اسٹیبلشمنٹ سے ’’ڈیل‘‘ کا دعویٰ

مسلم لیگ (ن) کے لاہور سے رکن صوبائی اسمبلی رانا مشہود احمد خان نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ دو ماہ بہت اہم ہیں اور پنجاب میں ہماری حکومت ہوگی۔ اسٹیبلشمنٹ سے معلاملات ٹھیک ہوگئے ہیں۔ نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے رانا مشہود نے حکومت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح پی ٹی آئی کو اکثریت دی گئی یہ ساری دنیا کو پتا ہے، اور اب یہ سوچ پیدا ہورہی ہے کہ یہ لوگ ڈلیور نہیں کرپائے، اور یہ بھی احساس ہورہا ہے کہ انتخابات میں جو ہوا غلط ہوا۔ پنجاب میں تحریک انصاف کے پاس معمولی اکثریت ہے، اور جن لوگوں نے اکثریت دی اُن سے بات ہوتی رہتی ہے، وہ پرانے دوست اور ساتھی ہیں اور اب وہاں چینج آف ہارٹ (دلوں کی تبدیلی) دیکھنے میں آرہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ انہیں سمجھ میں آگیا ہے کہ شہبازشریف ہی بہتر انتخاب تھے۔ انتخابات میں جیتنے والی جماعت کو گھوڑا سمجھا گیا لیکن وہ خچر نکلی۔ شہبازشریف ان حالات میں وزیراعظم ہوتے تو بہت بہتر پُرفارم کرتے، انہوں نے ہمیشہ اداروں کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کی ہے۔ یہ ہمارے ادارے ہیں، ان کے ساتھ بیٹھنے میں کوئی قباحت نہیں، اداروں کے درمیان جو گفتگو ہوتی ہے اس کی بنیاد پر بات کررہا ہوں کہ پنجاب میں ہماری حکومت ہوگی۔ وزیراعلیٰ کے امیدوار حمزہ شہباز ہی ہوں گے۔ آئندہ دو، ڈھائی ماہ بہت اہم ہیں، اسی دوران ضمنی انتخابات بھی ہونے ہیں، عدالت یا عوام کے ذریعے موجودہ حکومت کا خاتمہ ہونا ہے۔ پنجاب میں آزاد امیدواروں سے جو وعدے کیے گئے وہ وفا نہیں ہوئے، اور وہ اپنے حلقوں میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔ جس دن حلقے کھلیں گے تو چالیس حلقوں کا رزلٹ بھی تبدیل ہوگا۔ پنجاب میں جو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں اُس کی بات کررہا ہوں۔ نوازشریف کے خلاف فیصلہ الیکشن سے پہلے سنایا گیا، بعد میں بھی سنایا جا سکتا تھا۔ نوازشریف اپنے اصولی مؤقف پر کھڑے ہیں، اسی کو آگے لے کر چلیں گے۔ حالات بہتر ہونے تک نوازشریف اور مریم نواز کا رویہ سخت ہی رہے گا۔ اسٹیبلشمنٹ سے تعلق ٹھیک کرانے میں شہبازشریف کا بہت بڑا کردار ہے کیونکہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلتے ہیں، شہبازشریف ہمیشہ سے قابلِ قبول رہے ہیں۔ تبدیلی نے تمام اداروں کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا اور اسٹاک ایکس چینج انڈکس اور پیٹرولیم جیسے ادارے تباہ کردئیے۔ اسٹیبلشمنٹ سے ہمارے تعلقات ٹھیک کرانے میں شہبازشریف کا بڑا اہم کردار ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو شہبازشریف کے وزیراعظم نہ بننے کا افسوس ہے اور اب حالات دو ڈھائی ماہ تک ٹھیک ہوجائیں گے۔ اداروں کو، تھنک ٹینک کو سب ادراک ہوگیا ہے کہ جس ادارے کا جو کام ہے وہ وہی کرے گا۔ اب عوام ناراض ہیں ان سے، جس کا بدلہ ضمنی انتخابات میں لیں گے۔ ادارے ہمارے اپنے ہیں، ان کی عزت میں کمی نہیں ہونی چاہیے۔
رانا مشہود احمد خان اگرچہ صوبائی کابینہ کے رکن اور پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہے، مگر قومی بلکہ صوبائی سیاست میں بھی انہیں کبھی کوئی اہمیت حاصل نہیں رہی کہ ان کے اس طرح کے بیان کو زیر بحث لایا جاسکے، مگر اس کے ساتھ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ رانا مشہود احمد خان کا شمار میاں شہبازشریف اور حمزہ شہباز کے قابلِ اعتماد لوگوں میں ہوتا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ ذرائع ابلاغ نے اس بیان کو نظرانداز کرنے کے بجائے بظاہر ضرورت سے زیادہ اہمیت دی ہے اور شہ سرخیوں کا موضوع بنایا ہے، اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ پاک فوج نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی سطح پر اس بیان پر ردعمل کا اظہار ضروری سمجھا ہے، اور مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے رانا مشہود کے اس بیان کو بے بنیاد اور افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے غیر ذمے دارانہ بیانات ملکی استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
رانا مشہود کا یہ بیان نواز لیگ کی طرف سے ایک تیر سے کئی شکار کھیلنے کی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میاں شہبازشریف مسلسل دس روز سے اسلام آباد میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور مختلف نوعیت کی ملاقاتوں میں مصروف ہیں۔ اس بیان کے ذریعے مقتدر حلقوں کے نام اس پیغام کا اعادہ کیا گیا ہے کہ نوازشریف اور مریم نواز کے ماضی کے طرزعمل کو فراموش کردیا جائے اور جیل سے رہائی کے بعد کی خاموشی کو مثبت اشارہ تصور کیا جائے کہ وہ میاں شہبازشریف کی مصالحت کی پالیسی کے قائل اور اس پر عمل پیرا ہونے پر آمادہ ہیں، اس لیے مقتدر قوتیں بھی شہبازشریف کی صدارت میں نواز لیگ کے لیے مثبت رویہ اختیار کریں، اور اگر فوری طور پر مرکز میں نہیں تو پنجاب کی حد تک نواز لیگ کی حکومت کو برداشت کرنے پر تیار ہوجائیں۔
پنجاب میں نواز لیگ کی حکومت کیونکر وجود میں آئے گی اس کا راستہ بھی بیان میں سمجھا دیا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے پنجاب میں آزاد منتخب ہونے والے ارکانِ اسمبلی سے جو وعدے کیے تھے وہ وفا نہیں ہوئے جس کے باعث یہ ارکانِ اسمبلی اپنے حلقہ ہائے انتخاب میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔ اس سے اگلی بات اگرچہ کہی نہیں گئی تاہم بین السطور سے واضح ہے کہ یہ آزاد ارکانِ اسمبلی اگر مقتدر حلقے اجازت دیں تو اپنی وفاداری تبدیل کرکے تحریک انصاف کے بجائے نواز لیگ کی حمایت کرسکتے ہیں۔ پنجاب میں نواز لیگ کی حکومت کے قیام کا دوسرا ذریعہ رانا مشہود نے اپنے بیان میں اُن چالیس حلقوں کو قرار دیا ہے جن کے نتائج کو نواز لیگ نے متنازع قرار دے کر چیلنج کررکھا ہے۔ ان کے بارے میں بھی رانا مشہود نے یقین کے ساتھ کہہ دیا ہے کہ جب یہ حلقے کھلیں گے تو چالیس حلقوں کے نتائج تبدیل ہوں گے۔ اس پس منظر میں ’’عدالت یا عوام‘‘ کے ذریعے موجودہ صوبائی حکومت کے خاتمے کی پیش گوئی کرتے ہوئے رانا مشہود نے تبدیلی کا تیسرا ذریعہ ان ضمنی انتخابات کو ٹھیرایا ہے جو 14 اکتوبر کو ہونے والے ہیں اور پنجاب میں صوبائی اسمبلی کی 11 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے بارے میں بھی انہیں یقین ہے کہ یہ سب نواز لیگ جیت جائے گی، اور یوں صوبے کا اقتدار شہبازشریف کی صدارت اور قیادت میں مفاہمت پر آمادہ نواز لیگ کی جھولی میں آگرے گا۔
پنجاب میں دو ڈھائی ماہ میں تبدیلی کے رانا مشہود کے اس دعوے کا اعداد و شمار کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو صورت حال کچھ یوں ہے کہ پنجاب اسمبلی میں اس وقت تحریک انصاف 175 نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر، جب کہ نواز لیگ 159 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کی اتحادی قاف لیگ کے پاس 10 نشستیں ہیں، جب کہ 7 نشستیں پیپلز پارٹی، 2 آزاد اور ایک نشست پاکستان راہ حق پارٹی کے پاس ہے۔ یوں اگر رانا مشہود صاحب کے فارمولے کی روشنی میں دیکھا جائے تو 40 نشستیں عدالتی فیصلوں اور 11 ضمنی انتخابات میں عوامی فیصلے کے ذریعے نواز لیگ کو مل جائیں تو واقعی تبدیلی یقینی ہے، اور تبدیلی بھی ایسی کہ نواز لیگ کو اپنی حکومت بنانے کے لیے خوامخواہ نخرے دکھانے یا بلیک میل کرنے والی پیپلز پارٹی کی حمایت کی ضرورت بھی حاصل نہیں رہے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ مبصرین کے نزدیک رانا مشہود کی یہ سوچ شیخ چلی کے خواب سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔
بعض سیاسی مبصرین کی اس رائے میں بھی یقیناً وزن ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت ہوجانے اور دو ماہ میں پنجاب میں نواز لیگ کی حکومت قائم ہوجانے کے رانا مشہود کے اس بیان کا مقصد اُن لوگوں کو متاثر کرنا اور انہیں ہوا کا رخ دکھانا ہے جو اپنی رائے استعمال کرتے ہوئے ’’چلو تم اُدھر کو ہوا ہو جدھر کی‘‘ کے اصول کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ رانا مشہود نے گورنر پنجاب چودھری سرور کی خالی کردہ سینیٹ کی نشست پر ضمنی انتخاب سے عین ایک روز قبل اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی انتخابات سے صرف بارہ روز قبل یہ بیان دے کر دراصل ایسے ہی لوگوں کو متاثر کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔ سینیٹ کے انتخاب میں تو یہ کوشش کارگر نہیں ہوسکی، دیکھیں ضمنی انتخابات پر اس کا کوئی اثر ہوتا ہے یا وہاں بھی یہ بیان صدا بہ صحرا ہی ثابت ہوتا ہے۔۔۔!

ڈیل یا ڈھیل، رانا مشہود کی تصدیق

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر رانا مشہود کا کہنا ہے کہ اب اسٹیبلشمنٹ سے ہمارے معاملات ٹھیک ہوگئے ہیں اور معاملات کو درست کرنے میں شہبازشریف کا بہت بڑا کردار ہے، اسی طرح چلتا رہا تو 2 ماہ کے بعد پنجاب میں (ن) لیگ دوبارہ حکومت بنائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف تمام اداروں کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کرتے ہیں، یہ ادارے ہمارے اپنے ہیں اور ان اداروں کی عزت میں کمی نہیں ہونی چاہیے۔رانا مشہود نے کہا کہ انہیں اب سمجھ میں آگیا ہے، جسے گھوڑا سمجھا تھا وہ خچر نکلا ہے، ادارے میں بیٹھے تھنک ٹینک کو نظر آرہا ہے کہ یہ صرف جھوٹ پرچلنے والے ہیں، اب مجموعی ماحول میں انہوں نے بھی سمجھا ہے اور ہمیں بھی احساس ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خچر والی پی ٹی آئی حکومت اب ڈلیور نہیں کرپارہی، اب پی ٹی آئی کو کارکردگی دکھانا ہوگی اور کہیں سے حمایت نہیں ملے گی۔

Share this: