محمد اختر مسلمؔ کی یادیں

۔۔۔۔ محمد یاسر عرفات مسلم ۔۔۔۔۔۔

وہ ہستی جس نے زمانے کے سرد و گرم سے ہمیں محفوظ رکھا` جس کے وجود میں رحمتِ خداوندی ہم پر سایہ فگن رہی، اسے دنیا سے رخصت ہوئے چار سال بیت گئے۔ ابو جی 17ستمبر 2014ء کو وفات پا گئے تھے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ تقریباً عشاء کے وقت وہ اپنے پروردگار کے حضور حاضری کے لیے روانہ ہوئے اور اس جہاں کو قیامت تک کے لیے خیرباد کہا۔ ان کا انتقال راولپنڈی میں میرے پاس ہوا۔ ایک رات قبل خاص کر لاہور سے مجھ سے، میری اہلیہ اور بچوں سے ملنے آئے۔ شاید غالبؔ کے اس شعر کے مصداق:

جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

پہلی اولاد ہونے کے ناتے ان سے قربت بھی زیادہ رہی اور مزاج آشنائی بھی۔ شعور کی آنکھ کھولی تو گھر میں کتب ورسائل کی ریل پیل دیکھی اور علمی، ادبی اور سیاسی مباحث سنے۔ ابو جی کے مطالعے میں تنوع اور وسعت تھی۔ ان کے کتب خانے میں قرآن پاک کی بے شمار تفاسیر، سیرتِ طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسخے، دیگر دینی و ترقی پسند لٹریچر کے ساتھ ساتھ تاریخ، فلسفہ، سیاست، ادب، تصوف، سوانح عمری، خودنوشت اور شاعری کا ایک قابلِ ذکر ذخیرہ موجود ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی علمی مجلس میں کسی کتاب کا ذکر سنا ہو اور وہ ان کے کتب خانے میں موجود نہ پائی ہو۔ اکثر قریبی احباب کو تحفتاً کتابیں پیش کرتے تھے۔ انہوں نے ان مختلف مکاتبِ فکر کا مطالعہ اندھی تقلید کے بجائے کھلے ذہن اور آنکھوں سے کیا۔ فکر و تدبر کا تقاضا قرآن اپنے قاری سے کرتا ہے، اس تقاضے کو انہوں نے کماحقہٗ ادا کیا ۔
مکتوب نگاری ان کا خاصہ تھی، خط لکھتے اور خوب لکھتے۔ ان کا خط بھی بہت عمدہ تھا۔ مختلف حوالوں سے اہلِ علم و دانش سے خط کتابت کا سلسلہ جاری رہا جن میں سید ابوالاعلیٰ مودودی، جعفر شاہ پھلواروی، غلام جیلانی برق، ایم اسلم، مولانا غلام رسول مہر، غلام احمد پرویز، جاوید احمد غامدی، مختار مسعود، شیخ منظور الٰہی سمیت دیگر ارباب ِ فکر شامل ہیں۔ ان میں سے چند خطوط ہفت روزہ آئین میں شائع ہوچکے ہیں۔
کراچی میں علامہ اقبال کے بھتیجے شیخ اعجازمرحوم کے گھر پر ہر ہفتے اہلِ علم کی مجلس ہوتی تو باقاعدگی سے اس میں شرکت کرتے۔ کراچی میں ہی مولانا محمد طاسین صاحب سے بھی خصوصی تعلق تھا ۔
ابو جی تمام عمر فکرِاسلامی کے مبلغ اور شارح رہے۔ قرآن پاک، سیرتِ طیبہ، غالبؔ اور اقبالؔ ان کے پسندیدہ موضوعات رہے ہیں۔ محترم فیض احمد فیض مرحوم کے ’’لیل و نہار‘‘، محترم حنیف رامے مرحوم کے ’’نصرت‘‘، روزنامہ جنگ، ادارہ تحقیقاتِ اسلامی کے ’’فکرو نظر‘‘، اخبار جہاں، ہلال، المعارف، فرائیڈے اسپیشل، قومی ڈائجسٹ سمیت ملک کے دیگر مؤقر جریدوں و اخبارات میں ان کے شائع ہونے والے مضامین اور تحریر و تالیف کردہ کتب ’’شہیدِ کربلا‘‘ اور ’ ’قرآن اور انسانی حقوق‘‘ میں سرمایہ داری، جاگیرداری ، ظلم اور استحصال کے خلاف لکھتے رہے۔
علامہ جعفر شاہ پھلواروی سے خصوصی تعلق تھا۔ اکثر ان کی بہادر آباد کراچی میں رہائش گاہ پر ملاقات کے لیے جاتے۔ ایسی ہی ایک ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے کہ ضیاء الحق کا دور تھا، ایک روز ان کی موجودگی میں مولانا کوثر نیازی بھی علامہ سے ملاقات کے لیے تشریف لے آئے۔کوثر نیازی جب رخصت ہونے لگے تو علامہ ازراہِ مذاق انھیں کہتے ہیں کہ مولانا اب آپ’’دلاور‘‘ لکھیں ۔ کوثر نیازی نے ذوالفقار علی بھٹو پر ’’دیدہ ور‘‘ کے عنوان سے کتاب لکھی تھی۔ اسی طرح ایک زمانے میں ابو جی کی ملازمت نہیں تھی تو بتاتے تھے کہ اس مشکل گھڑی میں علامہ جعفر شاہ پھلواروی کے اس جملے نے ان کی بہت ہمت بندھائی کہ ’’آپ اپنے بچوں کے اَب ہیں، رَب نہیں لہٰذا پریشان نہ ہوں اور کوشش جاری رکھیں۔ علامہ
جعفر شاہ پھلواروی مولانا اسماعیل آزاد مرحومؔ کے ہمراہ کراچی میں ہمارے گھر بھی تشریف لا چکے تھے۔
یونیسکو نے جب پورے پاکستان میں کتابوں کی نمائش کا اہتمام کیا تو ابنِ انشاء مرحوم کے ساتھ ان نمائشوں کے منتظمین میں شامل تھے۔ 2001ء میں لاہور منتقل ہوئے تو چند سال اقبال اکیڈمی میں ریسرچ اسکالر کے طور پر بھی منسلک رہے۔ جبکہ زیادہ عرصہ نیشنل کنسٹرکشن کمپنی اور نجی اداروں میں انتظامی امور کے شعبوں میں ملازمت کی۔
1962ء میں ایک کتابچہ ’’شہید کربلا‘‘ تحریر کیا جس میں واقعہ کربلا کے انقلابی گوشوں سے پردہ اٹھایا ، 2008ء میں ایک کتاب’’قرآن اور انسانی حقوق‘‘ تالیف کی جسے علمی، سیاسی، ادبی اور سماجی حلقوں میں بہت سراہا گیا اور جس پر اردو اور انگریزی کے تمام اخبارات میں تبصرے شائع ہوئے۔ شان الحق حقی مرحوم کی ادارت میں شائع ہونے والی آکسفورڈ کی انگریزی اردو لغت کے مرتبین میں بھی شامل رہے۔
حنیف رامے صاحب سے خصوصی انس تھا۔ حینف رامے صاحب نے جب اپنے اخبار مساوات کو پیپلزپارٹی کا ترجمان بنایا تو ابوجی نے دامے درمے سخنے اس کے لیے کام کیا اور پیپلز پارٹی کے نظریات کی ترویج واشاعت میں اپنا کردار ادا کرتے رہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ نظریاتی وابستگی رکھتے تھے لیکن عملی سیاست، جماعتوں کی اندرونی سیاست اورگروہ بندی ان کے مزاج کے خلاف تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ نظریاتی اور عملی وابستگی رکھتے تھے لیکن جب سرمایہ داروں اور جاگیر داروں نے پیپلز پارٹی پر قبضہ کرلیا اور بھٹو صاحب بھی اقتدار کی غلام گردشوں میں گم ہوگئے تو پیپلز پارٹی کو خیرباد کہا کہ:
اس محفل سے خوش تر ہے کسی صحرا کی تنہائی
رپورٹنگ کی خداداد صلاحیت کے مالک تھے۔ نہ ٹیپ ریکارڈر استعمال کرتے اور نہ نوٹس لیتے، اس کے باوجود حرف بہ حرف رپورٹنگ کرتے۔ بہترین شعری ذوق کے حامل تھے ، برمحل اور موزوں شعر پڑھتے۔ سیکڑوں کی تعداد میں شعر یاد تھے۔ اکثر خود بھی شعر کہتے۔ قادرالکلام تھے، کسی بھی واقعے کو اس طرح بیان کرتے کہ سامع کو محسوس ہوتا جیسے یہ تمام واقعہ اس کے سامنے رونما ہورہا ہے۔ حسِِ مزاح بھی بہت عمدہ تھی۔ سندھی بہت روانی سے بولتے اور پنجابی میں جب اپنی علاقائی زبان میں بات کرتے تو ٹھیٹھ پنجابی لگتے، اور جب اردو بولتے تو سننے والے کو یوپی اور سی پی سے تعلق کا گمان ہوتا۔
والد محترم مضبوط اعصاب کے مالک تھے۔ سخت سے سخت حالات میں بھی ہمت نہ ہارتے اور صبر و شکر کا دامن نہ چھوڑتے۔ لوگوں کے کام کرکے خوشی محسوس کرتے۔ جس شخصیت پر سب سے زیادہ اعتماد اور محبت کرتے وہ ان کے عزیز ترین دوست مرزا حسن علی بیگ ہیں۔ بیگ صاحب بھی انھیں اسی قدر عزیز رکھتے تھے۔
فکری طور پر وہ ارتکازِ دولت اور جاگیرداری، سرمایہ داری اور ملاّئیت کے خلاف رہے۔ اسلام میں مختلف مکاتبِ فکر کے تکفیر سازی کے مشغلے ان کے لیے سوہانِ روح سے کم نہ تھے، اور ملّا کو اس تمام فساد کی جڑ سمجھتے تھے۔ 1970ء میں جب 113 مولوی حضرات نے فتویٰ جاری کیا کہ سوشلسٹ خارج از اسلام ہیں تو ہفت روزہ لیل و نہار فتویٰ نمبر (19اپریل1970ء) میں’’ ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا‘‘ کے عنوان سے ایک تحقیقی مضمون لکھا جس میں تاریخی حوالوں سے بیان کیا کہ ہمارے علماء حضرات کے درمیان بھی کفر کے فتووں کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔
اپنے نظریات اور عقائد کے حوالے سے مصلحت پسند نہ تھے، اگرچہ ان کے بہت سے رفیق این جی اوز میں جاکر انھی سامراجی قوتوں کے آلہ کار بن گئے جن کے خلاف وہ تمام عمر جنگ لڑنے کا اعلان کیا کرتے تھے، لیکن انہوں نے کبھی اپنے نظریات پر سمجھوتا نہیں کیا۔ ڈاکٹر حسن بیگ نے ایک جملے میں جو ان کے کتبے کے لیے انہوں نے تجویز کیا تھا، ان کی ساری زندگی کا نچوڑ بیان کیا ہے کہ ’’محمد اختر مسلمؔ جنہوں نے اپنے نام کے ساتھ ’’مسلم‘‘ کا اضافہ کیا، عمر رفتہ اسم باسمیٰ ہونا ثابت کیا‘‘۔ عمران خان کو پسند کرتے تھے اور اپنے اکثر مضامین اور کالموں میں ان کا دفاع کرتے تھے۔ لیکن میں ان سے کہا کرتا تھا کہ تحریک انصاف کا انجام بھی پیپلز پارٹی جیسا ہی ہوگا کہ نظریاتی کارکن پچھلی نشستوں پر ہوں گے اور اگلی صفوں میں سرمایہ دار اور جاگیر دار ہوں گے۔
انہوں نے تمام عمر اپنی بساط سے بڑھ کر ہمیں آسائشیں فراہم کیں۔ کتاب دوستی، علم کی قدر، جرأت اور ایثار جیسی خصوصیات کو ہماری تربیت کا حصہ بنایا۔ وہ تمام عمر اپنی محبت اور شفقت کا حق ادا کرتے رہے لیکن میں ان کی خدمت کا حق اس طرح ادا نہ کرپایا جس کے وہ حق دار تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور ہمیں ان کے لیے صدقہ جاریہ بننے کی توفیق عطا کرے، آمین۔

Share this: