سیّد مودودیؒ : ایک مجاہد راہِ حق

مصباح الاسلام فاروقی
ذیل میں مصباح الاسلام فاروقی مرحوم کی کتاب Introducing Maududi کی تلخیص پیش کی جارہی ہے۔ یہ مختصر سی کتاب ادارہ مطبوعاتِ طلبہ کراچی نے ۱۹۶۸ء میں شائع کی تھی۔
فاروقی صاحب مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے دورِ امارت میں جماعت اسلامی پاکستان کے شعبۂ نشرواشاعت سے وابستہ رہے۔ بعدازاں کراچی چلے گئے اور تقریباً دس برس ادارہ معارف اسلامی کراچی میں بطور تحقیق کار کام کیا۔ مولانا کی شخصیت اور کارناموں پر متعدد ملکی اور غیرملکی مصنّفین نے قلم اُٹھایا ہے لیکن مولانا کے کارناموں کو جس پُرخلوص محبت اور ذوق و شوق سے مصباح الاسلام فاروقی نے اُجاگر کیا ہے، وہ دیگر مصنّفین کے ہاں ناپید ہے۔مصباح الاسلام فاروقی مولانا مودودیؒ کے اولین ساتھیوں میں تھے جنہوں نے احیائے دین کی تحریک کے مولانا مودودیؒ کی دعوت پر اپنی زندگی تج دی تھی۔ اس اہم کتاب کا ترجمہ و تلخیص ممتاز ماہر اقبالیات اور اردو زبان کے اسکالر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے کیا ہے۔ خیال رہے کہ یہ تحریر مولانا کی حیات ہی میں ۱۹۶۸ء میں لکھی گئی تھی۔ (ادارہ)

ایسے شخص کے بارے میں قلم اٹھانا، جس نے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے انقلاب، اُسوہ اور دعوت کی طرف اُمت کی راہ نمائی کی ہو اور جو دینِ حق کے قیام کی کوشش کرنے والی ایک تحریک کا سربراہ بھی ہو ، کوئی آسان کام نہیں۔
ایک نظر دیکھا جائے تو مولانا مودودی کی ذات میں قدرت نے بعض ایسی صلاحیتیں جمع کردی ہیں جو تاریخ عالم کی بہت کم شخصیتوں میں ملتی ہیں۔ وہ جس محنت اور تندہی سے کام کررہے ہیں، وہ عدیم النظیر ہے۔ انھوں نے احیائے اسلام کی ایک عظیم الشان تحریک اٹھائی ہے۔ چناں چہ جب تک دین کے لیے کام پر لوگوں کا ایمان باقی ہے، جماعت اسلامی کو ان کے ذہنوں سے محو نہیں کیا جا سکتا۔
مولانا مودودی کی اصل قوت وطاقت اور اصل کامیابی یہ ہے کہ آج وہ محض ایک فرد ہی نہیں، ایک مکمل تحریک ہیں۔ موافقین ہوں یا مخالفین، جب بھی اسلامی معاشیات، اسلامی سیاست، اسلامی دستور، اسلامی نظامِ اخلاق یا اسلامی طرز زندگی کے کسی بھی شعبے پر گفتگو ہوگی، مولانا مودودی کا ذکر ناگزیر ہو گا۔ انھیں جیل میں ڈال دیجیے یا ان کے لیے پھانسی کا پھندا تیار کیجیے، ان کی جدوجہد کو موت کے گھاٹ نہیں اتارا جاسکتا، نہ ان کے سامنے نہ ان کے بعد۔ اس کی وجہ بھی ناقابلِ فہم نہیں ہے۔ مولانا مودودی کی ساری جدوجہد، کسی ذاتی مفاد کی خاطر نہیں، بلکہ کچھ اصولوں کی خاطر ہے۔

ایک فرد، ایک تحریک

ایک پیدائشی ادیب کی حیثیت سے انھوں نے ۱۹۲۶ء میں صرف ۲۳ سال کی عمر میں ”الجہاد فی الاسلام“ جیسی بلند پایہ کتاب لکھی۔ اس موضوع پر ان کا کتابچہ ”جہاد فی سبیل اللہ“ عربی زبان میں منتقل کیا گیا جسے پڑھ کر اخوان المسلمون کے بانی حسن البنا نے اس کے گہرے اثرات قبول کیے۔ پھر مولانا نے رسالہ ”دینیات“ لکھا۔ ۱۹۴۳ء میں انھوں نے تفہیم القرآن لکھنے کا آغاز کیا۔ اُردو میں، بلکہ انگریزی میں بھی، اسلامی قانونِ سیاست اور اسلامی دستور سازی کے موضوع پر ان کی کتاب [اسلامک لا اینڈ کانسٹی ٹیوشن] اوّلین حیثیت رکھتی ہے۔ پھر” تفہیمات“، ”سود“، ”حقوق الزوجین“، اور ان کی بہت سی دوسری تصانیف اس لیے اہمیت رکھتی ہیں کہ مولانا نے اسلامی تاریخ کی بہت سی اُلجھنوں کو بڑے متوازن انداز میں حل کردیا ہے۔ مولانا کے سوا، کون ہے جو ایسا کام کرسکتا تھا۔ ان کی تصانیف کی تعداد ڈیڑھ سو سے بھی زائد ہے۔ اخبارات و رسائل اور پمفلٹوں میں بھی ان کی بے شمار تحریریں اور تقریریں بکھری پڑی ہیں۔ انسانی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کے بارے میں انھوں نے نہ لکھا ہو۔
مولانا مودودی کے بارے میں عام تصور یہ ہے کہ وہ صرف اردو زبان میں تحریر و تقریر پر مہارت رکھتے ہیں، لیکن میں ذاتی تجربے کی بنا پر آپ کو بتاتا ہوں کہ انھیں انگریزی گرامر اور ذخیرۂ الفاظ پر بھی پوری مہارت اور عبور حاصل ہے۔ بارہا انھوں نے میری انگریزی تحریروں کی اصلاح کی ہے۔ میں نے جب کبھی اپنی انگریزی تحریر ان کے سامنے ملاحظہ کے لیے پیش کی، انھوں نے الفاظ یا فقرے کی ساخت میں معمولی تبدیلی اور بعض مقامات پر اوقاف (punctuation) لگا کر تحریر کو زیادہ خوب صورت، پُروقار اور بامعنی بنادیا ہے، جسے میں نے اپنی پوسٹ گریجویشن (post graduation) کے لیے ہمیشہ تازیانۂ عبرت سمجھا ہے، لیکن اس سلسلے میں جس چیز نے مجھے زیادہ متاثر کیا اور جو اُن کی عظمت کی دلیل ہے، وہ یہ کہ انھوں نے اصلاح و ترمیم کرتے ہوئے میری تحریر کے الفاظ کو اپنے قلم سے کبھی نہیں کاٹا، بلکہ ہمیشہ انھیں زیرِ لکیر کرکے حاشیے پر اپنی ترمیمات لکھ دیں۔ گویا ان کی یہ ترمیمات بطور تجاویز ہوتی تھیں، تاہم میں نے مولانا کی تجاویز کو ہمیشہ بطیبِ خاطر قبول کیا، کیوں کہ اس طرح میری تحریر زیادہ مؤثر اور خوب صورت بن جاتی تھی،البتہ ایک بار ایسا ہوا کہ میں نے ان کی ترمیم سے اتفاق نہیں کیا۔ اس پر انھوں نے کہا: ’’آپ سے کس نے کہا کہ میری ترمیم حتمی ہے۔ میں تو ترمیم صرف بطورِ تجویز لکھتا ہوں، اسے اختیار کرنا یا چھوڑ دینا آپ کی مرضی پر منحصر ہے۔ اس معاملے میں آپ کو پوری آزادی ہے‘‘۔ اس واقعے سے ان کی فطرت، ان کے رویے اور ان کے کردار کا بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے۔
مولانا مودودی کی تحریروں نے لوگوں کے ذہنوں میں ایک انقلاب پیدا کیا ہے۔ ان کی عادات واطوار، ان کے نظریاتِ زندگی، ان کی اقدار اور ان کے معیارِ خوب و ناخوب میں ایک زبردست تغیر واقع ہوا ہے ۔انھوں نے اشتراکیت اور سرمایہ داری کے پرستاروں کی زندگیوں کی کایا پلٹ دی ہے۔ حقیقتاً انھوں نے عالمِ انسانیت میں اسلام کا سوال اٹھایا ہے اور مسلمانوں میں اسلامی زندگی کے لیے پیاس پیدا کی ہے۔ وہ اپنی ذات کی پبلسٹی کو ناپسند کرتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ اب تک ان کے حالاتِ زندگی پر کوئی کتاب مرتب نہیں کی گئی۔ {FR 646 }
میں نے ایک بار سفر کے دوران مولانا کی سوانح کے بارے میں ان سے گفتگو کرتے ہوئے کچھ معلومات مہیا کرنے کی درخواست کی ۔ انھوں نے طویل خاموشی کے بعد فرمایا:
’’کیا آپ سمجھتے ہیں کہ حقیقتاً اس کی کوئی ضرورت ہے؟ ‘‘
مولانا کے لب و لہجے سے مجھے اندازہ ہو اکہ ان کا یہ سوال سوال کم اور انکار زیادہ تھا۔ میرا خیال ہے کہ مولانا حد سے زیادہ بے لوث اور بے غرض واقع ہوئے ہیں، لیکن میرے خیال میں انھیں اپنی سوانح عمری ضرور لکھنی چاہیے۔ مستقبل کے لیے اس کی ضرورت اور قدر وقیمت بہت زیادہ ہے۔
وہ سیکڑوں کتابوں کے مصنف ہیں جن کی رائلٹی کے ذریعے، مولانا مودودی کے لیے دولت کا انبار سمیٹنا مشکل نہ تھا، لیکن انھوں نے اپنے لیے یہ راستہ اختیار نہیں کیا۔ انھوں نے صرف تین کتابوں” تفہیم القرآن“، رسالہ” دینیات“ اور” حقوق الزوجین“ کے سوا کبھی کسی کتاب کی رائلٹی سے ایک پیسا بھی وصول نہیں کیا۔ان کے سوا ان کی باقی تمام کتابوں کی رائلٹی اور آمد اقامتِ دین کے لیے خر چ ہوتی ہے۔ وہ جب بھی کوئی نئی کتاب لکھتے ہیں، تو کسی رسمی کارروائی کے بغیر ہی اس کی رائلٹی کی رقم تحریکی کاموں کے لیے وقف ہو جاتی ہے۔ یوں مالی محاذپر بھی مولانا مودودی کی یہ عظیم الشان قربانی فقید المثال ہے۔ مالی ایثار میں تحریک اسلامی سے متعلق کوئی دوسرا فرد ان کا ہم پلّہ نہیں ہے۔ یہ امر یقینا قابلِ ذکر ہے کہ انھوں نے جو تحریک بپا کی ہے، اسے سب سے زیادہ فکری غذا بھی انھوں نے ہی دی ہے، اس کے لیے سب سے زیادہ آزمائش کا سامنا بھی انھوں نے کیا ہے، اس کے لیے سب سے بڑی سزا بھی انھوں نے قبول کی ہے اور اس کے لیے سب سے بڑھ کر مالی ایثار بھی انھوں نے ہی کیا ہے۔
مولانا مودودی ان تاریخ ساز شخصیات میں سے ہیں جو ہمیشہ ایک نئے دور کی نقیب ہوا کرتی ہیں۔ انھوں نے ملتِ اسلامیہ کو غور و فکر کی نئی راہیں ہی نہیں سجھائیں بلکہ انھیں زندگی کا حقیقی شعور عطا کیا ہے۔ ان کی اپنی ذات اور شخصیت بھی اس میں پوری طرح ڈوبی ہوئی نظر آتی ہے اور ان کے اقوال و افعال اس کی بھرپور گواہی دیتے ہیں۔ یوں سمجھیے کہ انھیں دیکھ کر بے اختیار علامہ اقبال ؒ کا مردِ مومن نگاہوں کے سامنے آجاتا ہے:

ہرلحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن
گفتار میں، کردار میں، اللہ کی بُرہان

انھوں نے اپنے کارکنوں کی تربیت اتنے اچھے طریقے سے کی اور ایسے مردانِ کار تیار کردیے جن کی موجودگی سے جماعت کو مستقبل کے بارے میں کوئی فکرمندی نہیں ہے۔
جس مقصد کو اس مردِ مومن نے اپنایا ہے، جی چاہتا ہے کہ انسان اپنا سب کچھ اس مقصد پر لٹا دے، حتیٰ کہ اس راہ میں اپنی جان قربان کردے تو شاید یہ زندگی کی سب سے بڑی سعادت ہوگی۔ جن لوگوں کو ان کے قریب رہ کر کام کرنے کا موقع ملا ہے، انھیں اندازہ ہوگا کہ اس مردِ مومن کی معیت میں انسان روحانی طور پر خود کو کتنا قوی اور بلند محسوس کرتا ہے۔
مولانا مودودی کی عظمت یہ ہے کہ انھوں نے اسلام اور دین کا حقیقی شعور ذہنوں میں اُجاگر کیا اور راہِ حق کے مسافروں کو ایک منظم تحریک کی شکل میں ایک متعین راستے پر چلا دیا۔ جماعت اسلامی کو انھوں نے ایسی ٹھوس، مستحکم اور اصولی بنیادوں پر منظم کیا ہے کہ وہ مولانا کی غیر حاضری میں بھی اقامتِ دین کی جدوجہد میں پوری تندہی کے ساتھ سرگرم عمل رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب جماعت کو اس بات کی فکر نہیں ہے کہ مولانا مودودی کے بعد کیا ہوگا؟ اس وقت اگرچہ جماعت اسلامی میں مولانا مودودی کے پائے کی کوئی دوسری شخصیت موجود نہیں اور یہ ایک قدرتی بات ہے، اس کے باوجود جماعت کو کوئی پریشانی لاحق نہیں ہے، کیونکہ خود مولانا مودودی نے اس کی تربیت کی ہے کہ جماعت کا انحصار کسی شخصیت پر نہیں اس نظریے پر ہو، جسے اس نے اپنایا ہے۔
مولانا مودودی نے اپنے نظریات ہمیشہ نہایت جرأت و بے باکی کے ساتھ پیش کیے ہیں۔ کسی قسم کا خوف، لالچ، ترغیب یا دھمکی انھیں اپنے اصولوں سے نہیں ہٹا سکتی۔ ان کے دشمن بھی ان کی عظمتِ کردار کے معترف ہیں۔ ان کے ظاہر و باطن میں کوئی فرق نہیں، وہ لوگوں کو جس بات کی تلقین کرتے ہیں، پہلے خود اس پر عمل کرتے ہیں۔
اہم معاملات میں فیصلہ کرتے وقت وہ ہمیشہ تحمل سے کام لیتے ہیں۔ ہنگامی حالات میں بعض نازک مواقع پر بھی انھوں نے جلد بازی کے بجائے صبر و تحمل سے کام لیا ہے۔ کئی بار رفقا نے انھیں ایسے اقدام کرنے کا مشورہ دیا جو وقتی مصلحتوں اور تقاضوں کے لحاظ سے درست معلوم ہوتے تھے، لیکن انھوں نے وقتی جوش میں آکر ایسا کرنے سے گریز کیا۔ انھوں نے ہر معاملے میں قرآن و سنت کے اصولوں کو پیش نظر رکھا ہے۔ وہ اپنی جان دے سکتے ہیں مگر ان اصولوں کی قربانی انھیں گوارا نہیں۔ انھوں نے اپنے رفقا میں بھی یہی اسپرٹ پیدا کردی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو آپ کو تحریک اسلامی میں ایک نہیں، ہزارہا مودودی ملیں گے۔ یہ لوگ بھی اسی عظمتِ کردار، اسی لگن، اسی بے لوثی، اسی جرأت وبے باکی اور اسی جذبۂ ایثار کے مالک ہیں۔

مولانا مودودی کی جدوجہد

مولانا مودودی ۲۵ستمبر ۱۹۰۳ء کو ریاست حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد سیّد احمد حسن پہلے میرٹھ میں وکالت کرتے تھے، پھر وہ حیدرآباد چلے گئے۔ انھوں نے علی گڑھ میں تعلیم پائی تھی، اس کے باوجود وہ برطانوی سامراج اور مغربیت سے متنفر ہوگئے۔ پھر جب انھوں نے دیکھا کہ ان کا پیشہ زندگی کے مقاصد سے میل نہیں کھاتا، تو انھوں نے وکالت بھی ترک کردی۔ فرنگیت سے نفرت کے تحت انھوں نے ابوالاعلیٰ کو انگریزی اسکول میں داخل نہیں کرایا، بلکہ گھر پر ہی ان کی تعلیم کے لیے ایک استاد مقرر کیا۔ گھر میں انھیں عربی، فارسی اور اردو کے علاوہ انگریزی زبان و ادب اور جدید علوم کی تعلیم بھی دی گئی۔
مولانا مودودی کی عوامی زندگی کا آغاز ۱۹۲۰ء میں ہوتا ہے، جب ۱۷ سال کی عمر میں وہ صحافت کے میدان میں داخل ہوئے۔ اسی سال ان کے والد کا انتقال ہوا۔ وہ مدینہ (بجنور) سے منسلک ہو گئے۔ پھر تاج، جبل پور کے ایڈیٹر بنادیے گئے۔ اس کے بعد دہلی جاکر وہ مسلم سے وابستہ ہوئے اور کچھ عرصہ بعد ہی انھیں الجمعیۃ کا ایڈیٹر مقرر کیا گیا۔ الجمعیۃ ایک مقبولِ عوام اخبار تھا اور برطانوی تسلط اور ہندو غلبے دونوں کا مخالف تھا۔ اس زمانے میں مولانا محمد علی جوہر مرحوم نے بھی مولانا کی تحریروں کو سراہا۔ کچھ عرصہ بعد انھوں نے الجمعیۃ کی کانگریسی پالیسی کی وجہ سے، اخبار سے علیحدگی اختیار کرلی۔
۱۹۳۲ء میں انھوں نے رسالہ ترجمان القرآن جاری کیا۔ مسلمانانِ ہند کو اپنی تہذیبی انفرادیت کا احساس دلانے اور ان کی دینی بیداری میں ترجمان القرآن کا بڑا ہاتھ ہے۔ یہ کہنا بھی بے جا نہ ہو گا کہ جماعتِ اسلامی کا قیام بھی ترجمان القرآن ہی کا مرہونِ منت ہے۔
علامہ اقبال، مولانا مودودی کی تحریروں کو بڑی دل چسپی اور غور کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ وہ ترجمان کے ابتدائی مستقل خریداروں میں سے تھے۔ انھیں مولانا مودودی کی صلاحیتوں کا اندازہ ہوچکا تھا۔ مولانا سے خط کتابت کے بعد، علامہ اقبال ؒ نے انھیں حیدر آباد چھوڑ کر مستقل پنجاب میں قیام کی دعوت دی، چنانچہ مولانا مودودی نے دارالاسلام پٹھان کوٹ کو اپنی دعوت کا مرکز بنایا۔ بدقسمتی سے علامہ اقبال جلد ہی فوت ہوگئے۔
مولانا مودودی نے اپنی تحریروں کے ذریعے مسلمانوں کے سامنے اقامتِ دین کا جو تصور پیش کیا، اس کے نتیجے میں ۲۶؍اگست ۱۹۴۱ء کو جماعت اسلامی قائم ہوگئی۔ غلامی کے اس دور میں جب انگریز سنگینوں کے زور سے ہندستان کو غلام بنائے ہوئے تھے، مولانا مودودی نے غیر معمولی جرأت اور بے باکی کے ساتھ کہا کہ انگریزی حکومت کی نوکری خواہ فوج کی ہو یا سول حکومت کی، حرام ہے اور اسی طرح اس کی قانون ساز اسمبلیوں کی رکنیت بھی ناجائز ہے۔ مولانا نے اپنے موقف کو قرآن وسنت کی روشنی میں دلائل کے ساتھ واضح کیا۔
اسی زمانے میں انھوں نے مسئلہ قومیت لکھ کر انڈین نیشنل کانگریس کے نظریۂ متحدہ قومیت کا تار و پود بکھیرا۔ پھر مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش کے ذریعے انھوں نے کانگریسی علما کی غلطیوں کو واضح کیا۔ اس سلسلے میں انھوں نے دیوبند کے ایک عالم [مولانا حسین احمد مدنی] کے نظریات پر بھی تنقید کی (علامہ اقبال ؒ نے بھی ان پر ’حسین احمد‘ کے عنوان سے چند شعر کہے ہیں)۔ (مشمولہ: کلیاتِ اقبال (ارمغانِ حجاز) اُردو، شیخ غلام علی لاہور، ۱۹۷۳ء، ص ۴۹/۶۹۱)
”متحدہ قومیت“ کا تارو پود بکھیرنے کا یہ ”جرم“ اتنا سنگین تھا کہ کانگریسی علما کے معتقدین نے ابھی تک مولانا مودودی کو معاف نہیں کیا اور ان پر بہتان تراشی کا گھنائونا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ ان میں سے بعض سمجھتے ہیں کہ مولانا حسین احمد مدنی پر تنقید کرکے مودودی نے ان کی ’توہین‘ کی ہے۔ وہ اس کا بدلہ لینے کے لیے آج تک ہاتھ پائوں مار رہے ہیں۔
قائداعظم، مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کے کام کی نوعیت کو سمجھتے تھے۔ ایک بار جب کسی نے انھیں جماعتِ اسلامی میں شمولیت کی طرف توجہ دلائی تو انھوں نے فرمایا:
”مسلم لیگ اور جماعت اسلامی میں کوئی تصادم نہیں ہے۔ جماعت عظیم تر مقاصد کے لیے کام کررہی ہے اور لیگ کا کام فوری تقاضے کا حامل ہے۔ اگر اسے چھوڑ دیا جائے تو جماعتِ اسلامی کے لیے کام کرنا ممکن نہ رہے گا۔“ (بحوالہ ہفتہ وار Thinker، کراچی، ۲۷ دسمبر ۱۹۶۳ء،روایت: قمرالدین خان)
اپنی خداداد بصیرت کی بنا پر قائداعظم بڑی آسانی کے ساتھ مولانا مودودی کے کام کی اہمیت کو بھانپ گئے تھے۔ مگر آج کچھ لوگ جماعت کی راہ میں روڑے اٹکانے میں پیش پیش ہیں اور ساتھ ہی قائداعظم کی جانشینی کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔
مسلم لیگ کی ’قراردادِ پاکستان‘ سے بہت پہلے مولانا مودودی نے تقسیمِ ہند اور ایک مسلم ریاست کے قیام کی مؤثر اور عملی تجاویز پیش کی تھیں، بلکہ اس کا ایک عملی نقشہ بھی مرتب کردیا تھا۔ پاکستان کے سابق وزیرِ خارجہ شریف الدین پیرزادہ نے اپنی کتاب Evolution of Pakistan میں لکھا ہے کہ مولانا مودودی ان اوّلین لوگوں میں شامل ہیں، جنھوں نے بہت پہلے پاکستان کا خواب دیکھا تھا۔ وہ لکھتے ہیں:
”مولانا مودودی اور دوسرے لوگوں نے جو اسکیمیں اور تجویزیں پیش کیں، جدوجہدِ پاکستان میں انھیں سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔“ (ص۲۵۸)
بعد میں مولانا مودودی نے علیحدہ مسلم مملکت کے سلسلے میں جو تین متبادل تجاویز پیش کی تھیں، وہ ترجمان القرآن کے شمارہ اکتوبر، دسمبر ۱۹۳۸ء میں شائع ہوئیں۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ علی گڑھ یونی ورسٹی کے طلبہ تحریکِ پاکستان کی مہم کے دوران دوسرے لٹریچر کے ساتھ ترجمان القرآن کے پرچے بھی بڑے التزام کے ساتھ اپنے ساتھ رکھا کرتے تھے اور حسبِ ضرورت متحدہ قومیت کے علَم برداروں کے دلائل رد کرنے کے لیے اس میں صفحات کے صفحات پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔
قیام پاکستان کے بعد جماعت اسلامی نے مولانا مودودی کی رہنمائی میں بعض اہم اور نازک مواقع پر نہایت مناسب اقدامات اُٹھائے۔ دستور سازی کی مہم اس کی واضح اور زندہ مثال ہے، جس کی روداد اب اس ملک کی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب ہے۔
قیامِ پاکستان کے فوراً بعد مولانا مودودی کا یہ کارنامہ ناقابلِ فراموش ہے کہ انھوں نے یہاں اسلامی نظام کے لیے ایک تحریک کھڑی کردی۔ انھوں نے اس جدوجہد کے لیے بے لوث اور بے غرض کارکنوں کا ایک بہت بڑا گروہ منظم کرلیا۔ وہ ان بے غرض انسانوں کو لے کر اسلامی دستور کے لیے آگے بڑھے اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا ملک اسلامی دستور، اسلامی آئین اور اسلامی نظام کے مطالبات کی صدائوں سے گونج اُٹھا۔ مولانا مودودی کو اس گستاخی کا خمیازہ بھگتنا پڑا کہ آپ کو اپنے ساتھیوں سمیت جیل بھیج دیا گیا، مگر انھوں نے جو آواز بلند کی تھی، وہ دب نہ سکی اور اسلامی دستور کے مطالبے نے اتنا زور پکڑا کہ بالآخر ۱۲مارچ ۱۹۴۹ء کو اس کا نتیجہ قرارداد مقاصد کی صورت میں سامنے آگیا ۔ مولانا مودودی جیل میں تھے، لیکن یہ انعام کیا کم تھا کہ اب پاکستان کو مسجد کی طرح تقدیس مل گئی تھی۔

ایک چیلنج جو قبول کر لیا گیا

مولانا مودودی کی رہائی کے بعد ملک کے آئینی مستقبل سے متعلق جو واقعات رونما ہوئے، ان میں پہلی چیز دستور ساز اسمبلی کے بنیادی اصولوں کی کمیٹی رپورٹ تھی۔ یہ رپورٹ انتہائی مایوس کن تھی۔ مولانا مودودی نے جب دیکھا کہ یہ رپورٹ قراردادِ مقاصد کی روح کے منافی ہے اور اس کی بہت سی باتیں خلافِ اسلام اور غیر جمہوری ہیں، تو انھوں نے اس کے تمام نقائص کو اتنے بھرپور اور مدلل انداز میں واضح کیا کہ ملک کے اسلام پسند عناصر کے لیے اس رپورٹ کو قبول کرنا ممکن نہ رہا۔
دوسرا اہم واقعہ ایک چیلنج کی صورت میں سامنے آیا۔ حکومت نے علما کو اسلامی ریاست کے بنیادی اصولوں کی رپورٹ مرتب کرنے کو کہا۔ حکمرانوں کا خیال تھا کہ یہاں مختلف فرقوں کے علما ہیں، جو ایک دوسرے کو کفر سے کم کسی چیز سے نہیں نوازتے، یہ بھلا کیوں کر متحد ہوسکیں گے! یہ ایک چیلنج تھا کہ جسے علمائے حق نے قبول کرلیا۔ مولانا مودودی سمیت ۳۱ جید علما نے اتفاق رائے سے ۲۲ نکات مرتب کیے اور سفارشات کے اس مسوّدے پر دستخط کردیے۔ علما کے اس کارنامے میں مولانا مودودی نے جو عظیم الشان کردار انجام دیا، اس نے سیکولر عناصر پر یہ بات اچھی طرح واضح کردی کہ اس میں سیکولرازم اور کسی بھی ’ازم‘ کے مقابلے میں سب سے بڑی رکاوٹ کون ہے، چنانچہ انھوں نے ہر قیمت پر مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کو راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا۔
پاکستان کی ۳۱ سالہ تاریخ گواہ ہے کہ ملک میں اسلام کی، یعنی نظریۂ پاکستان کی عملی ترویج ہی مولانا مودودی کی مساعی کا مرکز رہا ہے۔ اسلامی نظام کے لیے عوامی جدوجہد چلانے کے ساتھ ساتھ مولانا مودودی نے اسلام کے بارے میں خواص اور دانش وَروں کی ذہنی الجھنوں کو دُور کرنے کی کوششیں بھی ہمیشہ جاری رکھی ہیں۔ جدید مرعوب ذہن اسلامی دستور وقانون اور اس کے مختلف پہلوئوں کے بارے میں جن مختلف غلط فہمیوں میں مبتلا تھا، مولانا کی تحریروں نے انھیں دُور کرنے کی قابلِ قدر خدمت انجام دی۔ اب، جب کہ اس جدوجہد میں علمائے کرام کے اتحاد کا اضافہ بھی ہو گیا تو اسلامی نظام کے مخالفین تلملا اٹھے۔ اس سلسلے میں بعض ایسے لوگوں نے بھی ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا جو یہ سمجھتے تھے کہ اگر یہ دستوری مہم کامیاب ہوگئی تو مولانا مودودی ’ہیرو‘ بن جائیں گے۔

چنانچہ ایک اور ڈراما کھیلا گیا

[۱۹۵۱ء]کے مارشل لا کی آڑ میں فوجی عدالت نے انھیں ”قادیانی مسئلہ“ لکھنے کی پاداش میں سزائے موت کا حکم سنایا۔ اور جب ان سے رحم کی درخواست کرنے کو کہا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’’ظالموں سے رحم کی درخواست کرنے کے بجائے مر جانا بہتر سمجھتا ہوں۔ اگر خدا کی مرضی نہیں ہے تو پھر میرا بال بیکا نہیں کرسکتے خواہ الٹے لٹک جائیں‘‘۔

عظمتِ کردار

اس سلسلے میں ایک دل چسپ واقعہ یہ ہے کہ جب مولانا کو سزائے موت سنائی گئی تو خفیہ پولیس کے ایک ڈی آئی جی داروغۂ جیل کو ساتھ لے کر سادہ کپڑوں میں ملبوس مولانا مودودی کو دیکھنے گئے تاکہ سزائے موت کے فوراً بعد ان کی حالت دیکھ کر ان کی ذہنی کیفیت کا اندازہ کرسکیں۔ ڈی آئی جی کہتے ہیں کہ سزائے موت کا حکم سننے والے مجرموں کی دماغی حالت میرے مشاہدے کے مطابق ہمیشہ غیر متوازن ہوتی ہے، مگر اس کے برعکس مولانا مودودی کو دیکھا کہ ان کی حالت بالکل متوازن اور معمول کے مطابق تھی، گویا کچھ بھی نہیں ہوا۔ ایک چھوٹی سی تنگ کوٹھڑی میں مولانا مودودی پھانسی کے قیدیوں والا لباس پہنے فرش پر ایک چٹائی پر بیٹھے تھے۔ ان کے پاس پانی سے بھرا ہوا ایک پیالہ رکھا تھا۔ یہ واقعہ ڈی آئی جی نے ایک اعلیٰ سرکاری افسر کو ایک ہوائی سفر کے دوران میں سنایا تھا۔ اس کا راوی ایک ایسا شخص ہے جو اسی جہاز میں ان کی پچھلی نشست پر بیٹھا دونوں کی باتیں سن رہا تھا۔ ڈی آئی جی نے کہا کہ جب داروغۂ جیل نے چٹائی پر بیٹھے ہوئے مولانا مودودی کے سامنے رحم کی اپیل کے کاغذات پیش کیے تو مولانا نے بلا توقف انکار کردیا: ”نہیں“ کہنے میں انھوں نے اتنی تاخیر بھی نہیں کی جتنی بالعموم چائے یا کافی کی دعوت قبول یا ردّ کرنے کے سلسلے میں کی جاتی ہے۔ {FR 648 }

اگر میں بیٹھ گیا !

مولانا مودودی کے کردار کو دیکھنے کا ایک اور موقع بھی قابلِ ذکر ہے۔
۱۹۶۳ء میں، جب کہ جماعت اسلامی مولانا مودودی کی رہنمائی میں مسلسل آگے بڑھ رہی تھی۔ مخالفین نے قافلۂ حق پر شب خون مارنے کا ایک اور منصوبہ تیار کرلیا، اور جب جماعت کے [۱۹۶۳ء کے] سالانہ اجتماع کو روکنے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں تو اُس وقت کے وزیر داخلہ [حبیب اللہ] نے (معلوم نہیں وہ اب کہاں ہے؟) سیاسی تاریخ کی بدترین مثال قائم کرتے ہوئے نصف درجن پریس کانفرنسوں میں مولانا مودودی اور جماعت پر طرح طرح کے الزامات لگائے۔ یہ چیز بھی جماعت کو ہراساں نہ کرسکی تو تین روزہ کانفرنس کے پہلے اجلاس میں غنڈوں نے سائلنسر لگے پستولوں سے فائر شروع کیے تو اُس وقت مولانا اسٹیج پر کھڑے تقریر کررہے تھے۔ مولانا کے کسی خیرخواہ نے ان کے قریب آکر کہا: ’’مولانا آپ بیٹھ جائیں‘‘ ۔
مولانا نے جواب دیا: ’’اگر میں بیٹھ گیا تو کھڑا کون رہے گا؟‘‘
مولانا کی پوری زندگی اپنے مقاصد کے لیے جدوجہد سے عبارت رہی ہے۔ عمررسیدہ ہوچکے ہیں، گردے میں پتھریاں ہیں۔ یہ تو اُن جیسے شخص کے لیے اسپتال میں علاج اور آرام کے دن ہیں لیکن وہ برابر مصروفِ کار ہیں۔ سوچ بچار، منصوبہ بندی، دورے اور راہ نمائی۔
کسی قوم کے سفینے کے ناخدا یقینا ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں۔ قومیں ایسے ہی لوگوں کے دم قدم سے عزت پاتی ہیں۔ اور تحریکوں کو ایسا کردار ہی سربلند کرجاتا ہے۔ (اکتوبر ۱۹۶۸ء)

Share this: