بے موقع

پیشکش: ابو سعدی
رات کے وقت ایک گیدڑ ایک گائوں میں داخل ہوا، دیکھا کہ ایک جگہ ایک مرغا بیٹھا ہوا ہے۔ کہنے لگا: میاں مرغے! ایک عصر سے اس گائوں میں آتا جاتا ہوں، تمہارے والد سے میرے تعلقات بہت گہرے تھے، ان کی آواز نہایت ہی سریلی تھی، وہ میری خاطر دو چار بانگیں دیا کرتے تھے اور میں خوش ہوکر چلا جاتا تھا۔ مرغا کہنے لگا: میں بھی اپنے والد سے کم نہیں، ذرا سنیے تو میری بانگ۔ یہ کہہ کر گردن اٹھائی، اور آنکھیں بند کرکے بانگ دینے ہی کو تھا کہ گیدڑ جھپٹا اور مرغے کو منہ میں لے کر بھاگ نکلا۔ جب اگلی بستی میں سے گزرا تو وہاں کے چند کتوں نے اسے دیکھ لیا اور اس کے پیچھے بھاگے۔ مرغا کہنے لگا: ان کتوں کو بلند آواز سے کہو کہ میں نے یہ مرغا تمہارے گائوں سے نہیں پکڑا ورنہ تجھے یہ چیر پھاڑ ڈالیں گے۔ گیدڑ کو بات پسند آگئی، لیکن جونہی اس نے منہ کھولا مرغا اڑ کر ایک درخت پر جا بیٹھا۔ گیدڑ کو بہت افسوس ہوا اور کہنے لگا: ’’لعنت اس منہ پر جو بے موقع کھل جائے‘‘۔ مرغے نے کہا: ’’لعنت اس آنکھ پر جو بے موقع بند ہوجائے۔‘‘

پیغام

1۔ وقت سب سے بڑا استاد ہے، یہ زندگی کے وہ سبق بھی سکھا دیتا ہے جو کوئی بڑے سے بڑا استاد بھی نہیں سکھا پاتا۔
2۔ جب تم سکون کی کمی محسوس کرو، تو اپنے رب کے سامنے توبہ کرو…کیونکہ یہ انسان کے گناہ ہی ہیں جو دل کو بے چین رکھتے ہیں۔
3۔ نگاہ کا عادل وہ شخص ہے جسے دوسروں کی ماں، بہن اور بیٹی میں اپنی ماں، بہن اور بیٹی نظر آئے۔
4۔ جو شخص سجدوں میں روتا ہے اسے تقدیر پر رونا نہیں پڑتا۔
5۔ گناہ کو پھیلانے کا ذریعہ بھی مت بنو… کیونکہ ہوسکتا ہے آپ تو توبہ کرلیں، پر جس کو آپ نے گناہ پر لگایا ہے وہ آپ کی آخرت کی تباہی کا سبب بن جائے۔
6۔ ایک آدمی نے ایک بزرگ سے پوچھا کہ جب ہماری قسمت پہلے سے لکھی ہوئی ہے تو ہمیں دعا مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟ بزرگ نے جواب دیا: ہوسکتا ہے کہ تیری قسمت میں یہی لکھا ہو کہ جب تُو مانگے گا تو پھر تجھے ملے گا۔
7۔ دوسروں کے محل میں غلامی کرنے سے بہتر ہے کہ انسان اپنی جھونپڑی میں حکومت کرے۔
8۔ ایک قبر کے کتبے پر کیا خوبصورت بات لکھی تھی: ’’پڑھ لو فاتحہ خدا کے واسطے… کل تم بھی محتاج ہوگے اس دعا کے واسطے۔‘‘
9۔ انسان کی مثال ریشم کے کیڑے جیسی ہے، جو اپنے آپ کو ریشم میں قید کرلیتا ہے اور پھر اس سے باہر نکلنے کی کوشش میں مرجاتا ہے، اور وہ ریشم جسے وہ خود بناتا ہے دوسروں کے کام آتا ہے۔
(انتخاب: قاری نجم السحر)

قطعات اکبر الٰہ آبادی

بے پردہ کل جو نظر آئیں چند بیبیاں
اکبرؔ زمیں میں غیرتِ قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو اُن سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا
……
لا مذہبی سے ہو نہیں سکتی فلاحِ قوم
ہر گز گزرسکیں گے نہ ان منزلوں سے آپ
کعبے سے بت نکال دیے تھے رسولؐ نے
اللہ کو نکال رہے ہیں دِلوں سے آپ
……
کہا احباب نے یہ دفن کے وقت
کہ ہم کیوں کر وہاں کا حال جانیں
لحد تک آپ کی تعظیم کردی
اب آگے آپ کے اعمال جانیں

جرمنی کا ادب

جرمنی میں 750ء سے پہلے کسی کتاب کا سراغ نہیں ملتا، البتہ شارلیمان(742ء۔ 814ء) کی وجہ سے جرمنی میں کچھ ذہنی حرکت پیدا ہوگئی تھی۔ اس نے تبلیغِ عیسائیت کی خاطر پادریوں سے کچھ دعائیں، مذہبی گیت اور دینی رسائل لکھوائے۔ سب سے پہلا رسالہ 780ء میں لکھا گیا، نوّے برس بعد ایک تاریخی نظم شائع ہوئی اور اس کے بعد ڈھائی سو برس میں صرف ایک درجن شعرا و ادبا پیدا ہوئے۔ 1050ء اور1350ء کے درمیانی عرصے میں صرف تیس اہلِ قلم کے نام ملتے ہیں۔ (ڈاکٹر غلام جیلانی برق)

آپ ہی کی جوتیوں کا صدقہ ہے

ایک مسخرے نے کسی تقریب کے موقع پر اپنے عزیز و اقارب کو مدعو کیا، جب وہ لوگ کھانے میں مصروف ہوگئے تو اس شخص نے اپنے نوکر کو حکم دیا کہ نظریں بچا کر ان سب کے جوتے اٹھا لے اور بازار میں جاکر فروخت کر آ۔ نوکر نے ایسا ہی کیا۔ لوگوں نے کھاتے وقت اس کی بہت تعریفیں کیں اور کہا:آپ نے ہم لوگوں کی خاطر بہت زحمت کی اور نہایت عمدہ عمدہ کھانے پیش کیے۔ اس شخص نے ہاتھ جوڑ کر نہایت عاجزی اور انکساری سے کہا”میں کہاں اس لائق ہوں کہ آپ لوگوں کی خاطر و مدارت کرسکتا۔یہ تو آپ ہی کی جوتیوں کا صدقہ ہے۔“
کھانے سے فارغ ہونے کے بعد جب ان لوگوں کو پتہ چلا کہ ہم لوگوں کی جوتیوں کو بیچ کر کھانے کی رقم ادا کی گئی ہے تو حیرت زدہ ہوگئے۔ اور اس طرح یہ کہاوت وجود میں آئی۔

Share this: