پوپ اور قیصر ہمارے باج گزار تھے

ابو سعدی
اُس دور میں عیسائیوں کے طاقتور حکمراں دو ہی تھے۔ رومہ میں پوپ اور قسطنطنیہ میں قیصر۔ 829ء میں مسلمان اٹلی پر حملہ آور ہوئے اور 872ء میں روم تک جاپہنچے۔ اُس وقت پوپ جان ہشتم(882-872ء)مسند پاپائیت پر فائز تھا۔ اُس نے ہتھیار ڈال دیے۔ جز یہ دنیا منظور کرلیا اور مسلمان واپس آگئے۔
اسی طرح قیصر بھی 776ء سے ہمارا باج گزار تھا لیکن جب قیصر ناکسیفورس اوّل(811-802ء)مسند نشیں ہوا تو اُس نے ہارون الرشید(809-786ء)کو لکھا کہ میں آئندہ خراج ادا نہیں کروں گا۔ ہارون الرشید نے اس کا وہ جواب دیا کہ یورپ کے مورّخین آج تک نعل در آتش ہیں۔ لکھا
”امیر المؤمنین ہارون الرشید کی طرف سے رومی کتے کے نام اے فاحشہ ماں کے بچے! میں نے تمہارا خط پڑھا،اس کا جواب تو عنقریب اپنی آنکھوں سے دیکھےگا۔“
چند روز بعد قیصر پر حملہ کیا اور اُسے سخت شکست دے کر دوبارہ باج گزاری پر مجبور کردیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مائیکل ہفتم (1078-1067ء)سلجوقی بادشاہوں کو خراج دیتا تھا۔الغرض دنیا کی قیادت و سیادت ہزار برس تک ہمارے پاس رہی۔

بوڑھوں کے لیے ہدایات

نوٹ: امریکہ میں ایک تحقیق کے نتیجے میں مندرجہ ذیل ہدایات عمر رسیدہ لوگوں کے لیے بتلائی گئی ہیں۔
کہا گیا ہے کہ 60 سال سے زیادہ عمر والے ان ہدایات پر سنجیدگی سے عمل کریں:
-1 سیڑھیاں نہ چڑھیں، اگر ضرورت ہے تو ریلنگ پکڑ کر چڑھیں۔
-2 اپنے سر، گردن کو تیزی سے نہ گھمائیں، پہلے اپنے بدن کو گرم کرلیں۔
-3جھک کر اپنے پیر چھونے کی کوشش نہ کریں۔ پہلے ہلکی وزش سے بدن گرم کرلیں۔
-4کھڑے ہوکر پتلون پہننے کی ہرگز کوشش نہ کریں، کرسی یا پلنگ پر بیٹھ کر پہنیں۔
-5اگر بستر پر کمر کے بل لیٹے ہوں تو ہرگز اُٹھنے کی کوشش نہ کریں، پہلے کروٹ لیں اور پھر اُٹھیں۔
-6 اپنے بدن کو گھمانے کی ورزش بدن کو گرم کرنے سے پہلے نہ کریں۔
-7کبھی اُلٹے پیر پیچھے چلنے کی کوشش نہ کریں، گرنے سے سخت چوٹ لگ سکتی ہے۔
-8جھک کر کبھی وزنی چیز اُٹھانے کی کوشش نہ کریں۔ پہلے گھٹنوں کے بل بیٹھ جائیں پھر وزنی چیز اُٹھائیں۔
-9بستر سے تیزی سے اُٹھنے کی کوشش نہ کریں، پہلے تھوڑا سا وقت لیں اور پھر اُٹھیں۔
-10رفع حاجت کے لیے ہرگز زور نہ لگائیں، قدرتی طور پر آنے دیں۔
-11سب سے اہم چیز یہ ہے کہ ہمیشہ مثبت انداز میں سوچیں اور پُرامید رہیں، کیونکہ تمام عمر کام کرنے کے بعد اب آرام و لطف اندوزی کا وقت ہے۔ یاد رکھیں کہ بڑھاپا لازمی طور پر آتا ہے مگر خود کو بوڑھا محسوس کرنا آپ کا اپنا عمل ہے۔ مثبت سوچیے اور زندگی کا لطف اُٹھائیے۔
(ڈاکٹر عبدالقدیر خان۔ روزنامہ جنگ لاہور، 25 ستمبر 2018ء)

جواہرات سے قیمتی

٭حرام کاموں سے نفس کو روکنا بھی صبر ہے۔
٭ ذلت اٹھانے سے بہتر ہے، تکلیف اٹھالو۔
٭ دنیا میں سب سے تیز رفتار چیز دعا ہے۔
٭ سننے کی بہترین آوازوں میں سے ایک آواز ضمیر کی بھی ہے۔
٭ آخرت کے لیے محنت کرو، تمہارے دنیاوی کاموں کے لیے اللہ ہی کافی ہے۔
٭ کبھی کبھی غلط لوگ بھی زندگی کا صحیح مطلب سمجھا دیتے ہیں۔
٭ بادشاہوں کو وہی لوگ نصیحت کرتے ہیں جو مال کی اُمید اور موت کا خوف نہ رکھتے ہوں۔
٭ اگر سب راتیں شب قدر ہوتیں تو شب قدر بے قدر ہوتی۔
٭ لوگوں کو دعا کے لیے ضرور کہو لیکن خود ایسے کام کرو کہ لوگ تمہیں خودبخود دل سے دعا دیں۔
(انتخاب: قاری نجم السحر)

ماہرؔ القادری (منظور حسین)

ولادت: 30جولائی 1906ء (بلندر شہر یوپی بھارت)، وفات12:مئی 1978ء (جدہ، تدفین جنت المعلیٰ مکہ معظمہ۔ اُم المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی پائینتی کی طرف دفن کیا گیا)

امید کا گھر اجڑ نہ جائے
وہ مجھ سے کہیں بچھڑ نہ جائے
یہ دل ہے مرا بہت ہی نازک
آئینے میں بال پڑ نہ جائے
٭
اک حشر اٹھائے جا رہے ہیں
بھونرے ہیں کہ گیت گا رہے ہیں
شاداب گلوں کی آڑ لے کر
وہ ناز سے مسکرائے جا رہے ہیں
٭
ٹوٹا جو طلسمِ خانقاہی
باقی نہ رہی وہ کم نگاہی
دنیا کا بدل رہا ہے نقشہ
دم توڑ رہی ہے بادشاہی
٭
ہر یاس میں اک آس بھی ہے
وہ دُور نہیں ہے پاس بھی ہے
تُو صبر کا جام نوشِ جاں کر
تلخی ہی نہیں مٹھاس بھی ہے
٭
جینا ہے تو ارجمند بن جا
تُو پست نہ رہ بلند بن جا
میں بامِ فلک پر ہاتھ رکھ دوں
اے قوسِ قزح! کمند بن جا
٭
پھولوں کی ہنسی، ہنسی نہیں ہے
یہ موت ہے زندگی نہیں ہے
یہ رات، یہ غم کی رات توبہ
تاروں میں بھی روشنی نہیں ہے

Share this: