بھارت یاترا۔ ایک تجربہ

خاکسار کو کاروبار اور بین الاقوامی نمائشوں اور کانفرنسوں میں شرکت کے لیے برسوں بیرونِ ملک جانا ہوتا تھا۔ اس سلسلے میں ہندوستان، نیپال، چین، ہانگ کانگ، تھائی لینڈ… یورپ میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، ہالینڈ، اٹلی اور امریکہ کی کئی ریاستوں کے سفر کے مواقع ملے۔ خاکسار سرکاری وفد کے رکن اور نمائشوں میں نجی طور پر شرکت کے لیے اور مدعو کرنے پر سیمینار اور کانفرنسوں میں شریک ہوتا رہا ہے اور وہاں اپنے مقالے بھی پڑھے ہیں۔ مارچ 1999ء میں اس سلسلے میں آل انڈیا ایسوسی ایشن آف انڈسٹریز (AIAI) اور ورلڈ ایسوسی ایشن آف اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (WASME) کی دعوت پر پاکستان اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کے وفد میں شامل ہوکر خاکسار معروف تاجر جناب ایس ایم انعام، بانی صدر سارک چیمبر آف کامرس اور صدر پاکستان اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کی قیادت میں مارچ 1999ء کے پہلے ہفتے ممبئی روانہ ہوا تھا۔ ہمارے ساتھ پاکستان بزنس اینڈ پروفیشنل ویمن ایسوسی ایشن کی خواتین بھی اپنی صدر بیگم سلمیٰ احمد کی قیادت میں اس کانفرنس میں شریک تھیں۔ بیگم سلمیٰ مراد اور فرزانہ رحمن بھی وفد میں شریک تھیں۔ خاکسار نے اس کانفرنس میں ’’بین الاقوامی تجارت میں جدید رجحانات اور پاکستان‘‘ کے عنوان سے ایک مقالہ پڑھا تھا۔ اس کانفرنس سے پہلے ہمارے وفد میں شریک ارکان نے پاکستانی مصنوعات کی ایک نمائش کے انعقاد کا بھی فیصلہ کرلیا تھا اور کانفرنس کے منتظمین کو اس سے آگاہ کرکے اس کی پیشگی منظوری بھی لے لی گئی تھی۔
10، 11 اور 12 مارچ 1999ء کو یہ بین الاقوامی کانفرنس ممبئی کے سب سے مہنگے اور فائیو ہوٹل اوبرائے (Oberai) میں منعقد ہوئی تھی۔ ہمیں اسی ہوٹل میں ٹھیرایا گیا تھا۔ ہوٹل کی غلام گردش (Lobby) میں اس نمائش کا اہتمام کیا گیا، اس کے دروازے پر پاکستانی پرچم کے ساتھ نمائش کا اشتہار لگادیا گیا جس میں جیولری، چمڑے کی مصنوعات اور ملبوسات، سنگ مرمر، پیتل اور تانبے کے ظروف، دیگر ہینڈی کرافٹس، ریڈی میڈ گارمنٹس اور کشیدہ کاری کے خوبصورت نمونے رکھے گئے تھے۔ نمائش سے پہلے اخبار میں اس نمائش کے انعقاد کی دھوم مچ گئی اور نمائش پر عوام کا رش ٹوٹ پڑا۔ اگلے روز عام اخباروں میں یہ خبر چھپی تو ہوٹل انتظامیہ کو بال ٹھاکرے کی جماعت کی طرف سے دھمکی موصول ہوگئی کہ ہوٹل میں پاکستانی پرچم ہٹادیا جائے اور نمائش ختم کی جائے۔ یہ دھمکی اخباروں میں بھی چھپی۔ ہوٹل انتظامیہ نے ہمارے کمروں کے باہر احتیاطاً گارڈ متعین کردیے کیونکہ خاکسار، جناب ایس ایم انعام اور جمال یلوپیجز (Jamal Yellow Pages) کے جناب و بیگم ڈاکٹر خورشید نظام اسی ہوٹل میں ٹھیرے ہوئے تھے۔
یہ خبر جس دن چھپی اُس روز بال ٹھاکرے کی بہوئیں اور دونوں بیٹوں اودے ٹھاکرے اور جے دیو ٹھاکرے کی بیویاں اپنے گارڈز کے ہمراہ نمائش میں آئیں، انہوں نے پاکستانی مصنوعات میں دلچسپی ظاہر کی، اور سنگ مرمر کے بڑے بڑے گلدانوں کی خریداری کی، جبکہ تمام اسٹالوں پر نمائش کی ہوئی مصنوعات کے معیار کو سراہا۔ اس نمائش کو بین الاقوامی مندوبین نے بھی دیکھا اور کچھ نے خریداری بھی کی۔ ٹھاکرے فیملی کے گارڈز نے کسی فوٹوگرافر کو تصویریں نہیں اتارنے دیں۔ ہوٹل کے گارڈ بھی ان کے تحفظ کے لیے ان کے ساتھ تھے۔ انہوں نے بھی سختی سے فوٹو اتارنے کی ممانعت کردی تھی۔
تو یہ تھی بال ٹھاکرے کے خاندان کی منافقانہ روش کہ ایک طرف تو پاکستانی نمائش کو ختم کرنے اور پاکستانی جھنڈے کو ہٹوانے کی کوشش، اور دوسری طرف اپنی بہوئوں کو پاکستانی مصنوعات خریدنے سے نہ روکنا۔ اگر یہ تصویریں اتر جاتیں اور چھَپ جاتیں تو بال ٹھاکرے کی کیا عزت رہ جاتی اور ان کی پالیسی کی کیا توقیر ہوتی! اخباروں میں بال ٹھاکرے کی دھمکی چھپنے اور پاکستانی مصنوعات کے عمدہ معیار کی آنکھوں دیکھی اور کانوں سنی تعریف سن کر لوگوں کا رش ٹوٹ پڑا اور نمائش کنندگان کی تمام اشیاء بک گئیں اور اسٹال خالی ہوگئے۔
(زیرتصنیف آپ بیتی ’’اپنوں کے ستم، غیروں کے کرم‘‘ سے ماخوذ)

مہدی

قوموں کی حیات ان کے تخیل پہ ہے موقوف
یہ ذوق سکھاتا ہے ادب مرغِ چمن کو
مجذوبِ فرنگی نے باندازِ فرنگی
مہدی کے تخلیل سے کیا زندہ وطن کو
اے وہ کہ تُو مہدی کے تخیل سے ہے بیزار
نو مید نہ کر آہوئے مشکیں سے ختن کو
ہو زندہ کفن پوش تو میت اسے سمجھیں
یا چاک کریں مردک ناداں کے کفن کو؟

مجذوب: فرنگستان کا دیوانہ، مراد ہے جرمنی کے مشہور فلسفی نٹشے سے، جس نے جرمنوں کے لیے فوق البشر (Superman) کا تخیل پیدا کیا اور انہیں قوت و طاقت کا دیوانہ بنادیا۔ فوق البشر سے وہ انسان مراد ہے جو عام انسانوں سے بہت بالا ہو۔ اس کی قوتوں اور طاقتوں کا کوئی اندازہ نہ کیا جاسکے۔ ختن: وسطی ایشیا کا ایک خطہ جہاں کے مشک والے ہرن بہت مشہور ہیں۔
1۔قوموں کی زندگی ان کے نصب العین پر موقوف ہے۔ جیسا نصب العین ہوگا، اسی کے سانچے میں قوم کی زندگی ڈھل جائے گی۔
2۔ یورپ کے مجذوب نٹشے نے یورپ کے انداز کے مطابق مہدی کا تخیل پیدا کیا اور اس تخیل سے اپنے وطن میں زندگی کی تازہ روح پھونک دی۔
نٹشے نے فوق البشر کا تصور پیش کیا اور جرمنوں کے دل میں یہ لو لگائی کہ وہ انتہائی قوت و طاقت کے مالک بن کر ساری دنیا پر چھا جائیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ یہ مہدی ہی کا تخیل تھا جس نے یورپی علوم کے سانچے میں ڈھل کر فوق البشر کی صورت اختیار کرلی۔
3۔ اے مخاطب! تُو کیوں مہدی کے تخیل سے بیزار ہے؟ یہ تخیل تو قوم کے لیے وہی حیثیت رکھتا ہے جو خطہ ختن کے لیے مشک والے ہرنوں کی ہے۔ تُو ختن کو کیوں مشک والے ہرنوں سے محروم کرتا ہے؟
4۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ محض تخیل اور نصب العین سامنے رکھ لے، پھر ہاتھ پائوں توڑ کر بیٹھا رہے۔ نہیں، تجھے زبردست جدوجہد جاری رکھنی چاہیے۔ اس لیے کہ تُو زندہ ہے، مرا نہیں۔ اور زندگی جب تک باقی ہے جدوجہد ترک کرنا حرام ہے۔ اگر کوئی زندہ آدمی کفن پہن کر لیٹ جائے تو کیا اسے مُردہ سمجھ لینا مناسب ہوگا؟ یا یہ ضروری ہوگا کہ اس بے سمجھ کے کفن کو تار تار کرکے رکھ دیں؟
(’’مطالب کلام ِاقبال اردو‘‘… مولانا غلام رسول مہرؔ)

Share this: