جناب اطہر ہاشمی کے نام

مفتی منیب الرحمن
حیدر علی آتش کا شعر ہے:

لگے منہ بھی چڑھانے، دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی، خبر لیجے دہن بگڑا

اس شعر سے استفادہ کرتے ہوئے روزنامہ جسارت کے چیف ایڈیٹر جنابِ اطہر ہاشمی نے فرائیڈے اسپیشل میں اپنے کالم کا عنوان باندھا ہے:’’خبر لیجے زباں بگڑی‘‘، اس میں وہ زبان وبیان کی اصلاح کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔دورِ حاضر میں اردو زبان کے تحفظ کے لیے یہ وقت کی اہم ضرورت ہے ،کاش کہ ہماری جامعات میں شعبۂ اردو کے اساتذہ وطلبہ اور صحافت سے وابستہ لوگ ان تحریروں سے استفادہ کریں ۔ ’’خبر لیجے زباں بگڑی‘‘ میرا پسندیدہ کالم ہے اور جب بھی فرائیڈے اسپیشل دستیاب ہوتا ہے، تو سب سے پہلے یہی کالم پڑھتا ہوں ،کیونکہ ہم طالبِ علم ہیں اور صاحبانِ علم سے جو بھی علمی توشہ ملے اُسے غنیمت سمجھتے ہیں اور اُن کے لیے دعا کرتے ہیں ، زبان وبیان کی اصلاح میرا بھی پسندیدہ موضوع ہے ،لیکن میں اس شعبے کا مبتدی ہوں ،مُتَخَصِّص نہیں ہوں، جبکہ جنابِ اطہر ہاشمی ماشاء اللہ! مُتَخَصِّص ہیں ، انہوں نے مجھے قابلِ اصلاح سمجھا ،اس پراُن کابے حد شکریہ ،وہ فرائیڈے اسپیشل میں لکھتے ہیں:
’’لیکن 2جولائی کے جسارت میں حضرتِ مفتی منیب الرحمن کا مضمون اردوان کی کامیابی پر شائع ہوا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں: ’’ترکی میں تبدیلی کے آثار دیدہ کور کے علاوہ سب کو نظر آتے ہیں‘‘۔ حضرتِ علامہ کو اردو کیا، عربی، فارسی پر بھی کامل عبور ہے، انہیں یہ فرق ضرور ملحوظ رکھنا چاہیے تھا۔ ان کے مذکورہ جملے کا مطلب ہے کہ دیدہ کور سمیت سب کو نظر آرہا ہے۔ اگر نظر آرہا ہے تو دیدہ کور یعنی اندھا کیسے ہوا؟ شاعر تو کہتا ہے کہ دیدہ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے۔ یہاں علاوہ کی جگہ سوا ہونا چاہیے تھا۔ لیکن بڑے بڑے علماء کے سامنے ہماری کیا بساط، ایک مفتی تو سند ہوتا ہے،(فرائیڈے اسپیشل،6جولائی2018)‘‘۔
جنابِ اطہر ہاشمی کا تبصرہ درست ہے ،مجھے یوں لکھنا چاہیے تھا: ’’ترکی میں تبدیلی کے آثار دیدۂ کور کے سوا سب کو نظر آتے ہیں ‘‘۔بعض الفاظ شروع سے زبان پہ چڑھے ہوتے ہیں ،اس لیے معنی سے صرفِ نظر ہوجاتا ہے ،آئندہ اس کا خیال رکھیں گے۔ انہوں نے ایک اور شمارے میں مزید لکھا:
’’مفتی منیب الرحمن بلاشبہ بہت بڑے عالم ہیں اور اردو ہی کیا عربی، فارسی پر بھی کامل عبور ہے۔ ایک بڑے مدرسے کے پرنسپل ہونے کے ناتے پروفیسر بھی کہلاتے ہیں۔ ان کی تفہیم المسائل کے عنوان سے کئی جلدوں میں بڑی معرکہ آرا (معرکۃ الآرا نہیں)تصنیف ہے۔ ہم نے اس سے بہت استفادہ کیا ہے۔ تفہیم المسائل (جلد نمبر9) میں انہوں نے کئی جگہ’’ علائو الدین‘‘ لکھا ہے۔ اسے کمپوزنگ یا کتابت کی غلطی نہیں کہا جاسکتا۔ ویسے بھی ایسی علمی اور دینی کتابوں کی پروف ریڈنگ بہت احتیاط سے کی جاتی ہے۔ محترم مفتی منیب الرحمن رویتِ ہلال کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں، ان کے فتوے پر ہم رمضان کا آغاز کرتے اور عید مناتے ہیں۔ اب اگر وہ علاء الدین کو علائو الدین لکھیں تو اسے فتویٰ سمجھ لینا چاہیے اور جن لوگوں پر ہم نے اعتراض کیا اُن سے معذرت کرلینی چاہیے۔
لیکن ایک معاملہ اور ہے جس میں معذرت کی گنجائش نہیں۔6ستمبر کو جسارت کے ادارتی صفحے پر حضرت مفتی صاحب کا ایک مضمون جدید فلاحی ریاست کے موسّس کے عنوان سے شائع ہوا ہے، اس میں وہ لکھتے ہیں:’’ارشادِ رسولﷺ ہے:اے اللہ ازراہِ کرم ابوجہل بن ہشام یا عمر بن خطاب میں سے کسی ایک کے ذریعے اسلام کو غلبہ، قوت اور طاقت عطا فرما‘‘۔ ان جملوں کو ارشادِ رسولﷺ کہا گیا ہے جو نہ صرف غلط ہے ،بلکہ رسول اکرم ﷺ نے اپنے سے کوئی غلط بات یا جملہ منسوب کرنے پر سرزنش فرمائی ہے۔ مفتی منیب سے زیادہ اور کون اس بات سے واقف ہوگا۔ انہوں نے عمر بن ہشام کا نام ہی بدل دیا۔ ابوجہل اس کا نام نہیں تھا، بلکہ اس کی جہالت کی وجہ سے اسے یہ لقب ملا تھا۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا تھا :عمر بن ہشام یا عمر بن خطاب میں سے، یعنی دو عمر میں سے کسی ایک کو اسلام کے لیے باعثِ قوت بنا اور اللہ کریم نے عمر ؓبن خطاب کو یہ اعزاز عطا فرمایا۔ اسی لیے سیدنا عمرؓ کو دعائے رسولؐ بھی کہا جاتا ہے۔یاد رہے کہ ابوجہل یعنی جہل والا ان معنوں میں جاہل نہیں تھا جو عام ہیں، یعنی ناخواندہ۔ وہ قریش کے چند خواندہ لوگوں میں سے تھا اور ابوالحِکَم کہلاتا تھا۔ جَہالت (ج بالفتح)کا مطلب ناواقفیت، بے وقوفی، اجڈ پن بھی ہے۔ لغات کے مطابق جہل اور جاہل اس کو بھی کہتے ہیں جو جانتے ہوئے بھی سچ کا اقرار نہ کرے اور اپنی ضد پر اڑا رہے۔ ابوجہل کو خوب معلوم تھا کہ حق کیا ہے، لیکن اس کے تکبر نے اسے عمر بن ہشام سے ابوجہل بنادیا، اللہ تعالیٰ نے عمرؓبن خطاب کو فضیلت عطا کرنی تھی، سو وہ ایمان لے آئے،(فرائیڈے اسپیشل، 28 ستمبر2018ء)‘‘۔
میرے لیے باعثِ حیرت ہے کہ کالم میں سنن ترمذی کی حدیث کا باقاعدہ حوالہ موجود ہے ،تو جنابِ ہاشمی نے کیسے کہہ دیا : ’’(کہ یہ ایسی غلطی ہے )جس پر معذرت کی گنجائش نہیں ہے ‘‘، حضورِ والا! یہ غلطی نہیں ہے ، یہ سو فیصد درست ہے اور حدیثِ مبارک میں یہ کلمات موجود ہیں ،آپ نے اصل ماخذ کی طرف رجوع کیے بغیر اپنے حافظے پر اعتماد کرتے ہوئے اسے غلط کہہ دیا اور اس پر ایک طرح سے وعید کا حوالہ بھی دے دیا ،نہایت ادب کے ساتھ گزارش ہے کہ آپ اس تبصرے سے رجوع فرمائیں۔
جنابِ اطہر ہاشمی کی خدمت میں گزارش ہے :’’ فقیر گوگیا پاشا قسم کا پروفیسر نہیں ہے ،بلکہ تدریس سے باقاعدہ وابستہ رہا ہے اور ’’پروفیسر آف اسلامک اسٹڈیز ‘‘کی حیثیت سے ریٹائر ہوا ہے، اگرچہ میں اپنے ادارے کا سربراہ بھی ہوں اور 1973سے دینی علوم کی تدریس سے بھی وابستہ ہوں اور گزشتہ تیس سال سے اِفتاء کا کام بھی کر رہا ہوںاورمیری کتب عام کالجوں اور ایل ایل بی میں شاملِ نصاب رہی ہیں ‘‘۔مجھے بہت بڑا عالم ہونے کا زعم کبھی نہیں رہا ، البتہ دین کا طالب علم ضرور ہوں اورنبی کریم ﷺ کی جانب اپنی وضع کی ہوئی حدیثیں منسوب کرنے کی بابت آپ ﷺ کی وعیدات ہمیشہ پیشِ نظر رہتی ہیں ،اس لیے کوشش کرتا ہوں کہ آیاتِ کریمہ و احادیثِ مبارکہ باحوالہ لکھوں، بعض اوقات کالم کی گنجائش مانع ہوجاتی ہے،وہ احادیثِ مبارکہ یہ ہیں :
(1)’’ نبی ﷺ نے فرمایا: مجھ پر جھوٹ بولنا کسی عام آدمی پر جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے ،جو مجھ پر دانستہ جھوٹ بولے گا،تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ،(بخاری:1291)‘‘،(2)نبی ﷺ نے فرمایا:’’ میری طرف منسوب کر کے حدیث بیان کرنے سے بچے رہو ، سوائے ایسی احادیث کے کہ جن کا تمہیں علم ہو، سو جو کوئی میری طرف دانستہ جھوٹی بات منسوب کرے گاتووہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے اور جو قرآن میں اپنی رائے پر کوئی بات کرے ، تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے، (سنن ترمذی:2951)‘‘۔
لیکن جو حدیث میں نے ’’جدید فلاحی ریاست کے موسّس‘‘کے عنوان سے اپنے کالم میں لکھی ہے ،اس پر جنابِ اطہر ہاشمی کی گرفت درست نہیں ہے ، وہ حدیث کتبِ احادیث میں موجود ہے، حوالہ جات درج ذیل ہیں:
(1)عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں:نبی ﷺ نے (اللہ تعالیٰ کے حضور)دعا کی: اے اللہ! تو ابوجہل بن ہشام یا عمر بن خطاب (میں سے کسی ایک)کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما، راوی بیان کرتے ہیں: (اگلے دن) جب صبح ہوئی تو عمر رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا، (سنن ترمذی:3683،فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل:311،الشریعہ للآجری:1345 )‘‘۔
(2)حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی ﷺ بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے،ابوجہل اور اس کے اصحاب وہاں بیٹھے ہوئے تھے، اس وقت انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: تم میں سے کون ایسا کرسکتا ہے کہ (قبیلے کا نام لے کرکہا:)بنو فلاں کے ہاں جو اونٹنی ذبح ہوئی ہے ،اس کے بچہ دان کو لے کر آئے اور جب (سیدنا) محمد(ﷺ) سجدہ کریں تو وہ ان کی پشت پر رکھ دے، تو قوم کا سب سے بدبخت شخص اٹھا، وہ اس بچہ دان کو لے کر آیا، پھر وہ انتظار کرتا رہا، حتیٰ کہ جب نبی ﷺ سجدے میں گئے تو اس نے اس بچہ دان کو آپ کی پشت کے اوپر آپ کے کندھوں کے درمیان رکھ دیا ،(حضرت عبداللہ بن مسعود )بیان کرتے ہیں:میں (بے بسی کے عالم میں )یہ منظر دیکھ رہا تھا ،لیکن آپ کے کسی کام نہیں آسکتا تھا ، کاش!(کہ اس وقت) میرے کوئی مدد گار ہوتے، انہوں نے کہا: مشرکین ہنسی سے لوٹ پوٹ ہونے کے سبب ایک دوسرے پر گرے جارہے تھے اور رسول اللہ ﷺ سجدے میں تھے اور اپنا سر نہیں اٹھارہے تھے حتیٰ کہ حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیںاور انہوں نے اس بچہ دان کو آپ کی پشت سے اٹھاکر پھینک دیا ،پھر آپ ﷺنے اپنا سرِ اقدس اٹھایااور بارگاہِ الٰہی میں تین مرتبہ التجا کی : ’’اے اللہ! قریش کی گرفت فرما‘‘، قریش پر آپ کی دعائے ضرر ناگوار گزری ، راوی کا بیان ہے:’’ وہ جانتے تھے کہ اس شہر میں دعا قبول ہوتی ہے‘‘ ،پھر آپ ﷺنے نام لے کر ان کے خلاف دعا کی :’’ اے اللہ! ابوجہل کی گرفت فرما، عُتبہ بن ربیعہ ، شَیبہ بن ربیعہ، ولید بن عُتبہ، اُمیَّہ بن خَلَف اور عُقبہ بن ابی مُعَیط کی گرفت فرما اور آپ ﷺنے ساتویں شخص کا نام بھی لیاجو راوی کو یاد نہ رہا، عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے، رسول اللہ ﷺ نے( دعائے ضرر کے وقت )جن اشخاص کا نام لیا تھا،میں نے ان سب کو بدر کے کنویں میں اوندھے منہ پڑے ہوئے دیکھا، (صحیح البخاری:240)‘‘۔
علامہ غلام رسول سعیدی ابوجہل کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’اُس کا نام عَمْرو بِن ہِشَام تھا، رسول اللہ ﷺ نے اُس کو ابوجہل فرمایا تو اب سب اس کو اُسی نام سے جانتے ہیں ،اس کو حضرات مَعاذ بن عَمْرو اورمَعاذ بن عَفراء (ان کو مُعَوَّذ بھی کہا جاتا ہے ، عَفراء ان کی والدہ کا نام تھا)نے قتل کیا تھا، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا اس کے پاس سے گزر ہوا تو یہ اوندھا پڑا تھا ،وہ اس کا سر کاٹ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ،اے اللہ کے دشمن !جس نے تجھے رسوا کردیا ،یہ شخص اس امت کا فرعون تھا اور ائمۂ کفر کا سردار تھا ،پھر رسول اللہ ﷺ سجدے میں گر گئے ،(نعمۃ الباری، ج:1، ص:704)‘‘۔
ہاشمی صاحب کی خدمت میں گزارش ہے : ’’ابوجہل کا نام ’’عُمَر بِن ہِشَام ‘‘نہیں بلکہ ’’عَمَرو بِنْ ہِشَام‘‘تھااوریہ کہ میں نے حدیث صحیح نقل کی ہے اورسطورِ بالامیں صحیح البخاری اور سنن ترمذی کے علاوہ دیگرکتبِ احادیث کے حوالہ جات بھی درج کردیے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعا میں اصل نام (عَمَرو بن ہِشَام) کے بجائے اس کاذکر ابوجہل( لقب) کے ساتھ ہی فرمایا ‘‘۔
علامہ جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں:’’ابوالحِکَم ،ابوجہل کی کنیت تھی اور نبی ﷺ نے اُسے ’’ابوجہل ‘‘لقب دیا تھا، (التوشیح شرح بخاری، ج:6،ص:2484)‘‘۔ابوالحِکم کے مرادی معنی مردِ دانا کے ہوسکتے ہیں ،لیکن یہ دانائی اور فراست کفر کے حق میں اور اسلام کے خلاف استعمال ہوئی ، اُس کے کسی کام نہ آئی اور اُسے اسلام قبول کرنے کی سعادت نصیب نہ ہوئی ، لہٰذا یہ ایسی فراست تھی جس کا جوہر کفر وضلالت سے کشید ہ تھا۔
جنابِ اطہر ہاشمی نے درست لکھا ہے :’’جہالت کے معنی ناواقفیت، بے وقوفی، اجڈ پن کے ہیں ‘‘اور اس کا معنی بے علمی بھی ہے ۔سورۃُ الحجرات :6میں ’’جہالت ‘‘کا کلمہ بے خبری کے معنی میں آیا ہے ۔البتہ قرآنِ کریم میں چار مقامات پر جاہلیت کا لفظ ’’ظَنُّ الْجَاھِلِیَّۃ‘‘،’’حُکْمُ الْجَاھِلِیَّۃ‘‘،’’تَبَرُّجُ الْجَاھِلِیَّۃ‘‘اور ’’حَمِیَّۃُ الْجَاھِلِیَّۃ‘‘ کے الفاظ کے ساتھ بالترتیب آل عمران:154،المائدہ:50،الاحزاب:23اور الفتح:26میں آیا ہے۔ ان سے شعارِ جاہلیت مراد ہے ،یعنی عہدِ جاہلیت کی گمراہی پر مبنی اَقدارو روایات ، ہمارے ہاں اِسے Status Quoیعنی کسی شے کو ’’علیٰ حَالِہٖ‘‘ قائم رکھنے سے تعبیر کیا جاتا ہے،ہر دور کے کفاراپنے عہد کے انبیائے کرام علیہم السلام کے پیغامِ حق کو رد کرنے کے لیے یہی دلیل پیش کرتے رہے ہیں ،قرآنِ کریم میں ہے: (1)’’انہوں نے کہا: بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے ہوئے پایا ہے ،(الشعراء:74)‘‘۔(2)’’بے شک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم انہی کے نقشِ قدم کی پیروی کرنے والے ہیں ،(الزخرف:23)‘‘۔
جہاں تک ’’علاء الدین‘‘ کے رسم الخط کا تعلق ہے ،جنابِ اطہر ہاشمی کا موقف درست ہے ، لفظِ علاء کا اصل ’’عُلُوّ‘‘ ہے اور اس کا مصدر ’’عُلُوًّا ‘‘اور’’ عَلَائً‘‘ آتا ہے ۔ ’’عَلَاء‘‘ میں عربی زبان کے قاعدۂ تعلیل کے تحت وائو منقلب ہوکر ہمزہ بنی ہے اور ہمارے خطے میں ’’ؤ‘‘لکھنے کا طریقہ رائج رہاتاکہ اس تعلیل کی طرف اشارہ ہوجائے اور معلوم ہو کہ ہمزہ اصلی نہیں ہے بلکہ’’ مُعَلَّل‘‘ ہے ، اصل حرف ’’و ‘‘ہے اور ’’و‘‘تلفظ میں نہیں آتی ۔تاہم میں نے ایک عرصے سے ’’ؤ‘‘کو ترک کردیا ہے اور ’’علاء‘‘ ہی لکھتا ہوں ،ماضی میں تفہیم المسائل کی مجلّدات میں جہاں جہاں ’’ؤ‘‘ آیا ہے، اسے ہم ہمزے سے تبدیل کر رہے ہیں ، آپ نے نشاندہی فرمائی ،آپ کا بے حد شکریہ۔ وکی پیڈیا میں دیکھا تو ’’ؤ‘‘ کی مثالیں بکثرت موجود ہیں ، لیکن کئی افراد کی غلطی کو دلیلِ جواز نہیں بنایا جاسکتا، ماہرینِ لسان غلط العام کو استعمال کرنے کی رعایت دیتے ہیں ،لیکن جنابِ اطہر ہاشمی چونکہ خواصّ میں سے ہیں ، اس لیے انہیں گرفت کا حق حاصل ہے۔
جنابِ اطہر ہاشمی سے گزارش ہے:’’خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے ‘‘، فارسی میں کہتے ہیں: ’’ایں گنا ہیست کہ در شہر شما نیز کنند‘‘،(اسے بعض اہلِ قلم ’’گناہ ہیست‘‘ اور بعض ایک ’’ہ‘‘ پر اکتفا کر کے ’’گناہیست ‘‘ لکھتے ہیں)،یعنی ہم توزبان کے غلط استعمال کے گناہگار ہیں ہی،لیکن کبھی کبھی آپ جیسے پارسا لوگوں سے بھی ایسی غلطی سرزد ہوجاتی ہے، عربی میں کہتے ہیں: ’’ذٰلِکَ بِذٰلِکَ‘‘،اپنی غلطی کے کفارے کے طور پر ہماری غلطی پر متوجہ فرمانے کے ساتھ ہمارے حق میں صحتِ زبان وبیان کی دعا فرمائیے!
جنابِ اطہرہاشمی نے ’’مُستزاد‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے، آپ لکھتے ہیں:’’زبان وبیان کی غلطیاں اُس پر’’ مستزاد ‘‘ہیں،(فرائیڈے اسپیشل، 15جون2018ء)‘‘۔۔۔ایک اور کالم میںآپ لکھتے ہیں:’’ اس پر ’’مستزاد‘‘’’ کے ساتھ‘‘، جب کہ بمع یا مع کا مطلب ہی ’’کے ساتھ‘‘ ہے، زبان کی ایسی غلطیاں اگر سی پی این ای کی طرف سے وارد ہوں تو افسوس کی بات ہے،(فرائیڈے اسپیشل، 27جولائی2018ء)‘‘۔ جنابِ ہاشمی کا یہ کہنا بجا ہے کہ بعض لوگ لفظِ ’’مع‘‘ کے بجائے کبھی ’’بمع ‘‘ اور کبھی ’’بمعہ ‘‘ لکھ دیتے ہیں ،یہ دونوں غلط ہیں ،کیونکہ ’’کے ساتھ‘‘ کے بجائے ’’مع‘‘ لکھنا کافی ہے اور جب مع مابعد لفظ کی طرف مضاف ہو تو اضافت کے سبب’’کے ساتھ‘‘ کے معنی خود پیدا ہوجاتے ہیں۔
لفظِ’’مُستَزاد ‘‘ کی جگہ آپ کو ما سبق پرزیادتی کے معنی میں’’مزید‘‘(مصدر میمی )کا لفظ استعمال کرنا چاہیے۔ بابِ استفعال میں ’’س‘‘ اور’’ت‘‘ کا اضافہ طلب کے معنی میں آتا ہے ،اگرچہ زیادتیِ حروف بعض اوقات معنی میں شدت پیدا کرنے کے لیے بھی ہوتی ہے ، لیکن جنابِ ہاشمی صاحب ایسے صاحبِ علم کو لفظِ ’’مزید‘‘استعمال کرناچاہیے، کیونکہ لوگ اُن کو زبان پر حجت سمجھتے ہیں اور ہمارے لیے یہ خوشی کی بات ہے کہ وہ عربی میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ ان سے میری گزارش ہے کہ لفظِ ’’مُسترد‘‘ کے استعمال کے خلاف بھی قلمی تحریک برپا کریں ،یہ بھی بابِ استفعال ہے ،اس کے بجائے اہلِ علم کوصحیح لفظ ’’رَدّ‘‘ استعمال کرنا چاہیے۔ میں ’’زبان وبیان ‘‘ کے عنوان سے اپنے کالم میں اس جانب متوجہ کرچکا ہوں ، لیکن ’’نقار خانے میں تُوتی کی آواز کون سنتا ہے‘‘، میں نے جنابِ اشفاق احمد خان کے ایصالِ ثواب کے لیے ط کے بجائے ت استعمال کر کے توتی لکھا ہے، کیونکہ سب سے پہلے پی ٹی وی پر اُن کے ڈرامے ’’توتا کہانی‘‘ کے عنوان سے ہمیں اس پر آگاہی ہوئی تھی ۔
آپ کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ پہلے زمانے میں کاتب ہوتے تھے ، آج کل کمپوزر ہیں ،یہ لوگ لغت کے اچھے خاصے متجدّد ہوتے ہیں اور ایجادِ بندہ کے طور پر کچھ نہ کچھ اجتہاداتِ باطلہ کرتے رہتے ہیں ، مولانا احتشام الحق تھانوی ایک لطیفہ سنایا کرتے تھے: ایک بزرگ نے ایک کاتب کو قرآنِ کریم کی کتابت پر مامور کیا اور سختی سے ہدایت کی کہ خبردار! جیسا ہے ویسا ہی لکھنا ،اپنی طرف سے کوئی تصرف نہ کرنا ، جب وہ لکھ کر لائے تو بزرگ نے پوچھا:’’تم نے کوئی ردّوبدل تو نہیں کیا‘‘ ،اُس نے کہا:کچھ نہیں، بس ایک دو غلطیاں تھیں، اُن کی میں نے تصحیح کردی ، پوچھا: وہ کیا؟، اس نے بتایا: لکھا ہوا تھا:’’وَخَرَّ مُوْسٰی صَعِقاً ،(الاعراف:143)‘‘ ، خرِ موسیٰ نہیں ہوتا، خرِ عیسیٰ ہوتا ہے (فارسی محاورہ ہے :’’خرِ عیسیٰ اگر بمکہ روَد،چوں بیاید ہنوز خر باشد‘‘ )،پس (العیاذ باللہ!) میں نے موسیٰ کی جگہ عیسیٰ لکھ دیا ہے ، نیز جگہ جگہ ابلیس لکھا ہوا تھا ،قرآن ایسی مقدس کتاب میں ’’ابلیس‘‘ کا لفظ نہیں آنا چاہیے ،میں نے ایسے تمام مقامات پرابلیس کی جگہ آپ کے والد صاحب کا نام لکھ دیا ہے ۔
جنابِ ڈاکٹررفیع الدین ہاشمی نے ’’فرائیڈے اسپیشل‘‘ میں لکھا ہے :’’اعلیٰ ،ادنیٰ ،اولیٰ وغیرہ کلمات کو اردو میں الف کے ساتھ اعلا،ادنااوراولا لکھنا چاہیے ‘‘،جنابِ اطہرہاشمی نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور ہمیں اُن سے مکمل اتفاق ہے ، عربی کلمات کو اپنی اصل کے مطابق لکھنا بہتر ہے ،یہ تبدیلی ذوقِ سلیم پر گراں گزرتی ہے ، ورنہ بقولِ جنابِ ہاشمی لوگ مُوسیٰ وعیسیٰ ایسے اَعلام کو بھی الف کے ساتھ لکھنا شروع کردیں گے ۔
میں ماضی میں زبان وبیان کے عنوان سے اپنے ایک کالم میں لکھ چکا ہوں کہ کئی الفاظ کا تلفظ اہلِ پنجاب اور اردو کے اہلِ زبان مختلف انداز میں کرتے ہیں ،مثلاًاہلِ پنجاب کہتے ہیں:’’ اس بارَہ میں میری رائے یہ ہے ، اس سلسَلہ میں میرا موقف یہ ہے ، وغیرہ‘‘، جبکہ اردو کے اہلِ زبان اِمالہ کے ساتھ (یعنی ے کی طرف جھکاتے ہوئے بارے اور سلسلے)بولتے ہیں ، لیکن لکھتے ’’بارہ ‘‘اور ’’سلسلہ‘‘ ہی ہیں ،اس سلسلے میں ایک اصول یہ ہے :’’اَنْ تُکْتَبْ کَمَا تُقْرَأ‘‘یعنی جیسے پڑھا جائے ،ویسے ہی لکھا جائے ، پس یوں لکھنا چاہیے: ’’اس بارے میں میری رائے یہ ہے ،اس سلسلے میں میرا موقف یہ ہے ‘‘،یعنی ’’ہ‘‘ کو ’’ے‘‘ سے بدل دینا چاہیے، جنابِ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے بھی یہی موقف اختیار کیا ہے اور مجھے ان سے مکمل اتفاق ہے ۔
میں یہ بھی لکھ چکا ہوں کہ:’’ اگر اللہ چاہے ‘‘کے معنی میں ’’اِنْ شَائَ اللّٰہ ‘‘( اِنْ حرفِ شرط کو جداکر کے ) لکھنا چاہیے اور ’’انشاء اللہ خان انشاء‘‘ کا نام ’’انشاء‘‘ہی لکھنا چاہیے ،کیونکہ یہ ایک ہی لفظ ہے اور ’’انشاء‘‘ کے من جملہ معانی میں سے : پیدا کرنا، پالنا اور پرورش کرنا ہیں، تو اس کے معنی ہوں گے: ’’اللہ تعالیٰ کا پیدا کردہ یااللہ تعالیٰ کاپروَردہ ‘‘۔
میری تمام اہلِ علم سے اپیل ہے کہ ہمارے ہاں یہ طریقہ رائج ہوگیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے نام ِ مبارک پرپورے صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے مخفَّف کر کے ’’صلعم‘‘ یا’’ ص ‘‘ ، رضی اللہ عنہ کے بجائے ’’رض‘‘ اور رحمہ اللہ تعالیٰ کے بجائے ’’ رح ‘‘ لکھ دیتے ہیں، یہ شعار درست نہیں ہے ،اہلِ عرب میں یہ طریقہ رائج نہیں ہے ،احادیثِ مبارکہ کی تمام کتابوں میں نبی کریم کا ہزاروں مرتبہ نام آنے پربھی پورا ’’صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ لکھا جاتا ہے ، ۔اسی طرح اب ’’جَلّ جلالُہٗ‘‘ کی جگہ ’’ج‘‘لکھا جانے لگا ہے ،اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ گویائی اور تحریرکی نعمت کا تقاضا ہے کہ ہم اللہ کے اسمِ جلالت اور اس کے پیارے نبی کے اسمِ مبارک کے ساتھ بالترتیب ’’جَلّ جلالُہٗ‘‘ اور ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ بولیں اورلکھیں،یہ شِعار صرف ہمارے خطے میں رائج ہوا،اسے ترک کردینا چاہیے۔
جنابِ اطہر ہاشمی نے 5اکتوبر کے ’’فرائیڈے اسپیشل ‘‘میں ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر صاحب کی بھی گرفت فرمائی ہے کہ انہوں نے طالب کی جمع طُلَباء لکھی ہے، جب کہ طُلباء ’’طَلِیْب ‘‘کی جمع ہے اور طالب کی جمع طَلَبَہ ہے ، ان کا یہ کہنا درست ہے کہ اسمِ فاعل کے وزن پر طالب کی جمع’’طَلَبَہ‘‘ہے ،جیسے بَارٌ (نیک شخص)کی جمع ’’بَرَرَۃ‘‘اور عامل کی جمع ’’عَمَلَہ‘‘ہے ،اسے ہم اردو میں میم کو ساکن کر کے عَملہ پڑھتے اور بولتے ہیں ۔اس میں کوئی بڑا معنوی فرق نہیں ہے ،بلکہ طلیب اور طُلَباء میں معنوی اعتبار سے مبالغہ کا معنی پایاجاتاہے، عربی میں اسمِ فاعل کی تعریف یہ ہے: ’’وہ اسم مشتق جو اس ذات پر دلالت کرے جس کے ساتھ فعل قائم ہو جیسے سَامِعٌ، نَاظِرٌ، لَاعِبٌ(کھیلنے والا)،ناصِرٌ،وغیرہ ‘‘۔جب کوئی شخص سننے یا دیکھنے یا کھیلنے کے فعل میں مصروف ہوگا ،تو اُس پر اس کا اطلاق ہوگا اور جب وہ اُس فعل کو ترک کردے گاتو اس پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔ صفتِ مشبہ کی تعریف یہ ہے:’’وہ اسم جو اس ذات پر دلالت کرتا ہے جو اپنے معنیٔ مصدری سے دائمی طور پر(یعنی ہمیشہ یا طویل مدت کے لیے) موصوف ہو جیسے، کریمٌ (کرم کرنے والا) اَمِیر، غریب، سَفِیْہ (بے وقوف)،ان الفاظ کی جمع کُرَمَاء،اُمَرَاء،غُرَبَاء اور سُفَہَاء آتی ہے‘‘،اس اعتبار سے طَلِیْب کے معنی یہ ہوں گے: جو طلبِ علم میں دائمی طور پر مصروف ہواور درحقیقت ہر عالم ہمیشہ طالبِ علم ہی رہتا ہے، کیونکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اور ہر علم والے سے اوپر ایک علم والا ہے،(یوسف:76)‘‘،یعنی کوئی عالم یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس نے تمام علوم یا علم کے کسی شعبے کا مکمل احاطہ کرلیا ہے، لہٰذا وہ علم بانٹنے کے ساتھ اپنے علم میں اضافہ بھی کرتا رہتا ہے اور کمالِ علم کی پہچان یہی ہے کہ اس کی طلب بڑھتی چلی جائے۔الغرض لفظی اعتبار سے گرفت درست ہے ،لیکن معنی کے اعتبار سے طالب کے مقابلے میں طَلِیْب میں مبالغے کے معنی پائے جاتے ہیں، اصل کے اعتبار سے طالب اور طلیب دونوں کا مادّہ (حروفِ اصلی) ایک ہیں ،یعنی ط ل ب ۔

Share this: