ہاتھ میں یدبیضا

شہرِ اقتدار اسلام آباد سے ایک قاری نے اعتراض کیا ہے کہ پچھلے شمارے میں کسی بے نام شاعر کے ہاتھوں پامالی پر تو آپ نے پکڑ کی ہے لیکن ایسی بدحواسیاں تو بڑے نامور شاعروں سے بھی سرزد ہوئی ہیں، مثال کے طور پر عبیداللہ علیم کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیے:

کن ہاتھوں کی تعمیر تھا میں
کن قدموں سے پامال ہوا

عبیداللہ علیم بڑے شاعروں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے کئی مجموعے موجود ہیں، اور یہ دعویٰ بھی کہ ’’پہلا شاعر میرؔ ہوا اور اس کے بعد میں‘‘۔ ان سے کسی نے نہیں پوچھا کہ ’’قدموں سے پامال‘‘ کیسے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ انہیں بھی پامال یعنی ’پیروں سے روندنا‘ کا مطلب معلوم نہیں تھا، بس اچھا لگا اور پیروں میں باندھ لیا۔ کراچی کے ایک اور خوش فکر جوان شاعر کا یہ مصرع ملاحظہ کیجیے ؎

موسیٰ ؑ کے ہاتھ میں ید بیضا ہے اک چراغ

ہاتھ میں ید بیضا کا جواب نہیں۔ ’ید‘ تو ہاتھ ہی کو کہتے ہیں۔ اور تو اور حضرتِ بہزاد لکھنوی مرحوم کی ایک مشہور قوالی ہے جو فلم میں بھی لی گئی ہے، جس کا ایک مصرع ہے ’’ہم دل کو پکڑ کر بیٹھ گئے، ہاتھوں سے کلیجہ تھام لیا‘‘۔ کسی نے اعتراض کیا تھا کہ جب دونوں ہاتھ کلیجہ تھامنے میں صرف ہوگئے تو دل کو کس چیز سے پکڑا، کیا کسی چمٹے سے؟ ایسے اشعار سن کر سخن شناس سر کو پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ بہرحال، شاعری ہمارا میدان نہیں ورنہ آنجہانی عبیداللہ علیم کے دوسرے مصرع میں بھی ہاتھ ڈال دیتے۔
چند دن پہلے ایک کثیرالاشتہار اخبار میں بڑے پرانے صحافی اور تجزیہ نگار امتیاز عالم نے ’’اکیلا چنا بھاڑ نہیں جھونک سکتا‘‘ کے عنوان سے مضمون لکھا ہے۔ لکھنے والا اپنے مضمون کا کوئی بھی عنوان رکھ سکتا ہے، لیکن انہوں نے اسے محاورہ قرار دیا ہے۔ کہیں قارئین بھی ایسا ہی نہ سمجھ لیں اس لیے وضاحت ضروری ہے کہ کم از کم اردو میں تو ایسا کوئی محاورہ نہیں ہے۔ البتہ ’’بھاڑ جھونکنا‘‘ (جھوکنا) ضرور ایک محاورہ ہے، لیکن اس میں چنے کا کوئی کام نہیں۔ چنا اکیلا ہو یا ڈھیر، سب مل کر بھی بھاڑ نہیں جھونک سکتے، یہ کام تو ’بھڑ بھونجے‘ کا ہے۔ امتیاز عالم کو تسامح ہوا ہے۔ اصل محاورہ یہ ہے ’’اکیلا چنا بھاڑ نہیں پھوڑ سکتا‘‘۔ اس محاورے کے پس منظر میں یہ حکایت ہے کہ چنوں کو بھاڑ میں جھونک (صحیح ’جھوک‘) کر جو حشر کیا جاتا تھا اس کے خلاف ان میں بغاوت کی ایسی ہی لہر اٹھ گئی جیسی گاہے گاہے مجبور عوام میں اٹھتی اور بیٹھتی رہتی ہے اور وہ احتجاج پر اتر آتے ہیں، جس کے لیے عموماً ٹائر جلا کر سڑکوں پر بھاڑ کا منظر پیدا کیا جاتا ہے اور اربابِ اختیار اپنے رویّے سے ظاہر کرتے ہیں کہ ’’بھاڑ میں جائو‘‘۔ احتجاج کرنے والے چنوں کی خواہش تھی کہ بھاڑ پھوڑ دیا جائے تاکہ نہ ہوگا بھاڑ، نہ بھنیں گے چنے۔ لیکن جیسا کہ احتجاج کرنے والوں پر جب لاٹھی چارج ہوتا ہے تو عموماً سب بھاگ نکلتے ہیں، یہاں بھی باغی چنوں کا لیڈر جما رہا۔ پھر وہ بھی یہ کہہ کر بھاڑ میں کود گیا کہ ’’اکیلا چنا کیا بھاڑ پھوڑے گا‘‘۔ یوں ایک محاورہ وجود میں آگیا۔
بھاڑ جھونکنا (یا جھوکنا) کا مطلب ہے کوڑا کرکٹ ڈال کر بھاڑ کو گرم کرنا، بری طرح زندگی بسر کرنا، وقت ضائع کرنا، جیسے ’بارہ برس دلی میں رہے، بھاڑ ہی جھونکا کیے‘۔ ایک اور محاورہ ہے ’’بھاڑ سے نکلا بھٹی میں جھونکا‘‘۔ خواتین کا کوسنا ہے ’’بھاڑ چولہے میں جائے‘‘ یا ’’بھاڑ میں پڑے‘‘۔ رندؔکا شعر ہے:

ہم قفس میں ہیں بلا سے اگر آئی ہے بہار
آگ جنگل کو لگے، بھاڑ میں گلزار پڑے

بھاڑ میں جھونکنا یعنی آگ میں ڈالنا، ضائع کرنا، پھینکنا، نام نہ لینا جیسے ’’فلسفے کو بھاڑ میں جھونکیے‘‘۔ اردو میں ایک لفظ ’بھاڑا‘ عام ہے جس کا کوئی تعلق بھاڑ سے نہیں۔ یہ لفظ سنسکرت کا ہے جس میں ’’بھاٹک‘‘ تھا جو ہندی میں بھاڑا ہوا۔ مطلب محتاجِ وضاحت نہیں۔ بھاڑے کا ٹٹو بھی عام ہے۔ حاصلِ کلام یہ کہ چنا بھاڑ نہیں جھونکتا۔ علمی اردو لغت میں جھونکنا کا املا ’جھوکنا‘ ہے۔ ہم نہ جانے کس جھونک میں آکر امتیاز عالم کی تصحیح کرنے بیٹھ گئے، وہ اس سے ماورا ہیں۔
ہمارے ہم پیشہ ایک سینئر صحافی نے اطلاع دی ہے کہ وہ اپنے اخبار میں اسٹریٹ کرمنلز اور اسٹریٹ کرائم کے انگریزی الفاظ کی جگہ ’راہزن اور راہزنی، استعمال کرتے ہیں۔ یہ بہت اچھی بات اور قابلِ تقلید مثال ہے۔ انگریزی کے جن الفاظ کا متبادل اردو میں موجود ہے اسے ترجیح دینی چاہیے۔ قومی زبان اردو کو رائج کرنے کا شور تو ایک عرصے سے مچایا جارہا ہے لیکن خود اردو اخبارات اس پر توجہ نہیں دیتے۔ مثلاً سپریم کورٹ، نیشنل اسمبلی، گورنر ہائوس، سینیٹ، ڈویلپمنٹ اتھارٹی، میونسپل کارپوریشن، ای سی سی، فنانس بل وغیرہ ایسے الفاظ ہیں جن کا عام فہم متبادل موجود ہے۔ ہمارے صحافی بھائی اردو متبادل تلاش کرنے سے گریز کرتے ہوئے انگریزی الفاظ ہی چلا دیتے ہیں۔ پڑوسی ملک بھارت اور ایران میں ہندی اور فارسی میں متبادل تلاش کرلیے گئے ہیں۔ شروع میں مذاق بھی بنا، جیسے نکٹائی کا ترجمہ ’کنٹھ لنگوٹ‘ کیا گیا۔ یہ کام مسلمانوں ہی نے کیا تھا۔ ابوالکلام آزاد کا ہندی میں ترجمہ ’’مہا بکو چھٹیرا‘‘ گھڑ لیا گیا، یا وکیل کو ’بھاڑو‘ اور بڑے وکیل کو ’مہا بھاڑو‘ کیا گیا۔
اسٹریٹ کرائم کا چرچا عام ہے۔ اس کا بہت معقول متبادل ’راہزنی‘ اور کرمنل کا ’رہزن‘ موجود ہے۔ ویسے راہ زنی بڑا دلچسپ لفظ ہے، کسی راہ چلتی خاتون کو بھی راہ زن کہا جاسکتا ہے بشرطیکہ ردِعمل سے بچا جاسکے۔ ’زن‘ خاتون ہی کو کہتے ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے اپنے کئی شعروں میں زن کا لفظ استعمال کیا ہے مثلاً:

نے پردہ، نہ تعلیم نئی ہو کہ پرانی
نسوانیتِ زن کا نگہباں ہے فقط مرد
جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن
کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت
بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسہ زن
ہے عشق و محبت کے لیے علم و ہنر موت

اور علامہ کایہ مصرع تو ضرب المثل بن گیا ہے

وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

چنانچہ راہ زن لکھتے ہوئے یہ پہلو بھی مدنظر رہے۔ عربی میں راہزن کے لیے بڑا ثقیل لفظ ہے ’’قاطع الطریق‘‘۔ یہ اتنا مشکل ہے کہ شاید عرب بھی اس طریق پر نہ چلتے ہوں۔ شمیم جے پوری (مرحوم) کا شعر ہے:

رہزنو لٹ نہ جانا کہیں
میں نے دیکھے ہیں کچھ راہبر

ممتاز صحافی اور مدیر جناب احمد حسن نے ’چودھری‘ اور ’چوہدری‘ کے فرق پر توجہ دلائی ہے کہ کوئی چودھری لکھتا ہے اور کوئی چوہدری۔ چوہدری عموماً پنجاب میں لکھا جاتا ہے۔ اس کی وضاحت پہلے بھی کی جاچکی ہے، ایک بار پھر سہی۔ دراصل ’چودھ‘ ایک سرکاری منصب تھا۔ گائوں دیہات میں جو لگان وصول کیا جاتا تھا اسے چودھ کہتے تھے اور اسے سرکار کے لیے وصول کرنے والا چودھری کہلاتا تھا۔ عجیب بات ہے کہ اس کی مونث چودھرائن ہی کہلاتی ہے۔ برعظیم کے ہر علاقے میں چودھری ہیں۔ یہ بنگالیوں، ہندوئوں اور سکھوں میں بھی ہے۔ مسلم لیگ کے معروف رہنما چودھری خلیق الزماں تھے۔ بھارت کے وزیراعظم چودھری چرن سنگھ تھے۔ البتہ سندھیوں، بلوچوں اور پٹھانوں میں چودھری نہیں ہوتے۔ ویسے بہت سے چودھری ہوتے ہیں اور چودھراہٹ دکھاتے ہیں۔
طلبہ بھی کسی طرح ٹھیک نہیں ہورہے۔ ہماری مراد ان کی حرکتوں یا تعلیمی معیار سے نہیں، بلکہ یہ ہے کہ انہیں طلبا لکھا جارہا ہے۔ پہلے بھی عرض کیا تھا کہ ’’طلبا‘‘ طلیب کی جمع ہے۔ حیرت ہوئی کہ ایک بڑے عالم دین محترم عبدالرزاق اسکندر کی کتاب کا عنوان ہے ’’تحفظ مدارس اور علماء و طلباء سے چند باتیں‘‘۔ حضرت مولانا ایک اخبار میں ہر جمعہ کو دینی استفسارات کا جواب بھی دیتے ہیں۔ انہیں بخوبی معلوم ہوگا کہ ’’طلباء‘‘ کا مطلب کیا ہے۔ ان کی کتاب پر تبصرہ دارالعلوم کے علمی جریدے ’البلاغ‘ میں شائع ہوا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ تبصرے میں طلبہ کو طلبہ ہی لکھا گیا ہے۔ طلبا اور طلیب کا مطلب پہلے بیان کیا جاچکا ہے۔ یاد دہانی کے لیے ایک بار پھر سہی، طُلبا (ط پر پیش) طلیب کی جمع ہے جس کا مطلب ہے بہت ڈھونڈنے والا، چاہنے والا۔ طلب کا مطلب ہے ڈھونڈنا، جستجو کرنا، تلاش، مانگ، آرزو، خواہش وغیرہ۔ جب کہ طلبہ طالب کی جمع ہے۔ ویسے عربی میں طالب کی جمع طلاب مستعمل ہے، خاص طور پر طلبہ کے لیے۔

Share this: