ایک کہانی …نئی یا پرانی؟

وقار خان

جناب وقار خان روزنامہ ”دنیا“ کے کالم نگار ہیں۔ انھوں نے دو قسطوں میں ایک واقعہ تحریر کیا ہے جس سے پاکستان میں کرپشن کی حقیقی صورت حال ظاہر ہوجاتی ہے۔ یہ کہانی جنرل ایوب کے”دورِ جبر“اور پاکستان کے پہلے مارشل لاء کے زمانے کی ہے۔ اسی ضمن میں ”حیاتِ مودودی“ کا ایک گوشہ بھی سامنے آگیا ہے۔
”جانے کیوں سات سمندر پار سے صحافی دوست فیاض ولانہ نے راکھ میں دبی چنگاریوں کو ہوا دی ہے، کن حالات نے انہیں سوشل میڈیا پر ماضی کا ایک ناخوشگوار قصہ یاد کرانے کی تحریک دی اور ہمارا دل اسے دہرانے کو کیوں چاہا ہے؟ بیتے دنوں کی یہ داستان ہم نے یوں درازکی تھی:
فیلڈ مارشل ایوب خان چکوال کے نواحی قصبے خان پور کی شکارگاہ کو پسند فرماتے تھے۔ آپ نے دوران اقتدار دلجبہ کی خوبصورت پہاڑیوں کو چودہ مرتبہ شکار کے لیے عزت بخشی۔ چکوال اُس وقت ضلع جہلم کی پسماندہ سی تحصیل تھی۔ جونہی صدر کے شکار کا بگل بجتا، ڈپٹی کمشنر جہلم نواب زادہ یعقوب خان ہوتی محکمہ مال چکوال کو انتظامات کا حکم صادر کرتے، اور چکوال کے پٹواری اور تحصیل دار اس مملکتِ خداداد کی اعلیٰ ترین روایات کے عین مطابق سرکاری فرائض چھوڑ کر اپنی جیب سے وی وی آئی پی شکار اور کھانے کے انتظامات میں جُت جاتے، کیونکہ ماضی ہو یا حال، یہی وطن عزیز کے آئین اور قانون کا اصل چہرہ بھی ہے اور سرکاری ملازمین کی نوکریوں کی ضمانت بھی۔ کئی دن تک انتظامات کا سلسلہ جاری رہتا، کراچی کے فائیو اسٹار ہوٹل سے کھانے کا انتظام کیا جاتا اور دیگر دور دراز کے شہروں سے وی آئی پی فرنیچر، کراکری اور قالین وغیرہ کرائے پر حاصل کیے جاتے۔ صدر ایوب خان لشکر ِرفقاء کے جلو میں صبح سویرے پہنچ جاتے، ڈوہمن ریسٹ ہائوس میں ناشتا کرتے، دن بھر شکار سے لطف اندوز ہوتے، کھانا تناول کرتے اور واپس چلے جاتے۔ یہ 1963ء کی بات ہے۔ تب گھنی اور نوک دار مونچھوں والا چوھدری شاہ نواز خان نامی ایک تنومند نوجوان موضع خان پور میں پٹواری تعینات تھا۔
ہمارے دیگر حکمرانوں کی طرح ایوب خان کو بھی ملک سے کرپشن کے خاتمے کا شوق چرایا۔ اس مقصد کے لیے ان کی قائم کردہ انسپکشن ٹیم کی بڑی دھومیں تھیں۔ یہ ٹیم اعلیٰ فوجی و سول افسران اور آڈیٹر جنرل پر مشتمل تھی۔ چند غیر ملکی صحافی بھی ان کے ساتھ ہوتے۔ اس ادارے نے قائم ہوتے ہی اپنی تیز دھار درانتی سیدھی کرپشن کی جڑوں میں رکھ دی اور ملک سے بدعنوانی اور رشوت کو بالکل اسی طرح ختم کردیا جیسے ہماری ہر حکومت ان خرافات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہے۔ یہ سخت مزاج لوگ سرکاری دفاتر میں گھس جاتے اور اپنی چھڑیاں میزوں پر مار مار کر افسران اور اہلکاروں سے سخت بازپرس کرتے اور ان کو بے عزت بھی کرتے۔ اس انسپکشن ٹیم نے ملک کے طول و عرض میں کھلی کچہریاں منعقد کیں، موقع پر لوگوں کی شکایات سنیں اور بدعنوانیوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کے علاوہ سرکاری ملازمین کو برموقع ذلیل بھی کیا۔ کرنا خدا کا کیا ہوا کہ اسی صدارتی شکار گاہ موضع خان پور میں اس کرپشن دشمن ٹیم نے کھلی کچہری کے انعقاد کا اعلان کردیا۔ مقامی انتظامیہ کے ہاتھ پائوں پھول گئے۔ حسب ِ روایت پٹواریوں نے مروجہ طریقے (از گرہ خود) سے کھلی کچہری اور ٹیم کے کھانے پینے کا بندوبست کیا۔ کھلی کچہری نے جلسۂ عام کی شکل اختیار کرلی۔ پولیس، محکمہ مال اور دیگر سرکاری اداروں کے خلاف لوگوں نے شکایات کیں۔ بریگیڈیئر مظفر صاحب نے سرکاری افسروں و اہلکاروں کے خوب لتے لیے اور برملا اعلان کیا کہ ہم سب کو سیدھا کردیں گے۔
یہ کچہری علاقے کو کرپشن سے پاک کرکے بخیر و عافیت اختتام پذیر ہو جاتی اگر آخر میں غلام رسول نامی شخص اپنی شکایت نہ کرتا۔ اُس نے مطالبہ کیا کہ گائوں میں ہندوؤں کی متروکہ اراضی کو قبرستان کے لیے وقف کیا جائے۔ اس نے مزید کہا کہ مذکورہ جائداد کے بارے میں پٹواری حلقہ صحیح نہیں بتائے گا۔ سو‘ اس کو ذرا رگڑا دے کر پوچھیں۔ اب جیسا کہ قلیل سے عاقبت نااندیش خاندانوں کا وتیرہ ہے، سفیدپوش گھرانے کے معمولی پٹواری نے خودداری اور بغاوت شعار طبیعت ورثے میں پائی تھی۔ وہ کم تر درجے کا سرکاری ملازم ہونے کے باوجود کلمہ حق کہنے سے قبل جابر کا قد کاٹھ ناپنے کا قائل نہ تھا۔ وہ انسپکشن ٹیم کے طلب کرنے سے قبل خود ہی کھڑا ہوگیا اور اپنا تعارف کرایا کہ میں شاہ نواز خان حلقہ پٹواری خانپور ہوں۔ فاضل اراکین انسپکشن ٹیم نے کورس کی صورت پٹواریوں کی شان میں دل گداز قوالی کی، انہیں چور اور رشوت خور قرار دیا اور حکم دیاکہ غلام رسول کی بات کا جواب دو۔ پٹواری نے پہلے تو عرض کی کہ یہ زمین صوبائی حکومت کے فلاں حکم کے تحت، فلاں مہاجر کو الاٹ ہوچکی ہے،پھر دفعتاً غیر متوقع طور پر اس نے پینترا بدلا اور ٹیم سے گستاخانہ سا سوال کردیا کہ اب مجھے بتایا جائے کہ مجھے رگڑا کیوں دیا جائے گا؟ ارباب ِکچہری میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی اور اس ناقابلِ یقین صورت حال میں انچارج ٹیم اور پٹواری سرکل کے درمیان تلخ کلامی شروع ہوگئی۔ بریگیڈیئر صاحب نے حکم دیا ”بیٹھ جائو‘‘۔ پٹواری نے کہا ”نہیں بیٹھتا“۔ انچارج ٹیم نے پوچھا ”کیا کرو گے؟‘‘ اس نے جواب دیا ”شکایت کروں گا۔ آپ بدعنوانی کے خلاف میری ایک شکایت نوٹ کریں‘‘۔ بریگیڈیئر مظفر نے پوچھا کہ تم کو کس کے خلاف شکایت کرنی ہے؟ پٹواری سرکل نے بم پھوڑا ”صدر ایوب خان کے خلاف‘‘۔ محفل میں سناٹا چھا گیا۔ کرخت لہجے میں پوچھا گیا ”کیا پریذیڈنٹ کرپٹ ہیں؟‘‘ پٹواری نے اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کڑک دار لہجے میں کہا ”جی ہاں! وہ بدعنوان ہیں، وہ بل نہیں دیتے، وہ اب تک بارہ مرتبہ یہاں شکار کے لیے آچکے ہیں، ایک دفعہ ان کو کھانا سردار خضر حیات خان نے دیا اور بقول ان کے (اس زمانے میں) آٹھ ہزار روپے (صرف کھانے کا) خرچ آیا، مجھے بتایا جائے کہ باقی گیارہ دفعہ آٹھ، آٹھ ہزار روپے کہاں سے آئے؟ کیا صدرِ مملکت ساتھ لائے تھے یا کسی سرکاری ادارے نے دیے تھے؟ اگر آپ کو نہیں معلوم تو میں بتاتا ہوں کہ کھانے کے یہ پیسے اور دیگر اخراجات ان بدعنوان پٹواریوں نے برداشت کیے تھے‘‘۔ شاہ نواز خان نے مزید کہا کہ ”ہمیں یہ اخراجات کرنے کا حکم اوپر سے آتا ہے، آپ کب سے رشوت، رشوت کی رٹ لگا کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں، صاف بات یہ ہے کہ پٹواری چھوٹے چور ہیں اور صدر بڑا چور ہے“۔ اس نے کہا ”سو سنار کی، ایک لوہار کی کے مصداق پٹواری تھوڑی تھوڑی رشوت اکھٹی کرتے ہیں اور صدر ایک ہی جست میں آکر ساری چٹ کر جاتا ہے“۔ لوگ جو پہلے ہی حکومت کے خلاف بھرے بیٹھے تھے، انہیں اس بات سے حوصلہ ہوا اور انہوں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کردی۔ ایس پی جہلم نے اپنی فورس کے ہمراہ آگے بڑھ کر پٹواری کو قابو کرلیا، مگر بریگیڈیئر صاحب نے حکم دیا کہ اس کو اسٹیج پر آنے دیا جائے۔ اسٹیج پر انہوں نے پٹواری سے کہا کہ یا تو تم پاگل ہو یا تمہارے گھر دانے زیادہ ہیں۔ ادنیٰ سرکاری ملازم نے جواب دیا کہ دونوں باتیں غلط ہیں، نہ میں پاگل ہوں اور نہ ہی امیر آدمی ہوں۔ آپ کب سے کرپشن پر لعنتیں بھیج رہے ہیں، اسی بارے میں ایک سچ بات تھی جو میں نے بھی کہہ دی۔ بریگیڈیئر صاحب نے پوچھا کہ تمہارے پاس کوئی ثبوت ہے؟ اس نے کہا کہ ہوٹل اور دیگر اشیاء کے بل میرے نام پر ہیں، جو میں کسی بھی فورم پر پیش کرنے کو تیار ہوں۔ اس دوران غیر ملکی جو ”پریذیڈنٹ‘‘ اور ”کرپٹ‘‘ جیسے الفاظ بار بار سن کر کافی کچھ سمجھ چکے تھے، پوچھتے رہے کہ یہ کیا کہتا ہے؟ ان کو اراکینِ ٹیم اور انتظامیہ ٹالتے رہے، تاہم ایک بوڑھے گورے نے اٹھ کر پٹواری کا کندھا تھپتھپایا اور اپنی ڈائری پر طویل نوٹ لکھا۔ المختصر! کھلی کچہری ہذٰا نہایت بدمزگی کے عالم میں اختتام پذیر ہوئی اور انسپکشن ٹیم بغیر کچھ کھائے پیے اٹھ کر چلی گئی، کیونکہ وہ بدعنوانی کا قلع قمع کرنے آئے تھے، آئینہ دیکھنے نہیں۔
اگرچہ گھنی مونچھوں والے پٹواری نے حالات خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، تاہم انہیں مزید سنگین بنانے میں گھنی اور خوبصورت ڈاڑھی والے امیر جماعت اسلامی مولانا مودودی کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیاجاسکتا، جنہوں نے بغیر وقت ضائع کیے پٹواری کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی غرض سے اسے خط لکھ دیا۔ خط خفیہ والوں نے پکڑلیا۔اسی شام انتظامی افسران نے گستاخ پٹواری کو ریسٹ ہائوس میں طلب کیا۔ اسسٹنٹ کمشنر چکوال کیپٹن سعید نے کہا کہ اگرچہ میرے اختیارات محدود ہیں مگر تم نے کام ایسا کیا ہے کہ مجھ سے جتنا ہوسکا تمہارا دفاع کروں گا۔ ڈپٹی کمشنر نواب زادہ یعقوب خان نے پٹواری کو الگ کمرے میں بلایا، اپنا پرس نکال کر میز پر رکھ دیا اور کہا کہ اگر میرے کسی دورے پر تم نے کچھ خرچ کیا ہو تو اس میں سے لے لو۔ اس نے انکار کیا تو ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تمہارے ساتھ تو اب جو ہوگا سو ہوگا لیکن خدارا کہیں بھی میرا نام نہ لینا۔ اگلے دن تمام افسران بشمول ڈی سی، اے سی، ایس پی اور تحصیل دار وغیرہ کے تبادلے کردیے گئے۔ اب پٹواری کے لیے انکوائریوں اور مصیبتوں کا دور شروع ہوا۔ جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔ نئے اسسٹنٹ کمشنر اے کے خالد نے ان کی لائسنسی بندوق ضبط کی اور اس ”مقدمے‘‘ میں ان کی عبوری ضمانت دینے والے چودھری جہان خان ایڈووکیٹ نے جب اے سی سے پوچھا کہ مچلکے میں کون سا جرم لکھنا ہے، تو صاحب بہادر نے کہا کہ آپ مچلکہ فِل کردیں، میں خود ہی کوئی جرم لکھ لوں گا۔ چکوال کے سردار اشرف خان مرحوم اس وقت پارلیمانی سیکریٹری تھے مگر وہ ایسے موقعوں پر ”اللہ خیر کریسی‘‘ تک ہی محدود رہتے تھے، البتہ راجا محمد افضل کالس کی سفارشوں پر اے سی نے بتایا کہ مجھے اوپر سے حکم ہے کہ اس پٹواری کو کسی نہ کسی مقدمے میں لمبی قید کی سزا سنائوں، تاہم مجھ سے جتنا ہوسکا مقدمات کو لمبا کرتا رہوں گا۔
اس واقعہ کے دوسرے دن امیر جماعت اسلامی مولانا مودودی صاحب نے اپنا معتمد خاص (امیر جماعت اسلامی لائل پور) پٹواری کے پاس خان پور بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا نے آپ کا فوٹو منگوایا ہے اور جابر حکمران کے خلاف کلمۂ حق بلند کرنے پر آپ کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ نیز کہا ہے کہ آپ قدم بڑھائیں جماعت کے وسائل آپ کے لیے حاضر ہیں۔ پٹواری نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ ایک جذباتی قدم تھا، میں معمولی سرکاری ملازم ہوں اور میرا مزید ”قدم بڑھانے‘‘ کا ارادہ نہیں۔ اس پر ابوالاعلیٰ نے اسے تفصیلی خط لکھا اور ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ یہ خط ایجنسیوں نے پکڑ لیا۔ انکوائریوں کا رخ اس طرف مڑ گیا، تاہم پٹواری کا کسی بھی جماعت وغیرہ سے تعلق ثابت نہ ہوسکا۔ پشاور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس جناب عبدالکریم کنڈی اُس وقت چکوال میں سول جج تعینات تھے۔ انہوں نے ناطق زیدی ایڈووکیٹ کے ذریعے پٹواری سے ملاقات کی، اس کی جرأت پر شاباش دی اور پیشکش کی کہ اگر تم چاہو تو صدر کے خلاف میری عدالت میں خرچے کا دعویٰ کردو اور ثبوت پیش کرو تو میں صدر کے خلاف ڈگری جاری کردوں گا، پھر مل کر بھگتیں گے۔ پٹواری نے ان کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے مجھے ناجائز طور پر مطعون کیا اس لیے میں نے کھری کھری سنا دیں، میں ”اکیلا‘‘ آدمی ہوں، مزید بات بڑھانا میرے بس کی بات نہیں۔ سابق گورنر پنجاب جنرل عتیق الرحمن اُس وقت راولپنڈی میں لیفٹیننٹ جنرل تعینات تھے۔ وہ پٹواری کے مہربان تھے۔ 56- 1955ء میں جب وہ کروڑ لعل عیسن (لیہ) میں پٹواری تعینات تھا تو عتیق الرحمن وہاں اپنی زمینوں کے مسائل کے سلسلے میں اس کے پاس جاتے تھے۔ اکثر ان کی بیگم مسز نسیم عتیق الرحمن (دختر بیگم شاہنواز تحریک پاکستان فیم) بھی جاتی تھیں۔ اس وقت سے ان کے ساتھ واسطہ تھا۔ اس واقعہ کے بعد پٹواری کسی کام کے سلسلے میں ان کے گھر راولپنڈی گیا تو بیگم صاحبہ نے دہائی دی کہ تمہارے خلاف اعلیٰ ترین سطح پر انکوائری ہورہی ہے، تم ہمارے ساتھ اپنا تعلق ختم سمجھو ورنہ ہمیں بھی لے ڈوبو گے۔ بات اخبارات میں بھی پھیلنی شروع ہوگئی۔ شنید ہے کہ جب انکوائری رپورٹس صدر ایوب خان تک پہنچیں تو انہوں نے مزید رسوائی کے ڈر سے پٹواری کو نہ چھیڑنے اور معاملے پر مٹی ڈالنے کا حکم دیا اور یوں اس کی گلوخلاصی ہوئی۔ ایوب خان اس کے بعد دو دفعہ مزید شکار کے لیے چکوال آئے، مگر اس طرح کہ پٹواریوں سے خرچہ تو نہ لیا گیا، البتہ گورنر امیر محمد خان کا حکم آگیا کہ خبردار! پٹواری خان پور شکار گاہ کی طرف نہ جانے پائے۔ سو ایس پی سیکورٹی نے اس کو دونوں دفعہ ریسٹ ہائوس میں نظربند کردیا۔ بریگیڈیئر مظفر آف جھاٹلہ کچھ عرصے بعد پٹواری کو اتفاقاً ملے تو پوچھا ”جوان تم نے ابھی تک کوئی قتل نہیں کیا؟‘‘ اس نے کہا: ”نہیں جناب! میں کوئی پاگل نہیں ہوں“۔ بریگیڈیئر صاحب نے کہا ”پاگل تو نہیں ہو لیکن ہمارے لیے تو تم نے زلزلہ برپا کردیا تھا۔ تمہیں کیا خبر کہ بات کہاں تک گئی اور کس کس نے بھگتی؟‘‘
بیتے دنوں کا ایک نامعتبر سا قصہ دہرانے کی غرض یہ عرض کرنا ہے کہ یہ کہانی پرانی نہیں ہوئی۔ ماضی ہو یا حال، اربابِ اقتدار و اختیار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔ یہ لوگ جتنے بھی کرپشن ختم کرنے کے دعوے کرتے ہیں، ان کو نرم سے نرم الفاظ میں بھی لغویات کہا جا سکتا ہے۔ کل بھی ان کا یہی وتیرہ تھا، آج بھی ان کا یہی چلن ہے۔ پٹواری ہی ان کے جلسوں اور شکاروں کا انتظام کرتے ہیں اور پٹواری ہی ان کے جلسوں کے لیے لوگ، انتخابات کے لیے ووٹ اور شکار گاہوں کے لیے تیتر اکٹھے کرتے ہیں۔ اگر یہ غلط ہے تو آج بھی پٹواریوں کے تبادلوں پر جھگڑے کیوں ہیں؟ اس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ ملک کو بیچ کر کھا جائیں تو ڈکار تک نہیں مارتے اور کرپشن ختم کرنے پر آتے ہیں تو کلرکوں اور پٹواریوں کی۔ کلرک کی رشوت والا ہزار کا نوٹ تو اینٹی کرپشن کا انسپکٹر بہ آسانی پکڑ لیتا ہے مگر انہیں سراغ نہیں ملتا تو موٹر وے اور میٹرو کے کمیشن اور منی لانڈرنگ کے کیسوں کا۔ انہیں سوئس بینکوں کے اکائونٹس کا کُھرا بھی نہیں ملتا، اور سرے محل کا بھی۔ وکی لیکس کے کردار بھی غبارِ وقت میں غائب ہوجاتے ہیں اور پاناما لیکس کے دو سو شاہکار بھی۔ ہمارے تفتیشی اداروں کو لندن فلیٹس کے مالکان کا بھی صحیح ادراک نہیں ہوتا اور بیرونِ ملک پڑے اربوں ڈالر کے اکائونٹ ہولڈرز کا بھی۔ آئین کے آرٹیکل 6 کے گناہ گاروں نے بھی سلیمانی ٹوپیاں پہن رکھی ہیں اور سانحہ بارہ مئی اور ماڈل ٹائون کے ذمے داروں نے بھی۔ یہ کوآپریٹو اسکینڈل سے بھی بے خبر ہیں اور قرضے معاف کرانے والوں سے بھی۔ ترقیاتی منصوبوں کے کک بیکس بھی ان کے ہاتھ نہیں آتے اور کمیشن کی رقوم بھی۔ یہ عوامی جذبات کے استحصالی مافیا کے سامنے بھی بے بس ہیں اور جعلی ادویہ بنانے والوں کے آگے بھی لاچار۔ یہ ٹارگٹ کلرز کے سرپرستوں سے بھی لاعلم ہیں اور خودکش بمباروں کی کمین گاہیں بھی ان کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ این آر او کے تعفن سے اٹھنے والے کھربوں کو زمین نگل گئی اور”قرض اتارو، ملک سنوارو‘‘ جیسی مہمات کے بطن سے جنم لینے والے اربوں کو بھی آسماں کھا گیا۔ یہ کرپشن ختم کرنے کی بڑھکیں مارتے ہیں لیکن انہیں کچھ خبر نہیں کہ جہادِ افغانستان کے ڈالر اور آئی جے آئی بنوانے کے کروڑوں کہاں غائب ہوئے اور رینٹل پاور اور اسٹیل ملز جیسے اسکینڈلز کی رقوم کس نے ہضم کیں؟ اپنی کرپشن اور ٹیکس چوری کی رپورٹوں پر ان کا استحقاق اور عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے مگر پٹواریوں کی بدعنوانیوں پر خطاب کرتے ہوئے اربابِ اختیار کے بریک فیل ہوجاتے ہیں۔ یا حیرت! کبھی یہ ہمیں سرے محل کے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیتے ہیں اور کبھی ایون فیلڈ کے، مگر حاصل کیا ہوتا ہے؟ ہمارے والد شاہ نواز خان کا سروس ریکارڈ ایسے ہی کئی گستاخانہ واقعات سے عبارت ہے۔ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد 2016ء تک اپنے گائوں میں مطمئن زندگی گزار تے رہے۔ تھوڑی سی جدی بارانی زمین اور سفید پوشی کے سوا کوئی اثاثہ نہیں، مگر پچھتاوا بھی کوئی نہیں تھا، البتہ آخری دم تک دکھ رہا تو حبیب جالبؔ والا کہ

وہی اہل وفا کی صورت حال
وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے
لب پر ہے تلخیٔ مئے ایام ورنہ فیضؔ
م تلخیٔ کلام پہ مائل ذرا نہ تھے

)بشکریہ:دنیا25دسمبر،28دسمبر2018ء(

Share this: