اسلامی تصورِ جہاں اور جدید سائنس

نام کتاب: اسلامی تصورِ جہاں اور جدید سائنس
اسلام، سائنس، مسلمان اور ٹیکنالوجی
کے باہمی تعاملات پر مکالمہ
افکار: پروفیسر سید حسین نصر (یو ایس اے)
مرتب: ڈاکٹر مظفر اقبال (کینیڈا)
مترجم: انجینئر اطہر وقار عظیم
صفحات: 264 قیمت 400روپے
ناشر:ادارہ مطبوعات طلبہ1۔اے زیلدار پارک، اچھرہ، لاہور
فون:042-37428307- 0335-4014015
گہری علمیت کی حامل اور فکری کتابیں کم ہی چھپتی ہیں، زیرِ نظر کتاب ایسی بلند پایہ فکر کی حامل کتاب ہے جو ادارہ مطبوعات طلبہ کی طرف سے شائع ہوئی ہے اور عالم اسلام کے محترم اسلامی اسکالر اور فلاسفر جناب سید محمد حسین نصر کے افکار سے آگاہی بخشتی ہے۔
سید محمد حسین نصر 7اپریل 1933ءکو تہران (ایران) میں پیدا ہوئے۔ پچاس سے زائد کتب کے مصنف ہیں اور اسلامی سائنسز، اسلامی فلسفہ، تصوف، شاعری، ماحولیات اور اسلامی مابعد الطبیعیات کے حوالے سے سیکڑوں مقالات تحریر کرچکے ہیں۔
کتاب کے مترجم انجینئر اطہر وقار عظیم تحریر فرماتے ہیں:
”گزشتہ دو صدویوں سے، جدید(مغربی) سائنس اور ٹیکنالوجی نے اسلامی دنیا کو انفرادی اور اجتماعی لحاظ سے، فکری اور عملی محاذوں پر متاثر اور مسحور کرنا شروع کردیا ہے، جس کی وجہ سے مسلمانوں کو اپنی ظاہری اور باطنی زندگیوں میں، تضادات بھرے کھچاؤ اور مختلف قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اگرچہ مسلم معاشروں میں اہلِ فکر و نظر حضرات نے برسوں اسی غور و فکر میں صرف کیے ہیں کہ اس یک طرفہ ثقافتی اور تہذیبی یلغار کا بہترین جواب کس طرح دیا جاسکتا ہے؟ لیکن اگر بنظر غائر بھی دیکھا جائے تو گزشتہ ساٹھ برسوں میں اس چیلنج کا جواب سب سے مدلل، ٹھوس اور اصیل (original)طریقے سے پروفیسر سید حسین نصر کی طرف سے دیا گیا ہے۔ یہ یقیناً مبالغہ آرائی نہیں ہے، واقعتاً گزشتہ پچاس برسوں میں پروفیسر نصر کی تحریروں نے سب سے زیادہ جامع اور مدلل انداز سے اسلام اور سائنس کے مابین مثبت تعامل کی راہیں تلاش کی ہیں۔ نصر نے اگر جدید سائنس پر تنقید کی ہے تو وہ بھی ٹھوس دلائل کی بنیادوں پر کی ہے۔ انہوں نے جدید مغربی سائنسی فکر کی فلاسفی، تارےخ اور اسلامی سائنسی روایت کے حوالے سے انتہائی گہرائی پر مبنی علم کے ساتھ بات کی ہے، جس کے تحت وہ مسلسل اس امر پر زور دیتے آئے ہیں کہ مسلمان جدید سائنس کا مطالعہ کریں اور پھر اس پر اسلامی تصورِ جہاں، مشاہدہ کائنات اور تناظرِ عالم کے لحاظ سے تنقید و جرح کریں۔
اس معاملے میں پروفیسر نصر کی سوچ کافی واضح ہے، جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے ان کی سوچ کا خلاصہ درج ذیل نقاط میں یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے:
-1جدید (مغربی) سائنس اس کائنات میں موجودہ فطری نظم (order)کی وضاحت کرنے والی واحد ”سائنس“ نہیں ہے۔ اس کے بجائے یہ محض فطری سائنس کی ایک ممکن اور جزوی تعبیر و تفسیر ہے، جو کہ اپنی طرف سے طے کردہ مفروضاتی (Assumptional)نظام کے دائرۂ کار میں ہی کام کرتی ہے۔
-2اسلامی تہذیب مغربی سائنس اور ٹیکنالوجی کے حصول کی دوڑ میں اُس وقت تک ہم پلہ نہیں ہوسکتی جب تک وہ خود کو تباہ و برباد نہ کرلے۔ کیونکہ جو اہلِ فکر و نظر حضرات اسلام کی مذہبی فکر اور جدید سائنس کی ماہیت (فطرت) سے واقف ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ جدید سائنس اور اسلامی تصورِ جہاں کے مابین براہِ راست تصادم کی کیفیت موجود ہے۔
-3جدید سائنس اور ٹیکنالوجی نہ تو غیر جانب دار ہے اور نہ ہی کسی اقداری نظام سے آزاد (نیوٹرل)ہے، لہٰذا یہ سائنس بھی لازماً اپنے ماننے والوں اور استعمال کنندگان (وصول کنندگان) پر ایک مخصوص تصورِ جہاں اور اقداری نظام کو تھوپتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نصر اصرار کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو اسلامی فکری روایت کی مدد سے حاصل شدہ فکری و اخلاقی ہدایات کی روشنی میں جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کا سامنا کرنا چاہیے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان جدید سائنس میں مہارت حاصل کریں، نہ کہ اس سے نظریں چرائیں۔ لیکن پروفیسر نصر یہ بھی چاہتے ہیں کہ اسلامی فکری روایت کی روشنی میں جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کو پرکھیں اور عام لوگوں کے سامنے یہ واضح کریں کہ جدید مغربی سائنس حقیقت میں کیا ہے؟ اور کیا نہیں ہے؟ اور اس سلسلے کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے مسلمان اسکالرز، دانشور (حکمائ) اور سائنس دان، آفاقی (Sacred) اور معتبر اسلامی سائنس تخلیق کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
پروفیسر نصر پچاس برس سے جدید سائنس اور ٹیکنالوجی پر تسلسل کے ساتھ تنقید کرتے آئے ہیں اور اسلامی فکری روایت میں موجود ”حکمتِ خالدہ“ (Perennial Philosphy) کو استعمال کرتے ہوئے امثال کے ذریعے ہمیں سمجھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے وہ کون کون سے پہلو ہیں جو کہ فکر و نظر میں فساد برپا کررہے ہیں۔ بہت سے مسلمان ان کے خیالات سے متفق بھی ہیں، لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جنھوں نے نصر صاحب کی جدید مغربی سائنس کے متبادل بیانیے (یعنی معتبر اسلامی سائنس) کی تخلیق کو رَد کرتے ہوئے اسے ”ماضی پرستی“ قرار دیا ہے۔
بہرحال، پروفیسر نصر کی فکر سے اختلاف کیا جاسکتا ہے۔ ان کی فکر کو یکسر نظرانداز نہیں کرسکتے۔
ان تمام تناقضات اور تناظرات کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو بہت سی وجوہات کی وجہ سے یہ نہایت دلچسپ کتاب ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر سات ابواب پر مشتمل ہے جو کہ آپس میں موضوعاتی اعتبار سے گہرے اور مربوط ربط کے ساتھ ملحق ہیں۔ اس کتاب کا مرکزی موضوع ”اسلام، سائنس، مسلمان اور ٹیکنالوجی“ کے بنیادی مقتضیات و متعاملات کا جائزہ ہے۔ یہ تمام اجزاءترتیب کے ساتھ مرتب کیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے قاری کو کتاب کے مرکزی حصے (جوکہ پروفیسر نصر اور مظفر اقبال کے مابین، چار گفتگوؤں پر مشتمل ہے) کے ساتھ جوڑے رکھتے ہیں۔ اس کتاب میں ”کائنات (عالم) کے سائنسی مطالعے“ کے حوالے سے سید حسین نصر کے مقالے (باب نمبر 2) کو شامل کیا گیا ہے۔ جب کہ کتاب کا باب نمبر 7 ”اسلامی تصورِ جہاں اور جدید سائنس“ کے موضوع پر اس کلیدی خطبے پر مشتمل ہے جو کہ سید حسین نصر نے مارچ 1995ءمیں اسلام آباد میں دیا تھا۔
چنانچہ دورِ حاضر میں اسلام، سائنس اور ٹیکنالوجی کے مابین تعامل کی بحث کو سمجھنے کے لیے یہ کتاب ناگزیر ہے۔ خاص طور پر اُن افراد کے لیے جو جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی طرف سے اسلامی تہذیب و تمدن کو دیے گئے فکری اور عملی چیلنجز کو گہرائی کے ساتھ سمجھنا چاہتے ہیں اور ان کا حل بھی کھوجنا چاہتے ہیں، کیونکہ دورانِ گفتگو پروفیسر نصر نے اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے جدید مغربی سائنس اور ٹیکنالوجی کے جواب میں دیے گئے چیلنجز کے ممکنہ حل (جوابات) کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی طرف سے سائنس اور ٹیکنالوجی کو سمجھنے اور اپنانے کے حوالے سے مشکلات اور مخمصوں کا ذکر تازگی بھرے انداز میں کیا ہے۔
باہمی انٹرویو کی طرز پر کی گئی گفتگو کی اپنی معنویت، جاذبیت اور اثرپذیری ہے۔ کیونکہ پروفیسر مظفر اقبال کی طرف سے پوچھے گئے سوالات نے پروفیسر نصر کو پورا پورا موقع فراہم کیا ہے کہ وہ تفصیل کے ساتھ ان موضوعات پر اپنا مؤقف بیان کرسکیں اور متبادل بیانیے کا خاکہ نظری، فکری اور عملی لحاظ سے ہمارے سامنے پیش کرسکیں۔ جس سے یوں لگتا ہے کہ جیسے پروفیسر مظفر اقبال نے ہمارے دل اور دماغ میں موجود پوشیدہ سوالات اور خدشات کو زبان دے دی ہے۔ مظفر اقبال کی طرف سے بیان کردہ سیاق و سباق (باب اوّل)، جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے، موجودہ پڑھے لکھے مسلمانوں کی سوچ اور سنجیدگی کی بھی عکاسی ہمارے سامنے کرتا ہے۔ اس میں پروفیسر نصر کے اسلامی سائنس کی تخلیق کے متبادل بیانیے پر تنقید (جوکہ مسلم سیاسی اشرافیہ اور ضیاءالدین سردار کی طرف سے کی گئی ہے) کو مؤثر انداز میں ہمارے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ اس لیے بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ پروفیسر نصر کی مظفر اقبال کے ساتھ کی گئی گفتگوئیں انتہائی وسعت کی حامل فکری و عملی جہتوں کو ہمارے سامنے کھولتی ہیں، جن کا فہم نہ صرف ہماری فکری و اجتماعی زندگیوں کے لیے اہم ہے بلکہ بنی نوع انسان کے مستقبل کے لیے بھی باعثِ رحمت ہے۔ پروفیسر نصر نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے اپنے مؤقف کو سنجیدگی اور بامعنی انداز سے بیان کرکے عظیم ملّی خدمت سرانجام دی ہے۔ میں نے بھی اس کتاب کو اردو کے قالب میں ڈھالنے کی مد میں اللہ کی دی گئی توفیق سے کوشش کی ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ یہ کتاب مسلمانوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے مثبت اور نتیجہ خیز مباحث کا راستہ ہموار کرے گی ۔ (ان شاءاللہ)“
کتاب کے تعارف میں جناب اطہر وقار عظیم تحریر فرماتے ہیں:
”یہ کتاب تین باہم، متعلقہ اور مربوط اجزاءپر مشتمل ہے، جن سے اسلام، سائنس، مسلمان اور ٹیکنالوجی میں باہمی متعاملات کے حوالے سے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی گئی ہے، لہٰذا اس میں پہلا حصہ دو ابواب پر مشتمل ہے جو کہ آگے بیان کردہ (مزید) چار گفتگوؤں کے لیے بنیادی ڈھانچے کی بنیادیں فراہم کرتا ہے۔ اس کے تحت پہلے باب میں ان گفتگوؤں کا پس منظر (سیاق و سباق) ڈاکٹر مظفر اقبال نے نہایت واضح اور مؤثر انداز میں بیان کیا ہے، جس کی وجہ سے ان گفتگوؤں کو وسیع تر تناظر میں اسلام اور سائنس کے مابین جاری مکالمے کے حوالے سے بیان کیا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد سید محمد حسین نصر کا ایک مضمون ”مطالعہ عالم برائے سائنسی مضمون“ شامل کیا گیا ہے، جس میں خدا (اللہ) ، عالم (جہان) اور انسان کے مابین، الحق پر مبنی ”تعلق و تعامل“ کی وضاحت کی گئی ہے۔ یوں وہ تصوراتی ڈھانچہ ابھر اور نکھر کر سامنے آتا ہے جن کے بارے میں مزید بات چیت باقی چار گفتگوؤں میں بیان کی گئی ہیں۔
اس کتاب کا دوسرا حصہ اُن گفتگوؤں (انٹرویوز) پر مشتمل ہے جو کہ سید محمد حسین نصر اور مظفر اقبال کے مابین سال 2003ءسے 2007ءکے عرصے میں ہوئی تھیں۔ اگرچہ یہ انٹرویوز اپنی اصل حالت میں معروف جریدے ”اسلام اور سائنس“ کا حصہ بن چکے ہیں لیکن انہیں اکٹھے ایک جگہ کتابی صورت میں پہلی دفعہ پیش کیا جارہا ہے۔ لہٰذا یہ مکالمے جہاں ایک طرف اسلام اور سائنس کے مابین تعامل کے حوالے سے جاری مباحثے کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں، وہاں مسلم دنیا میں گزشتہ دو سو برسوں میں جدید سائنس اور ٹیکنالوجی اپنانے اور برتنے کے حوالے سے اختیار کردہ رویوں کی بھی وضاحت کرتے ہیں جس کے تحت نہ صرف دورِ جدید بلکہ اس سے بھی پیشتر اسلامی تہذیب میں موجود معتبر اسلامی سائنس اور موجودہ جدید سائنس کے مابین تفاوت کی بھی وضاحت ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ ان گفتگوؤں کے ذریعے حیاتیاتی مبدات کے اسلامی پہلوؤں، جدید سائنس اور ٹیکنالوجی اور اسلامی تہذیبی تناظر کے حوالے سے اثرات کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔
اس کتاب کا تیسرا حصہ سید محمد حسین نصر کی ”اسلامی تصور جہاں اور جدید سائنس“ کے عنوان سے دیئے جانے والے کلیدی، افتتاحی خطبے کے متن پر مشتمل ہے جو کہ انہوں نے مارچ 1995ءمیں اسلام آباد میں بین الاقوامی مجلس (کانفرنس) برائے ”21ویں صدی میں اسلامی اجتماعیت میں سائنس کا کردار“ میں شرکت کے دوران دیا تھا، اور یہ مجلس ہی وہ موقع بنی تھی جہاں ان دونوں اسکالرز (سید محمد حسین نصر اور مظفر اقبال) کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع ملا، جس کے بعد دونوں کے مابین باہم طویل دورانیے کے حامل روحانی، فکری اور جذباتی تعلق کا آغاز ہوا ، جو اب تک جاری و ساری ہے۔
بہرحال موضوعاتی اعتبار سے یہ کتاب ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ اس میں متنوع امور پر بحث کی گئی ہے، لیکن اس موضوعاتی تنوع کے باوجود اس کتاب میں ایک خاص قسم کی تکرار موجود ہے جس سے بچا نہیں جاسکتا تھا، اور پھر اس تکرار کا بنیادی مقصد جہاں مرکزی موضوع کی اہمیت کو اُجاگر کرنا تھا وہاں یہی تکرار مرکزی موضوع سے جڑی مختلف جہتوں اور پہلوؤں کو بھی نمایاں کرتی ہے اور ان گفتگوؤں میں موجود بیانیے کو اور زیادہ محکم بنیادوں پر استوار کرتی ہے۔ یہ کتاب اپنی تدوین کے لحاظ سے بھی کثیرالجہت ہے، کیونکہ اس میں ایک تحقیقی مقالے (مضمون)، مکالموں اور ایک کلیدی خطبے (تقریر) کو ایک جگہ جمع کردیا گیا ہے۔ بہرحال یہ اُمید کی جاسکتی ہے کہ یہ گوناگوں رنگارنگی اور امتزاج اس کتاب کو ایک وسیع تر حلقۂ اثر سے روشناس کروانے کا موجب بنے گا۔“
محتویاتِ کتاب درج ذیل ہیں:
”سیاق و سباق“مظفر اقبال
”عالم کا بطور سائنسی (مضمون) مطالعہ“، سید حسین نصر
چار گفتگوئیں
”اسلام، سائنس اور مسلمان“
”اسلام، مسلمان اور جدید ٹیکنالوجی“
”ماحولیاتی بحران کا سامنے کرتے ہوئے“
”حیاتیاتی مبدّات کی گتھی سلجھاتے ہوئے“
صدارتی خطبہ
”اسلامی تصورِ جہاں اور جدید سائنس“
لاریب یہ ایک عمدہ قابلِ مطالعہ کتاب ہے جو نظری افق کو وسیع کرتی ہے۔ مجلّد ہے اور سفید کاغذ پر عمدہ طبع ہوئی ہے۔

سید محمد حسین نصر

انجینئر اطہر وقار عظیم

عالمی شہرت یافتہ مسلم اسکالر، سید محمد حسین نصر 7اپریل 1933ءکو تہران کے جنوب میں، سید ولی اللہ کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کے والد، ایران کے شاہی معالج اور معروف ماہر تعلیم تھے۔ آباؤ اجداد کا تعلق کاشان سے ہے۔ ابتدائی تعلیم تہران سے حاصل کی۔ ثانوی تعلیم کے لیے امریکہ بھیج دیے گئے۔ جہاں انہوں نے نیو جرسی کے علاقے ہائیٹ ٹاؤن کے معروف ادارے پیڈی اسکول سے اعلیٰ ثانوی تعلیم حاصل کی حتیٰ کہ 1950ءمیں وہاں سے گریجویٹ کا امتحان اعزازی نمبروں اور امتیازی کارکردگی کے ساتھ پاس کیا جس کے نتیجے میں انہیں MITسے تحصیل علم کا موقع ملا جہاں انہیں Giorgio de Santillana اور دیگر مکتب روایت سے جڑے صوفی اور بزرگ شخصیات کی تحریریں پڑھنے کا موقع ملا۔ ان میں سب سے نمایاں نام فرتھ جوف شواں (جن کا اسلامی نام شیخ عیسیٰ نور الدین احمد العلوی ہے) کا ہے، فرتھ جوف شواں کی فکر نے سید محمد حسین نصر کی آئندہ زندگی کا رُخ متعین کیا۔ پروفسیر نصر نے فرتھ جوف شواں کی شاگردی اختیار کرلی اور یہ سلسلہ 50سال تک جاری و ساری رہا۔ MITسے گریجویٹ کرنے کے بعد آپ نے 1956ءمیں ارضیات اور جیوفزکس میں ماسٹر کی ڈگری بھی حاصل کی ،لیکن اس کے بعد آپ نے پی ایچ ڈی کے لیے طبیعیات کے بجائے سائنس کی تاریخ جیسے مضمون کا انتخاب کیا اور ڈاکٹریٹ کے لیے معروف تعلیمی ادارے ہارورڈ چلے گئے۔ انہوں نے ڈاکٹریٹ کا مقالہ، عالمی شہریت یافتہ سائنسی تاریخ کے پروفیسر جارج سارٹن (George Sarton)کی سربراہی میں لکھنے کا فیصلہ کیا لیکن بدقسمتی سے جارج سارٹن اس دوران فوت ہوگئے۔ چنانچہ انہوں نے اپنا تحقیقی مقالہ ہملٹن گب اور ہیری ولفسن کی رہنمائی میں مکمل کیا۔
جب آپ نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری (سند) حاصل کی، اس وقت آپ کی عمر محض 25سال تھی۔ آپ نے دورانِ تعلیم ہی ہارورڈ یونیورسٹی میں تدریس شروع کردی تھی اور محض 30سال کی عمر میں آپ مکمل پروفیسر بن چکے تھے۔تعلیم کی تکمیل کے بعد آپ واپس اپنے وطن ایران آئے اور تہران یونیورسٹی میں پروفیسر کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ سال 1972ءمیں تہران میں آریا مہر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر بھی رہے۔ 1970ءکی دہائی میں ملکہ ایران فرح پہلوی نے انہیں شاہی (Imperial)اکادمی برائے فلاسفی (ایران) کا سربراہ مقرر کیا۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی منفرد درس گاہ تھی جہاں اسلامی فلسفے اور مکتب روایت کی تدریس عصر حاضر کے تناظر میں دی جاتی تھی۔
انقلاب ایران کے بعد واپس امریکہ آگئے، یہاں کچھ عرصہ انہوں نے ایڈن برگ اور ٹمپل یونیورسٹی میں تدریس کا سلسلہ جاری رکھا اور بالآخر سال 1984ءسے جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے منسلک ہوگئے،جہاں وہ گزشتہ 30برسوں سے اسلامی علوم کے پروفیسر کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔ سید محمد حسین نصر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ پہلے غیر مغربی مسلمان اسکالر ہیں جنہوں نے (Grifford lectures) گریفورڈ لیکچر (خطبات) دیے ہیں۔سید محمد حسین نصر پچاس سے زائد کتب کے مصنف ہیں اور اسلامی علوم، اسلامی فلسفہ، تصوف، ماحولیات اور اسلامی ما بعد الطبیعیات کے حوالے سے سیکڑوں مقالات تحریر کرچکے ہیں۔ آپ کی چیدہ چیدہ کتب یہ ہیں۔
*Islam in the Modern Word.
*Islam and the plight of Modern Man.
*Ideals and the Realities of Islam.
*An introduction to Islamic Cosmological Doctrines.
*Knowledge and the Sacred.
*Islamic life and Thought.
*Sufi Essays
*Sadar al-Din Shirazi and his Transcendent Theosophy
*A Young Muslim’s Guide to the Modern World.
*A need for a Sacred Science.
*Traditional Islam in the Modern World.
*Man and Nature: The Spiritual crisis in the Modern Man.
*The Garden of Truth.
*Three Muslim Sages.
*Science and Civilization in Islam.
*Islamic Science: An illustrated Study.
*Religion and the order of Nature.
*Muhammad (PBUH):Man of God.
*The heat of islam: Enduring values for humanity.
*Islamic Philopsophy from its Origion to the Present.
*The Pilgrimage of life and the Wisdom of Rumi.
*Islam, Religion, History and Civilization.
*Islam, Science, Muslims and Technology.
*The Essential of Seyyed Hussain nasr.
*The Study Quran.

ڈاکٹر مظفر اقبال

معروف محقق اور اسکالر (ڈاکٹر) مظفر اقبال 3دسمبر 1954ءکو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم لاہور سے حاصل کی۔ گریجویشن پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری سال 1983ءمیں Saskatchewan (کینیڈا) سے، کیمیا میں حاصل کی۔آپ نے 9سال کیمیا کے شعبے میں کام کرنے کے بعد اپنے پسندیدہ شعبے تاریخ، فلسفے اور اسلامی، فکری و روحانی روایت کے ساتھ خود کو منسلک کیا۔ 1984ءسے لے کر 1990تک آپ نے consinwinمیڈی سن میں اردو پڑھائی۔ اس دوران اردو کے دو ناول ”انخلا“ اور ”انقطاع“ بھی تحریر کیے۔ 1980ءکی ہی دہائی میں انہوں نے لاطینی امریکہ کے مختلف شعراءکے کلام کو اردو کے قالب میں ڈھالا اور اس خطے کا تعارف، باقی دنیا سے اپنے اَدبی مضامین کے ذریعے کروایا۔ 1990کی دہائی سے لے کر اب تک اسلام اور جدیدیت کے تعامل کے حوالے سے سو سے زائد مقالات اور مضامین، مختلف علمی اور تعلیمی رسالہ جات اور جرائد کی زینت بن چکے ہیں۔ آپ ایک عشرے تک پاکستانی اخبار میں بھی لکھتے رہے ہیں۔ ان کا کالم(Quantum Notes) کے عنوان سے شائع ہوتا تھا۔ انہوں نے 1990ءکی دہائی میں پاکستان میں فروغ سائنس کے حوالے سے قائم کردہ ادارے COMSTECH کے جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے بھی فرائض سر انجام دیئے، اس دوران انہوں نے سنجیدہ سائنسی جرائد اور بین الاقوامی مجالس (کانفرنسوں) کے انعقاد کا بھی اہتمام کیا ۔ 1999ءمیں پاکستانی کی سائنسی اشرافیہ اور بیورو کریسی کے رویوں سے نا امید ہوکر کینیڈا میں مستقبل سکونت اختیار کرلی انہوں نے البرٹا میں اسلامی سائنس اور سائنسی علوم کے فروغ کے لیے ادارہ قائم کیا،جس کا نام ” مرکز برائے اسلام اور سائنس“ رکھا۔ انہوں نے 2003ءمیں تحقیقی جریدے ”سائنس اور اسلام“ کا اجراءکیا، جسے اہل علم حلقوں نے اسلامی فکری ارتقاءکے لحاظ سے نہایت سنجیدہ اور ایک موثر کوشش قرار دیا۔
مظفر اقبال اردو اور انگریزی میں تحریر کردہ کتب کی فہرست درج ذیل ہے۔
-1جنگ آزادی سے حصول آزادی تک (سنگ میل پبلی کیشنز 1977)
-2انخلا (تقسیم ہند کے بعد ہجرت)1988(دی سرکل)
-3انقطاع (تقسیم ہند کے بعد ہجرت) 1994لیوبکس
-4ہرمن ملی وائس: حالات زندگی اور کام (1995-1996)
*From Sad Generation to a Lonely Tigers.
*Towards Understanding the Quran
*Islam and science (Adlershot ash Gate)
*The Making of Islamic Science, 2009.
*Dew on Sun Burnt Roses.
*Quantum Notes.
*Dawn in madinah.
*Definitve Encounter, Islam, Muslim and West.
*Colors of Loneliness: An anthology of Pakistan Literatur.
*Pakistan Literature, Vol#1,2 and 4
*Islam and Science, Historical and Contemporary Perspectives, 4#vol’s aldershot: Ashgate2011
آپ کی حالیہ علمی سرگرمیوں میں سب سے معتبر کام، قرآنی انسائیکلو پیڈیا کی تیاری ہے۔
*Integrated Ensyclopedia of Quran.

Share this: