بھارت کا جنسی ایٹمی دھماکہ

اگر خدانخواستہ بھارت میں زلزلہ آتا اور اس سے پانچ سات ہزار لوگ بھی ہلاک ہوجاتے تو پورا بھارت غم و اندوہ میں ڈوب جاتا، اور اس سے ایک بہت بڑی خبر نمودار ہوتی۔ مگر 6ستمبر 2018ء کے روز ایک بہت بڑا روحانی، اخلاقی، تہذیبی اور تاریخی زلزلہ آیا اور اس سے ایک ارب 30کروڑ ہندوستانیوں کا روحانی، اخلاقی، تہذیبی اور تاریخی وجود ہلاکت سے دوچار ہوگیا، مگر اس زلزلے پر بھارت میں خوشیاں منائی گئیں۔ زلزلے کا خیرمقدم کیا گیا۔ آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ ہمارا اشارہ بھارتی سپریم کورٹ کے اُس فیصلے کی طرف ہے جس کے تحت انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 377کو ختم کرکے ہم جنس پرستی کو جائز قرار دے کر اسے قانونی تحفظ مہیا کردیا گیا ہے۔ روحانی، اخلاقی، تہذیبی اور سماجی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ بھارت میں ہندوازم، ہندوستان کی تہذیب اور ہندوستان کی تاریخ کی سب سے بڑی شکست اور جدیدیت کی سب سے بڑی فتح ہے۔ اس فتح اور شکست کی اتنی جہتیں اور اتنے مضمرات ہیں کہ ان کے بیان کے لیے ایک کتاب کی ضخامت درکار ہے۔
تین بڑے مذاہب یعنی اسلام، عیسائیت اور یہودیت میں ہم جنس پرستی گناہِ عظیم قرار دی گئی ہے، اور قومِ لوط پر اسی کی وجہ سے عذاب نازل ہوا۔ اگرچہ ہندوئوں کی مقدس کتب یعنی ویدوں اور گیتا میں ہم جنس پرستی کے سلسلے میں کوئی رہنمائی نہیں ملتی، مگر ہندوازم کی چھے ہزار سالہ تاریخ میں ہم جنس پرستی کی اجتماعی موجودگی اور قبولیت کا نام و نشان بھی موجود نہیں۔ رام ہندوازم کی دو بڑی شخصیتوں میں سے ایک ہیں۔ وہ اپنی شریکِ حیات سیتا اور سوتیلے بھائی لکشمن کے ساتھ چودہ برس کا بن واس کاٹ رہے تھے کہ لنکا کے راجا راون نے رام کی شریکِ حیات سیتا کو اغوا کرلیا۔ رام نے اپنے بھائی لکشمن سے کہا کہ اپنی بھابھی سیتا کو تلاش کرنے میں میری مدد کرو۔ یہ سن کر لکشمن نے کہا کہ میں نے آج تک بھابھی کے صرف پیر دیکھے ہیں، آپ مجھے شکل و صورت کے بارے میں کچھ بتائیں تاکہ میں انہیں کہیں دیکھوں تو پہچان لوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شرم و حیا اور پردے کا ایک تصور اُس وقت موجود تھا۔ رام کی زندگی کا دوسرا واقعہ یہ ہے کہ رام بالآخر سیتا کو راون کے چنگل سے آزاد کرانے میں کامیاب رہے، مگر وہ اپنی ریاست میں آئے تو عوام نے سیتا کی پاک دامنی کے حوالے سے شک و شبہ کا اظہار کیا، چنانچہ ہندو روایات کے مطابق سیتا کو اپنی پاک دامنی ثابت کرنے کے لیے ’’اگنی پریکشا‘‘ یعنی آگ میں جلنے کے امتحان سے گزرنا پڑا۔ ہندوازم کی روایات کے مطابق اُس زمانے میں جھوٹ اور سچ کا فیصلہ اس بات سے ہوتا تھا کہ آگ کسے جلاتی ہے اور کسے نہیں جلاتی۔ جسے آگ جلادیتی تھی وہ جھوٹا قرار پاتا تھا، اور جسے آگ نہیں جلاتی تھی اسے صادق مان لیا جاتا تھا۔ سیتا بھڑکتی ہوئی آگ سے گزریں مگر انہیں آگ سے کوئی نقصان نہ ہوا۔ یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ پاک دامنی کا تصور ہندوازم میں ہمیشہ موجود رہا ہے۔ دنیا کے دوسرے معاشروں کی طرح ہندوستان میں بھی ناجائز جنسی تعلقات موجود رہے ہیں، مگر اِن تعلقات کا تعلق مرد و زن سے رہا ہے… مردوں، مردوں اور عورتوں، عورتوں کے تعلقات سے نہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو بھارتی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے ہم جنس پرستی کو جائز اور قانونی قرار دے کر ہندوستان کی چھے ہزار سالہ تاریخ کو بدل ڈالا ہے۔
اس سلسلے کے واقعات کسی بھی مذہبی شخص کو ششدر کرنے کے لیے کافی ہیں۔ مثال کے طور پر ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دینے والے بینچ کا فیصلہ ’’متفقہ‘‘ ہے۔ یعنی پانچ ججوں میں سے کسی نے بھی ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دینے کے فیصلے کی مخالفت نہیں کی۔ ان پانچ ججوں میں ایک خاتون جج بھی شامل تھیں۔ انہوں نے فیصلے کے سلسلے میں مرد ججوں سے زیادہ جذباتیت کا مظاہرہ کیا۔ پانچ ججوں نے اپنے فیصلے میں کیا کہا، آئیے دیکھتے ہیں۔
پانچ رکنی بینچ میں شامل چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس A.M Khanwilkar نے کہا کہ میں جو ہوں سو ہوں، مجھے اسی طرح قبول کرو۔ تشخص اہم ہے، معاشرے کے بہت سے طبقات Sterio typesکی وجہ سے معاشرے سے الگ سمجھے جانے کا دکھ سہتے ہیں، ہم اُس وقت تک ’’ترقی یافتہ معاشرہ‘‘ نہیں کہلا سکتے جب تک ان لوگوں کو ان کی بیڑیوں سے آزادی مہیا نہ کردی جائے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی بالادستی کے تصور کو ’’سماجی اخلاقیات‘‘ کے زیراثر نہیں ہونا چاہیے بلکہ ’’آئینی اخلاقیات‘‘ کے زیراثر ہونا چاہیے۔ انسان کی جنسی نہاد یا جنسی تشخص ایک فطری چیز ہے اور اس بنیاد پر لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ ایسا طرزعمل انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ہمیں ہر طرح کے (جنسی) تعصب کو ختم کرکے شمولیتی یا Inclusive رویّے اور مساوی حقوق کے تصور کو پروان چڑھانا ہوگا۔
بینچ میں شامل ایک اور جج جسٹس نری مان نے کہا کہ ہم جنس پرستوں کو ’’وقار‘‘ کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا حق ہے۔ جسٹسChanderachudنے کہا کہ ہم جنس پرستی کوئی بیماری نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں انسانوں کی جنس کو صرف مرد اور عورت کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ چنانچہ انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 377کا خاتمہ نئے تناظر قائم کرنے کا آغاز ہے۔ انہوں نے دفعہ 377کو نوآبادیاتی قانون یاColonial Law قرار دیا اور کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے آزادی کی راہ ہموار ہوئی ہے- بینچ کی واحد خاتون رکن جسٹس اندوملہوترا نے ’’فرمایا‘‘: ہماری تاریخ کو ہم جنس پرستوں اور ان جیسے لوگوں سے اس بنیاد پر معافی مانگنی چاہیے کہ ان کے حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں تاخیر کیوں کی گئی؟
(روزنامہ ڈان ۔ 7ستمبر 2018ء)
بھارتی سپریم کورٹ کے ججوں کا خیال ہے کہ وہ ایک نوآبادیاتی قانون کو ختم کرکے اپنے معاشرے کو ’’آزادی‘‘ سے ہم کنار کررہے ہیں۔ لیکن یہ ایک غلط فہمی اور بھارتی ججوں کا دانش ورانہ چوندھاپن یا Intellectual myopiaہے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے ہندوستان کو ایک نوآبادیاتی عہد سے نکال کر دوسرے نوآبادیاتی عہد میں داخل کردیا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے آزادی کے جس تصور کی بنیاد پر ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دیا ہے وہ ہندوازم یا ہندوستان کا تصورِ آزادی نہیں ہے، وہ جدید مغربی تہذیب کا تصورِ آزادی ہے۔ ہندوئوں کی مقدس کتابوں میں ایک خدا کا تصور موجود ہے اور ہندوازم اپنے ماننے والوں کی زندگی کو ’’خدا مرکز‘‘ یا God centric یا ہندوازم کی اصطلاح میں ’’ایشور مرکز‘‘ دیکھنا چاہتا ہے۔ چنانچہ ہندوازم کا انسان ایشور کا بندہ ہے اور وہ مغرب کے تصورِ انسان کی طرح کچھ بھی کرنے میں آزاد نہیں ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے جج بھارت کو نوآبادیاتی قانون سے آزاد کرانے کے لیے اگر ہندوازم یا بھارت کی ہندو تہذیب اور تاریخ سے ’’سند‘‘ لاتے تو پھر ان کا یہ دعویٰ تسلیم کرلیا جاتا کہ وہ اپنے معاشرے کو نوآبادیاتی قانون سے نجات دلا رہے ہیں۔ یہاں تو یہ صورت ہے کہ ایک نوآبادیاتی قانون کو ایک اور نوآبادیاتی تصور نے Replaceکردیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ بھارتی سپریم کورٹ نے پرانے نوآبادیاتی تجربے کو مسترد کرکے ایک نئے نوآبادیاتی تجربے کو گلے لگا لیا ہے اور اسے ’’آزادی‘‘ کا نام دے دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس آزادی میں ہندوازم، ہندو تہذیب، ہندو تاریخ اور ہندو سماج کی آزادی کہاں ہے؟
یہ کتنی عجیب بات ہے کہ بھارت کی اعلیٰ ترین عدالت کو بھارت میں موجود چند ہزار یا چند لاکھ ہم جنس پرستوں کے ساتھ ہونے والے ظلم اور امتیازی سلوک کا بڑا غم ہے مگر انہیں بھارت کے 25کروڑ مسلمانوں کی سماجی، معاشی، تعلیمی اور سیاسی زندگی کی مکمل تباہی آج بھی نظر نہیں آرہی۔ بھارت نے گزشتہ 71سال میں بھارت کے مسلمانوں پر پانچ ہزار سے زیادہ جو مسلم کُش فسادات مسلط کیے ہیں، وہ بھی سپریم کورٹ کے پانچ ’’حساس ججوں‘‘ پر اثرانداز نہیں ہوپائے۔ بھارت گزشتہ 70سال میں مقبوضہ کشمیر کے اندر چار لاکھ سے زیادہ کشمیری مسلمانوں کو شہید کرچکا ہے مگر آج تک سپریم کورٹ کو معلوم نہ ہوسکا کہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہے ۔ بھارت کے 20کروڑ شودر چار ہزار سال سے اعلیٰ ذات کے ہندوئوں کی تذلیل سہہ رہے ہیں، یہ بات بھی بھارتی سپریم کورٹ نے نوٹ نہیں کی اور اسے اس ضمن میں بھی انسانی حقوق کے تحفظ کا خیال نہیں آیا۔ مگر مغربی تہذیب کی جدیدیت اتنی دلکش ہے کہ اس نے بھارت کے چند ہزار یا چند لاکھ ہم جنس پرستوں کو سپریم کورٹ آف انڈیا کے اعصاب پر سوار کرکے ایک ایسا فیصلہ کرالیا جس کا ہندوازم سمیت کسی بھی مذہبی روایت سے کوئی تعلق نہیں۔
غور کیا جائے تو یہ صورتِ حال ہندوئوں کے ’’سرسید‘‘ راجا رام موہن رائے کی جدیدیت پسندی کے اثرات کا ناگزیر نتیجہ ہے۔ بہت کم مسلمان جانتے ہیں کہ انگریزوں کے غلبے نے جس طرح مسلمانوں کو ایک سرسید دیا، اسی طرح اس غلبے سے پیدا ہونے والی صورتِ حال نے ہندو معاشرے میں راجا رام موہن رائے کو پیدا کیا۔ سرسید، سید تھے اور راجا رام موہن رائے برہمن۔ سرسید بھی مغرب سے مرعوب تھے، راجا رام موہن رائے بھی مغرب کے قتیل تھے۔ وہ اس سلسلے میں سرسید سے بھی آگے نکل گئے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے عیسائیت قبول کرلی اور عیسائیت کے یونی ٹیرین فرقے سے وابستہ ہوگئے، لیکن چونکہ وہ برہمن تھے اس لیے ان پر ہندوازم کا اثر بھی باقی رہا۔ چنانچہ ان کا مذہب ہندوازم اور عیسائیت کا ملغوبہ بن گیا۔ سرسید انجیل کا ترجمہ نہ کرسکے لیکن راجا رام موہن رائے نے عہدنامۂ جدید کا ترجمہ کیا۔ سرسید نے علی گڑھ میں جدید کالج قائم کیا۔ راجا رام موہن رائے نے کلکتہ میں ایک کالج کی بنیاد رکھی۔ سرسید کو انگریزوں نے ’’سر‘‘ کا خطاب دیا۔ راجا رام موہن رائے کو انگریزوں نے ‘’’راجا‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ سرسید نے لندن کا سفر کیا اور واپس آئے۔ راجا رام موہن رائے بھی انگریزوں کی جنت کی سیر کو گئے مگر ان کا وہیں انتقال ہوگیا۔ سرسید چاہتے تھے کہ مسلمان زیادہ سے زیادہ مغربی بن جائیں، مگر سرسید اس سلسلے میں ایک حد تک ہی کامیاب ہوئے۔ راجا رام موہن رائے چاہتے تھے کہ ہندو زیادہ سے زیادہ مغربی ہوجائیں اور ان کی آرزو سرسید سے کہیں زیادہ پوری ہوئی۔ آج ہندوستان ہم جنس پرستی کو ترقی کی علامت کے طور پر گلے لگا رہا ہے تو یہ راجا رام موہن رائے کے لگائے ہوئے جدیدیت کے پیڑ ہی کا ایک پھل ہے۔ سرسید بھی راجا رام موہن رائے کی طرح زیادہ کامیاب ہوئے ہوتے تو برصغیر کے مسلمان بھی شاید وہی کرتے جو بھارت کے ہندو کررہے ہیں۔ لیکن یہ مسئلہ صرف بھارت کی سپریم کورٹ تک محدود نہیں۔
بھارتی سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی پر مہر لگائی تو بھارت کی سب سے قدیم اور دوسری بڑی سیاسی جماعت کانگریس کے ترجمان رندیپ سُرجی والا نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ’’یادگار اور تاریخی‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 377 ماضی کی چیز ہے اور عہدِ حاضر سے اس کا کوئی تعلق ہی نہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ایک لبرل اور برداشت سے آراستہ معاشرے کے قیام کی جانب ایک قدم قرار دیا۔ ملک کی حکمران جماعت بی جے پی کو سانپ سونگھ گیا اور اس نے اب تک نہ فیصلے کی مذمت کی ہے نہ اس کی تائید کی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی ایک مذہبی جماعت نہیں ہے بلکہ وہ صرف قدامت پسند جماعت ہے، اور اس نے قدامت پسندی اور مسلمانوں کی دشمنی ہی کو ’’ہندو ازم‘‘ سمجھا ہوا ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو بی جے پی سپریم کورٹ کے فیصلے کی مذمت کرتی، اور اگر بی جے پی سیکولر اور لبرل ہوتی تو وہ مذکورہ فیصلے کی حمایت کرتی۔ بی جے پی کی اس صورتِ حال کو دیکھ کر ہمیں افتخار عارف کا ایک شعر یاد آگیا ؎

حامی بھی نہ تھے منکرِ غالب بھی نہیں تھے
ہم اہلِ تذبذب کسی جانب بھی نہیں تھے

بی جے پی کے تذبذب کا مفہوم یہ ہے کہ وہ جدیدیت کو بھی نہیں چھوڑنا چاہتی اور ہندوازم کے ’’مزے‘‘ بھی ترک کرنا نہیں چاہتی۔ اگرچہ بی جے پی نے اپنی خاموشی کے ذریعے خود کو چھپایا ہے، مگر صاف ظاہر ہے کہ اُس کا پلڑا جدیدیت کی جانب زیادہ جھکا ہوا ہے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ بی جے پی کو بھگوان شری رام اور شری کرشن بھی درکار ہیں، اور وید اور گیتا بھی، مگر بس اتنے کہ جدیدیت سے عشق میں کوئی رخنہ نہ پڑے۔ اس کے معنی عیاں ہیں۔ جدید ہندو ذہن کے لیے جدیدیت ہندوازم سے ہزار گنا زیادہ اہم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بی جے پی کا ظاہر ضرور مذہبی ہے مگر باطن سیکولر اور لبرل ہے۔ ہم یہ بات گزشتہ 28سال سے لکھ رہے ہیں مگر اس کے لیے ٹھوس شہادت اب جاکر مہیا ہوئی ہے۔
بلاشبہ بی جے پی ہم جنس پرستی پر خاموش رہی، مگر بی جے پی کو نظریہ فراہم کرنے والی جماعت آر ایس ایس نے اس موضوع پر اپنی زبان کھولی ہے۔ اس نے کیا کہا ہے، ملاحظہ کیجیے۔ آر ایس ایس نے کہا ہے کہ ہم بھی سپریم کورٹ کی طرح ہم جنس پرستی کو مجرمانہ فعل نہیں سمجھتے، مگر ہم ہم جنس پرستی کی حمایت بھی نہیں کرتے۔ آر ایس ایس نے کہا کہ روایتی طور پر ہندو سماج ہم جنس پرستانہ تعلقات کو قبول نہیں کرتا۔ اس بیان میں بھی ہندوازم اور جدیدیت ہاتھ میں ہاتھ ڈالے مٹر گشت کررہے ہیں، البتہ جدیدیت کا پلڑا واضح طور پر بھاری ہے۔ اگر آر ایس ایس کو ہندوازم عزیز ہوتا تو وہ ہندوازم کی تعلیمات سے کوئی مثال لاتی اور ہم جنس پرستی کی راہ روکتی۔ مگر اس نے ایسا کرنے کے بجائے روایت یعنی صرف قدامت پرستی کا سہارا لیا اور فرمایا کہ ہندو معاشرہ روایتی طور پر ہم جنس پرستی کو قبول نہیں کرتا۔ بی جے پی کے ایک رہنما سبرامنیم سوامی نے اس سلسلے میں بیان دیتے ہوئے ہم جنس پرستی کو Genetic disorder قرار دیا اور کہا کہ اس سلسلے میں تحقیق ہونی چاہیے اور disorderکا علاج ہونا چاہیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سبرامنیم سوامی کے لیے ہم جنس پرستی کوئی روحانی یا اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ صرف ایک جسمانی حقیقت ہے، اور اس سلسلے میں سائنسی تحقیق کے ذریعے مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے قریبی دوست اور یوگا کے استاد بابا نام دیو نے کہا ہے کہ یہ ایک امریکی کھیل ہے، بہت جلد ہندوستان میں جگہ جگہ Gay Barsکھل جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگلی حکومت کو چاہیے کہ وہ سپریم کورٹ کا سات رکنی بینچ بنا کر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کو مسترد کرا دے۔ بابا نام دیو بالکل ٹھیک سمجھے ہیں، یہ واقعتاً امریکی کھیل ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ روزنامہ ڈان کے دہلی میں موجود نمائندے جاوید نقوی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی سپریم کورٹ نے جس وقت ہم جنس پرستی کی حمایت کی اُس روز امریکہ کے وزیر خارجہ اور وزیر دفاع نئی دہلی میں موجود تھے۔ یعنی بھارت امریکہ کو بتا رہا تھا کہ بھارت امریکہ کا ’’فطری اتحادی‘‘ ہے، اور اسے جدیدیت سے اتنا عشق ہے کہ اسے ہندوازم، اس کی تعلیمات، اس کی چھے ہزار سال پرانی تہذیب اور تاریخ کی بھی کوئی پروا نہیں۔
خدا کا شکر ہے کہ ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دینے کے خلاف جماعت اسلامی ہند اور مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھرپور آواز اٹھائی۔ جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل سلیم انجینئر نے ایک بیان میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے خاندان کا ادارہ تباہ ہوجائے گا اور انسانیت کا فطری ارتقا رُک جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی اور ذمے داری کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور ذمے داری کے بغیر آزادی سے معاشرے میں انارکی پھیل جائے گی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا کہ ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دینا بھارتی اقدار اور کلچر کے خلاف ہے۔ بورڈ نے ایک بیان میں کہا کہ دنیا کا کوئی مذہب اخلاق باختگی کی تعلیم نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے عورتوں کی زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے، چنانچہ حکومت اگر اپنے فیصلے پر نظرثانی نہیں کرتی تو وہ کم از کم خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی سازی کرے۔ ان آوازوں کو دیکھا جائے تو خیال آتا ہے کہ بھارت کے مسلمان حقیقی معنوں میں ہندوستان کے وارث ہیں۔ وہ نہ صرف اسلام کی ترجمانی کررہے ہیں بلکہ ہندوئوں سے بھی کہہ رہے ہیں کہ تم جدیدیت کو ہندوازم پر کیوں ترجیح دے رہے ہو؟ تم اپنی اقدار اور روایات کو کیوں فراموش کررہے ہو؟
اس مسئلے کا ایک پہلو یہ ہے کہ ہندوستان خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے، اس اعتبار سے ہم جنس پرستی کے تحفظ کے لیے لوک سبھا میں بحث و تمحیص کے بعد قانون سازی ہونی چاہیے تھی، لیکن ایسا ہوتا تو ہندوازم اور ہندوستان ساری دنیا میں تماشا بن جاتے، چنانچہ اس کے لیے بھارتی سپریم کورٹ کا سہارا لیا گیا۔ یہ بالکل وہی صورتِ حال ہے جس سے کچھ برس قبل بنگلہ دیش گزر چکا ہے۔ بنگلہ دیش کے آئین میں اسلامی دفعات شامل تھیں جو مغرب کو قبول تھیں، نہ بھارت کو، اور نہ بھارت کی آلۂ کار حسینہ واجد کو۔ چنانچہ بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ کے ذریعے آئین کو اسلامی دفعات سے ’’پاک‘‘ کیا گیا اور کوئی سپریم کورٹ کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کسی بھی مسلم معاشرے میں کسی بھی ادارے کا ایک حد سے زیادہ مضبوط ہونا اسلام، اسلامی تہذیب اور اسلامی تاریخ کے لیے خطرناک ہے۔ کیا کوئی ان باتوں کو سن رہا ہے اور سمجھ رہا ہے؟
ان سوالات کا جواب تو ہمیں معلوم نہیں، مگر اتنی بات بخوبی معلوم ہے کہ جدیدیت کی پیش قدمی کا تعلق صرف ہندوستان سے نہیں۔ آج جو کچھ ہندوستان میں ہورہا ہے پانچ سات یا دس سال بعد پاکستان یا کسی اور مسلم ملک میں بھی ہوسکتا ہے۔ یہ کئی سال پہلے کا قصہ ہے، جاوید غامدی سے متعلق ایک ویب سائٹ پر ایک طویل مضمون پوسٹ کیا گیا۔ اس مضمون میں غامدی صاحب نے ہم جنس پرستی کی بھرپور حمایت کی تھی۔ اُن کی ایک دلیل یہ تھی کہ کوئی خود ہم جنس پرست نہیں بنتا بلکہ یہ Genetics کا مسئلہ ہے، اور ہم جنس پرست، ہم جنس پرست ہونے پر ’’مجبور‘‘ ہوتا ہے، چنانچہ اس کے مسئلے پر ’’ہمدردی‘‘ سے غور کی ضرورت ہے۔ ہم نے روزنامہ جسارت کے ادارتی صفحے پر اس مضمون کا کئی قسطوں میں جواب تحریر کیا تھا۔ غامدی صاحب کی بات پرانی ہوگئی۔ نئی بات یہ ہے کہ میاں نوازشریف نے سیاسی محاصرے میں ہونے کے باوجود ختم نبوتؐ کے تصور پر بھرپور حملہ کیا۔ اس مرحلے پر اگر اسٹیبلشمنٹ اور میاں صاحب کے درمیان محاذ آرائی نہ ہوتی تو میاں صاحب امریکہ اور یورپ کو خوش کرنے کے لیے پوری قوت کے ساتھ آگے بڑھتے اور ختمِ نبوت پر اپنے حملے کو یادگار بنادیتے۔ اس سے قبل وہ قائداعظم یونیورسٹی کے ایک شعبے کو ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام منسوب کرچکے تھے۔ ان کے دورِ حکومت میں یہ سانحہ بھی ہوا تھا کہ اقوام متحدہ نے زنا بالرضا کو پاکستان میں قانونی قرار دینے کی تجویز دی اور میاں صاحب کے دور میں اس تجویز پر ’’قابلِ غور‘‘ لکھنے کی جرأت کی گئی۔ عمران خان آئے تو انہیں پہلا کام یہ سوجھا کہ ایک قادیانی عاطف میاں کو اپنی اقتصادی مشاورتی کونسل کا رکن بنالیا۔ اس قدم کا عمران خان کے نفسِ امارہ فواد چودھری نے اتنا زبردست دفاع کیا جیسے امریکہ اور یورپ ہی نہیں فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی ان کی پشت پر موجود ہو۔ عمران خان کی حکومت ’’نئی نویلی‘‘ نہ ہوتی تو شاید عمران خان اس میدان میں تیزی کے ساتھ آگے بڑھتے، اس لیے کہ جدیدیت کی پیش قدمی اور اس کا دبائو اتنا شدید ہے کہ مسلم حکمران اس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ اب بھارت نے ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دیا تو ہمیں شدت سے احساس ہوا کہ اس جنسی ایٹمی دھماکے کی تابکاری اسلامی جمہوریہ پاکستان تک ضرور پہنچے گی۔ بدقسمتی سے ہمارا یہ خیال درست ثابت ہوا۔
فی الحال خیال کے درست ہونے کی صورت یہ ہے کہ روزنامہ ڈان کراچی نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اسلامی آئین، اسلامی معاشرے، مذہبی جماعتوں اور علما کی رتی برابر پروا کیے بغیر 23 ستمبر 2018ء کی اشاعت میں بھارتی سپریم کورٹ کے ہم جنس پرستی سے متعلق فیصلے کی حمایت میں پورا ایک صفحہ شائع کرڈالا۔ اس صفحے پر ہم جنس پرستی کا جشن منایا گیا ہے یا اسے Celebrate کیا گیا ہے، یہاں تک کہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو Game Changer قرار دیا گیا ہے۔ ڈان کے صفحے پر شائع ہونے والا مواد دراصل ریما عمر کے مضمون پر مشتمل ہے۔ ریما عمر International Commission of Jurist کی قانونی مشیر ہیں۔ ان کے مضمون میں دو باتیں زیادہ اہم ہیں۔ ایک بات انہوں نے یہ کہی ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ دولتِ مشترکہ کے تمام ملکوں کے لیے ایک نظیر اور قابل تقلید مثال ثابت ہوسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ پاکستان بھی دولتِ مشترکہ کا حصہ ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جدیدیت کے سیلاب کا کوئی نہ کوئی ریلا پاکستان کی طرف آیا چاہتا ہے۔ ریما عمر کی دوسری بات پہلی بات سے بھی زیادہ اہم ہے، اس لیے آپ اسے اُن کے الفاظ میں ملاحظہ کرلیں تو اچھا ہے۔ ریما عمر نے لکھا ہے:
“Through this judgment, the Indian Supreme Court has once again shown the critical role of the judiciary to affirm human rights and equality, and to protect minority communities against the “tyranny of the majority”….. something courts in the region, inculding Pakistan, have in many instances failed to uphold.”
ترجمہ ’’بھارتی سپریم کورٹ اپنے فیصلے کے ذریعے عدالت کے اس فیصلہ کن کردار کی نشاندہی کررہی ہے جو وہ ’’انسانی حقوق‘‘ اور ’’مساوات‘‘ کے اثبات کے سلسلے میں ادا کرسکتی ہے، اور جس کے ذریعے ’’اقلیتی برداریوں‘‘ کو ’’اکثریت کے جبر‘‘ سے تحفظ مہیا کیا جاسکتا ہے، یہ وہ کردار ہے جسے پاکستان سمیت خطے کی عدالتیں کئی بار تحفظ مہیا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔‘‘
مطلب یہ کہ ہم جنس پرستی مذہبی یا اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ یہ انسانی حقوق کے تحفظ اور مساوات کے اصول کی پاسداری کا معاملہ ہے۔ ریما عمر کے بیان کے مطابق ہم جنس پرست گناہ گار نہیں، ایسی مظلوم اقلیت ہیں جسے ’’اکثریت کے جبر‘‘ کا سامنا ہے۔ یہ ہے مغرب اور جدیدیت کا اصل کھیل۔ مغرب دو سو سال سے جمہوریت، جمہوریت کررہا ہے مگر وہ مسلم دنیا میں کہیں بھی اسلامی تحریکوں کو جمہوریت کے ذریعے اقتدار میں نہیں آنے دیتا۔ اسلامی تحریکیں اقتدار میں آ بھی جائیں تو وہ انہیں چلنے نہیں دیتا۔ یہاں تک کہ اب اس کے ایجنٹ مسلم معاشروں کو سیکولرازم اور لبرل ازم کے جہنم میں دھکیلنے کے لیے ’’اکثریت‘‘ کو ’’جبر‘‘ کا ہم معنی بنا رہے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پورا یورپ یورپی ملکوں میں آباد مسلمانوں سے کہہ رہا ہے کہ یورپ میں رہنا ہے تو ’’یورپی‘‘ بن کر رہو۔ یعنی اکثریت کی اقدار اور اطوار کو اپنائو۔ مگر وہ مسلم اور بھارت جیسے قدامت پسند معاشرے میں اکثریت کے مذہب اور اقدار کو جبر بناکر پیش کررہا ہے۔ اس کو کہتے ہیں چت بھی اپنی، پٹ بھی اپنی۔ ایک جگہ اکثریت زندہ باد، اقلیت مُردہ باد… دوسری جگہ اکثریت مُردہ باد، اقلیت زندہ باد… یہ ہے مغرب کی عقل پرستی، یہ ہے مغرب کی علم نوازی، یہ ہے مغرب کی دلیل سے محبت۔ یہ سائنسی عہد ہے یا جادو کا زمانہ… بہرحال یہاں کہنے کی ایک بات یہ ہے کہ آج جو آگ بھارت میں لگی ہے وہ بھارت تک محدود نہیں رہے گی۔ پاکستان کی مذہبی جماعتیں، مذہبی طبقات اور علما اگر عالمی اور علاقائی منظرنامے پر نظر نہیں رکھیں گے اور معاشرے میں نظریاتی کشمکش برپا نہیں کریں گے، اور نظریاتی شعور کی آبیاری نہیں ہوگی تو پھر پاکستان سمیت کسی بھی مسلم معاشرے میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی نے تغیر کی رفتار کو بہت تیز کردیا ہے۔ پہلے جو تبدیلی پانچ سات سال میں آتی تھی، اب ایک سال میں آجاتی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے 2013ء میں ہم جنس پرستی کو جرم اور ممنوع قرار دیا تھا، مگر 2018ء میں سپریم کورٹ آف انڈیا کہہ رہی ہے کہ ہندوستان نے گزشتہ چھے ہزار سال سے ہم جنس پرستی کو سرکاری سطح پر گلے نہیں لگایا تو کیا ہوا، اب ہم ایسا کیے دیتے ہیں۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہو گا پھر کبھی
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

سپریم کورٹ کے فیصلے بھارتی معاشرے کی اخلاقی اور تہذیبی بنیادوں کی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں، سید علی گیلانی

مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے میاں بیوی کے جنسی تعلق سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی عدلیہ کی طرف سے گزشتہ کچھ عرصے سے ایسے فیصلے آرہے ہیں جو بھارتی معاشرے کی تمام تر اخلاقی اور تہذیبی بنیادوں کی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔
انہوںنے کہا کہ جن بنیادوں پر انسانی معاشرہ اور ایک عمدہ اور صحت مند خاندانی زندگی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے ان ہی بنیادوں کو ’’یکسانیت اور برابری کے حقوق‘‘ کے نام پر کھوکھلا کرکے اپنے آپ کو جدیدیت کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ بھارت کی عدالتِ عظمیٰ نے یہ چونکا دینے والا فیصلہ کہ ’’شادی شدہ عورت اگر اپنی مرضی سے اپنے شوہر کے علاوہ کسی غیر مرد کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرے گی تو اس کو جرم نہیں مانا جائے گا‘‘ دے کر اخلاقی بے راہ روی کو فروغ اور ایک ہیجانی صورت حال کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی معاشرہ جو پہلے ہی جرائم اور خاص کر جنسی جرائم کی دلدل میں دھنس چکا ہے، ایسے اخلاق باختہ قوانین اور احکامات سے اور زیادہ مفلوج ہوکر رہ جائے گا، اور بدکاری کے اس لائسنس سے دیمک زدہ ہوکر کھوکھلا ہوجائے گا۔ حریت چیئرمین نے بھارتی دانش وروں، صحافیوں اور ذی فہم شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کی تہذیبی اور اخلاقی قدروں کو ملک کی سب سے بڑی عدالت قلم کی ایک جنبش سے تار تار کردیتی ہے اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور نہ کوئی آواز، نہ کوئی قلم اس انسانی اور معاشرتی بھونچال پر حرکت میں آتا ہے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ اگر لوگ ایسے ہی بے حس وحرکت اس عمل کو دیکھتے رہے تو وہ وقت دور نہیں جب انارکی اور بے ہودگی کا یہ سیلاب عام لوگوں کی گھریلو زندگیوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ڈبو دے گا۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ پاک میل ملاپ سے ہی ایک عمدہ معاشرہ وجود میں آتا ہے، ورنہ بے ہنگم اور آزادانہ جنسی ملاپ سے نسلِ انسانی کی ترسیل تو ہوگی، لیکن ان کی نہ کوئی پہچان ہوگی اور نہ کوئی شناخت۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ جس قوم یا فرد نے انسانی فطرت کے خلاف کوئی اقدام کرنے کی کوشش کی، فطرت نے اسے اس کے بدلے میں رسوائی اور پشیمانی کے سوا کچھ نہیں دیا، اور اگر بھارت بھی اسی ڈگر پر چلنے کو ترجیح دیتا ہے تو یہ اس کے زوال کی شروعات ہیں۔ انہوں نے غیر فطری جنسی ملاپ یا ہم جنس پرستی کو قانونی حیثیت دیے جانے کو افسوسناک اور شرانگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام خود اپنی نسل کو نیست ونابود کرنے کا عمل ہے، اور جو معاشرہ ایسے قوانین کو فروغ دے گا وہ اپنے پاؤں اور نئی نسل پر خود کلہاڑی مار کر اپنے آپ کو ہی صفحہ ہستی سے مٹانے کے راستے پر عمل پیرا ہوگا۔ سید علی گیلانی نے بھارتی دانش وروں اور ذی حس شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس ہولناک سیلاب کو روکنے کے لیے آگے آئیں۔

بھارتی سپریم کورٹ نے زنا بالرضا کو بھی جائز قرار دے دیا

انڈیا کی سپریم کورٹ نے ملک میں ’ایڈلٹری‘ یا شادی شدہ افراد کے اپنے ساتھی کے سوا کسی دوسرے فرد سے جنسی تعلق رکھنے کے عمل کو جرم کے دائرے سے خارج کردیا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ کے پانچ رکنی بینچ نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ دستورِ ہند کی 158 سال قدیم دفعہ 497، جس کے تحت کسی شادی شدہ عورت کے ساتھ اس کے شوہر کی مرضی کے بغیر کسی مرد کے جنسی تعلقات کو جرم مانا جاتا تھا، آئین کے منافی ہے۔ اس قانون کے تحت سزا صرف مرد کو ہی دی جا سکتی تھی اور عورتوں کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کی گنجائش نہیں تھی۔ درخواست گزار نے قانون کو امتیازی اور صوابدیدی قرار دیتے ہوئے چیلنج کیا تھا۔ اب دو بالغوں کے درمیان جنسی تعلق، بشرطیکہ اس میں دونوں کی مرضی شامل ہو، جرم نہیں مانا جائے گا چاہے وہ دونوں شادی شدہ ہی کیوں نہ ہوں۔ لیکن پہلے کی طرح طلاق حاصل کرنے کے لیے ایڈلٹری کو بنیاد بنایا جا سکے گا۔ خیال رہے کہ انڈیا میں دو غیر شادی شدہ بالغ اگر جنسی تعلقات قائم کرتے ہیں تو یہ پہلے سے ہی جرم نہیں ہے اور حال ہی میں سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کو بھی جرم کے زمرے سے نکال دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عورت کو مرد کی ملکیت نہیں مانا جاسکتا اور آج کے دور میں اس طرح کے فرسودہ قانون کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کہا کہ یہ قانون دستور کے آرٹیکل 14 اور 21 کے منافی ہے جو زندگی، آزادی اور مساوات کے حق کی ضمانت دیتے ہیں۔ حذف کی جانے والی شق میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی (شخص) کسی ایسی عورت سے جنسی تعلقات قائم کرتا ہے، جس کے بارے میں اسے معلوم ہو کہ وہ کسی اور کی بیوی ہے، اور اس (جنسی) عمل میں اس کے شوہر کی مرضی یا معاونت شامل نہ ہو، اور اگر یہ عمل ریپ کے زمرے میں نہ آتا ہو، تو پھر وہ شخص زنا کے جرم کا مرتکب ہے اور اسے یا تو زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید یا جرمانے، یا دونوں سزائیں سنائی جاسکتی ہیں، لیکن بیوی کسی جرم کی مرتکب نہیں ہوگی۔ بحث اس سوال پر تھی کہ کیا شادی کے بعد بیوی شوہر کی املاک یا جاگیر بن جاتی ہے؟ اور اگر شادی شدہ عورت سے زنا جرم ہے، تو سزا صرف مرد کو ہی کیوں ملے، دونوں کو کیوں نہیں؟ لیکن عدالت نے کہا کہ عورت اور مرد کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی جاسکتی اور دونوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ بینچ میں شامل واحد خاتون جج جسٹس اندو ملہوترا نے کہا کہ زنا اخلاقی طور پر غلط ہے، لیکن جسٹس چندرچور نے کہا کہ شادی کے بعد مرد اور عورت اپنی ’جنسی خودمختاری‘ ایک دوسرے کے پاس گروی نہیں رکھ دیتے۔ ہندوستانی حکومت کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کے رشتوں کی اجازت دے دی گئی، یا انھیں جرم کے زمرے سے نکال دیا گیا تو ملک میں شادی کا نظام اور سماجی اقدار تباہ ہوجائیں گی اور لوگوں کو غیر ازدواجی تعلقات قائم کرنے کی ترغیب ملے گی۔

پانچ مہینے پہلے ۔پاکستان میں زنا بالرضا کو جرم قرار نہ دیا جائے، اقوام متحدہ کی ہدایت

تیسرے یونیورسل پیریاڈک ریویو کے دوران اقوام متحدہ نے پاکستان کو ہدایت کی ہے کہ زنا بالرضا کے قوانین میں تبدیلی کی جائے اور اسے غیر مجرمانہ فعل قرار دیا جائے۔ حیرت انگیز طور پر پاکستان نے یہ اپیل قابلِ غور قرار دے دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جرگوں کے ذریعے زنا بالرضا پر سزا کا مطالبہ کرنے والوں کے خلاف بھی ایکشن لینے کی اپیل کی گئی ہے۔ یو پی آر کی سفارشات کی کاپی ایکسپریس ٹریبیون کے پاس موجود ہے جس کے مطابق یہ تجاویز کینیڈا اور سی زیچیا کی طرف سے پیش کی گئی ہیں اور پاکستان نے یہ تجاویز نوٹ کی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی حکام نے متعلقہ قوانین پر سوچ بچارپر رضامندی ظاہر کی ہے۔ وزارتِ انسانی حقوق کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار کے مطابق پاکستان نے تجاویز نوٹ کی ہیں۔ یو پی آر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی طرف سے 2006ء میں متعارف کروایا گیا، جس کے مطابق اقوام متحدہ کے رکن ممالک میں انسانی حقوق کے معاملات کا پیریاڈک ریویو کیا جائے گا۔ ریویو کے بعد ریاستوں کو کچھ تجاویز بھی دی جائیں گی، جن کے ذریعے انسانی حقوق کے معاملے میں بہتری لائی جا سکے۔ 2008ء میں پاکستان کو 51 تجاویز دی گئیں جن میں سے پاکستان نے 43 منظور اور 8 مسترد کردیں۔ ان تجاویز میں شادی کے بغیر جنسی تعلقات کو قانونی شکل دینا، توہینِ مذہب کے قوانین کا خاتمہ، غیرت کے نام پر قتل کے مجرموں کو سزائیں دینے اور سزائے موت پر پابندی کی تجاویز شامل تھیں۔ 2012ء میں یو پی آر نے پاکستان کو 167 تجاویز دیں جن میں سے 126 منظور کی گئی تھیں۔ انسانی حقوق کے ایک علَم بردار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان کا ردعمل بہت حیرت انگیز ہے۔ کیونکہ اس سے قبل بھی یہ تجاویز دی گئیں لیکن پہلے تو کبھی انہیں قابلِ غور قرار نہیں دیا گیا۔ ان کا ماننا تھا کہ اقوام متحدہ اور پاکستان کے زمینی حقائق میں بہت فرق ہے۔ پاکستانی حکام مغرب کو خوش کرنے کے لیے اپنے آپ کو لبرل ظاہر کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں وہ اتنی ہمت نہیں کرسکتے کہ بچوں کی شادی، گھریلو تشدد اور دوسرے اہم مسائل پر قانون سازی کرسکیں، اس سے حکومت کا دوغلا پن ظاہر ہوتا ہے۔
(9 اپریل 2018ء)

Share this: