عمران کا نیا پاکستان یعنی قادیانستان؟۔

یہ مضمون 8 ستمبر بروز ہفتہ “جسارت” کے ادارتی صفحے پر شائع ہوا، اہمیت کے پیش نظراسے قارئین کے استفادے کے لیے دوبارہ پیش کیا جارہاہے

عمران خان کے نئے پاکستان کے بارے میں چند باتیں متفق علیہ ہیں۔ ایک بات یہ ہے کہ عمران کا نیا پاکستان اسٹیبلشمنٹ کا پاکستان ہے، دوسری بات یہ کہ عمران کا نیا پاکستان Electables کا پاکستان ہے، تیسری بات یہ کہ عمران کا پاکستان سرمائے کا پاکستان ہے، چوتھی بات یہ کہ عمران کا پاکستان ایم کیو ایم جیسی دہشت گرد تنظیموں سے سمجھوتے کا پاکستان ہے، پانچویں بات یہ کہ عمران کا پاکستان تبدیلی کے نعرے اور تاثر کا پاکستان ہے، چھٹی بات یہ کہ عمران کا پاکستان بہرحال نیا پاکستان نہیں ہے۔ مگر جو بات کسی کو معلوم نہ تھی وہ یہ کہ عمران کا نیا پاکستان قادیانیوں کا پاکستان ہے۔
اس کا ثبوت عمران خان کی حکومت کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کی وہ گفتگو ہے جسے سن کر کوئی بھی مہذب شخص سوچ سکتا ہے کہ یہ آدمی بول رہا ہے یا بھونک رہا ہے؟ مگر فواد چودھری نے فرمایا کیا ہے؟
فواد چودھری کا کہنا ہے کہ اقتصادی امور سے متعلق عمران خان کی اٹھارہ رکنی مشاورتی کمیٹی میں ڈاکٹر عاطف میاں قادیانی کی شمولیت ہرگز قابلِ اعتراض نہیں۔ فواد چودھری کے بقول عاطف میاں قادیانی مبلغ ہیں تو کیا ہوا، وہ اتنے قابل ہیں کہ چند سال پہلے انہیں معاشیات کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا جارہا تھا۔
فواد چودھری نے فرمایا کہ قادیانی مذہبی اقلیت ہیں اور مذہبی اقلیت کو بحیرہ عرب میں نہیں پھینکا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم نے سر ظفر اللہ کو وزیر خارجہ بنایا تھا اور ہم قائداعظم کی پیروی کررہے ہیں۔ انہوں نے کسی امریکی اور برطانوی کی طرح اعلان کیا کہ جو لوگ عاطف میاں کی مخالفت کررہے ہیں وہ انتہا پسند ہیں اور ہم انتہا پسندوں کے آگے نہیں جھکیں گے۔
ویسے تو پی ٹی آئی اور نواز لیگ ایک دوسرے کا منہ نہیں دیکھ سکتیں مگر قادیانیوں کی سرپرستی میں عمران خان اور میاں نوازشریف کی پارٹیاں ہم آواز ہیں۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر ایاز صادق عاطف میاں قادیانی کی حمایت کررہے ہیں، اور میاں نوازشریف کے ارسطو احسن اقبال نے صاف کہا ہے کہ مذہب اور میرٹ دو الگ چیزیں ہیں اور انہیں باہم ملانا نہیں چاہیے۔
معروف کالم نگار جاوید چودھری ’’حمام میں ہم بھی ننگے ہیں‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے سامنے آکھڑے ہوئے ہیں اور انہوں نے عاطف میاں قادیانی کی حمایت میں پورا کالم لکھ ڈالا ہے۔ انہیں اس حوالے سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور عبداللہ بن ابی کا تعلق یاد آگیا ہے اور انہوں نے فرمایا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقِ اعظم ہونے کے باوجود عبداللہ بن ابی کو مدینے سے نہیں نکالا تھا۔
جاوید چودھری نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ہم جب غیر مسلموں سے ہر چیز لے سکتے ہیں تو ڈاکٹرعاطف میاں کا مفت مشورہ لینے میں کیا مضائقہ ہے! اس سلسلے کی ایک کڑی یہ ہے کہ نظریۂ پاکستان اور علامہ اقبال کی فکر کی علَم برداری کے دعویدار روزنامہ نوائے وقت نے 6 ستمبر 2018ء لاہور ایڈیشن میں قادیانیوں کی جماعت کا ایک اشتہار شائع کرڈالا ہے، جس میں قادیانی جماعت نے اپنے 14 فوجی سپوتوں کی تصاویر شائع کرکے بتایا ہے کہ پاکستان کے دفاع کے لیے قادیانیوں نے بھی ’’شہادتیں‘‘ پیش کی ہیں۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو عمران خان کے اقتدار میں آتے ہی پورے ملک میں ’’قادیانی زندہ باد‘‘ مہم برپا ہوگئی ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ ملک میں ’’Qadianization‘‘ کا عمل شروع ہوچکا ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ’’قادیانستان‘‘ بنانے کی سازش ہورہی ہے۔
اس بحث کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ قادیانی ’’مذہبی اقلیت‘‘ نہیں ہیں۔ مذہبی اقلیت ہندو ہیں، عیسائی ہیں، سکھ ہیں، بدھسٹ ہیں۔ چناں چہ عمران خان کو مذہبی اقلیتوں کی ’’دلجوئی‘‘ کا زیادہ ہی خیال ہے تو وہ جس ہندو، عیسائی، سکھ اور بدھسٹ کو چاہیں اپنا وزیر اور مشیر بنالیں، کسی مسلمان اور کسی پاکستانی کو اس پر رتی برابر بھی اعتراض نہ ہوگا۔
قادیانیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مذہبی اقلیت نہیں ’’اسلام کے غدار‘‘ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ختمِ نبوت کے منکر ہیں، اس پر طرہ یہ کہ اُن کا عقیدہ یہ ہے کہ جو اُن کے (جھوٹے) نبی مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان نہیں لاتا وہ کافر اور گمراہ ہے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو قادیانی خدا کے غدار ہیں، اس لیے کہ خدا نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی بنایا، قادیانی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غدار ہیں، اس لیے کہ وہ آپؐ کو خاتم الانبیا تسلیم نہیں کرتے۔ قادیانی پوری اُمت کے غدار ہیں، اس لیے کہ وہ پوری امت کی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نہیں مانتے۔ قادیانی اس لیے بھی پوری اُمت کے غدار ہیں کہ وہ پوری اُمت کو کافر اور گمراہ خیال کرتے ہیں۔ قادیانی پاکستان کے بھی غدار ہیں، اس کی مثال آگے آرہی ہے۔
تاریخ کا سبق اور تجربہ یہ ہے کہ انسان دشمن اور حریف کو معاف کردیتا ہے مگر غدار کو معاف نہیں کرتا۔ کیا دنیا کی کسی حکومت نے آج تک غدار کو معاف کیا ہے؟ کیا دنیا کی کسی ریاست نے آج تک غدار کو سینے سے لگایا ہے؟
حکومت اور ریاست تو بڑی چیز ہیں، افراد اور ادارے تک غداروں کو معاف نہیں کرتے۔ الطاف حسین ریاست پاکستان کے غدار تو بہت پہلے سے تھے مگر ریاست پاکستان نے کبھی ان کی زبان بند نہ کی، نہ ان کی سیاست پر تالا ڈالا۔ مگر الطاف حسین نے جرنیلوں کو گالیاں دیں تو ان کی ہر چیز Ban ہوگئی۔ چلیے جرنیلوں کو ریاست اور اس کے باشندوں کی نہ سہی اپنی فکر تو ہوئی۔ یہاں کہنے کی بات یہ ہے کہ پابندی ٹھیک لگائی گئی اور اس سے ثابت ہوگیا کہ غداری کو کوئی برداشت نہیں کرتا۔
عمران خان نے ریحام خان کو طلاق دی تو اس کی وجہ بھی ریحام کی ’’غداری‘‘ تھی۔ ذرا کوئی پاکستانی جرنیلوں سے کہہ کر دیکھے کہ وہ ایک بار پھر الطاف حسین کو پاکستان کی سیاست میں اہم کردار دے دیں، ذرا کوئی عمران خان سے کہے کہ وہ ریحام خان کو بحیرہ عرب میں کیوں پھینکے دے رہے ہیں! وہ انہیں اور کچھ نہیں تو اپنا دوست اور مشیر ہی بنالیں۔
ظاہر ہے کہ یہ دونوں باتیں ناممکن ہیں، مگر عمران خان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات اللہ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ کے دین اور پوری امت کے غداروں یعنی قادیانیوں کے لیے دل کو کسی براعظم کی طرح کشادہ کیے ہوئے ہیں۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ فواد چودھری کا دل اللہ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ کے دین اور پوری امت کے غداروں کے غم میں ڈوبا ہوا ہے اور وہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا ہم قادیانیوں کو بحیرہ عرب میں پھینک دیں؟
عمران خان اور فواد چودھری جیسے لوگوں کو پڑھنے لکھنے سے کوئی کام نہیں، ہوتا تو انہیں معلوم ہوتا کہ حریفوں نے تاریخ میں اپنے دشمنوں اور غداروں کے ساتھ کیا کیا ہے؟ سفید فاموں نے امریکہ پر قبضے کے بعد ’’صرف‘‘ 10 کروڑ انسانوں کو قتل کیا۔ آسٹریلیا میں سفید فاموں نے 45 لاکھ ایب اوریجنلز کو مار ڈالا۔ چین میں انقلاب آیا تو انقلابیوں نے ’’صرف‘‘ 4 کروڑ غدار سرمایہ داروں کو قتل کیا۔ روس میں 80 لاکھ غدار جاگیردار اور سرمایہ دار انقلاب کی نذر ہوئے۔ ہٹلر نے 60 لاکھ یہودیوں کو غدار قرار دے کر صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ مگر پاکستان میں کوئی نہیں کہہ رہا کہ قادیانیوں کو یا ڈاکٹر عاطف میاں کو مار ڈالو یا بحیرہ عرب میں پھینک دو۔ اہلِ پاکستان صرف یہ کہتے ہیں کہ قادیانی غدار ہیں اور انہیں ریاستی امور سے دور رکھا جائے۔
یہی بات ڈاکٹر عاطف میاں کے بارے میں کہی جارہی ہے۔ فواد چودھری نے اس سلسلے میں ظفر اللہ کو وزیر خارجہ بنائے جانے کی مثال دی ہے اور فرمایا ہے کہ ہم تو قائداعظم کے راستے پر چل رہے ہیں۔ یہ منہ اور مسور کی دال! قائداعظم اگر تھوک دیتے تو چالیس پچاس عمران خان وجود میں آجاتے، فواد چودھری کی تو اوقات ہی کیا ہے!
بلاشبہ قائداعظم نے سر ظفر اللہ کو وزیر خارجہ بنایا۔ آج سے 70 سال قبل قادیانیت ایک بالکل نیا فتنہ تھی اور اس کے عقائد اور مقاصد کا شعور عام نہیں تھا۔ ہوتا تو قائداعظم سر ظفر اللہ کو وزیر خارجہ کیا کونسلر بھی نہ بناتے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ قائداعظم کی اکلوتی اولاد دینا نے ایک پارسی سے شادی کرلی تھی، سیکولر اور لبرل عناصر کی تعبیر کے اعتبار سے اس میں کوئی بھی غلط بات نہ تھی اور قائداعظم کو اپنی بیٹی کی خوشی میں شریک ہوجانا چاہیے تھا، مگر قائداعظم کو معلوم تھا کہ اسلام کسی مسلم لڑکی کو غیر مسلم لڑکے سے شادی کی اجازت نہیں دیتا۔ چناں چہ انہوں نے اپنی اکلوتی بیٹی سے قطع تعلق کرلیا اور اس کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ قائداعظم سے راجا صاحب محمود آباد نے پوچھا کہ پاکستان میں فقہ کس کا چلے گا؟ قائداعظم مسکرائے اور فرمایا ’’اکثریت کا فقہ‘‘۔ قائداعظم کوٹ پتلون پہننے والے تھے مگر انہوں نے اپنی قوم کی تہذیب سے ہم آہنگی کے لیے شیروانی پہنی۔
قائداعظم کی مادری زبان گجراتی تھی، ان کا ذریعہ تعلیم ہمیشہ انگریزی رہا۔ قائداعظم اردو کا اسکرپٹ بھی نہیں پڑھ سکتے تھے، مگر انہوں نے صاف کہا کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہوگی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قائداعظم پوری زندگی اپنے مذہب اور تہذیب کے مرکزی دھارے سے وابستہ رہے۔ انہیں قادیانیوں کے بارے میں پوری معلومات ہوتیں تو وہ قادیانیت کی اسی طرح مذمت کرتے جس طرح عام مسلمان قادیانیت کی مذمت کرتے ہیں۔
یہاں کہنے کی ایک بات یہ ہے کہ ہر شعبۂ علم کا فیصلہ اس شعبے سے وابستہ اتھارٹی کرتی ہے۔ علم طب کے سلسلے میں ڈاکٹر سے رجوع کیا جاتا ہے، گھر بنانے کے لیے انجینئر سے رابطہ کیا جاتا ہے، کھیل کے سلسلے میں کھلاڑی کی رائے پر انحصار کیا جاتا ہے۔ قائداعظم نے کبھی خود کو ’’عالم دین‘‘ نہیں کہا، چناں چہ اصولی اعتبار سے ہمیں دین کے سلسلے میں قائداعظم سے نہیں، علما سے رجوع کرنا چاہیے۔ یہ بات کون نہیں جانتا کہ صرف پاکستان کے نہیں پوری امت کے علما کا اس بات پر اجماع ہے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں اور اسلام کے غدار ہیں۔
کتنی عجیب بات ہے کہ جس پارٹی کو 25 سال سے میرٹ نے چھوا بھی نہیں اُس کا رہنما یعنی احسن اقبال ایک قادیانی کے سلسلے میں میرٹ کی دہائی دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ مذہب اور میرٹ کو الگ الگ رکھا جائے۔ فواد چودھری اور جاوید چودھری نے بھی اس ضمن میں میرٹ، میرٹ کا شور مچایا ہے۔ حیرت ہے ان لوگوں پر جنہیں اپنے مذہب، اپنی تہذیب اور اپنی تاریخ کے میرٹ کا تو رتی برابر خیال نہیں، البتہ عاطف میاں کا ’’اقتصادی میرٹ‘‘ انہیں دیوانہ کیے ہوئے ہے۔
بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ’’میرٹ‘‘ یہ ہے کہ وہ 1969ء میں قائم ہوئی اور اس نے 1971ء میں پاکستان کو دولخت کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ’را‘ کے کسی سربراہ کو آئی ایس آئی کا سربراہ یا کم از کم پاکستان میں سیکورٹی ایڈوائزر بنادیا جائے۔ پاکستان میں اگر میرٹ کچھ ہوتا تو پاکستان میں نوازشریف، بے نظیر بھٹو اور عمران خان جیسے لوگ وزیراعظم… فواد چودھری اور احسن اقبال جیسے لوگ وفاقی وزیر… اور جاوید چودھری جیسے لوگ کالم نگار تھوڑی ہوتے۔
جاوید چودھری نے اس بحث میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور عبداللہ بن ابی کی مثال بھی دی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رحمت للعالمین تھے، آپؐ بے حد نرم خو تھے، آپؐ نے فتح مکہ کے بعد عام معافی کا اعلان کیا۔ مگر اسلام اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ایسے غدار تھے جن کے بارے میں آپؐ نے ہدایت کی کہ یہ لوگ خانہ کعبہ میں چھپے ہوئے ہوں تو انہیں قتل کردیا جائے، اور ایسا ہی ہوا۔ بعض غداروں کو خانہ کعبہ میں گھس کر واصلِ جہنم کیا گیا۔ بلاشبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کو ریاست مدینہ سے نہ نکالا، مگر آپؐ نے اسے ’’مشیر‘‘ بھی نہ بنایا۔ آپؐ حد درجہ نرم خو تھے اس لیے آپؐ نے عبداللہ بن ابی کی نمازِ جنازہ پڑھا دی۔ مگر اس کے بعد وحی آگئی اور آپؐ کو حکم دے دیا گیا کہ آئندہ کسی منافق کی نمازِ جنازہ نہ پڑھائی جائے۔
غزوہ بدر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکرؓ کی رائے یہ تھی کہ جنگی قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے، جبکہ سیدنا عمرؓ کی رائے تھی کہ کافروں اور مشرکوں کو قتل کیا جائے۔ ہوا تو وہی جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکرؓ کی آرزو تھی، مگر وحی نے تائید سیدنا عمرؓ کی رائے کو مہیا کی۔
سیدنا ابوبکرؓ کے عہد میں ایک قبیلے نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا، آپؓ نے طاقت استعمال کی اور زکوٰۃ وصول کی۔ یہودی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک ہی سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کررہے تھے، مگر ان کو برداشت کیا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ انہوں نے سیدنا عمرؓ کے عہد میں بھی اپنا سازشی کردار جاری رکھا۔ چناں چہ سیدنا عمرؓ نے یہودیوں کو اسلامی ریاست سے نکال باہر کیا۔
قادیانی ماضی کے غداروں سے بڑھ کر اسلام کے غدار ہیں۔ وہ ختمِ نبوت کے منکر ہیں، انہیں ایک جھوٹے نبی کی نسبت پر اصرار ہے۔ وہ پوری امت کو کافر اور گمراہ سمجھتے ہیں اور وہ ایک اسلامی ریاست میں اپنے جھوٹے مذہب کی تبلیغ کررہے ہیں۔ اصولی اعتبار سے تو انہیں ریاست بدر کردیا جانا چاہیے، مگر ہماری دینی غیرت اتنی کم ہوچکی ہے کہ اس بات کا خیال بھی کسی کو نہیں آتا۔ لیکن بہرحال اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ قادیانیوں کو پاکستان پر مسلط کیا جائے اور ان کے لیے ’’انسانی ہمدردی‘‘ کی آڑ میں اسلام پر کلہاڑی چلائی جائے۔
جہاں تک قادیانیوں کے پاکستان دشمن ہونے کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں ملک کے سب سے مشہور قادیانی نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام کا واقعہ سب کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ یہ واقعہ پاکستانی ایٹم بم کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنے کالم میں تحریر کرچکے ہیں۔ واقعے کے مطابق پاکستان کے سابق وزیر خارجہ صاحب زادہ یعقوب علی خان امریکہ کے دورے پر گئے تو امریکیوں نے اُن سے کہا کہ پاکستان ایٹم بم بنارہا ہے۔ صاحب زادہ یعقوب خان نے اس کی تردید کی۔ چناں چہ امریکی، صاحب زادہ یعقوب علی خان کو ایک مخصوص کمرے میں لے گئے اور انہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی انتہائی خفیہ معلومات ایک فلم اور تصاویر کی صورت میں صاحب زادہ یعقوب علی خان کے سامنے رکھ دیں۔ صاحب زادہ یعقوب یہ دیکھ کر حیران بھی ہوئے اور انہیں خیال آیا کہ یہ معلومات اندر ہی کے کسی آدمی نے امریکہ کو مہیا کی ہیں۔ ڈاکٹرعبدالقدیر کے بقول صاحب زادہ یعقوب بریفنگ سے فارغ ہوئے اور ایک کوریڈور سے گزرتے ہوئے انہوں نے محض اتفاقاً مڑ کر دیکھا تو ڈاکٹر عبدالسلام ایک کمرے سے نکل کر کہیں جارہے تھے۔ اس سے صاحب زادہ کو معلوم ہوا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے انتہائی خفیہ راز امریکیوں تک کیسے پہنچے۔
اگر ڈاکٹر عبدالسلام جیسے ’’پاکستانی‘‘ کا یہ عالم ہے تو پھر ڈاکٹر عاطف میاں قادیانی جیسے پاکستانی کی ’’پاکستانیت‘‘ کا کیا عالم ہوگا!
جاوید چودھری نے اپنے کالم میں ماتم کیا ہے کہ اگر ہم ڈاکٹر عاطف میاں سے مفت مشورہ بھی نہیں لے سکتے تو آخر ہم کیا کرنا چاہتے ہیں! سوال یہ ہے کہ عمران خان کی 18 رکنی مشاورتی کمیٹی سے اگر ایک عاطف میاں نکل جائیں گے تو کون سی قیامت آجائے گی! آخر ملک اور دنیا میں ماہرینِ معاشیات کی کیا کمی ہے! عمران خان، ان کے وزیر خزانہ اسد عمر، فواد چودھری یا کسی خلائی مخلوق کو اگر قادیانیوں سے زیادہ ہی عشق ہے تو وہ ڈاکٹر عاطف میاں سے ہر روز ٹیلی فون پر مشورے مانگ لیا کریں۔
روزنامہ امت کی خبر کے مطابق ڈاکٹر عاطف میاں مرزا غلام احمد قادیانی کے پڑپوتے ہیں۔ اگر یہ اطلاع درست ہے تو مرزا غلام احمد قادیانی اپنے پڑپوتے کی صورت میں پاکستان کے ریاستی ڈھانچے کا حصہ بن چکے ہیں۔ اگر ڈاکٹر عاطف میاں مرزا غلام احمد قادیانی کے پڑپوتے نہیں ہیں تو بھی ان کے جھوٹے نبی کا ایک ارشاد عمران خان، اسد عمر، فواد چودھری، ایاز صادق اور احسن اقبال کی خدمت میں عرض ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ’’فرمایا‘‘ ہے:
’’سچا دین قادیانیوں کا، اور اسلام (معاذاللہ) جھوٹا ہے۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھ سے زیادہ بیزار اس مذہب سے کوئی نہ ہوگا۔ میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں اور ایسا مذہب جہنم کی طرف جاتا ہے‘‘۔ [اداریہ روزنامہ جسارت۔ 6 ستمبر 2018ء]
اسی اداریے کا ایک اور فقرہ عمران خان، اسد عمر، فواد چودھری، ایاز صادق اور احسن اقبال کی نذر:
’’فواد چودھری کو معلوم نہیں کہ قادیانی فتنے کے بانی غلام احمد قادیانی نے تمام مسلمانوں کو رنڈی کی اولاد قرار دیا ہے‘‘۔
اس فقرے کے تناظر میں عمران خان، اسد عمر، فواد چودھری، جاوید چودھری، ایاز صادق اور احسن اقبال کی مذہبی، اخلاقی، علمی، تہذیبی، سیاسی، لبرل اور سیکولر ’’ذمے داری‘‘ یہ ہے کہ وہ ڈاکٹر عاطف میاں سے استفادے اور ان کی حمایت سے قبل ان سے پوچھ لیں کہ مسلمانوں کی حیثیت سے آپ ہمارے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ ڈاکٹر عاطف میاں میں جرأت ہوگی تو وہ اپنے جھوٹے نبی کی رائے دہرانے سے گریز نہیں کریں گے۔

Share this: