دورِ حاضر کی محسنہ، آپا حمیدہ بیگمؒ

کتاب : دورِ حاضر کی محسنہ
آپا حمیدہ بیگمؒ
مرتبہ : پرفیسر فروغ احمد
صفحات 456 قیمت:400روپے
ناشر البدر پبلی کیشنز 32، فرسٹ فلور ہادیہ حلیمہ سینٹر، اردو بازار، لاہور
فون نمبر 042-37225030/042-37245030
0333-4173066/0300-4745729
دورِ حاضر کی مثالی مومنہ اور محسنہ آپا حمیدہ بیگمؒ کی اس کتاب میں حیات و خدمات پر مشتمل تفصیلات پروفیسر فروغ احمد صاحب نے جمع کردی ہیں۔ ان کے اوصافِ حمیدہ اور اعمالِ جمیلہ کو سلیقے سے اس کتاب میں درج کردیا گیا ہے۔ جناب شفیق الاسلام فاروقی کے حرا پبلی کیشنز نے اس کا پہلا ایڈیشن شائع کیا تھا۔ فاروقی صاحب تحریر فرماتے ہیں:
’’محترمہ آپا حمیدہ بیگم کی وفات کو قریباً 15سال ہوچکے ہیں۔ اس طویل مدت میں کوئی ایسی کتاب مرحومہ کی زندگی پر اب تک شائع نہیں ہوئی جو آنے والی دخترانِ ملت کے لیے رہنمائی کا فریضہ انجام دے سکتی۔ ایسے میں پروفیسر فروغ احمد کی یہ کاوش ان کے پورے خلوص و جذبے کی آئینہ دار ہے جو انہوں نے ماہنامہ ’’بتول‘‘ کے شماروں سے مرتب کی ہے۔ موصوف کی یہ کاوش بھی ایک عرصے سے اشاعت کی منتظر تھی، چنانچہ راقم الحروف کے سامنے جب اس کا مسودہ آیا تو اس کی اشاعت کے خرچہ لاگت وغیرہ کے خدشات سے قطعاً صرفِ نظر کرکے اس کا شائع کرنا اپنے نوزائیدہ ادارے کے لیے باعثِ سعادت و اعزاز جانا، اور اللہ کا نام لے کر بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس کی اشاعت اپنے ذمے لے لی۔
مرحومہ کا انتقال اس زمانے میں ہوا جب قلیل وقفوں کے بعد ڈاکٹر نذیر احمد، خان سردار علی خان اور مولانا عبدالعزیز یکے بعد دیگرے اللہ کو پیارے ہوئے تھے۔ زیر اشاعت کتاب میں تحریک اسلامی کے قافلہ سالار مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی کوئی تحریر مرحومہ کے بارے میں مسودے میں نظر نہ آئی، یہ کمی راقم الحروف کو بری طرح کھٹکی۔ چنانچہ تلاش کے بعد مرحومہ کے انتقال پر مولانا کے جو تاثرات ہفت روزہ ’’ایشیا‘‘ کے ستمبر 1973ء کے ایک شمارے میں سامنے آئے وہ من و عن سطورِ ذیل میں پیش ہیں:
’’ابھی ڈاکٹر نذیر احمد صاحب، خان سردار علی خان صاحب اور مولانا عبدالعزیزصاحب کی وفات کا غم تازہ ہی تھا کہ ہمیں اس نئے غم سے سابقہ پیش آگیا۔ افسوس ہے کہ جماعت کے ستون ایک ایک کرکے گرتے جارہے ہیں اور جو جگہ بھی خالی ہورہی ہے اس کو پُر کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ان کی خدمات کو قبول فرمائے۔ ان کے عمل سے بہتر اجر اُن کو بخشے۔ اُن کے خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور حلقہ خواتین کو اس نقصان سے محفوظ رکھے جو اُن کی وفات سے پہنچا ہے۔‘‘
میاں طفیل محمد صاحب سابق امیر جماعتِ اسلامی پاکستان تحریر فرماتے ہیں:
’’یہ امر نہایت باعثِ مسرت و اطمینان ہے کہ دیر سے سہی، آخرکار ہماری واجب الاحترام دینی بہن اور نہایت سرگرم کارکن حمیدہ بیگم مرحومہ و مغفورہ کی زندگی اور کام پر ایک اچھی کتاب چھپ کر آرہی ہے۔ حمیدہ بیگم صاحبہ اس دور کی ان مایہ ناز مسلمان خواتین میں نمایاں مقام رکھتی ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی اور ساری صلاحیتوں سمیت سب کچھ جو بھی اللہ تعالیٰ نے اُن کو عطا فرمایا تھا، شمع کی مانند گھلاکر اپنے گرد و پیش کے سارے ماحول کو روشن اور منور کرنے میں لگادیا۔ وہ تحریک اسلامی کے بالکل ابتدائی دور میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی دعوتِ دین سے متاثر ہوئیں جبکہ ابھی بالکل نوعمر تھیں اور غالباً گوجرانوالہ شہر کے ایک ہائی اسکول میں استانی تھیں۔ یاد رہے کہ وہ اس صدی کے چوتھے عشرے کی بی۔ اے۔ بی۔ٹی تھیں۔ دعوتِ اسلامی کا رنگ چڑھتے ہی ان پر ایسا غالب آیا کہ وہ سراپا تحریک بن گئیں اور زندگی بھر انہوں نے سیکڑوں نہیں ہزاروں خواتین اور مردوں کو دین کے رنگ میں رنگ دیا، حالانکہ وہ دائم المریضہ تھیں اور گلے میں گلٹیوں کی تکلیف میں ساری عمر مبتلا رہیں۔
میں نے 17اپریل 1944ء کو جماعت کے قیم یعنی اس کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے کام شروع کیا اور ان کے آخری دم تک جماعتی سطح پر اُن سے رابطہ رہا۔ میں نے انہیں ہمیشہ انتہائی مخلص، خداپرست و خدا ترس، فرض شناس، قابل، نہایت محنتی اور اَن تھک کام کرنے والی خاتون پایا۔ تحریر و تقریر اور تنظیم ہر کام میں وہ بہت اعلیٰ صلاحیت کی مالک تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ رائے کی پختگی، مزاج میں فہم و فراست اور اعتدال و توازن میں خواتین میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا عکس تھیں۔ اسی چیز کا نتیجہ تھا کہ پورے حلقۂ خواتین میں اور دوسرے واقف حلقوں میں بھی ان کا بڑا احترام پایا جاتا تھا اور اس کا اندازہ اس کتاب کے مندرجات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔‘‘
کتاب کو مختلف عنوانات کے تحت تقسیم کیا گیا ہے اور ان کے تحت متعلقہ مقالات درج کیے گئے ہیں:
(باب اوّل): تحریک سے گہری وابستگی
’’وہ ایک شفیق رہنما اور بہترین استاد تھیں‘‘، بیگم سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ۔ ’’خاص بات‘‘، بنت الاسلام۔ ’’حمیدہ بیگم کی شخصیت کے مختلف پہلو‘‘، اُم زبیر۔ ’’تحریک اسلامی میں حمیدہ رحمۃ اللہ علیہا کا کردار‘‘، سید اسعد گیلانی۔ ’’تحریک کی رہنما‘‘، بنتِ مجاہد
(باب دوم):سوانحی اور کرداری خاکے (رشتے داروں کی زبانی)
’’حمیدہ بیگم…سوانحی خاکہ؟‘‘ راجا محمود احمد خان۔ ’’حمیدہ رحمۃ اللہ علیہا‘‘،ملک نصر اللہ خان مرحوم۔ ’’کون میرے دکھ سے ہوگا بے قرار‘‘، جمیلہ بیگم۔ ’’میری سوتیلی والدہ‘‘، اسلم سیالکوٹی۔ ’’پھوپھوجی مرحومہ‘‘، مریم صدیقہ۔ ’’آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے‘‘، حامد سعید۔ ’’انوکھی دلہن‘‘، سلیمہ بیگم۔ ’’دورِِ حاضر کی محسنہ‘‘، خالدہ فاروق اعظم۔ ’’میری خالہ‘‘، ادیبہ
(باب سوم): یادِ یار مہربان
’’میری ساتھی، میری سہیلی‘‘، اُم زبیر۔ ’’حمیدہ، میری ساتھی‘‘، نیر بانو۔ ’’میری دوست‘‘، زینب کاکا خیل۔ ’’میری رفیقِ سفر‘‘، زبیدہ بلوچ۔ ’’حمیدہ بیگم از مہد تا لحد‘‘، بیگم عبدالغنی
(باب چہارم): چشمۂ فیض
’’اپنی ڈائری سے‘‘، بنتِ مجتبیٰ مینا۔ ’’روشنی کا مینار‘‘، ثریا اسماء۔ ’’سیلِ اشک‘‘، بنت الاسلام۔ ’’آپا حمیدہ کی وراثت‘‘، اُمّ فاروق۔ ’’یادوں کا سفر‘‘، ساحرہ ایم۔ اے۔ ’’می روداز فراق تو خون دل از دودیہ ام‘‘، سلمیٰ یاسمین نجمی۔ ’’دل پر میرے آج یہ کیا حادثہ گزر گیا‘‘، فیروزہ قریشی، لیہ۔ ’’وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھیں‘‘، عابدہ امین اللہ۔ ’’نگاہوں سے اوجھل دلوں میں آباد‘‘، محمدی بیگم۔ ’’میری استانی‘‘، بیگم عمر انصاری۔ ’’ان کی یادیں‘‘، صفیہ چوہان۔ ’’جو ہیرے جواہرات سے بھی زیادہ قیمتی ہیں، چند یادیں‘‘، عائشہ رفعت۔ ’’وہ شہید ہوگئیں۔ چند یادیں…چند تاثرات‘‘، ‘‘، بشریٰ تبسم۔ ’’دیارِ دل میں بڑا احترام ہے تیرا‘‘، تسنیم چودھری،کوئٹہ۔ ’’انہوں نے میری زندگی کا رُخ موڑ دیا‘‘، جمیلہ، حافظ آباد۔ ’’ان کا حسنِ اخلاق، محبت و اخلاص کا پیکر‘‘۔ ’’عجب دردیست اندر دل اگر گویم زباں سوزد‘‘، فرخ شہناز۔ دگردانائے راز آید کہ ناید‘‘، سلمیٰ یاسمین نجمی۔ ’’بچپن کی ایک یاد‘‘، پروفیسر فاروق احمدخاں۔ ’’بتائوں تجھے کیا تھی حمیدہ!‘‘، حکیم فیروز الدین۔ ’’زمین کھا گئی آسماں کیسے کیسے، ایک فرشتہ صفت انساں تھیں حمیدہ بیگم‘‘، طاہر قریشی۔ ’’چشم بصیرت‘‘، نجم منور علی۔ ’’میری خدا ترس اور صوفی آپا رحمۃ اللہ علیہا‘‘، زینب بیگم۔ ’’ایک یاد‘‘، پروفیسر ڈاکٹر نبیہ حسن
(باب پنجم): قلمی مذاکرہ
ماہنامہ بتول سوال نامہ اور جوابات، بیگم سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، بلقیس صوفی کراچی، رقیہ عفت،صفیہ تقوی، سیدہ عذرا جمال، احمد بیگم۔ مردان، محمدی بیگم۔ شاد باغ، لاہور، ام ایوب، واہ کینٹ
(باب ششم): ادبی محاذ
’’حمیدہ بیگم اور تحریری محاذ کا قیام‘‘، نیر بانو۔ ’’ایک انقلابی مومنہ کا طرزِ سخن‘‘، فروغ احمد۔ ’’آخری ملاقات‘‘، بیگم اسد زینب۔ ’’خوابوں کی دنیا میں‘‘، سلمیٰ یاسمین نجمی
(باب ہفتم): باقیاتِ حمیدہ
دینی بہنوں کے نام اہم خطوط ایک پیغام، آخری گشتی مراسلہ
(باب ہشتم)
راہ و منزل، بنیادی ضرورت، اپنا مال کون سا؟، جی چاہتا ہے، آئینہ، قینچی کی نوک، گندے پائوں، صابن کی پرچ، تحریکی بہنوں کے تعزیتی خطوط، حمیدہ بیگم کی پسندیدہ نظم، قطعات تاریخ وفات آپا حمیدہ بیگم رحمۃ اللہ علیہا، محترمہ حمیدہ رحمۃ اللہ علیہا بیگم مرحومہ کی یاد میں ان کے پھوپھی زاد بھائی مشتاق بھٹی ایم اے کے تاثرات، حمیدہ آپا، آپا حمیدہ بیگم، وہ کیا تھی، محترمہ حمیدہ، مہر اوصاف حمیدہ چھپ گیا، محترمہ خالہ حمیدہ بیگم مرحومہ کی یاد میں، اختتامیہ
کتاب خوبصورت سفید کاغذ پر عمدہ طبع کی گئی ہے۔

دیوانِ فارسی

کتاب : دیوانِ فارسی
امیر مینائی
مرتب ڈاکٹر تحسین فراقی
صفحات 336 قیمت 600 روپے
ناشر شعبہ فارسی اورینٹل کالج، پنجاب یونیورسٹی، لاہور
رابطہ نمبر +92-42-99210833
امیرؔ کے معاصر اور عزیز دوست داغؔ دہلوی نے انہیں خراجِ محبت پیش کرتے ہوئے لکھا تھا

نظم و نثر و عروض میں یکتا
رمل و جفر و نجوم میں ہمہ داں
منشی و مفتی و فقیہ و ادیب
کامل عہد و اکملِ دوراں
چشم بد دور، مختصر یہ ہے
کہ نہیں اس کمال کا انساں

امیر احمد مینائی (22فروری 1829ء۔ 13اکتوبر 1900ء) ہمارے اُن اکابر میں شمار ہوتے ہیں جن پر بہ سہولت ’’جامع کمالات‘‘ کی اصطلاح کا اطلاق ہوتا ہے۔ مرحوم ماہرالقادری نے صاحبِ کمال اور جامع کمالات کا فرق کرتے ہوئے ایک جگہ لکھا ہے کہ صاحبِ کمال سے اگر اُس کا کمال چھن جائے تو اُس کے پاس کچھ نہیں رہتا، اور جامع کمالات کا کوئی ایک وصف یا کمال حذف ہوجائے تو متعدد دوسرے کمالات کے باعث اس کی شخصیت ممتاز رہتی ہے۔ امیر مینائی اس تعریف کے پوری طرح مصداق ہیں۔ اگرچہ ان کی اوّلین حیثیت دبستانِ لکھنؤ کے ایک منفرد شاعر کی ہے جو اپنی برجستہ گوئی اور معنی آفرینی کے سبب اپنے معاصرین میں ممتاز تھا اور ہے، لیکن ان کی دیگر علمی حیثیات بھی کچھ کم قابلِ توصیف نہیں۔ نجوم، عروض، جفر، موسیقی، فقہ و قانون پر اچھی نظر رکھتے تھے (مقدمہ از ڈاکٹر تحسین، ص 14)۔ ان کا یہ غیر مطبوعہ دیوانِِ فارسی ڈاکٹر تحسین فراقی کی تحقیق سے مرتب ہوکر اورینٹل کالج کے شعبۂ فارسی سے شائع ہوا ہے۔
ڈاکٹر معین نظامی شعبۂ فارسی اورینٹل کالج لاہور تحریر فرماتے ہیں:
’’حضرتِ امیر مینائی بجا طور پر ہمارے ادبی نابغوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی گوناگوں علمی، تحقیقی اور تخلیقی جہات میں سے ایک نسبتاً کم معروف مگر بہت اہم جہت ان کا فارسی سرمایۂ سخن ہے جو اپنی فکری و فنی پختگی اور دل آویزی کے باعث بے حد لائقِ ستائش ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی ناظم مجلسِ ترقی ادب لاہور، جن کا تحقیقی و تخلیقی مقام محتاجِ توصیف نہیں، امیر مینائی کے دیوانِ فارسی کی تدوین میں اپنے تحقیقی معمول کے مطابق بے حد عرق ریزی کی ہے اور ایک مفصل فکر انگیز مقدمہ بھی تحریر کیا ہے جو صحیح معنوں میں اپنے موضوع کا حق ادا کرتا ہے۔
امید ہے امیر مینائی کے دیوانِ فارسی کی یہ اوّلین اشاعت اہلِ نظر کو سنجیدگی سے اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ٹھیرے گی۔‘‘
ڈاکٹر تحسین فراقی نے دیوانِ فارسی امیر مینائی پر مبسوط مقدمہ لکھا ہے۔ کتاب سفید کاغذ پر خوبصورت طبع ہوئی ہے، مجلّد ہے۔

Share this: