی۔ باہر سے تاجروں کے قافلے بھی بہت زیادہ نہیں آتے تھے۔ ادھر سے بھی کم ہی قافلے باہر جاتے تھے۔ پرانے بادشاہ نے بہت سی ترکیبیں کیں۔ قافلوں کی آمدو رفت بڑھائی، راستے کھولے، نئے کارخانے لگائے، مہنگائی کی لگام کو کھینچا۔ لیکن نئے بادشاہ کے آتے ہی سب کچھ تلپٹ ہوگیا۔ پری زادوں اور دیووں نے لوگوں سے کہا گھبرائو نہیں، تبدیلی میں پہلے پہل ایسا ہوتا ہی ہے۔ جادوگر بادشاہ کو جادو چلانے دو، پھر دیکھو۔ نئے بادشاہ نے کہا: میں ملک بھر سے غربت میں کمی اور ترقی کے ماہر جادوگروں کی ٹاسک فورس بنائوں گا۔ یہ لوگ اپنے شعبے میں کوہ قاف کی کریم ہوں گے۔ ایسے ایسے فارمولے بنائیں گے کہ ان پر عمل ہوتے ہی‘‘ڈے ون‘‘ سے ملک جنت بننا شروع ہوجائے گا۔ پھر اس نے ایسا ہی کیا۔ ایک ٹاسک فورس بنائی اور کئی کمیٹیاں، اور انہیں حکم دیا کہ اپنی ذہانت کی ساری پھرکیاں گھمائو، اپنے دماغ کے سارے پیچ لڑائو اور ایسے فارمولے نکالو کہ بس ڈنکے ہی بج اٹھیں۔ درجنوں جادوگر بیٹھ گئے۔ اپنی ساری ذہانت، سارا علم اور تجربہ نچوڑنے لگے۔ طلسمی آئینوں پر پری زاد پھر نغمے گانے لگے کہ ایسے منتر تیار ہورہے ہیں کہ پڑھتے ہی چین اور امریکہ سے آگے نکلنے کے راستے ہمیں مل جائیں گے۔ بہاریں طوفان بن کر آئیں گی۔ خوشحالی کے سونامی میں غربت کے پہاڑ بہہ جائیں گے۔ جادوگر دو ہفتے تک بیٹھے رہے اور آخر انہوں نے ایک کمال کا فارمولا تیار کر ہی لیا۔ پھر انہوں نے بادشاہ کو اطلاع دی۔ بادشاہ نے ان کا فارمولا دیکھا اور خوشی سے ناچ اٹھا۔ سارے جادوگروں کے منہ موتیوں سے بھر دیے۔ فارمولا صرف دو لفظوں کا تھا: ’’چندہ مانگو‘‘۔ اسی رات بادشاہ سلامت طلسمی لوح پر بیٹھا رعایا سے چندہ دینے کی اپیل کر رہا تھا۔
یہ کوہ قاف کی کہانی ہے، اسے اپنے ملک کا قصہ مت سمجھ بیٹھیے، مشابہت تو محض اتفاقی بات ہے۔ کہیں بھی ہو جاتی ہے، کہیں بھی ہوسکتی ہے۔ اپنے ملک کا قصہ دو لفظوں میں یوں ہے کہ دھندہ کرنے والے گئے، چندے والے آگئے۔ دھندہ دنیا داری ہے، چندہ بھلائی کا اور تعویذ گنڈہ روحانی کام ہے۔
(عبداللہ طارق سہیل۔92نیوز،10ستمبر2018ء)

عاطف میاں اور ایم ایم احمد

عاطف میاں کی رخصتی کے ساتھ ہی دو ماہرینِ اقتصادیات نے اظہارِ یک جہتی کے طور پر اقتصادی کونسل سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ معمولی بات نہیں۔ یہ صرف ایک مذہبی یا سماجی معاملہ نہیں، یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم جائزہ لیں کہ یہ کون سا ماہرین کا ٹولہ تھا جو ہم نے منتخب کیا تھا۔ ان کا معاشیات میں کون سا دبستانِ فکر ہے؟ کیا ان کی سوچ اور فکر پاکستان کے لیے سودمند تھی؟کیا ان کا کوئی ایجنڈا تھا؟ میں ان کی حب الوطنی پر بھی شک نہیں کرتا، مگر جاننا چاہتا ہوں کہ یہ لوگ اس ملک میں کس طرح کا نظام نافذ کرنا چاہتے تھے؟ عرض کرچکا ہوں کہ معاشیات کوئی دو جمع دو کی سائنس نہیں ہے۔ اس میں ایک ہی مسئلے کے حل کے لیے مختلف ماہرین کی مختلف رائے ہوسکتی ہے۔ جاننا چاہیے کہ ان لوگوں نے پاکستان کے مسائل کو کیسے سمجھا تھا اور یہ اس کا کون سا حل تجویز کرنا چاہتے تھے؟ میں تو قادیانی مسئلے کی بات ہی نہیں کررہا، حالانکہ ہماری تہذیب و سماج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ اس کی ہمارے ہاں کیا اہمیت ہے۔ میں تو صرف یہ بتارہا ہوں کہ ماہرینِ معیشت کے طور پر یہ لوگ کیا چاہتے تھے۔ ذکر کیا تھا کہ ایم ایم احمد (مرزا مظفر احمد) نامی ایک ماہرِ اقتصادیات کا تعلق اسی کمیونٹی سے تھا جس سے عاطف میاں کا ہے، اور پاکستان ان موصوف کی اقتصادیات کا ڈسا ہوا ہے۔
(سجاد میر۔ 92نیوز،10ستمبر2018ء)

Share this: