امریکہ، پاکستان بڑھتی ہوئی تلخیاں اور سی پیک

واشنگٹن نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تلخیاں بڑھ رہی ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع یعنی پینٹاگان نے کانگریس میں امریکی بجٹ تجاویز کے حوالے سے جو رپورٹ جمع کروائی ہے اُس میں یہ بات بتائی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی تلخی کی وجہ افغانستان نہیں بلکہ سی پیک پر چین اور امریکی مفادات کا باہم ٹکراؤ ہے۔ امریکہ کو یہ خوف لاحق ہے کہ پاکستان اس کی گرفت سے بتدریج آزاد ہورہا ہے۔ جنوبی ایشیا پر چینی گرفت کمزور ہونا ضروری ہے۔ رپورٹ میں چین اور روس کو امریکہ کی سلامتی اور اقتصادی طاقت کے لیے مرکزی خطرہ قرار دیا گیا ہے، اس لیے امریکہ اور بھارت کا تزویراتی اتحاد ناگزیر ہے۔
شائع ہونے والی دستاویزات سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ کو یہ خوف ہے کہ اس کی گرفت پاکستان پر رفتہ رفتہ کم ہوتی جارہی ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تلخی کوئی نئی خبر نہیں ہے، فرق یہ پڑا ہے کہ سفارتی زبان میں اس بات کا تذکرہ دھمکیانہ زبان میں روزمرہ تھا، اب بظاہر اس میں کمی واقع ہوگئی ہے۔ اس تلخی کی اصل وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی قومی پالیسی کا تعین سابق فوجی آمر جنرل (ر) پرویزمشرف نے ایک امریکی حکومتی عہدیدار کی دھمکی میں آکر کیا، اور اسلام اور عالمِ اسلام کے خلاف امریکی جنگ کو گود لے لیا۔ اس جنگ میں، جسے دہشت گردی کے خاتمے کی نام نہاد امریکی جنگ قرار دیا گیا تھا، پاکستان کو امریکی کرائے کا سپاہی بنادیا گیا، لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ افغانستان پر قابض امریکی فوج نے حملہ کرکے 24 پاکستانی فوجیوں کو شہید کردیا تھا۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب امریکی ثالثی میں تیار کردہ این آر او زدہ حکومت قائم ہوئی تھی۔ حالات اس نہج تک اس لیے پہنچے کہ امریکہ اپنی پوری فوجی قوت و طاقت کے باوجود افغانستان کی جنگ کو فیصلہ کن نہیں بنا سکا ہے۔ اس جنگ نے عالمی منظرنامہ تبدیل کردیا ہے اور چین اور روس نئی عالمی اقتصادی اور سیاسی قوت بن گئے ہیں۔ اس تبدیلی کا ایک مظہر سی پیک کا منصوبہ ہے جس کے خلاف عزائم امریکہ اور بھارت نے پوشیدہ نہیں رکھے ہیں۔ پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لیے نئی حکومت کے قائم ہونے سے قبل پاکستان کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی ’’گرے لسٹ‘‘ میں شامل کردیا گیا ہے۔ اس تناظر میں سابق حکومت کا کردار انتہائی مشکوک رہا ہے۔ امریکہ پاکستان کو مستقل دباؤ میں رکھنے کے لیے پاکستان کے داخلی سیاسی امور میں مداخلت کرتا رہا ہے۔ تبدیلی یہ آئی ہے کہ پہلے ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ سرِعام کیا جاتا تھا، ڈھٹائی اور سفاکی سے عالمی قوانین کو پامال کرتے ہوئے ڈرون حملوں کے ذریعے پاکستانی شہریوں کو شہید کیا جاتا تھا، سی آئی اے کے دہشت گرد ریمنڈ ڈیوس نے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں سرِعام پاکستانی شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا، لیکن ریاستی دہشت گردی کا مرتکب امریکہ اپنے ثابت شدہ دہشت گرد کو چھڑ اکر لے گیا اور کسی بھی قوت و طاقت نے اس دہشت گردی اور لاقانونیت کی مزاحمت نہیں کی۔ اس دوران سیاسی اور عسکری قیادت نے مشترکہ طور پر ایک سے زیادہ مرتبہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد امریکی جنگ میں شرکت پر نظرثانی کا ارادہ ظاہر کیا لیکن امریکی دباؤ کی وجہ سے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ ایک وقت وہ بھی تھا جب افغانستان پر قابض امریکی فوجوں اور ناٹو کے لیے کراچی کی بندرگاہ سے جانے والے سامانِ رسد پر پابندی عائد کردی گئی تھی، امریکی دباؤ کے باوجود پاکستان کے عوام امریکی جنگ کو اپنی جنگ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اس لیے امریکی سی آئی اے اور دیگر غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کی ریشہ دوانیاں بڑھ گئیں اور پاکستان میں دہشت گردی کی تابڑتوڑ وارداتیں ہونے لگیں۔ اس سلسلے میں بھارتی ’را‘ کا افسر کلبھوشن سنگھ یادو پاکستانی حدود سے گرفتار ہوا، اس کے باوجود امریکہ، یورپ اور بھارت پاکستان کو دہشت گردی کا ذمے دار قرار دیتے رہے۔ یہ واقعات ایک وسیع ترین جنگ کا حصہ ہیں جس کا تعلق اسلام کی بنیاد پر قائم نظامِ حیات کو ریاست و حکومت کا حصہ بننے سے روکنا ہے۔ ان واقعات کی وجہ سے پاکستان میں عوام الناس امریکہ اور مغرب کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے تھے۔ یہ تصور پاکستان میں بنیادی تبدیلی کی بنیاد بن سکتا تھا، لیکن طاقت کی پوجا کے طرزِعمل نے ان مواقع کو گنوا دیا ہے۔ ماضیِ قریب کی تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ مادّی طاقت ہمیشہ کام نہیں کرتی۔ افغانستان کے فقیروں اور غریبوں نے دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور کو شکست دی، اور اس شکست نے عالمی منظرنامے کو تبدیل کیا۔ اب ’’سی پیک‘‘ عالمی کش مکش کا عنوان ہے جس نے ایک بار پھر پاکستان کو عالمی سیاست میں مرکزی اہمیت دے دی ہے۔ کانگریس کو پینٹاگان کے ذریعے دی جانے والی رپورٹ میں جو اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تلخی کا سبب افغانستان نہیں بلکہ سی پیک، چین اور روس کی بڑھتی ہوئی طاقت ہے تو اس کا سبب بھی افغانستان ہے، اور وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ امریکہ افغانستان کی جنگ کو فیصلہ کن نہیں بنا سکا۔ یہ مسئلہ پاکستان کے لیے پے چیدگیاں پیدا کررہا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان میں ہونے والی داخلی صف بندیوں سے ہوشیار رہنا چاہیے اور اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان کی بنیاد امتِ مسلمہ کے آفاقی تصور میں ہے۔

Share this: